日本イスラーム研究所 Japan Islamic Research Institute


 WAHEEDUDDIN KHAN OF INDIA
COMPARE FITNA-E-GHAMEDI AT DUNYA TV WITH THIS INDIAN FITNA
By: Prof. Dr. Khalid Hamedi

 

  

 

 وحید الدین خان کے افکار کا علمی جائزہ
 (آخری قسط)
 
احادیث میں بیان کردہ واضح حقائق کے انکار کے علاوہ وحیدالدین خان صاحب نے قرآن و احادیث میں بیان کردہ قیامت کی تمام علامات و نشانیوں کو موجودہ دور میں الٹے سیدھے
طریقے سے منطبق کرنے کی کوشش کی ہے (الرسالہ، اپریل 2007ئ، ص 6،7۔ اگست 2007ئ، ص 8،9) اور یہ بتایا ہے کہ قیامت بس آنے ہی والی ہے، کیوں کہ قیامت سے قبل نزولِ عیسیٰؑ کے بارے میں احادیث میں بیان کیا گیا ہے، اسے خان صاحب کو مسیحی ماڈل کی آمدِ ثانی قرار دیتے ہوئے اپنے اوپر منطبق کرنا تھا، تاکہ وہ اسلام کو اس کی شریعت سے علیحدہ کرکے تمام طاغوتی اداروں اور حکومتوں کے من چاہے اقدامات کو صحیح قرار دینے والا ایک مذہب بنا دیں، اس طرح اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان کوئی خاص فرق باقی نہ رہے اور استعماری طاقتیں اپنے عزائم وار ادے پوری آزادی کے ساتھ مکمل کرتی رہیں۔ حالانکہ اسلام کے بدترین مخالفین کو بھی یہ بات معلوم ہے کہ اسلام دیگر مذاہب کی مانند نہیں، بلکہ وہ ضابطۂ حیات کی صورت میں متعین قوانین کا حامل ہے اور یہ بات اس کی عبادت اور عبادت گاہوں سے بھی ظاہر ہے۔ چنانچہ یورپ کے مشہور ملک سوئٹزر لینڈ میں مقیم مسلمانوں نے قانونی اجازت سے مسجد تعمیر کی اور پھر اس پر مینار بنانے کا پروگرام بنایا، اس پر دائیں بازو کی سوئز پیپلز پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ یلرخ فنتلوئر نے مینار کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے مزعومہ اندیشے کی صورت میں درجِ ذیل خیالات کا اظہار کیا
    :
’’دیگر مذاہب کے برعکس اسلام صرف ایک مذہب ہی نہیں، بلکہ وہ ایک نظریۂ حیات بھی ہے، جو شریعت کے نام سے بالکل مختلف قانونی نظام کو نافذ کرنے کے عزائم رکھتا ہے۔
 


وحید الدین خان صاحب نے قیامت سے قبل دجال کے خروج اور عیسیٰ مسیحؑ کے نزول اور دجال سے ان کے جہاد سے متعلق انتہائی واضح، مستند اور ہر قسم کے گرد و غبار سے پاک صحیح ترین احادیث کا انکار کیا ہے۔ یہ احادیث ایک دو نہیں 30 کے قریب ہیں، جن کو پندرہ اکابر صحابہ ابوہر یرہ، جابر بن عبداللہ، نواس بن سمعان، عبداللہ بن عمرو بن عاص، حذیفہ بن اسید الغفاری، ثوبان مولیٰ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم، مجمع بن جاریہ، ابو امامہ باہلی، عثمان بن ابی العاص، عبد اللہ بن عمر، سمرہ بن جندب، عمران بن حصین، ام المومنین عائشہ زوجۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، سفینہ مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بیان کیا ہے۔ یہ احادیث تمام قابلِ ذکر مستند کتبِ احادیث صحیح البخاری، صحیح مسلم، جامع الترمذی، سنن ابی دائود، سنن النسائی، سنن ابن ماجہ، مسند احمد، المستدرک للحاکم، معجم الکبیر الطبرانی وغیرہ میں اپنی تمام ترتفصیلات کے ساتھ موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سلف و خلف کی عربی و غیر عربی کی تمام اہم و معتبر تفاسیر میں ان احادیث کو مسیحؑ سے متعلق مضمون میں بیان کیا گیا ہے اور قیامت سے قبل خروجِ دجال اور نزولِ عیسیٰ مسیحؑ کا انکار نہ تو صحابہ و تابعین نے کیا اور نہ ہی محدثین و فقہایا ائمہ اربعہ نے۔ اس کی شروعات موجودہ دور میں سرسید احمد خان اور مرزا غلام احمد قادیانی نے کی اور وحید الدین خان صاحب نے اسے اپنے انجام تک پہنچایا ہے۔ دجال و عیسیٰ مسیحؑ کے متعلق احادیث کے مطالعے سے چند باتیں نہایت وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہیں    :

چوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی مانند وحید الدین خان صاحب کو خود اپنے آپ کو مسیحی ماڈل کا رول ماڈل بنا کر پیش کرنا تھا، اس لیے انہوں نے ایک طرف اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوے کو اسوۂ کاملہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوے کو اسوۂ ناقصہ قرار دیا، وہیں اپنی مطلب براری کے لیے مرزا غلام احمد قادیانی کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے عیسیٰ مسیحؑ کے نزول سے متعلق احادیث کا انکار کرکے انہیں اپنے خودساختہ دعوے کی بھینٹ چڑھانے کے لیے ان سے ایسے معنی و مفہوم اخذ کیے جو اگرچہ قرآن و احادیث کی اساسی تعلیمات سے ٹکراتے ہیں، لیکن وحید الدین خان صاحب کے فاسد عزائم کی بجا آوری کے لیے موزوں قرار پاتے ہیں۔ اپنے مذموم مقاصد کی بازیابی کے لیے وحید الدین خان صاحب کہیں تو مسیحی ماڈل کی آمدِ ثانی جیسے الفاظ لگاتے ہیں، کہیں مہدی اور مجدد کے الفاظ سے اس کی شناخت کو پیش کرکے اپنی شناخت اس طرح کرانا چاہتے ہیں کہ ان کے الفاظ میں موجودہ دور میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی معنویت ختم ہوچکی ہے، کیوں کہ آپؐ کا اسوہ اِس دور میں قابلِ انطباق نہیں ہے، اب وہی اسوہ اور نقشہ قابلِ انطباق ہے جو مسیحی ماڈل کی آمدِ ثانی یا شکلِ جدید کی صورت میں یا مجدد و مہدی کی شکل میں وحید الدین خان کی حیثیت سے دنیا کے سامنے آیا ہے۔ غرض آمدِ ثانی والا مسیحی ماڈل ہو یا مجدد و مہدی کی تعریف، ان سب میں وہی خصوصیات بتائی گئی ہیں جو کہ عصری تقاضوں کے مطابق وحید الدین خان صاحب کو مطلوب و پسندیدہ ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے خان صاحب کی اس سلسلے میں پیش کی گئی عبارتیں 

 
    :
’’احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری زمانے میں امتِ مسلمہ میں ایک شخص پیدا ہوگا، جس کو المہدی کا نام دیا گیا ہے۔ المہدی کوئی سیاسی لیڈر نہیں ہوگا۔ وہ حکومت قائم کرنے کے لیے نہیں اٹھے گا، بلکہ اس کا کام یہ ہوگا کہ وہ دورِ آخر کے زیادہ بدلے ہوئے حالات میں ازسرنو صحیح نقطۂ نظر کو دریافت کرے اور اس کے مطابق اصلاح اور دعوت کا عمل جاری کرکے اسلام کو دوبارہ اس کی اصل صورت میں قائم کردے۔‘‘ (حوالہ سابق، دسمبر 2006ئ، ص 28    )
ایک دوسرے مقام پر وہ اپنے معتقدین کی ذہن سازی اس طرح کرتے ہیں    :
’’پچھلے زمانوں میں جتنے مجدد اٹھے، وہ سب جزئی معنوں میں مجدد تھے، نہ کہ کل معنوں میں۔ میرے مطالعے کے مطابق مجدد کامل صرف آخری زمانے میں پیدا ہوگا اور غالباً وہی ہے جس کو حدیث میں مہدی کہا گیا ہے۔ مہدی دراصل مجددِ کامل کا دوسرا نام ہے۔ مزید یہ کہ مہدی صرف مہدی ہوگا، وہ ہادی نہیں ہوگا، یعنی وہ خود اعلیٰ درجے کی معرفتِ دین کا حامل ہوگا اور وہ دوسروں کو اس سے باخبر کرے گا، مگر ایسا نہیں ہوگا کہ اس کے گرد لوگوں کی بھیڑ اکٹھی ہوجائے، وہ سارے عالم میں ہدایت کا انقلاب برپا کردے اور پورے کرۂ ارض پر اسلام کی حکومت قائم کردے۔‘‘ (حوالہ سابق، اپریل 2007ئ، ص 9،10    )
اس اندیشے کے پیش نظر کہ کہیں وحید الدین خان صاحب کے معتقدین خان صاحب کی صحیح شناخت مجدد، مہدی اور مسیح کے ماڈل کے طور پر نہ کر پائیں، مزید وضاحت کرتے ہوئے خان صاحب ارشاد فرماتے ہیں    :
’’اصل یہ ہے کہ حالیہ تین سو سالہ دور ایک نیا دور تھا، جس کو سائنسی دور یا غیر روایتی دور کہا جاسکتا ہے، جب کہ اس سے پہلے ہزار سالہ دور روایتی دور تھا۔ پچھلے روایتی دور میں تقلیدی قسم کی تجدید کافی تھی، چنانچہ پچھلے دور کے مسلم رہنما اپنے اندر کوئی نئی صلاحیت پیدا کیے بغیر تجدید کا کام اُس وقت کے روایتی ڈھانچے میں انجام دے سکتے تھے، مگر سائنسی اور صنعتی انقلاب کے بعد دنیا ہر اعتبار سے ایک نئے دور میں داخل ہوچکی تھی۔ اب تجدید کے ساتھ اجتہاد کی ضرورت تھی، وہ بھی کامل اجتہاد… نہ کہ جزئی اجتہاد۔ اب ایک مجتہدِ مطلق درکار تھا، جو قرآن و سنت سے گہری واقفیت کے ساتھ زمانی تبدیلیوں سے بخوبی واقف ہو۔ زمانۂ حاضر میں کسی ایسے صاحبِ بصیرت مجتہد کے فقدان کا نتیجہ یہ ہوا کہ مطلوبہ تجدیدی کام نہ ہوسکا۔ کامل مجدد کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہمہ گیر سیاسی انقلاب برپا کرے۔ کامل مجدد دراصل وہ ہے، جو زمانی تبدیلی کے بعد نئے غیر روایتی حالات میں اسلام کی فکری تشکیل کرسکے۔‘‘ (حوالہ سابق، ص 14    )
کوئی خلجان کسی کے ذہن میں باقی نہ رہے اور اسے مہدی و مجدد و جدید مسیح کی تلاش میں کوئی پریشانی نہ ہو اور وہ سیدھا نظام الدین ویسٹ میں وحید الدین خان صاحب کی رہائش گاہ جاکر ان سے بیعت ہوجائے، اس کے لیے مزید وضاحت فرماتے ہوئے لکھتے ہیں    :
’’حدیث میں یہ پیشن گوئی آئی ہے کہ آخری زمانے میں ایک شخص پیدا ہوگا، جس کو حدیث میں مہدی کہا گیا ہے، یعنی ہدایت پایا ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مہدی دورِ آخر کا وہ انسان ہوگا، جس کو اوپر مجددِ کامل کہا گیا ہے، وہ کوئی عالمی حکومت قائم نہیں کرے گا، بلکہ اپنی معرفت اور بصیرت کی بنیاد پر وہ اس قابل ہوگا کہ بدلے ہوئے حالات میں اسلام کو ازسرنو دریافت کرے اور عصری انداز میں اس کی مکرر تشکیل کرسکے۔ اس مہدی کی حیثیت ایک رول     (Role) کی ہے۔ اس کی حیثیت پیغمبر کی مانند ایک نامزد عہدے کی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مہدی فرد یہ دعویٰ نہیں کرے گا کہ وہ مہدی ہے، البتہ دوسرے لوگ اس کے کام کو دیکھ کر یہ سمجھیں گے کہ یہی وہ شخص ہے جس کو حدیث میں مہدی کہا گیا ہے۔ اس آنے والے انسان کو حدیث میں ہادی کے بجائے مہدی کہنے میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ جب وہ ظاہر ہوگا تو ایسا نہیں ہوگا کہ لوگ بہت بڑی تعداد میں اُس کے گرد اکٹھا ہوجائیں۔ وہ ایک مفکر اور مصلح ہوگا نہ کہ عالمی سیاسی لیڈر۔ اس کا وجود فکرِ اسلامی کے اظہار کا ذریعہ بنے گا، نہ کہ اہلِ اسلام کے عمومی سیاسی اقتدار کا ذریعہ۔ وہ نظریاتی معنوں میں عارف باللہ ہوگا، نہ کہ سیاسی معنوں میں کوئی سلطان۔‘‘ (حوالہ سابق، ص 16    )
مہدی اور مجدد کی مذکورہ بالا تعریف کے بعد اب وہ وقت آگیا تھا کہ اصل حقیقت پر سے پردہ اٹھایا جائے اور یہ بتایا جائے کہ وہ کوئی اور نہیں ایک ’رجل مومن، ہی ہوگا جو کہ دجال کو فکری اعتبار سے قتل کرے گا، دجالی فتنے کو ایکسپوز کرکے دینِ حق کی عظیم ترین گواہی د ے گا، وہ اسپریچول آئیڈیالوجی کا نمائندہ ہوگا، جسے حدیث میں مہدی اور عیسیٰ بن مریم کے نام سے بتایا گیا ہے۔ حقیقت میں مہدی و مسیح ایک ہی شخصیت ہیں، جس کا ظہور ’رجل مومن‘ کی صورت میں ہوگا۔ اگر اب بھی قارئین وحیدالدین خان صاحب کو پہچان کر ایمان نہ لائیں تو قصور کس کا ٹھیرایا جائے گا! بہرحال دیکھیے خان صاحب عصری اسلوب میں کس طرح دین کی عظیم ترین گواہی دے رہے ہیں    :
’’دجالیت دراصل ایک علمی فتنہ ہوگا اور رجل مومن بھی اس کا خاتمہ علمی دلائل کے زور پر کرے گا۔ حدیث میں عظیم شہادت کا لفظ اسی معنی میں آیا ہے۔ اس میں ’شہادت‘ سے مراد گواہی ہے نہ کہ جان کی قربانی۔ دینِ حق کی یہی وہ عظیم ترین گواہی ہے جس کو حدیث میں ’قتلِ دجال‘ کہا گیا ہے۔ دجالِ اکبر کا مقابلہ کرنے والے اس رجل مومن کو حدیث میں مہدی کہا گیا۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ایک حدیث میں مہدی اور مسیح دونوں کو ایک شخصیت بتایا گیا ہے۔ ’’ولا المھدی الا عیسی بن مریم۔‘‘ (ابن ماجہ، کتاب الفتن) اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ دجال، شیطانی کلچر کا نقطہ انتہا ہے اور مہدی ربانی کلچر کا نقطہ انتہا۔ دجال میٹریل آئیڈیالوجی کا نمائندہ ہے اور مہدی اسپریچول آئیڈیالوجی کا نمائندہ۔ میٹریل آئیڈیالوجی کا نشانہ دنیا میں جنت کی تعمیر ہے اور اسپریچول آئیڈیالوجی کا نشانہ آخرت میں جنت کی تعمیر۔‘‘ (حوالہ سابق، اگست 2007ئ، ص 4    )
مذکورہ بالا عبارت میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ مہدی مسیح اسپریچول آئیڈیا لوجی نمائندہ ہوگا، جس کا ظہور وحید الدین خان صاحب کی صورت میں ہوچکا ہے، اس لیے کہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن     ’’The Spritual Message‘‘ کے نام ہی سے شائع ہوتا ہے۔ مجدد، مہدی اور عیسیٰ مسیح سے متعلق اوپر جس قسم کے خیالات کا اظہار کیا گیا ہے، اہلِ نظر جانتے ہیں کہ وہ کچھ اور نہیں نبیٔ کاذب مرزا غلام احمد قادیانی کے افکار و نظریات ہیں، جو منکر حقیقتِ رسالت وحیدالدین خان نے جدید عصری منافقانہ و ملحدانہ تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے بظاہر عصری سائنسی اسلوب میں پیش فرمائے ہیں، تاکہ احادیث کے انکار کی تہمت بھی ان پر نہ لگ سکے اور منکرینِ رسالت و نبوت کے فریضے کی انجام دہی اس طرح ہوجائے کہ یہ تاثر قائم کیا جاسکے کہ دورِ جدید میں دین کی تجدید کا کام انجام پا رہا ہے۔
وحید الدین خان صاحب نے قیامت سے قبل دجال کے خروج اور عیسیٰ مسیحؑ کے نزول اور دجال سے ان کے جہاد سے متعلق انتہائی واضح، مستند اور ہر قسم کے گرد و غبار سے پاک صحیح ترین احادیث کا انکار کیا ہے۔ یہ احادیث ایک دو نہیں 30 کے قریب ہیں، جن کو پندرہ اکابر صحابہ ابوہر یرہ، جابر بن عبداللہ، نواس بن سمعان، عبداللہ بن عمرو بن عاص، حذیفہ بن اسید الغفاری، ثوبان مولیٰ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم، مجمع بن جاریہ، ابو امامہ باہلی، عثمان بن ابی العاص، عبد اللہ بن عمر، سمرہ بن جندب، عمران بن حصین، ام المومنین عائشہ زوجۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، سفینہ مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بیان کیا ہے۔ یہ احادیث تمام قابلِ ذکر مستند کتبِ احادیث صحیح البخاری، صحیح مسلم، جامع الترمذی، سنن ابی دائود، سنن النسائی، سنن ابن ماجہ، مسند احمد، المستدرک للحاکم، معجم الکبیر الطبرانی وغیرہ میں اپنی تمام ترتفصیلات کے ساتھ موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سلف و خلف کی عربی و غیر عربی کی تمام اہم و معتبر تفاسیر میں ان احادیث کو مسیحؑ سے متعلق مضمون میں بیان کیا گیا ہے اور قیامت سے قبل خروجِ دجال اور نزولِ عیسیٰ مسیحؑ کا انکار نہ تو صحابہ و تابعین نے کیا اور نہ ہی محدثین و فقہایا ائمہ اربعہ نے۔ اس کی شروعات موجودہ دور میں سرسید احمد خان اور مرزا غلام احمد قادیانی نے کی اور وحید الدین خان صاحب نے اسے اپنے انجام تک پہنچایا ہے۔ دجال و عیسیٰ مسیحؑ کے متعلق احادیث کے مطالعے سے چند باتیں نہایت وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہیں    :
(1)

 

 احادیث میں تو مثیل مسیح، بروز مسیح یا مسیحی ماڈل کا ذکر نہیں ہے، بلکہ اس میں صاف اور واضح انداز میں مقامات و واقعات کی نشان دہی کے ساتھ عیسیٰؑ کے نزول کا ذکر ہے۔
(2)

 دوسری بات جو کہ احادیث میں نہایت وضاحت کے ساتھ بتائی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت نبی موعود نازل نہیں ہوں گے، نہ ان پر وحی نازل ہو گی، نہ وہ احکامِ الٰہی میں کوئی ترمیم و تبدیلی کریں گے، نہ نئے احکام لائیں گے، نہ ہی وہ تجدیدِ دین کا کام انجام دیں گے اور نہ ہی وہ اپنے اوپر ایمان لانے کے لیے لوگوں کو بلائیں گے اور نہ ہی ان کی کوئی الگ امت ہوگی، بلکہ وہ مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوں گے، مسلمانوں کے امام کے پیچھے وہ نماز پڑھیں گے اور مسلمانوں کا جو بھی امیر ہوگا، اس کو آگے رکھیں گے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ایک فرد کی حیثیت سے مسلمانوں میں موجود رہیں گے اور وفات پائیں گے۔
(3)

 عیسیٰؑ کی آمد دجال مسیح کو قتل کرنے اور اس کے برپا فتنے کے ازالے کے لیے ہو گی۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر اس سے اور اس کی فوجوں سے جنگ کریں گے۔ وہ اسے اپنے ہاتھ سے قتل کریں گے، اسلام کے مخالفین اور جنگ کرنے والے یہودیوں اور انہیں اللہ کا بیٹا قرار دینے والے عیسائیوں کو قتل کریں گے، اِلا ّیہ کہ وہ ایمان لے آئیں۔
(4)

 ان کے آنے پر دجالِ مسیح کی صورت میں یہودیوں کا فتنہ ختم ہوجائے گا۔ اشرار عیسائیوں کے علاوہ عام عیسائیوں پر عیسیٰ مسیح علیہ السلام، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی حقیقت واضح ہوجائے گی، وہ ایمان لے آئیں گے۔ چوں کہ کوئی عیسائی باقی نہ بچے گا، اس لیے مشرکانہ پس منظر ظاہر کرنے والی صلیبیں توڑ دی جائیں گی۔ خنزیر قتل کردیے جائیں گے اور انصاف ہی کا دور دورہ ہوگا۔ حقائق اتنے واضح ہوں گے کہ اسلام کے علاوہ تمام مذاہب کا اللہ کے حکم سے خاتمہ ہوجائے گا۔
احادیث میں بیان کردہ واضح حقائق کے انکار کے علاوہ وحیدالدین خان صاحب نے قرآن و احادیث میں بیان کردہ قیامت کی تمام علامات و نشانیوں کو موجودہ دور میں الٹے سیدھے
طریقے سے منطبق کرنے کی کوشش کی ہے (الرسالہ، اپریل 2007ئ، ص 6،7۔ اگست 2007ئ، ص 8،9) اور یہ بتایا ہے کہ قیامت بس آنے ہی والی ہے، کیوں کہ قیامت سے قبل نزولِ عیسیٰؑ کے بارے میں احادیث میں بیان کیا گیا ہے، اسے خان صاحب کو مسیحی ماڈل کی آمدِ ثانی قرار دیتے ہوئے اپنے اوپر منطبق کرنا تھا، تاکہ وہ اسلام کو اس کی شریعت سے علیحدہ کرکے تمام طاغوتی اداروں اور حکومتوں کے من چاہے اقدامات کو صحیح قرار دینے والا ایک مذہب بنا دیں، اس طرح اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان کوئی خاص فرق باقی نہ رہے اور استعماری طاقتیں اپنے عزائم وار ادے پوری آزادی کے ساتھ مکمل کرتی رہیں۔ حالانکہ اسلام کے بدترین مخالفین کو بھی یہ بات معلوم ہے کہ اسلام دیگر مذاہب کی مانند نہیں، بلکہ وہ ضابطۂ حیات کی صورت میں متعین قوانین کا حامل ہے اور یہ بات اس کی عبادت اور عبادت گاہوں سے بھی ظاہر ہے۔ چنانچہ یورپ کے مشہور ملک سوئٹزر لینڈ میں مقیم مسلمانوں نے قانونی اجازت سے مسجد تعمیر کی اور پھر اس پر مینار بنانے کا پروگرام بنایا، اس پر دائیں بازو کی سوئز پیپلز پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ یلرخ فنتلوئر نے مینار کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے مزعومہ اندیشے کی صورت میں درجِ ذیل خیالات کا اظہار کیا
    :
’’دیگر مذاہب کے برعکس اسلام صرف ایک مذہب ہی نہیں، بلکہ وہ ایک نظریۂ حیات بھی ہے، جو شریعت کے نام سے بالکل مختلف قانونی نظام کو نافذ کرنے کے عزائم رکھتا ہے۔  
  ‘‘
میں آخر میں وحیدالدین خان صاحب کے سامنے وہی بات رکھ سکتا ہوں، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والوں سے فرمائی تھی، تاکہ خان صاحب اپنے انجام سے خبر دار ہوجائیں    :
’’ہدایت کے واضح ہونے کے بعد جو رسول کی مخالفت کرے گا اور مومنین (صحابہ) کے راستے کے علاوہ کسی اور راستے کی پیروی کرے گا، ہم اس کا رخ ادھر ہی کردیں گے، جدھر اس کا رخ ہوگا، پھر اسے جہنم رسید کریں گے جو کہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔‘‘ (النسائ:

    110    )

 


ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا وھب لنامن لدنک رحمۃ انک انت الوھاب۔

 

 

پروفیسر ڈاکٹر خالد حامدی 

 
 
 
MATERIAL IN DEFENCE OF WAHEEDUDDIN KHAN
From: Khaja Kaleemuddin [mailto:kkaleemuddin@gmail.com]
Sent: Wednesday, June 04, 2014 11:52 AM
To: 786@mail.towardsquran.com
Cc: tsidd96472@aol.com
Subject: Fwd: A Podcast of Maulana Wahiduddin Khan
 
Dear Hussain Khan Sahab
Assalaamu alaykum
 
Please click and listen yet another talk on Prophet Yusuf (AS) by Maulana under the topic of "THE BEST STORY". Please forward this to the Professor Dr. Khaled Hamedi in order for him to have clearly understanding that the obligatory movement in Islam is only Dawah to establish the supremacy of Islam not the establishment of the political supremacy of Muslims. Also forward him the PDFs of the books "TRUE JIHAD" in English and a detailed book in Urdu on war and peace in Islam under the title "AMN-E-ALAM".
 
Thank you very much for kind cooperation and I will be ever grateful for the favor.
 
Wassalaam
Khaja Kaleemuddin
ANTI-WAHEEDUDDIN KHAN
COMMENTS
From: TSidd96472@aol.com [mailto:TSidd96472@aol.com]
Sent: Tuesday, June 03, 2014 9:10 PM
To: 786@mail.towardsquran.com
Subject: Fitna of Mohtram Waheeduddin saheb
 
 Mohtram Hussain  Khan Saheb,  Salaam.  May Allah give Barakah in your health, Rizkh and Ilm.
 
 Alhamdolillah I went through the package this morning. I know he is a deviated person and wants to produce another edition of Islam duly compromised  for the modern  secular supremacy. He is well protected by Indian Government with police guards at his home round the clock.  
 
 
The liberals and secularists are around him and some Muslims too are his active followers. But some of his "notes" and comments are really worth reading  that he has  written, especially about the lapses  of our past scholars and elites in their thinking process. The rest are just deviations and  compromises. 
 
You better leave him and please do your job of Iqamatuddeen in Japan and in its vicinity and for that you are accountable to your Lord as we all are accountable for  the Iqamah of His Deen in this land.   
 
Maulana Waheeduddin Khan will not help you there. 
 
Shukrun 
 
Shamim     
 
  
 WAHEEDUDDIN KHAN OF INDIA
COMPARE FITNA-E-GHAMEDI AT DUNYA TV WITH THIS INDIAN FITNA
By: Prof. Dr. Khalid Hamedi
خان صاحب نے جو تصورِ اسلام پیش کیا ہے، اس کی رو سے صرف نتائج و اثرات سے خالی چند عبادتی اعمال کی انجام دہی اسلام ہے، باقی تمام امور سیکولر اسٹیٹ کے ذمے ہیں کہ وہ ان کو انجام دے، اس کے باوجود بھی وہ فرماتے ہیں کہ سیکولر ازم مذہب کو مکمل آزادی عطا کرتا ہے    :
’’جدید جمہوریت میں اس کے برعکس سیکولر پالیسی کو اختیار کیا گیا، یعنی مشترک مادی امور کو ریاست کے دائرے میں رکھنا اور مذہب اور کلچر کے معاملے میں لوگوںکو کامل آزادی عطا کرنا… چنانچہ انڈیا سے لے کر امریکہ اور برطانیہ تک سیکولر اسٹیٹ کے اصول کو اختیار کیا گیا۔ اس کا مطلب مذہبی مخالفت نہیں، بلکہ مذہبی عدم مداخلت ہے، چنانچہ ان ملکوں میں ہر مذہبی گروہ کو آزادی حاصل ہے، ان ملکوں میں جو چیز ممنوع ہے، وہ صرف تشدد ہے نہ کہ اپنے مذہب پر عمل۔‘‘ (الرسالہ، اکتوبر 2007ئ، ص 32    
)
کیا سیکولر ریاستوں نے صحیح معنوں میں مسلمانوںکو اسلام پر عمل کرنے کی مکمل آزادی دے رکھی ہے؟ حقائق تو اس کے خلاف گواہی دے رہے ہیں۔ مغربی ممالک اور بیشتر سیکولر مشرقی ممالک میں تو پردے اور حجاب تک پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ہم جنسی، بدکاری، عریانیت اور بے پردگی کے خلاف آواز بلند کرنے کو جمہوری قدروں کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے تو یہاں نکاح، طلاق وغیرہ جیسے عائلی معاملات تک میں عدالتیں جس طرح مداخلت کر رہی ہیں، اس نے ہندوستان میں اسلام کے بچے کھچے عائلی قوانین کو بھی بے اثر بنا کر رکھ دیا ہے۔  
 
 
 نبیٔ کاذب مرزا غلام احمد قادیانی اور منکر حقیقتِ رسالتِ محمدی وحید الدین خان صاحب کے درمیان بہت سی باتوں میں اشتراک پایا جاتا ہے۔ دونوں کے یہاں دعوت مشن کا بہت تذکرہ ملتا ہے، ان دونوں کے یہاں ایک ایسی دعوت کا غلغلہ بلند کیا جاتا ہے جو دینی اساسیات کے حقیقی مفہوم و معانی سے خالی ہوتی ہے، جس میں پروپیگنڈے کی اہمیت ہوتی ہے لیکن حقیقی روح ناپید ہوتی ہے، دونوں حکومتِ وقت کے ساتھ مکمل مصالحت و موافقت کا رویہ اپناتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی انگریزوں کے مرہونِ منت رہتے تھے تو وحید الدین خان صاحب سیکولر مغربی تہذیب کی افادیت میں رطب اللسان ہیں۔ دونوں اسلام میں حکومت کی اہمیت سے انکار کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی دونوں جہاد و قتال کو مختلف وجوہات کو بنیاد بناتے ہوئے موجودہ دور میں بالکلیہ مسترد کررہے ہوتے ہیں۔ اس طرح دونوں ایک طرف ظالم حملہ آوروں کی جانب سے مسلمانوں پر تھوپی ہوئی جنگ کے ذریعے ہونے والے ظلم و جارحیت و استعماریت کو کھلا لائسنس فراہم کررہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف جہاد کو کالعدم ٹھیرا کر مظلوم مسلمانوں کو دفاعی طور سے بھی جنگ کی ممانعت کررہے ہوتے ہیں کہ موجودہ دور میں جنگ ناقابلِ اختیار ہے اور جنگ کا انتخاب صرف ایک دیوانگی کا فعل ہے، اس کے سوا کچھ نہیں۔ (ماہنامہ الرسالہ، نئی دہلی، جون 2007ئ، ص 6
 
 

ہے: ’’اور (اے ایمان والو) ہم لازمی طور سے خوف، بھوک، مال و جان اور پیداوار کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے اور (اے نبیؐ) تم (دین میں) ان ثابت قدم لوگوں کو خوشخبری سنادو کہ ان پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ پکار اٹھتے ہیں کہ ہم تو اللہ کی ملکیت ہیں اور ہمیں اسی کے پاس پلٹ کر واپس جانا ہے، ایسے ہی لوگوں پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ (البقرہ: 155 تا 157    )
اللہ تعالیٰ ان آزمائشوں کی کیفیت پر ایک دوسرے مقام پر اس طرح ارشاد فرماتا ہے    :
’’کیا تم یہ گمان کیے ہوئے ہو کہ جنت میں یوں ہی داخل ہوجائو گے، حالانکہ تمہیں ابھی وہ حالات پیش ہی نہیں آئے جو تم سے قبل (اہلِ ایمان) کو پیش آچکے ہیں۔ ان پر (مخالفین کے سبب) ایسی دشواریاں اور مصیبتیں آئیں اور وہ ہلا پھینکے گئے کہ (اس زمانے کے) رسول اور ان کے اہلِ ایمان ساتھی پکار اٹھے: آخر اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سن لو اللہ کی مدد قریب ہی ہے۔‘‘ (البقرہ:214    )
وحید الدین خان صاحب کے دعوے کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ایمان کے ساتھ ٹکرائو اور آزمائش اور تکلیف دہ صورت حال کا پیش آنا ناگزیر ہے۔ ’’(اے اہل ایمان!) ہم یقینی طور سے تمہیں تمہارے مال و دولت اور تمہاری جانوںکے سلسلے میں آزمائش میں مبتلا کریں گے اور تم لازمی طور سے اہلِ کتاب اور مشرکین سے تکلیف دہ باتیں سنو گے، اگر تم نے (دین میں) ثابت قدمی کا ثبوت دیا اور اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہے تو یقینا یہ بڑی ہمت کے معاملات میں سے ہے۔‘‘ (آل عمران: 186    )
خان صاحب نے جو تصورِ اسلام پیش کیا ہے، اس کی رو سے صرف نتائج و اثرات سے خالی چند عبادتی اعمال کی انجام دہی اسلام ہے، باقی تمام امور سیکولر اسٹیٹ کے ذمے ہیں کہ وہ ان کو انجام دے، اس کے باوجود بھی وہ فرماتے ہیں کہ سیکولر ازم مذہب کو مکمل آزادی عطا کرتا ہے    :
’’جدید جمہوریت میں اس کے برعکس سیکولر پالیسی کو اختیار کیا گیا، یعنی مشترک مادی امور کو ریاست کے دائرے میں رکھنا اور مذہب اور کلچر کے معاملے میں لوگوںکو کامل آزادی عطا کرنا… چنانچہ انڈیا سے لے کر امریکہ اور برطانیہ تک سیکولر اسٹیٹ کے اصول کو اختیار کیا گیا۔ اس کا مطلب مذہبی مخالفت نہیں، بلکہ مذہبی عدم مداخلت ہے، چنانچہ ان ملکوں میں ہر مذہبی گروہ کو آزادی حاصل ہے، ان ملکوں میں جو چیز ممنوع ہے، وہ صرف تشدد ہے نہ کہ اپنے مذہب پر عمل۔‘‘ (الرسالہ، اکتوبر 2007ئ، ص 32    
)
کیا سیکولر ریاستوں نے صحیح معنوں میں مسلمانوںکو اسلام پر عمل کرنے کی مکمل آزادی دے رکھی ہے؟ حقائق تو اس کے خلاف گواہی دے رہے ہیں۔ مغربی ممالک اور بیشتر سیکولر مشرقی ممالک میں تو پردے اور حجاب تک پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ہم جنسی، بدکاری، عریانیت اور بے پردگی کے خلاف آواز بلند کرنے کو جمہوری قدروں کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے تو یہاں نکاح، طلاق وغیرہ جیسے عائلی معاملات تک میں عدالتیں جس طرح مداخلت کر رہی ہیں، اس نے ہندوستان میں اسلام کے بچے کھچے عائلی قوانین کو بھی بے اثر بنا کر رکھ دیا ہے۔ یہ تمام باتیں اتفاق نہیں ہیں، بلکہ سیکولرازم کی منشا کے عین مطابق ہیں۔ آئیے دیکھیں کہ سیکولرازم کی مذکورہ خوش نما تعبیر کی حقیقت کیا ہے! جناب اے بی شاہ اپنی کتاب ’’سیکولرازم ہندوستان میں‘‘ میں فرماتے ہیں    :
’’ریاست اپنے لیے یہ حق محفوظ رکھتی ہے اور بعض اوقات اس کا استعمال بھی کرتی ہے کہ مختلف قوموں میں پُرامن بقائے باہمی اور تہذیبی ارتقا کے مفاد میں وہ مذہبی اعمال میں مداخلت کرے… امریکہ کے برعکس ہندوستان میں ریاست مذہب کے وجود کو گوارا ہی نہیں کرتی، بلکہ قانون سازی اور ترغیب و تشویق کے ذریعے اس میں اصلاحات بھی کرتی رہنا چاہتی ہے۔ یہ بات خصوصیت سے ہندو مذہب کے بارے میں صحیح ہے، اگرچہ اس کے آثار موجود ہیں کہ کچھ عرصے بعد اسلام کے سلسلے میں بھی ریاست اسی طرح سرگرم اقدام کرے۔    ‘‘ (Secularism in India: A.B Shah, P.1)
یہی بات پروفیسر اسمتھ اپنی کتاب ’’ہندوستان بحیثیت سیکولر اسٹیٹ‘‘ میں فرماتے ہیں    :
’’بظاہر یہ ایک متناقض بات معلوم ہوتی ہے، لیکن سیکولر ریاست کو اپنے اقتدارِ اعلیٰ کے استقرار اور اپنے سیکولر ہونے کے استحکام کی خاطر مذہب میں بہت زیادہ بنیادی اور ممکن تبدیلیاں لانا ناگزیر ہے۔ ریاست سے دستور نے مطالبہ کیا ہے کہ ہندومت اور اسلام کو ان سماجی قانونی دستوروں سے جنہوں نے انہیں ہمہ گیر نظام زندگی کی حیثیت سے ممیز کردیا ہے، محروم کردے اور ان دو عظیم مذہبی نظاموں کو پرائیوٹ عقیدے اور عبادات و اعمال کے گوشے تک محدود کردے۔    ‘‘ (India as a Secular State: Prof.Smith, P.498)
یہ ہے مذہب کے تعلق سے سیکولرازم کی عملی تعبیر جو ہندوستان اور مغرب کے سیکولرازم کے دو ماہرین نے ہندوستان کے تناظر میں ہمارے سامنے پیش کی ہے، اس طرح ہمارے سامنے یہ بات بخوبی نکھر کر آجاتی ہے کہ سیکولرازم کی یہی وہ عملی تعبیر ہے، جس کے تحت وحید الدین خان صاحب اسلام میں تحریف کرکے اس کو سیکولر ڈھانچے کے مطابق بنانا اور اسے مسلمانوں کے درمیان رائج کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح وہ باطل طاغوتی قوتوں اور ان کی پالیسیوں کے آلہ کار کے طور پر بالکل اسی طرح کام کررہے ہیں، جس طرح کہ اپنے دور میں مرتد مرزا غلام احمد قادیانی انگریزوں اور ان کی پالیسیوں کے آلہ کار کے طور پر کام کررہے تھے۔
نبیٔ کاذب مرزا غلام احمد قادیانی اور منکر حقیقتِ رسالتِ محمدی وحید الدین خان صاحب کے درمیان بہت سی باتوں میں اشتراک پایا جاتا ہے۔ دونوں کے یہاں دعوت مشن کا بہت تذکرہ ملتا ہے، ان دونوں کے یہاں ایک ایسی دعوت کا غلغلہ بلند کیا جاتا ہے جو دینی اساسیات کے حقیقی مفہوم و معانی سے خالی ہوتی ہے، جس میں پروپیگنڈے کی اہمیت ہوتی ہے لیکن حقیقی روح ناپید ہوتی ہے، دونوں حکومتِ وقت کے ساتھ مکمل مصالحت و موافقت کا رویہ اپناتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی انگریزوں کے مرہونِ منت رہتے تھے تو وحید الدین خان صاحب سیکولر مغربی تہذیب کی افادیت میں رطب اللسان ہیں۔ دونوں اسلام میں حکومت کی اہمیت سے انکار کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی دونوں جہاد و قتال کو مختلف وجوہات کو بنیاد بناتے ہوئے موجودہ دور میں بالکلیہ مسترد کررہے ہوتے ہیں۔ اس طرح دونوں ایک طرف ظالم حملہ آوروں کی جانب سے مسلمانوں پر تھوپی ہوئی جنگ کے ذریعے ہونے والے ظلم و جارحیت و استعماریت کو کھلا لائسنس فراہم کررہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف جہاد کو کالعدم ٹھیرا کر مظلوم مسلمانوں کو دفاعی طور سے بھی جنگ کی ممانعت کررہے ہوتے ہیں کہ موجودہ دور میں جنگ ناقابلِ اختیار ہے اور جنگ کا انتخاب صرف ایک دیوانگی کا فعل ہے، اس کے سوا کچھ نہیں۔ (ماہنامہ الرسالہ، نئی دہلی، جون 2007ئ، ص 6    )
لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور وحید الدین خان صاحب دونوں کے دونوں خروج دجال اور عیسیٰ مسیحؑ کے نزول کے منکر ہیں، لیکن اپنی ’’فکرِ باطل‘‘ کے اظہار کے لیے مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود / مثیل مسیح/ بروزِ مسیح کا نظریہ پیش کرتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقتِ رسالت کو نشانہ بناتے، آپؐ کی اہانت و تضحیک کرتے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوے اور رول ماڈل کو موجودہ زمانے میں بے حیثیت و ناقابلِ اختیار و عمل بتاتے ہیں اور اپنی ذات اور نام نہاد سرگرمیوں کو نمایاںکرنے کے لیے رسالت و نبوت کا دعویٰ کر بیٹھتے ہیں۔
اپنے مذموم مقاصد کی بجا آوری کے لیے دونوں قرآنی آیات کے مفہوم میں من مانی تحریف کرتے اور صحیح احادیث کا یا تو انکار کرتے ہیں یا اس کی خود ساختہ من چاہی تاویل و تشریح کرکے انہیں ان کے اصل مفہوم و معنی سے بالکل بے گانہ کردیتے ہیں۔ چنانچہ رسالتِ محمدیؐ کو بے حقیقت ثابت کرنے کے لیے وحید الدین خان صاحب یوں رقم طراز ہیں    :
’’یہی معاملہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ہے، آپ بلاشبہ آخری نبی     (final prophet) تھے، لیکن آپ ہر صورت کے لیے آخری نمونہ     (final prophet) نہ تھے، چنانچہ قرآن میں آپ کے لیے ’’اسوۂ حسنہ‘‘ کا لفظ آیا ہے، نہ کہ اسوۂ کاملہ کا۔ (الاحزاب:71) کسی پیغمبر کو فائنل ماڈل سمجھنا خدا کے قائم کردہ قانونِ فطرت کی تنسیخ کے ہم معنی ہے۔ ایسی تنسیخ ممکن نہیں، اس لیے عملی اعتبار سے کسی پیغمبر کا فائل ماڈل ہونا بھی ممکن نہیں۔ فائنل پرافٹ کا تعلق دین کے نظریاتی حصے سے ہے اور نظریاتی اعتبار سے بلاشبہ ایک پیغمبر فائنل ہوسکتا ہے، لیکن ماڈل کا تعلق خارجی حالات سے ہے۔ یہ حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں، اس لیے عملی طور سے کوئی ایک پیغمبر فائنل ماڈل نہیں بن سکتا۔
قرآن کی اصطلاح کے مطابق یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ’’الدین‘‘ کے اعتبار سے فائنل پیغمبر تھے، لیکن ’’منہاج‘‘ کے اعتبار سے آپ فائنل ماڈل نہ تھے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ حدیث میں یہ پیشن گوئی کی گئی ہے کہ آخری زمانے میں مسیح دوبارہ نازل ہوں گے۔
جیسا کہ معلوم ہے پیغمبر آخر الزماں کا زمانۂ نبوت قیامت تک ہے، اس لیے اب آپ کے بعد کسی اور پیغمبر کا شخصی طور پر آنا ناقابلِ فہم بات ہے، اس لیے ان روایات کو درست مانتے ہوئے ان کی صحیح تاویل یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں حالات کے اندر ایسی تبدیلیاں واقع ہوں گی کہ حالات کے اعتبار سے حضرت مسیح کا عملی ماڈل زیادہ قابل انطباق     (applicable) بن جائے گا۔‘‘ (الرسالہ، جون 2007ئ، ص 4،5    )

 

(جاری ہے    )


پروفیسر ڈاکٹر خالد حامدی

 
COMPARE FITNA-E-GHAMEDI AT DUNYA TV WITH THIS INDIAN FITNA
By: Prof. Dr. Khalid Hamedi
 
خان صاحب چاہتے ہیں کہ حکومت کی باگیں اور اقتدار کی کنجیاں سب سیکولر طاغوتی طاقتوں کے حوالے کردینی چاہئیں اور خود چپ چاپ خالی خولی عبادت میں مصروف ہوجانا چاہیے۔ ایسی عبادت جس کا کسی سے، یہاں تک کہ شیطان و ابلیس تک سے کوئی ٹکرائو نہ ہو، بلکہ ایسی عبادت جو خود ابلیس اور ابلیسی طاقتوں کے نزدیک پسندیدہ و مطلوب ہو… چنانچہ موصوف فرماتے ہیں    :
’’آپ اسلام کے عقیدے کو مانیں، اسلامی طریقے پر عبادت کریں، اسلام کے اخلاقی اصولوں کی پابندی کریں تو یہ آپ کا ایک ذاتی عمل ہوتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے کسی اور کے ساتھ آپ کا ٹکرائو پیش نہیں آتا، لیکن جب آپ نشانہ یہ بنائیں کہ مجھے زمین پر اسلامی حکومت قائم کرنا ہے تو یہ نشانہ خود آپ کو دوسرے سے ٹکرا دیتا ہے۔‘‘ (الرسالہ، اکتوبر 2007ئ، ص 24    )
 
عیسیٰ مسیحؑ نے اپنے متبعین کے سامنے اس بات کو بھی واضح کردیا تھا کہ ان کی پیش کردہ دعوت بے ضرر اور سماج و حکومت سے مصالحانہ رویہ اختیار کرنے والی نہیں، جیسا کہ وحید الدین خان صاحب نے محمدی ماڈل کے مقابلے میں مسیحی ماڈل کو موجودہ دور میں قابلِ اختیار بتاتے ہوئے پیش کیا ہے، بلکہ عیسیٰؑ نے انتہائی وضاحت کے ساتھ بتایا کہ ان کی پیش کردہ دعوت سے زبردست کشمکش اور ٹکرائو ہو گا  
 
خان صاحب نے عیسیٰ مسیحؑ ہی کو صرف اپنی اغراضِ فاسدہ کے لیے تختۂ مشق نہیں بنایا، بلکہ اپنے باطل مقاصد کے لیے انہوں نے یوسفؑ پر اس طرح کیچڑ
 اچھالی کہ یوسفؑ نے رسول و نبی ہوتے ہوئے بھی ایک مشرک بادشاہ کے تحت سرکاری نوکری، محکمۂ غذا کی وزارت قبول کرلی (الرسالہ، جون 2007ئ، ص 4)، (اکتوبر2007ئ، ص 18) اس لیے اب اہلِ ایمان کے لیے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ ہر نظام وقت کے تحت محکوم بن کر رہیں اور اس کے تحت ہر قسم کے باطل و ناجائز قوانین کو بھی بسر و چشم قبول کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ یوسفؑ کے بارے میں خان موصوف نے یہ بالکل غلط اور برعکس تصویر پیش کی ہے، جب کہ قرآنِ مجید اور عہد نامۂ قدیم (تورات) دونوں بالکل دوسری ہی تصویر پیش کرتی ہیں کہ یوسفؑ محکوم نہیں، بلکہ ملک مصر کے تمام اختیارات کے ساتھ حاکم بنائے گئے تھے، بادشاہ صرف نام کا حکمراں تھا، جب کہ سارے سیاہ و سفید کے مالک یوسفؑ تھے۔ آیئے اس سلسلے میں سب سے پہلے بائبل کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ مصر کے فرعونِ وقت نے یوسفؑ کو صرف وزارتِ غذا دی تھی، یا پورے مصر کا حکمراں بنایا تھا"
 

اس طرح وحید الدین خان صاحب نے یوسفؑ کے سلسلے میں جو من گھڑت، باطل، جھوٹی، نظام باطل سے ہم آہنگ تصویر پیش کی تھی، اس کی حقیقت آشکار ہوگئی اور یہ بات معلوم ہوئی کہ خان صاحب عصری اسلوب و تقاضوں کے تحت کس طرح منافقانہ اور عیارانہ روش اختیار کرتے ہوئے اللہ اور اس کے بندوں کو دھوکا دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ لگے ہاتھوں آیت ان الحکم الا اللّٰہ (یوسف: 67) کا جو ترجمہ و تفسیر ابوالکلام آزادؒ نے کی  ہے، وہ بھی ملاحظہ کرلیجیے، کیوں کہ وحید الدین خان صاحب عام مفہوم کے علی الرغم ’الحکم‘ سے مراد صرف اللہ کا فوق الفطری اقتدار لیتے ہیں اور انسانوں کی حکومت و سیاست کو حاکمیتِ الہٰ (اطاعتِ الٰہی) سے باہر کردیتے ہیں۔  

 

شریعت کی تعمیل میں بنی اسرائیل کی اضطراری حالت یا ان کی منافقت تو مانع ہوسکتی ہے، لیکن عیسیٰ مسیحؑ ایک رسول ہونے کے ناتے اللہ کی نافرمانی پر مبنی قوانین کی پیروی کی چھوٹ کس طرح دے سکتے ہیں جب کہ عیسیٰ مسیحؑ خود بنی اسرائیل سے فرما رہے ہوں    :
’’یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔ منسوخ کرنے نہیں، بلکہ پورا کرنے آیا ہوں، کیوں کہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا، جب تک سب کچھ پورا نہ ہوجائے۔ پس جو کوئی ان چھوٹے سے چھوٹے حکموں میں سے بھی کسی کو توڑے گا اور یہی آدمیوں کو سکھائے گا، وہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائے گا، لیکن جو ان پر عمل کرے گا اور ان کی تعلیم دے گا، وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائے گا۔‘‘ (متی انجیل، باب 5، آیات 9-17    )
عیسیٰ مسیحؑ نے اپنے متبعین کے سامنے اس بات کو بھی واضح کردیا تھا کہ ان کی پیش کردہ دعوت بے ضرر اور سماج و حکومت سے مصالحانہ رویہ اختیار کرنے والی نہیں، جیسا کہ وحید الدین خان صاحب نے محمدی ماڈل کے مقابلے میں مسیحی ماڈل کو موجودہ دور میں قابلِ اختیار بتاتے ہوئے پیش کیا ہے، بلکہ عیسیٰؑ نے انتہائی وضاحت کے ساتھ بتایا کہ ان کی پیش کردہ دعوت سے زبردست کشمکش اور ٹکرائو ہو گا    :
’’یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں۔ صلح کرانے نہیں، بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں۔ کیوں کہ میں اس لیے آیا ہوں کہ آدمی کو اس کے باپ سے اور بیٹی کو اس کی ماں سے اور بہو کو اس کی ساس سے جدا کردوں، اور آدمی کے دشمن اس کے گھر ہی کے لوگ ہوں گے۔ جو کوئی باپ یا ماں کو مجھ سے عزیز رکھتا ہے، وہ میرے لائق نہیں، اور جو کوئی اپنی صلیب نہ اٹھائے اور میرے پیچھے نہ چلے، وہ میرے لائق نہیں۔ جو کوئی اپنی جان بچاتا ہے، اسے کھوئے گا، اور جو کوئی میری خاطر اپنی جان کھوتا ہے، اسے بچائے گا۔‘‘ (متی کی انجیل، باب 10، آیات 39-34    )
عیسیٰ مسیحؑ نے واضح طور سے آگاہ کیا کہ اس دعوت کے نتیجے میں حکام و بادشاہ ہی نہیں، بلکہ داعی کے اپنے خاندان سے تعلق رکھنے والے رشتے دار بھی اس کے دشمن ہوجائیں گے، ایسی صورت پیش آئے تو ان کے امتی دعوت سے غافل نہ رہیں اور آزمائش کی صورت میں ہجرت کر جائیں۔
’’اور تم میرے سبب سے حاکموں اور بادشاہوں کے سامنے حاضر کیے جائو گے، تاکہ ان کے اور غیر قوموں کے لیے گواہ ہو۔ بھائی کو بھائی قتل کے لیے حوالے کرے گا اور بیٹے کو باپ، اور بیٹے اپنے ماں باپ کے خلاف کھڑے ہوکر ان کو مروا ڈالیں گے، اور میرے نام کے باعث سے سب لوگ تم سے عداوت رکھیں گے، مگر جو آخر تک برداشت کرے گا، وہی نجات پائے گا۔ لیکن جب تم کو ایک شہر میں ستائیں تو دوسرے کو بھاگ جائو۔‘‘ (متی کی انجیل، باب 10، آیات 23-21-18    )
خان صاحب نے عیسیٰ مسیحؑ ہی کو صرف اپنی اغراضِ فاسدہ کے لیے تختۂ مشق نہیں بنایا، بلکہ اپنے باطل مقاصد کے لیے انہوں نے یوسفؑ پر اس طرح کیچڑ اچھالی کہ یوسفؑ نے رسول و نبی ہوتے ہوئے بھی ایک مشرک بادشاہ کے تحت سرکاری نوکری، محکمۂ غذا کی وزارت قبول کرلی (الرسالہ، جون 2007ئ، ص 4)، (اکتوبر2007ئ، ص 18) اس لیے اب اہلِ ایمان کے لیے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ ہر نظام وقت کے تحت محکوم بن کر رہیں اور اس کے تحت ہر قسم کے باطل و ناجائز قوانین کو بھی بسر و چشم قبول کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ یوسفؑ کے بارے میں خان موصوف نے یہ بالکل غلط اور برعکس تصویر پیش کی ہے، جب کہ قرآنِ مجید اور عہد نامۂ قدیم (تورات) دونوں بالکل دوسری ہی تصویر پیش کرتی ہیں کہ یوسفؑ محکوم نہیں، بلکہ ملک مصر کے تمام اختیارات کے ساتھ حاکم بنائے گئے تھے، بادشاہ صرف نام کا حکمراں تھا، جب کہ سارے سیاہ و سفید کے مالک یوسفؑ تھے۔ آیئے اس سلسلے میں سب سے پہلے بائبل کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ مصر کے فرعونِ وقت نے یوسفؑ کو صرف وزارتِ غذا دی تھی، یا پورے مصر کا حکمراں بنایا تھا۔
’’سو، فرعون نے اپنے خادموں سے کہا کہ کیا ہم کو ایسا آدمی جیسا یہ ہے، جس میں خدا کی روح ہے، مل سکتا ہے؟ اور فرعون نے یوسف سے کہا: چوں کہ خدا نے تجھے یہ سب کچھ سمجھا دیا ہے، اس لیے تیری مانند دانش اور عقل مند کوئی نہیں۔ سو تُو میرے گھر کا مختار ہوگا اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی، فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب میں بزرگ تر ہوں گا، اور فرعون نے یوسف سے کہا کہ دیکھ میں تجھے سارے ملک مصر کا حاکم بناتا ہوں، اور فرعون نے اپنی انگشتری اپنے ہاتھ سے نکال کر یوسف کے ہاتھ     میں پہنا دی اور اسے باریک کتان کے لباس میں آراستہ کرواکر سونے کا طوق اس کے گلے میں پہنایا اور اس نے اسے اپنے دوسرے رتھ میں سوار کراکر اس کے آگے آگے یہ منادی کروا دی کہ گھنٹے ٹیکو، اور اس نے اسے سارے ملک مصر کا حاکم بنا دیا اور فرعون نے یوسف سے کہا: میں فرعون ہوں اور تیرے حکم کے بغیر کوئی آدمی اس سارے ملک مصر میں اپنا پائوں ہلانے نہ پائے گا، اور فرعون نے یوسف کا نام صفنات فقیح (جہاں پناہ) رکھا۔‘‘ (عہد نامہ قدیم، پیدائش، باب 41، آیات 45-39    )
یہ تو یوسفؑ کے سلسلے میں فرعون کا بیان اور اس کی کارروائی تھی، جو اس نے انجام دی تھی۔ اب آیئے دیکھیں، خود یوسفؑ اپنے بھائیوں کو اپنے بارے میں کیا بتاتے ہیں    :
’’پس تم نے نہیں، بلکہ خدا نے مجھے یہاں بھیجا اور اس نے مجھے گویا فرعون کا باپ اور اس کے سارے گھر کا خداوند اور سارے ملک مصر کا حاکم بنایا، سو تم جلد میرے باپ کے پاس جاکر اس سے کہو، تیرا بیٹا یوسف یوں کہتا ہے کہ خدا نے مجھ کو سارے ملک کا مالک کردیا ہے، تُو میرے پاس چلا آ، دیر نہ کر… اور تم میرے باپ سے میری  شان و شوکت کا جو مجھے مصر میں حاصل ہے اور جو کچھ تم نے دیکھا ہے، سب کا ذکر کرنا۔‘‘ (عہد نامہ قدیم، پیدائش، باب 45، آیات 13,9-8    )
اس کے بعد دیکھیے یوسفؑ کے والد یعقوبؑ کو یوسفؑ کے بارے میں کیا بتاتے ہیں    :
’’اور وہ مصر سے روانہ ہوئے اور ملک کنعان میں اپنے باپ یعقوب کے پاس پہنچے اور اس سے کہا: یوسف اب تک جیتا ہے اور وہی سارے ملک کا حاکم ہے۔‘‘ (حوالہ سابق، آیات 26-25    )
عہد نامہ قدیم (تورات) کی مذکورہ آیات سے دو باتیں نہایت واضح ہیں: مصر کا فرعون یوسفؑ کا عقیدت مند اور ان سے بے انتہا متاثر ہوگیا تھا، پھر اس نے مصر کے تمام ذرائع و وسائل یوسفؑ کو سونپتے ہوئے، انہیں پورے ملک کا حاکم و مالک و مختار بنادیا۔ یہی بات ہے جو قرآن مجید کی آیات اجعلنی علی خزائن الارض (یوسف: 55) ’’تو مجھے ملک کے تمام ذرائع و وسائل پر فائز کر۔‘‘ اور رب قد آتیتنی من الملک (یوسف: 101) ’’میرے رب! تُو نے مجھے حکومت عطا فرمائی‘‘ میں کہی گئی ہے۔ اس کا ترجمہ و تفسیر جید علما و مفسرین نے بھی وہی کی ہے، جو تورات کے مذکورہ بیانات کے مطابق ہے، چنانچہ شیخ اشرف علی تھانویؒ اجعلنی علی خزائن الارض کی تفسیر میں فرماتے ہیں    :
’’چنانچہ بجائے اس کے کہ ان کو کوئی خاص منصب دیتا، مثل اپنے پورے اختیارات ہر قسم کے دے دیے، گویا حقیقت میں بادشاہ یہی ہوگئے۔ تو برائے نام وہ بادشاہ رہا اور یہ عزیز کے عہدے سے مشہور ہوئے۔‘‘ (مختصر بیان القرآن    )
ابوالکلام آزادؒ نے مذکورہ آیات کی تفسیر میں تفصیل سے یہی بتایا ہے کہ یوسفؑ کو مملکت مصر کا حکمران و مختار بنایا گیا تھا۔ (ترجمان القرآن، جلد سوم: ابوالکلام آزادؒ، تفسیر سورۃ یوسف 52:12۔ 101,56۔ ص 803,802,769,767    )
اس طرح وحید الدین خان صاحب نے یوسفؑ کے سلسلے میں جو من گھڑت، باطل، جھوٹی، نظام باطل سے ہم آہنگ تصویر پیش کی تھی، اس کی حقیقت آشکار ہوگئی اور یہ بات معلوم ہوئی کہ خان صاحب عصری اسلوب و تقاضوں کے تحت کس طرح منافقانہ اور عیارانہ روش اختیار کرتے ہوئے اللہ اور اس کے بندوں کو دھوکا دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ لگے ہاتھوں آیت ان الحکم الا اللّٰہ (یوسف: 67) کا جو ترجمہ و تفسیر ابوالکلام آزادؒ نے کی  ہے، وہ بھی ملاحظہ کرلیجیے، کیوں کہ وحید الدین خان صاحب عام مفہوم کے علی الرغم ’الحکم‘ سے مراد صرف اللہ کا فوق الفطری اقتدار لیتے ہیں اور انسانوں کی حکومت و سیاست کو حاکمیتِ الہٰ (اطاعتِ الٰہی) سے باہر کردیتے ہیں۔ یوسفؑ اپنے ساتھی قیدیوں کو خواب کی تفسیر بتانے سے پہلے اسلام کی دعوت دیتے ہوئے فرماتے ہیں    :
’’اے یارانِ مجلس! (تم نے اس بات پر بھی غور کیا کہ) جدا جدا معبودوں کا ہونا بہتر ہے یا اللہ کا جو یگانہ اور سب پر غالب ہے۔ تم اس کے سوا جن ہستیوں کی بندگی کرتے ہو، ان کی حقیقت اس سے زیادہ کیا ہے کہ محض چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نہیں اتاری، حکومت تو اللہ ہی کے لیے ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ صرف اس کی بندگی کرو اور اور کسی کی نہ کرو، یہی سیدھا دین ہے، مگر اکثر آدمی ایسے ہیں جو نہیں جانتے۔‘‘ (ترجمان القرآن، جلد سوم: ابوالکلام آزادؒ، ص 753-752    )
ان الحکم الا اللّٰہ سورہ یوسف میں دوسری بار اس موقع پر آئی ہے، جب یعقوبؑ بن یامین سمیت اپنے بیٹوں کو مصر روانہ کررہے ہیں اور انہیں مصر میں داخل ہوتے وقت کچھ احتیاطی مشورے دے رہے ہیں    :
’’اور باپ نے انہیں (چلتے وقت) کہا: اے میرے بیٹو (دیکھو جب مصر پہنچو تو شہر کے) ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا، جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا، میں تمہیں کسی ایسی بات سے نہیں بچا سکتا جو اللہ کے حکم سے ہونے والی ہو، (لیکن اپنی طرف سے حتی المقدور احتیاط کی ساری تدبیریں کرنی چاہئیں)، فرماں روائی کسی کے لیے نہیں ہے، مگر اللہ کے لیے (دنیا کے سارے حکمرانوں کی طاقت اس کے آگے ہیچ ہے)، میں نے اس پر بھروسا کیا ہے اور وہی ہے جس پر تمام بھروسا کرنے والوں کو بھروسا کرنا چاہیے۔‘‘ (حوالہ سابق، ص 775-774    )
اس کی تشریح میں ابوالکلام آزادؒ فرماتے ہیں    :
’’ان الحکم الا اللّٰہ اصل فرماں روائی تو اللہ ہی کے لیے ہے، وہ نہ چاہے تو مصر کا حکمراں کیا کرسکتا ہے! پس جو کچھ بھروسا ہے، اس پر ہے، البتہ اپنی طرف سے تدبیر و احتیاط ضرور کرنی چاہیے۔‘‘ (حوالہ سابق، ص 778    )
اوپر کے ترجمے و تفسیر سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ اللہ کی حکومت اور فرماں روائی دنیا و آخرت دونوں پر محیط ہے، اس کے آگے سب مجبور و محکوم و غلام ہیں، اللہ نے انسان کو دنیا کی خلافت عطا کرکے آزمایا ہے کہ وہ اپنے دائرۂ اختیار میں اللہ کی فرماں روائی و حکومت کو تسلیم کرکے اپنے عام معاملات، گھر، خاندان و معاشرے، حکومت و سیاست میں اس کے احکام کی بجا آوری کرتا ہے یا طاغوت و شیطان کی حکمرانی تسلیم کرکے اللہ کی نافرمانی کرتا اور دنیا و آخرت میں اس کے غضب کا شکار ہوتا ہے۔ وحید الدین خان صاحب اس تفسیر کو باطل قرار دیتے ہیں اور غلط طور سے یوسفؑ کی مثال دیتے ہوئے سیاست و حکومت کو اسلام سے باہر کرکے سیکولر طاقتوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔
خان صاحب چاہتے ہیں کہ حکومت کی باگیں اور اقتدار کی کنجیاں سب سیکولر طاغوتی طاقتوں کے حوالے کردینی چاہئیں اور خود چپ چاپ خالی خولی عبادت میں مصروف ہوجانا چاہیے۔ ایسی عبادت جس کا کسی سے، یہاں تک کہ شیطان و ابلیس تک سے کوئی ٹکرائو نہ ہو، بلکہ ایسی عبادت جو خود ابلیس اور ابلیسی طاقتوں کے نزدیک پسندیدہ و مطلوب ہو… چنانچہ موصوف فرماتے ہیں    :
’’آپ اسلام کے عقیدے کو مانیں، اسلامی طریقے پر عبادت کریں، اسلام کے اخلاقی اصولوں کی پابندی کریں تو یہ آپ کا ایک ذاتی عمل ہوتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے کسی اور کے ساتھ آپ کا ٹکرائو پیش نہیں آتا، لیکن جب آپ نشانہ یہ بنائیں کہ مجھے زمین پر اسلامی حکومت قائم کرنا ہے تو یہ نشانہ خود آپ کو دوسرے سے ٹکرا دیتا ہے۔‘‘ (الرسالہ، اکتوبر 2007ئ، ص 24    )

یہ ہے خان صاحب کا اسلام، جو کسی برائی، غلط، ناجائز اور حرام، فساد و بگاڑ والے کسی کام سے کوئی سروکار نہیں رکھتا، پورے طور سے سب کو ترقی کے مواقع فراہم کرتا ہے، اگر کسی کو ایسے مؤثر و جان دار مواقع نہیں دیے جاتے ہیں تو وہ اسلام ہے۔ ظاہر ہے کہ سیکولرازم کی صحیح تعبیر یہی ہے۔ اب یہ بات دوسری ہے کہ خان صاحب کا یہ تصورِ اسلام اللہ کے منتخب نمائندوں، رسولوں اور انبیا تک کو اسلام کی غلط دعوت دینے والا ٹھیراتا ہے، کیوں کہ جب بھی انبیا و رسولوں نے اسلام پیش کیا تو معدودے چند استثنائی حالات کو چھوڑ کر انہیں اپنے معاشرے اور حکومت سے شدید مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ تصورِ اسلام جس میں کسی قسم کی آزمائش نہ ہو، وہ اسلام اللہ کی جانب سے ہو ہی نہیں سکتا، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے تو ارشاد فرمایا ہے    :
’’کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اتنا کہنے سے کہ ہم ایمان لائے ہیں، ہم انہیں بے آزمائے چھوڑ دیں گے۔ ہم نے ان سے اگلوں کو بھی آزمایا ہے۔ یقینی طور سے (آزمائشوں کے ذریعے) ہم دیکھیں گے کہ کتنے لوگ (ایمان کے معاملے میں) سچے ہیں اور کتنے جھوٹے ہیں۔‘‘ (العنکبوت: 3-2    )

(جاری ہے    )

 

پروفیسر ڈاکٹر خالد حامدی

 
COMPARE FITNA-E-GHAMEDI AT DUNYA TV WITH THIS INDIAN FITNA
By: Prof. Dr. Khalid Hamedi
 
لیکن چونکہ اب خان صاحب کو اسلام دشمن طاقتوں کے اشارے پر دین اسلام کی ہیئت وماہیت تبدیل کرنی تھی اور اس میں سے حکومت و اقتدار اور جہاد و قتال غیرہ کو نکال باہر کرنا تھا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو اسوۂ غیرکاملہ یعنی اسوۂ ناقصہ بناکر اور اسے معطل و منسوخ کرکے اسوۂ مسیحی باَلفاظِ دیگر عیسائیت کے لیے مسلمانوں کا ذہن تیار کرنا تھا‘ اس لیے قرآن کی سورہ صف جو مسلمانوں کے درمیان سے دو عملی و نفاق ختم کرنے اور انہیں متحد ہوکر جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب دلانے کے لیے نازل کی گئی ہے‘ اس کی یہ آیت خان صاحب اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے پیش کرتے ہیں    "
 
 
 
چونکہ خان صاحب کو عیسائیت کی مانند حکومت و سیاست کو اسلام سے خارج کرکے اسے ائمۃ الکفر کے حوالے کرنا تھا‘ تاکہ طاغوتی حکمران حکومت و سیاست میں من مانی کریں اور پھر ہندوستان کی مانند بچی کھچی نافذالعمل اسلامی شریعت کو بھی آہستہ آہستہ میدانِ عمل سے باہر کردیں‘ جیسا کہ عیسیٰ ؑ کے دین اسلام کو عیسائیت میں تبدیل کرنے والے سینٹ پال اور ان کے متبعین
نے کیا تھا‘ اس کے لیے خان صاحب نے انبیا کی سیرت بھی داغدار کرنے کی کوشش کی ہی اور بتایا ہے کہ عیسیٰ ؑ کا مستقل مؤقف یہ تھا کہ ’’جو قیصر کا ہے‘ وہ قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے‘ وہ خدا کو دو۔‘‘ اس بارے میں خان صاحب کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں    :
’’حضرت مسیح کے زمانے میں فلسطین رومن ایمپائر کے ماتحت تھا۔ رومی بادشاہوں کا خاندانی لقب قیصر     (Caesar) ہوا کرتا تھا‘ کچھ لوگوں نے حضرت مسیح سے سوال کیا کہ فلسطین میں سیاسی اعتبار سے رومیوں کی حکومت ہے‘ دوسری طرف ہمارے مذہبی احکام ہیں‘ اس طرح ہم دو طرفہ تقاضوں کے درمیان ہیں‘ ایسی حالت میں ہم کو کیا کرنا چاہیے؟ حضرت مسیح نے جواب دیا کہ رومی حکمراں جو حکم دیں اس کو مانو، ان سے ٹکرائو نہ کرتے ہوئے عمل کا جو غیر سیاسی دائرہ باقی رہتا ہے‘ اس میں اپنے مذہبی تقاصے پورے کرو۔‘‘ (الرسالہ‘ فروری 2007ئ، ص15
    

(2) وحید الدین خان کے افکار کا علمی جائزہ

 

By: Prof. Dr. Khalid Hamedi

قرآن اور صاحبِ قرآن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کی تاریخ و سیرت بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ اہلِ اسلام کے اندر توحید جامع کو زندگیوں میں اتارتے اور شرکِ جامع سے اجتناب کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کا شعور پیدا ہو، جو انہیں بتدریج اسلامی بنیادوں پر قیام حکومت تک لے جائے۔ خان صاحب قرآن کو تو بازیچہ اطفال بنا سکتے ہیں، لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ، سیرتِ مطہرہ سے کس طرح اپنا دامن بچایا جائے‘ اس کے لیے خان صاحب نے مرزا غلام احمد قادیانی کی مانند اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منصبِ ختم رسالت اور کارِ نبوت کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ سورۃ المائدہ کی آیت 48 کاحوالہ دیتے ہوئے خان موصوف نے بتایا کہ    :
’’دین ہدایت کے اشتراک کے باوجود ہر نبی کو ایک ایسی چیز بھی دی گئی جو دوسرے نبیوں سے مختلف تھی۔ قرآن کے الفاظ میں یہ ’’منہاج‘‘ ہے۔ منہاج سے مراد وہی چیز ہے‘ جس کو ہم طریق کار     (method) کہتے ہیں‘ یعنی ہر نبی کا دین نظریاتی اعتبار سے ایک تھا‘ لیکن اس کے انطباق کے معاملے میں زمانی حالات کے اعتبار سے مختلف طریقے اختیار کیے گئے…آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ آخری پیغمبر      (final prophet) تھے‘ لیکن ہر صورت کے لیے آخری نمونہ     (final model) نہ تھے‘ چنانچہ قرآن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اسوۂ حسنہ کا لفظ آیا ہے‘ نہ کہ اسوۂ کاملہ کا (الاحزاب21: ) کسی پیغمبر کو فائنل ماڈل سمجھنا خدا کے قائم کردہ قانونِ فطرت کی تنسیخ کے ہم معنی ہے۔ ایسی تنسیخ ممکن نہیں‘ اس لیے پیغمبر کا فائنل ماڈل ہونا بھی ممکن نہیں۔ فائنل پرافٹ کا تعلق دین کے نظریاتی حصے سے ہے اور نظریاتی اعتبار سے بلاشبہ ایک پیغمبر فائنل پیغمبر ہوسکتا ہے‘ لیکن ماڈل کا تعلق خارجی حالات سے ہے۔ یہ حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ اس لیے عملی اعتبار سے کوئی ایک پیغمبر فائنل ماڈل نہیں بن سکتا۔ قرآن کی اصطلاح کے مطابق یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ’’الدین‘‘ کے اعتبار سے فائنل پیغمبرتھے‘ لیکن ’’منہاج‘‘ کے اعتبار سے آپ فائنل ماڈل نہ تھے‘ غالباً یہی وجہ ہے کہ حدیث میں پیشن گوئی کی گئی ہے کہ آخری زمانے میں مسیح دوبارہ نازل ہوں گے۔
جیسا کہ معلوم ہے پیغمبر آخرالزماں کا زمانۂ نبوت قیامت تک ہے‘ اسی لیے اب آپ کے بعد کسی اور پیغمبر کا شخصی طور پر آنا ناقابلِ فہم بات ہے‘ اس لیے ان روایات کو درست مانتے ہوئے ان کی صحیح تاویل یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں جو چیز واقع ہوگی‘ وہ مسیح کی آمدِ ثانی نہیں ہے‘ بلکہ مسیح کے ماڈل کی آمدِ ثانی ہے‘ یعنی بعد کے زمانے میں حالات کے اندر ایسی تبدیلیاں واقع ہوں گی کہ حالات کے اعتبار سے حضرت مسیح کا عملی ماڈل زیادہ قابلِ انطباق     (applicable) بن جائے گا۔    ‘‘
(ماہنامہ الرسالہ جون 2007 ئ، ’’مسیحی ماڈل کی آمد ثانی‘‘ ص 4۔5    )
رسالتِ محمدی کو بے اثر بنانے کے لیے ایک دوسرے مقام پر اس بات کو اس طرح بیان کرتے ہیں    :
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری نبی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترنے والی کتاب (قرآن) کو خدا نے ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ’’الدین‘‘ دیا گیا‘ وہ کامل بھی ہے اور ابدی بھی۔ ہر زمانے کے انسانوں کے لیے اللہ کے دین کو جاننے کا یہی واحد مستند ماخذ ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کا تعلق منہاج یا طریق کار سے ہے۔ اس معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنما اصول مقرر فرما دیے ہیں، لیکن جہاں تک عملی طریقے کا تعلق ہے وہ علماء امت کا کام ہے۔ ہر زمانے کے علماء حالات کے اعتبار سے اُس منہاج یا طریق کار کو اختیار کریں گے  جو ان کو حالات کے اعتبار سے مؤثر اور مفید نظر آئے۔‘‘ (ماہنامہ الرسالہ‘ اکتوبر 2007 ئ، ص 5     )
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباعِ کامل یا سنتِ مطہرہ کو جس آیت کی تشریح میں بے اثر بنانے کی مفسدانہ کوشش خان صاحب نے کی ہے وہ یہ ہے: ’’وانزلنا الیک الکتب بالحق مصدقا لما بین یدیہ من الکتب و مہیمنا علیہ فاحکم بینہم بما انزل اللّٰہ ولا تتبع اہواء ہم عما جاء ک من الحق لکل ط جعلنا منکم شرعۃ و منہاجا‘‘(المائدہ 48    :)
(ترجمہ) ’’اور ہم نے تمہاری طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل کی ہے‘ جو ان کتابوں کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پیش تر آچکی ہیں اور ان کی محافظ بھی ہے‘ اس لیے تم ان کے آپس کے معاملات کا اسی اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کے مطابق فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آچکا ہے‘ اس سے ہٹ کر ان کی خواہشات کے پیچھے نہ پڑو۔ تم لوگوں میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک شریعت (دستور) اور ایک راہ رکھی تھی۔    ‘‘
اس آیت کی تشریح میں مفسرین نے ’’شرعۃ‘‘ سے ہر نبی کی لائی ہوئی تعلیم بالکتاب مراد لی ہے اور منہاج اس پیغمبر کی سنت۔ عبداللہ بن عباسؓ، مجاہد، عکرمہ، حسن بصری، قتادہ، ضحاک اور سدیؒ سب نے یہی مراد لیا ہے (تفسیر ابن کثیر)۔ اس طرح اس آیت میں یہ بات واضح کی گئی کہ جس طرح تمہیں کتاب و سنت کی تعلیم دی گئی ہے‘ اسی طرح تم سے پہلے کی قوموں یہودیوں اور عیسائیوں وغیرہ کو بھی کتاب و سنت     کی تعلیم دی گئی تھی‘ ان دونوں یعنی کتاب و سنت کی پیروی تمہارے اوپر لازمی ہے‘ تمہیں اس سے ہٹ کر لوگوں کی مرضی و خواہشات کے مطابق امور انجام نہیں دینے ہیں۔
سورہ مائدہ کی مذکورہ آیت اور اس کے سیاق و سباق کی آیات میں بار بار تاکید کی گئی ہے کہ شریعت کو نظرانداز کرکے خواہشات کی پیروی نہیں کرنی ہے اور جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں…ظالم ہیں… فاسق ہیں۔ (القرآن: المائدہ:44 ‘45 ‘47) حالانکہ خود وحید الدین خان صاحب نے اپنی تفسیر ’’تذکیر القرآن‘‘ میں مذکورہ آیت کی تشریح میں وہی بات کہی ہے‘ جو کہ اور لوگوں نے اختیار کیا ہے    :
’’یہاں کتاب سے مراد دین کی اصل اور اساسی تعلیمات ہیں۔ اللہ کی یہ کتاب ایک ہی کتاب ہے اور وہی ایک کتاب زبان اور ترتیب کے فرق کے ساتھ تمام نبیوں کی طرف اتاری گئی ہے۔ تاہم دین کی حقیقت جس ظاہری ڈھانچے میں متشکل ہوتی ہے‘ اس میں مختلف انبیا کے درمیان فرق پایا جاتا ہے… ظاہری ڈھانچے میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں‘ تاکہ ڈھانچے کی مقصودیت کا ذہن ختم ہو اور خدا کے سوا کوئی اور چیز توجہ کا مرکز نہ بننے پائے۔ اب اس قسم کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں‘ کیونکہ ڈھانچے کو نبی بدلتا ہے اور نبی اب آنے والا نہیں۔‘‘ (تذکیر القرآن‘ اول: وحید الدین خان‘ ص 264‘ 1990ء نئی دہلی    )
لیکن چونکہ اب خان صاحب کو اسلام دشمن طاقتوں کے اشارے پر دین اسلام کی ہیئت وماہیت تبدیل کرنی تھی اور اس میں سے حکومت و اقتدار اور جہاد و قتال وغیرہ کو نکال باہر کرنا تھا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو اسوۂ غیرکاملہ یعنی اسوۂ ناقصہ بناکر اور اسے معطل و منسوخ کرکے اسوۂ مسیحی باَلفاظِ دیگر عیسائیت کے لیے مسلمانوں کا ذہن تیار کرنا تھا‘ اس لیے قرآن کی سورہ صف جو مسلمانوں کے درمیان سے دو عملی و نفاق ختم کرنے اور انہیں متحد ہوکر جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب دلانے کے لیے نازل کی گئی ہے‘ اس کی یہ آیت خان صاحب اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے پیش کرتے ہیں    :
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! تم لوگ اللہ کے مددگار بنو‘ جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے اپنے حواریین (صحابہ) سے کہا تھا کہ کون ہے جو اللہ کی طرف (بلانے میں) میرا مددگار بنتا ہے؟ حواریین نے کہا کہ ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ پھر بنی اسرائیل کا ایک گروہ ان پر ایمان لایا اور ایک گروہ نے انکار کردیا۔ اس کے بعد ہم نے ایمان لانے والوں کی ان کے دشمنوں کے خلاف مدد کی تو وہ غالب ہوگئے۔‘‘(الصف:14    )
پھر خان صاحب عصری اسلوب میں یوں گویا ہوتے ہیں    :
’’اس آیت کا اسلوب ایک غیر معمولی اسلوب ہے‘ اس لیے کہ اس آیت میں واضح طور پر پیروانِ محمد کو پیروانِ مسیح کے ماڈل کو اپنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس آیت پر غور کیا جائے تو اس سے ایک نہایت اہم حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے۔ یہاں خدا نے حال کی زبان میں مستقبل کے معاملے کو بیان فرمایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ تاریخ میں ایسی تبدیلیاں واقع ہوں گی کہ محمدی ماڈل زمانی حالت کی نسبت سے، جزئی طور پرقابلِ انطباق     (applicable) نہ رہے گا‘ اس کے بجائے مسیحی ماڈل، جزئی طور پر قابلِ انطباق بن جائے گا۔‘‘ (الرسالہ، جون 2007ئ، ص 3    )
اس آیت کی جو توجیہ و تشریح عیسائیت نواز خان صاحب نے کی ہے، وہ لفظی و معنوی تحریف کی اتنی بدترین مثال ہے کہ اس پر شاید شیطان بھی شرمندہ ہوگا اور اس پر اظہارِ افسوس کررہا ہوگا‘ کیونکہ یہاں مستقبل کی کوئی بات نہیں بتائی جارہی ہے اور نہ ہی صیغۂ امر میں حال چھوڑ کر مستقبل پوشیدہ ہوتا ہے‘ اِلاّ یہ کہ اس کا کوئی واضح قرینہ پایا جائے۔ اس آیت میں اہلِ ایمان خصوصاً انصارِ مدینہ مخاطب ہیں کہ وہ یہودیوں اور منافقین کے کہنے میں نہ آئیں‘ بلکہ اپنی جان‘ مال‘ تن من دھن سے اللہ کی اطاعت کریں اور جہاد فی سبیل اللہ میں بھرپور طریقے سے حصہ لیں‘ جس طرح سے عیسیٰ  ؑکے حواریین (صحابہ) نے اپنی قوم کے علما اور عوام و خواص کی شدید مخالفت کے باوجود عیسیٰ ؑ کی اطاعت اور دین پر دعوت و عمل کے معاملے میں ان کا مکمل طریقے سے ساتھ دیا‘ یہی وجہ ہے کہ ان کو عیسیٰ ؑ کے حواریین کی مانند ’’انصار‘‘ کا خطاب دیا‘ لیکن چونکہ خان صاحب کو عیسائیت کی مانند حکومت و سیاست کو اسلام سے خارج کرکے اسے ائمۃ الکفر کے حوالے کرنا تھا‘ تاکہ طاغوتی حکمران حکومت و سیاست میں من مانی کریں اور پھر ہندوستان کی مانند بچی کھچی نافذالعمل اسلامی شریعت کو بھی آہستہ آہستہ میدانِ عمل سے باہر کردیں‘ جیسا کہ عیسیٰ ؑ کے دین اسلام کو عیسائیت میں تبدیل کرنے والے سینٹ پال اور ان کے متبعین
نے کیا تھا‘ اس کے لیے خان صاحب نے انبیا کی سیرت بھی داغدار کرنے کی کوشش کی ہی اور بتایا ہے کہ عیسیٰ ؑ کا مستقل مؤقف یہ تھا کہ ’’جو قیصر کا ہے‘ وہ قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے‘ وہ خدا کو دو۔‘‘ اس بارے میں خان صاحب کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں    :
’’حضرت مسیح کے زمانے میں فلسطین رومن ایمپائر کے ماتحت تھا۔ رومی بادشاہوں کا خاندانی لقب قیصر     (Caesar) ہوا کرتا تھا‘ کچھ لوگوں نے حضرت مسیح سے سوال کیا کہ فلسطین میں سیاسی اعتبار سے رومیوں کی حکومت ہے‘ دوسری طرف ہمارے مذہبی احکام ہیں‘ اس طرح ہم دو طرفہ تقاضوں کے درمیان ہیں‘ ایسی حالت میں ہم کو کیا کرنا چاہیے؟ حضرت مسیح نے جواب دیا کہ رومی حکمراں جو حکم دیں اس کو مانو، ان سے ٹکرائو نہ کرتے ہوئے عمل کا جو غیر سیاسی دائرہ باقی رہتا ہے‘ اس میں اپنے مذہبی تقاصے پورے کرو۔‘‘ (الرسالہ‘ فروری 2007ئ، ص15
    )

لیکن خان صاحب نے عصری اسلوب کے تقاضے پورے کرتے ہوئے یہاں انجیل کی عبارت پوری نقل نہیں کی اور اس طرح انتہائی بھونڈے طور سے عیسائیوں کی مانند اللہ کے ایک جلیل القدر رسول پر الزام لگادیا کہ وہ اللہ کی اتباع کے بجائے مشرک رومی حکمرانوں کے ہر حکم کی اتباع کا حکم دیا کرتے تھے۔
درحقیقت ایک گھنائونی سازش کے تحت عیسیٰ مسیح علیہ السلام سے بنی اسرائیل کے علما و فقہا کی طرف سے ایک سوال کیاگیا تھا‘ عیسیٰ مسیح نے ان کی اس سازش کو بھانپ لیا اور بہت خوبصورتی سے شریعت کے مطابق جواب بھی دیا اور ان کی سازش کو ناکام بھی بنادیا۔ ملاحظہ ہو انجیل کی مکمل عبارت    :
’’اس گھڑی فقیہوں اور سردار کاہنوں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی، مگر لوگوں سے ڈرے، کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ اس نے یہ تمثیل ہم پر کہی اور اس کی تاک میں لگے اور جاسوس بھیجے کہ راست باز بن کر اس کی کوئی بات پکڑیں، تاکہ اس کو حاکم کے قبضے اور اختیار میں دے دیں۔ انہوں نے اس سے یہ سوال کیا کہ اے استاد ؑہم جانتے ہیں کہ تیرا کلام اور تعلیم درست ہے اور تُو کسی کی طرف داری نہیں کرتا، بلکہ سچائی سے خدا کی راہ کی تعلیم دیتا ہے، ہمیں قیصر کو خراج دینا روا ہے یا نہیں؟ اس نے ان کی مکاری معلوم کرکے ان سے کہا: ایک دینار مجھے دکھائو۔ اس پر کس کی صورت اور نام ہے؟ انہوں نے کہا: قیصر کا۔ اس نے ان سے کہا: پس جو قیصر کا ہے قیصر کو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو۔ وہ لوگوں کے سامنے اس قول کو پکڑ نہ سکے، بلکہ اس کے جواب سے تعجب کرکے چپ ہورہے۔‘‘ (لوقا انجیل، باب 20، آیات21 ۔26     )

عیسیٰ بن مریمؑ کے زمانے میں وحیدالدین خان صاحب جیسے نظام باطل کے ہم نوا فقیہ اور سردار کاہن تھے، انہوں نے عیسیٰ مسیح علیہ السلام سے سوال کیا کہ ’’ہمیں قیصر کو خراج دینا روا ہے یا نہیں؟‘‘ یہاں سوال     De Facto (حقیقتِ واقعہ) کے اعتبار سے نہیں‘ بلکہ     De Jure (امر شرعی) کی حیثیت سے پوچھا جارہا تھا۔ یہ اس لیے کہ اگر عیسیٰؑ یہ کہتے ہیں کہ ہاں خراج دینا روا یا شرعی اعتبار سے جائز ہے تو فقیہ پروپیگنڈا کرتے کہ یہ کیسا رسول و مسیح ہے جو کہ طاغوت کی محکومی کو جائز بتارہا ہے! اور اگر عیسیٰ مسیح انکار کرتے ہیں تو وہ فوراً فتنہ کھڑا کردیتے کہ یہ شخص لوگوں کو قیصر سے بغاوت پر اکسا رہا ہے جیسا کہ فی الواقع بعد میں انہوں نے یہی الزام لگا کر اپنی دانست میں آپؑ کو سولی تک پہنچا ہی دیا‘ لیکن عیسیٰؑ نے ان سے دینار لے کر ان سے پوچھا کہ اس پر کس کا نام و تصویر ہے؟ انہوں نے کہا کہ قیصر کی۔ عیسیٰ مسیح نے فرمایا کہ جو قیصر کا ہے یعنی دینار پرکھدا ہوا نام اور تصویر، وہ قیصر کو دے دو اور جو خدا کا ہے یعنی سونا وہ خدا کو دے دو۔ اس طرح ان کی سازش ناکام ہوئی اور وہ اس عبارت سے تعجب میں مبتلا ہوکر خاموش ہوگئے۔

پروفیسر ڈاکٹر خالد حامدی
 
 
 
COMPARE FITNA-E-GHAMEDI AT DUNYA TV WITH THIS INDIAN FITNA
 
وہ مرزا قادیانی کی مانند مسلمانوں کو مسلسل ترکِ جہاد و قتال کی تعلیم دے رہے ہیں، جب کہ مسیحی مغرب بیسویں اور اکیسویں صدی میں بدترین خونریزی اور مسلسل جنگوں میں مبتلا ہے، جن میں اس نے کروڑوں معصوموں کا بے گناہ خون بہایا ہے، لاکھوں انسانوں کو ذہنی و جسمانی اعتبار سے ناکارہ کیا ہے اور انسان کے تحفظ و بقا کے لیے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ ذرائع پیداوار کو تباہ کیا ہے۔ اس سنگین صورتِ حال میں مسلمانوں کو مسلسل ترکِ جہاد کی تلقین کی جارہی ہے اور انہیں فکری و نظریاتی طور سے محکومیت کا خوگر بنایا جارہا ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وحید الدین خان صاحب ایک طرف مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات پر عمل کی تلقین کرتے، دوسری طرف انہیں صبر و استقامت کی تاکید کرتے ہوئے اسلامی جہاد و قتال کے اصول و ضوابط بتاتے اور انہیں باربار تنبیہہ کررہے ہوتے کہ دشمن سے مقابلہ آرائی میں انتقامی جذبات کارفرما نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ جنگ کے بدترین سے بدترین حالات میں بھی اسلامی اصول و ضوابط کی سختی کے ساتھ پابندی کرنی چاہیے۔ نہیں، ایسے بدترین دور میں جہاں انہوں نے مسلمانوں کے درمیان سے جہاد ہی کو کالعدم کرنے کی کوشش کی، وہیں دوسری طرف اسلام میں اجتماعیت کو بے اثر بنانے کے لیے اس پر زور دینا شروع کیا کہ: ’’اسلام صرف بندے اور اللہ کے درمیان انفرادی رابطے کی چیز ہے،کوئی اجتماعی نظام نہیں، جس کے قیام کے لیے تحریک چلائی جائے۔ اگر ایسا کیا گیا تو یہ تفرق فی الدین ہوگا۔‘‘ (ماہنامہ الرسالہ ، نئی دہلی، جولائی 1984ء ، ص 23    
 

یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دست و بازو رہنے والے
 خلیفہ دوم امیرالمومنین عمرؓ بن خطاب اجتماعیت کے سلسلے میں اس طرح بہ تاکید وضاحت فرماتے ہیں    :
’’اسلام بغیر اجتماعیت کے نہیں، اجتماعیت بغیر حکومت کے نہیں، اور حکومت بغیر اطاعت کے نہیں۔‘‘ (سنن الدارمی
    )
 
IS THERE ANY MOVEMENT IN PAKISTAN
FOR THE ENFORCEMENT OF SHARIAH?
JAMAAT-E-ISLAMI HAS ALSO THROWN THE DEMAND FOR SHARIAH IN ITS BACKYARD
THERE IS NO PRIORITY FOR THIS DEMAND BY ANY POLITCAL PARTY
 
جہاں قرآن مجید میں مذکورہ 90 فی  صد احکام و قوانین کا تعلق اجتماعیت و حکومت سے ہے،
 وہاں نماز، زکوٰۃ وغیرہ کا تعلق بھی اصلاً اجتماعیت و حکومت سے ہے (القرآن ، الحج 41:22)۔
 

اب اس کو کیا کہا جائے کہ اسلام کا خمیر تو اجتماعیت ہی سے شروع ہوتا ہے اور اسی پر ختم ہوتاہے ۔ اس کے ارکان، اس کی فرض عبادات، اس کی مشاورت، اس کی حکومت، اس کے قوانین، اس کی سزائیں ،اس کی جنگیں، اس کی صلح و مصالحت … ان سب کا تعلق اجتماعیت سے ہے ۔ اگرچہ یہ سب امور اللہ کی رضا جوئی و خوش نودی اور محبت و اطاعتِ الٰہی کے حصول کے لیے ہی انجام دینے ہوتے ہیں۔ بندے و رب کے درمیان عبدیت والے مزید ربط وتعلق میں اضافے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نوافل کا انتظام رکھا ہے، جن کا تعلق صرف نمازوں ہی سے نہیں، بلکہ تمام عبادات ومعاملات و اخلاق میں قدر زائد سے ہے (و ما یزال عبدی یتقرب الیّ بالنوافل ، صحیح البخاری)۔ جہاں قرآن مجید میں مذکورہ 90 فی  صد احکام و قوانین کا تعلق اجتماعیت و حکومت سے ہے، وہاں نماز، زکوٰۃ وغیرہ کا تعلق بھی اصلاً اجتماعیت و حکومت سے ہے (القرآن ، الحج 41:22)۔ اجتماعی زندگی کو اسلام میں جو اہمیت حاصل ہے اس کی بنا پر غیر اجتماعی زندگی کو فرد کی دینی موت قرار دیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے    :
’’اللہ کی رسّی کو تم سب مل کر تھام لو اور علیحدہ علیحدہ نہ ہو۔‘‘(آل  عمران :103    )
چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا    :
’’میں تم کو پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں‘ جن کا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے: (1) اجتماعیت(2) سمع(3) طاعت(4) ہجرت(5) جہاد فی سبیل اللہ۔ جو شخص جماعت سے بالشت بھر بھی الگ ہوا‘ اس نے اسلام کا حلقہ اپنی گردن سے نکال پھینکا‘ اِلاّ یہ کہ وہ پھر جماعت کی طرف پلٹ آئے۔ جس نے جاہلیت (افتراق و انتشار) کی دعوت دی تو وہ جہنم کا ایندھن ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگرچہ وہ روزے رکھے اور نماز پڑھے؟ فرمایا: ہاں اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے۔‘‘ (جامع الترمذی‘ مسند احمد‘ مستدرک للحاکم    )
یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دست و بازو رہنے والے خلیفہ دوم امیرالمومنین عمرؓ بن خطاب اجتماعیت کے سلسلے میں اس طرح بہ تاکید وضاحت فرماتے ہیں    :
’’اسلام بغیر اجتماعیت کے نہیں، اجتماعیت بغیر حکومت کے نہیں، اور حکومت بغیر اطاعت کے نہیں۔‘‘ (سنن الدارمی    )
لیکن مسلمانوں کی نظروں میں اسلامی حکومت کی اہمیت کو بے اثر بنانے کے لیے جب قرآن و سنت اور تعامل صحابہ و تابعین و ائمہ محدثین سے دلیل نہ ملی تو ابلیس کی مدد سے ازخود انہوں نے ایک دلیل گڑھی۔ ملاحظہ فرمائیں خاں صاحب کے عصری اسلوب والی تحریر کو، اور داد دیں خاں صاحب کے ساتھ ابلیس ملعون کو کہ وہ انسان کو بہکانے کے لیے کیا کیا تدبیریں سُجھاتا ہے    :
"

 وحید الدین خان کے افکار کا علمی جائزہ

 

 

مولانا وحیدالدین خان صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ اُن کی تحریروں اور تقریروں کے نتیجے میں اُن کے ہم خیال افراد کا ایک حلقہ وجود میں آچکا ہے۔ جہاد کے بارے میں اُن کے افکار مرزا غلام احمد قادیانی کے افکار سے ہم آہنگ تو تھے ہی، چند سال قبل انہوں نے ایک نئی فکر پیش کردی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ’’اسوۂ حسنہ‘‘ تو ہے لیکن ’’اسوۂ کاملہ‘‘ نہیں، اس لیے مسلمانوں کو مسیحی ماڈل کی پیروی کرنی چاہیے۔ نئی دہلی سے شائع ہونے والے جریدے ماہنامہ ’’اللہ کی پکار‘‘ کے ایڈیٹر پروفیسر ڈاکٹر خالد حامدی صاحب نے اپنے جریدے میں مولانا وحید الدین خان صاحب کی اس فکر کا ایک علمی جائزہ لیا ہے 

جو ذیل میں پیش کیا جارہا ہے۔

 

 

وحیدالدین خان صاحب نے اپنے رسالے ماہ نامہ ’’الرسالہ‘‘ نئی دہلی، جون 2007ء کے شمارے میں صفحہ 2تا6 ’’مسیحی ماڈل کی آمدِ ثانی‘‘ میں اپنے قارئین کے سامنے یہ انکشاف فرمایا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ’’اسوۂ حسنہ‘‘ تو ہے، لیکن ’’اسوۂ کاملہ‘‘ نہیں ہے، اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نظریاتی طور سے تو فائنل پیغمبر مانا جائے گا، لیکن عملی طور سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فائنل ماڈل سمجھنا اللہ کے قائم کردہ قانونِ فطرت کی تنسیخ کے ہم معنیٰ ہے، اس لیے اب اس زمانے میں جزوی طور سے محمدی ماڈل قابل انطباق     (Applicable) نہ رہے گا، اس کے بجائے مسیحی ماڈل جزوی طور سے قابلِ انطباق ہوجائے گا۔ اس طرح وحید الدین خان صاحب نے اسلام کے عقیدۂ رسالت، ختم نبوت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے تکمیلِ دین پر انتہائی خطرناک کاری وار کیا ہے۔ یہ خیالات صریحاً رسالتِ محمدی کے انکار پر مبنی تھے جن کو شانِِ رسالت میں گستاخی سے تعبیر کیا گیا۔
اس کے بعد ’’الرسالہ‘‘ نئی دہلی اکتوبر 2007ء کے شمارے میں بھی وحیدالدین خان صاحب نے پھر اپنے اسی فاسد خیال کو غلط طور سے کچھ مثالیں دے کر انتہائی بھونڈے طریقے سے ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ’’اسوۂ حسنہ‘‘ تو ہے، لیکن ’’اسوۂ کاملہ‘‘ نہیں ہے (ص 10)۔ یعنی اس دور میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہماری رہنمائی نہیں کر پارہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوے میں قابلِ تقلید عناصر نہیں ہیں، اس لیے جزوی طور سے ہی سہی، محمدی ماڈل کے بجائے مسیحی ماڈل مسلمانوں کو اختیار کرنا چاہیے، کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ اسوۂ کاملہ نہیں ہے، یعنی بصورتِ دیگر نعوذ باللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ اسوۂ ناقصہ ہے،اس لیے اب مسلمانوں کو عیسیٰؑ کے پیروئوں     (Followers) کے ساتھ مل کر مسیحی ماڈل کی پیروی کرنی چاہیے… اناللہ و انا الیہ راجعون۔ خان صاحب نے جتنی مثالیں اس ضمن میں پیش کی ہیں، وہ سب کی سب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ اور اسوۂ کاملہ کی مثالیں ہی ہیں۔ ان کے بارے میں تفصیل سے آگے بتایا جائے گا، لیکن اس سے پہلے ہم اپنے قارئین کو اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کریں گے کہ موجودہ زمانے میں جب کہ کمیونزم کے زوال کے بعد عالمی طور سے اسلام کو مغربی تہذیب کے ایک متوقع دشمن کے طور پر پیش کیا جارہا ہے اور یہ ثابت کرنے کی مسلسل کوشش کی جارہی ہے کہ اسلام اس دور میں قابلِ عمل نہیں ہے، بعض مسلمان طبقوں کی احتجاجی، متشددانہ انتہا پسندی کی مثالیں دے کر اسلام کو تشدد اور دہشت گردی کا دین قرار دیا جارہا ہے اور امریکہ و یورپ عالم اسلام کی ’’اصلاح‘‘ کے لیے مسلمان ممالک کی سرحدوں کے اندر فوجی دراندازی سے بھی باز نہیں آئے ہیں اور احسان جتاتے ہوئے ان کی باجبر تربیت و اصلاح کے لیے مسلسل کوشاں ہیں، اور جن مسلمان ممالک میں انہوں نے مداخلت نہیں بھی کی ہے، وہاں مغربی تسلط کے آگے سرنگوں ہوجانے کی مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔ قرآن کو دہشت گردی کے ایک بڑے ذریعے کے طور پر متعارف کرایا جارہا ہے اور مسلمانوں سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ جہاد و قتال اور اختلاف سے متعلق آیات کو حذف کرکے قرآن کو طاغوت کی خواہشات کے مطابق ازسرنو ترتیب دیا جائے، بلکہ ’’الفرقان المبین‘‘ کے نام سے عیسائی تعلیمات کی تبلیغ کرتا ہوا ایک اسلام مخالف ترمیم و تحریف شدہ قرآن مسلمانوں کے لیے پیش بھی کردیا گیا ہے۔ پھر اتنا ہی نہیں، عیسائی مشنریاں زور و شور سے عالم اسلام میں مسیحیت کو اسلام سے برتر اور فائق قرار دینے پر تلی ہوئی ہیں اور مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے لیے اَن تھک جدوجہد اور کاوش میں مصروف ہیں۔ ایسے موقع پر دنیا کے سامنے یہ بتایا جائے کہ چونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ، اسوۂ حسنہ ہوتے ہوئے بھی اسوۂ کاملہ نہیں ہے، اس لیے موجودہ دور میں وہ پورے طور سے قابلِ انطباق نہیں ہے، چنانچہ محمدی ماڈل کے بجائے مسلمانوں کو جزوی طور ہی سے سہی، مسیحی ماڈل اختیار کرلینا چاہیے کہ یہی حکم ربی ہے۔
اصل میں یہ سوال ان ہی کے ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے، جن کی نظروں سے خان صاحب کی تحریریں گزرتی نہ رہی ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ظاہری طور سے خان صاحب اس وقت پورے طور سے اسلام مخالف ایجنڈے پر کاربند ہیں۔ اگرچہ وہ اسلام، دعوت اور آخرت، تقویٰ، خوفِ خدا وغیرہ جیسے الفاظ کی تکرارِ محض کررہے ہوتے ہیں، لیکن اس سب سے ان کی مراد ایک ایسے بے اثر و بے نتیجہ اسلام کی ہوتی ہے، جو ظاغوت اور طاغوتی طاقتوں کے لیے نہ صرف یہ کہ انتہائی نرم چارہ ہو، بلکہ وہ طاغوتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں انتہائی معاون و مدد گار ہو، جو مسلمانوں کو محکومی و مغلوبی کا سبق ہی نہ دے رہا ہو، بلکہ وہ اسے اسلام و انسانیت کی اعلیٰ قدر قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو اس پر راضی و مطمئن کرنے کی مسلسل کوشش میں بھی لگا ہوا ہو۔
اس اعتبار سے اگر جائزہ لیا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ جس طرح انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں مرزا غلام احمد قادیانی نے مسلمانوں کو محکومیت و مغلوبیت سے بھرپور فکری غذا دینے کی کوشش کی، انتہائی معمولی فرق سے وہی کام خان صاحب بیسویں صدی کے آخر اور اکیسویں صدی کے شروع میں انجام دے رہے ہیں۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کی ابتدا میں فکری و حربی اعتبار سے مغربی مسیحی طاقتیں عالم اسلام پر یلغار میں مصروف تھیں، بلکہ ان طاقتوں نے مسلمان حکومتوں کا خاتمہ کرکے انہیں اپنا مجبور و مقہور اور محکوم بنا لیا تھا، اُس وقت مرزا غلام احمد قادیانی انگریزوں کے پشت پناہ بن کر سامنے آئے اور مسلمانوں کو جہاد وقتال سے روکنے، انگریزوں کا ہم نوا بننے اور ان کی محکومی پر اللہ کا شکر ادا کرنے کی مسلسل تلقین کرتے رہے۔ مسلمان حکومتوں کے مقابلے میں عیسائی انگریز حکومتوں کو اللہ کی نعمت قرار دیتے رہے۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے اپنی زبان و قلم کی تمام صلاحیتیں وقف کردیں۔ اپنی بات کو مؤثر بنانے کے لیے مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے لیے مہدی، مجدد، محدث، مثیل مسیح، مسیح موعود اور پھر بروزِ محمد وغیرہ کی اصطلاحات استعمال کیں، اور اس بات کو سمجھانے کی کوشش کی کہ عیسیٰ مسیحؑ وفات پا چکے ہیں اور وہ معروف و مشہور مسلم عقیدے کے برخلاف اب اس دنیا میں نہیں آئیں گے، البتہ ان کی جگہ پر ان (مرزا غلام احمد قادیانی) کو محمدی و مسیحی پیغام کے ساتھ اس دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ اس طرح عقیدۂ رسالت کے خلاف مرزا قادیانی کھلم کھلا میدان میں نکل آیا اور آخر میں اس نے اپنے سلسلے میں نبی و رسول کا دعویٰ کرکے ختم رسالت ہی کو ماننے سے انکار کردیا۔
وحید الدین خان صاحب کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی انتہائی پسندیدہ شخصیت ہیں، جنہوں نے مسلمانوں کو ’چلو تم اُدھر کو ہوا ہو جدھر کی‘ پر بھرپور طریقے سے آمادہ کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کے حصول کے لیے انہیں جہاد سے باز رکھنے کی پوری بازی لگا دی، لیکن بات ماننے کے بجائے انہیں انگریزوں کا ایجنٹ قرار دیا گیا (تجدید دین: وحیدالدین خان، ص 44۔45)۔ حیرت انگیز طور سے وحیدالدین خان صاحب مرزا غلام احمد قادیانی کے محبوب رول کو ازسرنو زندہ کرنے کے لیے ایک ایسے دور میں سامنے آئے ہیں، جب کہ عیسائی مغرب کی یلغار مسلمان ممالک پر شدید سے شدید تر ہوتی جارہی ہے۔ مسلمان ممالک ایک عرصے تک سیاسی طور سے مغرب کے محکوم و مقہور رہے، اب بظاہر آزاد ہوتے ہوئے بھی فکری و نظریاتی طور سے محکوم ہیں۔ وہ مرزا قادیانی کی مانند مسلمانوں کو مسلسل ترکِ جہاد و قتال کی تعلیم دے رہے ہیں، جب کہ مسیحی مغرب بیسویں اور اکیسویں صدی میں بدترین خونریزی اور مسلسل جنگوں میں مبتلا ہے، جن میں اس نے کروڑوں معصوموں کا بے گناہ خون بہایا ہے، لاکھوں انسانوں کو ذہنی و جسمانی اعتبار سے ناکارہ کیا ہے اور انسان کے تحفظ و بقا کے لیے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ ذرائع پیداوار کو تباہ کیا ہے۔ اس سنگین صورتِ حال میں مسلمانوں کو مسلسل ترکِ جہاد کی تلقین کی جارہی ہے اور انہیں فکری و نظریاتی طور سے محکومیت کا خوگر بنایا جارہا ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وحید الدین خان صاحب ایک طرف مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات پر عمل کی تلقین کرتے، دوسری طرف انہیں صبر و استقامت کی تاکید کرتے ہوئے اسلامی جہاد و قتال کے اصول و ضوابط بتاتے اور انہیں باربار تنبیہہ کررہے ہوتے کہ دشمن سے مقابلہ آرائی میں انتقامی جذبات کارفرما نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ جنگ کے بدترین سے بدترین حالات میں بھی اسلامی اصول و ضوابط کی سختی کے ساتھ پابندی کرنی چاہیے۔ نہیں، ایسے بدترین دور میں جہاں انہوں نے مسلمانوں کے درمیان سے جہاد ہی کو کالعدم کرنے کی کوشش کی، وہیں دوسری طرف اسلام میں اجتماعیت کو بے اثر بنانے کے لیے اس پر زور دینا شروع کیا کہ: ’’اسلام صرف بندے اور اللہ کے درمیان انفرادی رابطے کی چیز ہے،کوئی اجتماعی نظام نہیں، جس کے قیام کے لیے تحریک چلائی جائے۔ اگر ایسا کیا گیا تو یہ تفرق فی الدین ہوگا۔‘‘ (ماہنامہ الرسالہ ، نئی دہلی، جولائی 1984ء ، ص 23    )
اب اس کو کیا کہا جائے کہ اسلام کا خمیر تو اجتماعیت ہی سے شروع ہوتا ہے اور اسی پر ختم ہوتاہے ۔ اس کے ارکان، اس کی فرض عبادات، اس کی مشاورت، اس کی حکومت، اس کے قوانین، اس کی سزائیں ،اس کی جنگیں، اس کی صلح و مصالحت … ان سب کا تعلق اجتماعیت سے ہے ۔ اگرچہ یہ سب امور اللہ کی رضا جوئی و خوش نودی اور محبت و اطاعتِ الٰہی کے حصول کے لیے ہی انجام دینے ہوتے ہیں۔ بندے و رب کے درمیان عبدیت والے مزید ربط وتعلق میں اضافے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نوافل کا انتظام رکھا ہے، جن کا تعلق صرف نمازوں ہی سے نہیں، بلکہ تمام عبادات ومعاملات و اخلاق میں قدر زائد سے ہے (و ما یزال عبدی یتقرب الیّ بالنوافل ، صحیح البخاری)۔ جہاں قرآن مجید میں مذکورہ 90 فی  صد احکام و قوانین کا تعلق اجتماعیت و حکومت سے ہے، وہاں نماز، زکوٰۃ وغیرہ کا تعلق بھی اصلاً اجتماعیت و حکومت سے ہے (القرآن ، الحج 41:22)۔ اجتماعی زندگی کو اسلام میں جو اہمیت حاصل ہے اس کی بنا پر غیر اجتماعی زندگی کو فرد کی دینی موت قرار دیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے    :
’’اللہ کی رسّی کو تم سب مل کر تھام لو اور علیحدہ علیحدہ نہ ہو۔‘‘(آل  عمران :103    )
چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا    :
’’میں تم کو پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں‘ جن کا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے: (1) اجتماعیت(2) سمع(3) طاعت(4) ہجرت(5) جہاد فی سبیل اللہ۔ جو شخص جماعت سے بالشت بھر بھی الگ ہوا‘ اس نے اسلام کا حلقہ اپنی گردن سے نکال پھینکا‘ اِلاّ یہ کہ وہ پھر جماعت کی طرف پلٹ آئے۔ جس نے جاہلیت (افتراق و انتشار) کی دعوت دی تو وہ جہنم کا ایندھن ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگرچہ وہ روزے رکھے اور نماز پڑھے؟ فرمایا: ہاں اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے۔‘‘ (جامع الترمذی‘ مسند احمد‘ مستدرک للحاکم    )
یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دست و بازو رہنے والے خلیفہ دوم امیرالمومنین عمرؓ بن خطاب اجتماعیت کے سلسلے میں اس طرح بہ تاکید وضاحت فرماتے ہیں    :
’’اسلام بغیر اجتماعیت کے نہیں، اجتماعیت بغیر حکومت کے نہیں، اور حکومت بغیر اطاعت کے نہیں۔‘‘ (سنن الدارمی    )
لیکن مسلمانوں کی نظروں میں اسلامی حکومت کی اہمیت کو بے اثر بنانے کے لیے جب قرآن و سنت اور تعامل صحابہ و تابعین و ائمہ محدثین سے دلیل نہ ملی تو ابلیس کی مدد سے ازخود انہوں نے ایک دلیل گڑھی۔ ملاحظہ فرمائیں خاں صاحب کے عصری اسلوب والی تحریر کو، اور داد دیں خاں صاحب کے ساتھ ابلیس ملعون کو کہ وہ انسان کو بہکانے کے لیے کیا کیا تدبیریں سُجھاتا ہے    :

’’اسلام میں سیاسی اقتدار کی وہ اہمیت ہی نہیں‘ جو مسلم رہنمائوں نے بطور خود سمجھ لی تھی۔ قدیم زمانے میں مسلمانوں کو طویل مدت تک سیاسی اقتدار اس لیے ملا کیونکہ قدیم زمانے میں آخری کلامِ الٰہی (قرآن) کی کامل حفاظت کے لیے سیاسی اقتدار کی حمایت ضروری تھی۔ پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے بعد خود پرنٹنگ پریس قرآن کی حفاظت کا ضامن بن گیا۔ اس کے بعد سیاسی اقتدار کی حیثیت اس پہلو سے ایک اضافی     (Relative) چیز بن گئی۔ اس بنا پر یہ ہوا کہ سیاسی اقتدار کے حق میں خدا کی خصوصی حمایت باقی نہ رہی۔‘‘(ماہنامہ الرسالہ، نئی دہلی، دسمبر 2006ئ، ص 6    )
یہ صحیح ہے کہ جہاں بنیادی عقیدے کی درستی اور ارکانِ اسلام و عبادات پر عمل کے بغیر حکومت بے مقصد ہے‘ وہیں مسلمانوں کی اجتماعیت حکومت کے بغیر بے معنی ہے۔
خاں صاحب نے جب یہ محسوس کیا کہ ان کی دلیل کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے اور بغیر مضبوط دلیل کے ان کی بات تو بالکل بے وزن ہوجائے گی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں جسارت اور بے ہودگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو اسوۂ کاملہ ماننے سے انکار کردیا اور مسلسل زور دے کر یہ ثابت کرنے میں لگ گئے کہ اسوۂ حسنہ کا مطلب اسوۂ کاملہ نہیں ہوا کرتا۔ اب ذرا عصری اسلوب میں اسلام کی ترجمانی کرنے والے خاں صاحب سے کوئی یہ تو دریافت کرے کہ جو اسوہ کامل نہ ہو، ناقص ہو، وہ اسوۂ حسنہ یعنی عمدہ یا بہترین کیسے ہوجائے گا؟ اور جس کا اسوہ قیامت تک کے لیے قابلِ عمل نہ ہو‘ وہ خاتم النبیین ہونے کے منصب پر کیسے فائز سمجھا جائے گا؟ ایسی صورت میں تو مرزا غلام احمد قادیانی ہی کا تصورِ نبوت صحیح قرار پائے گا‘ پھر کسی نہ کسی کو رسول و نبی کے نام سے یا کسی اور طریقے سے یہ مقام دینا پڑے گا کہ اس کے اسوے پر عمل کرکے دنیا و آخرت کو کامیاب بنایا جائے۔ دراصل یہی وہ قادیانی ماڈل ہے جس کی ترجمانی وحیدالدین خان صاحب کررہے ہیں۔
عربی میں ’’اسوہ‘‘ قابلِ تقلید نمونے کو کہتے ہیں۔ اسلام میں یہ بات دین کی اساسیات سے تعلق رکھتی ہے کہ آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی جائے‘ یہی وجہ ہے     کہ قرآن میں جہاں جہاں اطیعوااللّٰہ (اللہ کی اطاعت کرو آیا ہے) وہاں وہاں عام طور سے اطیعواالرسول (رسول کی اطاعت کرو) بھی آیا ہے کہ اللہ کی اطاعت کے ساتھ رسول کی اطاعت ضروری ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ یہ بات بھی بتادی گئی کہ رسول کی اطاعت کے بغیر اللہ کی اطاعت کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا    :
’’جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔‘‘ (النسائ:80     )
پھر اس بات کو بھی واضح کیا گیا کہ رسول کو اطاعت کرانے ہی کے لیے بھیجا جاتا ہے    :
’’ہم نے جو بھی رسول بھیجا ہے‘ وہ اسی لیے بھیجا کہ اس کی اللہ کے حکم سے اطاعت کی جائے۔‘‘ (النساء :64    )
پھر اس کے معاً بعد اللہ فرماتا ہے    :
’’سو قسم ہے تمہارے رب کی! یہ ہرگز صاحبِ ایمان نہیں ہوسکتے جب تک کہ آپس کے اختلافات میں آپ کو حَکم نہ مان لیں‘ پھر جو فیصلہ آپ ان میں کریں‘ اس کے سلسلے میں اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرماں برداری کے ساتھ اسے قبول کرلیں۔‘‘ (النسائ:65    )
ان آیات کے بعد بھی اُس شخص کو بدقسمت ہی کہا جائے گا جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع و اطاعت سے یہ کہہ کر پیچھے ہٹنے کی کوشش کرے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ اسوۂ کاملہ نہ تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کی اتباع کو ضروری قرار دے، چاہے وہ اتباع سابقہ نبی ہی کی کیوں نہ ہو‘ کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ آج موسیٰ  ؑبھی زندہ ہوتے تو وہ بھی میری پیروی کرتے۔ (متفق علیہ) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اسوۂ حسنہ و کاملہ کے سلسلے میں دیکھیے کتنے عمدہ طریقے سے روشنی ڈالتے ہیں    :
’’میری اور انبیاء کی مثال ایسی ہے‘ جیسے کوئی محل ہو‘ اس کی تعمیر عمدگی کے ساتھ ہوئی ہو اور اس میں صرف ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی ہو‘ دیکھنے والے عمارت کا چکر لگاتے ‘ اس کے حسنِ تعمیر  پر حیرت کرتے بجز اس اینٹ کی جگہ کے‘ تو میں ہی وہ ہوں‘ جس نے اس اینٹ کی جگہ کو پُر کیا ہے۔ مجھ پر تعمیر ختم ہوگئی اور مجھ پر نبوت بھی ختم ہوگئی۔‘‘ (صحیح مسلم    )
اس طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو نہایت صراحت کے ساتھ بیان فرما دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کے بعد اسلام بھی مکمل صورت میں ہمارے سامنے آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ بھی مکمل و بہترین صورت میں ہمیں بتادیا گیا ہے۔
نبیٔ کاذب مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح وحید الدین خان صاحب بھی اپنی تحریروں میں بے جا سے بے جا دلیل سے یہ بات ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اسلام میں نہ تو کوئی اجتماعی نظام ہے اور نہ سیاسی نظام، اس لیے اہلِ اسلام کو نہ تو حکومت کی ضرورت ہے اور نہ ہی اسلامی حکومت کو جہاد و قتال کی۔گزشتہ زمانوں میں حکومت کی ضرورت اس لیے تھی کہ قرآن کی حفاظت مقصود تھی‘ لیکن پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے بعد خود پرنٹنگ پریس قرآن کی حفاظت کا ضامن بن گیا‘ اب مسلمانوں کے سیاسی اقتدار و حکومت کی حیثیت ایک اضافی چیز اور قدرے زائد کی ہوگئی ہے۔ (ماہنامہ الرسالہ‘ نئی دہلی‘ دسمبر 2006 ئ’’مسلم تاریخ۔ ایک جائزہ‘‘ ص 4۔5۔6) خان موصوف نے اس دعوائے محض کی کوئی دلیل نہ دی۔ گویا خان موصوف جو فرمائیں‘ اسے دوسروں کو آنکھ بند کرکے مان لینا چاہیے۔ خان صاحب کے بے دلیل دعوے کی قلعی خود اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے کھل جاتی ہے‘ اللہ تعالیٰ قرآن کی حفاظت سے متعلق فرماتا ہے    :
’’ہم نے اس ذکر (قرآن) کو بتدریج اتارا ہے اور ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘ (الحجر9    : )
اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ قرآن کی حفاظت کا ضامن اللہ ہے۔ نہ تو پرنٹنگ پریس اس کا ضامن ہے اور نہ کوئی حکومت۔ اللہ مختلف شخصیات‘ ذرائع و اسباب کے ذریعے قرآن کی حفاظت کرتا ہے۔ اس میں بظاہر سب سے بڑا ذریعہ شروع سے آج تک اور رہتی دنیا تک حفظِ قرآن کا رہے گا۔ اگر خدانخواستہ تحریر شدہ مطبوعہ قرآن کسی ذریعے سے غائب بھی کردیے جائیں‘ تب بھی قرآن حافظ حضرات کے سینوں میں محفوظ رہے گا۔ قرآنی حفاظت کے اس بے مثال انتظام ہی کی بدولت اللہ تعالیٰ نے اسلامی حکومت اور اہلِ حکومت کی ذمے
داری قرآن مجید کی حفاظت کی نہیں‘ بلکہ اس طرح بتائی ہے: ’’یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کو اقتدار عطا کریں تو وہ نماز قائم کریں‘ زکوٰۃ کا نظم کریں‘ اچھے کاموں کا حکم دیں اور برے کاموں سے منع کریں۔‘‘ (الحج:41    )
سعودی عرب سے شائع ہونے والے محمد جونا گڑھی کے ترجمہ قرآن پر شیخ صلاح الدین یوسف کا تفسیری حاشیہ ہے‘ جس کی نظرثانی کا کام ڈاکٹر وصی اللہ بن محمد عباس اور ڈاکٹر اختر جمال لقمان نے انجام دیا ہے۔ اس میں اس آیت کی تفسیر اس طرح کی گئی ہے    :
’’اس آیت میں اسلامی حکومت کے بنیادی اہداف اور اغراض و مقاصد بیان کیے گئے ہیں‘ جنہیں خلافتِ راشدہ اور قرنِ اوّل کی دیگر حکومتوں میں بروئے کار لایا گیا اور انہوں نے اپنی ترجیحات میں ان کو سرفہرست رکھا تو ان کی بدولت ان حکومتوں میں امن و سکون بھی رہا‘ رفاہیت و خوشحالی بھی رہی اور مسلمان سربلند اور سرفراز بھی رہے۔‘‘ (ص 936    )
قرآن کی مذکورہ آیت سے جہاں اسلامی حکومت کے بنیادی اغراض و مقاصد واضح ہوتے ہیں‘ وہاں یہ بات بھی واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ اقامتِ صلوٰۃ، ایتائِ زکوٰۃ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے اسلامی اغراض و مقاصد صحیح معنوں میں پورے طور سے تمکین فی الارض اور اقتدار و حکومت کے بغیر عمل میں نہیں آسکتے۔
الرسالہ جون 2007ء میں ایک سوال کے جواب میں ایک حدیث القرآن و السلطان تو امان یعنی ’’قرآن اور اقتدار توام     (Twin) بھائی ہیں‘‘ وحید الدین خان صاحب نے پیش کی ہے (ص30)۔ وہ حدیث بھی یہی بتا رہی ہے کہ قرآن کے احکام کی تنفیذ کے لیے اقتدار ضروری ہے‘ جب قرآن پر صحیح معنوں میں لوگ عمل کریں گے تو اللہ کی مدد ان کے شاملِ حال رہے گی اور جب اللہ چاہے گا‘ زمین میں غلبہ و اقتدار انہیں حاصل ہوگا۔ قرآن قیامت تک کے لیے ہے اور اللہ کا وعدۂ اقتدار بھی قرآن پر ایمان و عمل کرنے والے اہلِِ ایمان کے لیے قیامت تک ہے۔ اس میں کہیں پر یہ نہیں کہا گیا ہے کہ ایک دور آئے گا‘ جب قرآن و اقتدار کے بجائے قرآن و پریس جڑواں بھائی ہوجائیں گے۔ خان صاحب غور فرمائیں کہ کیا آپ کا مایہ ناز مزعومہ عصری اسلوب آپ کو اس قسم کی ذہنی قلابازیوں کی ترغیب دیتا رہتا ہے۔

(جاری ہے    )

DOWNLOAD MATERIALS AND FILES

IN DEFENCE OF WAHEEDUDDIN KHAN VIEWPOINT

Amne_Aalam_I.pdf Amne_Aalam_I.pdf
Size : 5363.742 Kb
Type : pdf
Amne_Aalam_II.pdf Amne_Aalam_II.pdf
Size : 5716.888 Kb
Type : pdf
powerphplist.png powerphplist.png
Size : 2.352 Kb
Type : png
True_Jihad_1.pdf True_Jihad_1.pdf
Size : 3314.217 Kb
Type : pdf
True_Jihad_2.pdf True_Jihad_2.pdf
Size : 2090.347 Kb
Type : pdf