日本イスラーム研究所 Japan Islamic Research Institute


عربئ مبین

لسان ِ عربئ مبین کی فصاحت  و لطافت،بَلاغت  و بُلوغت ، کُشاد وکُشائش سے تو کوئی بھی ذی شعورانکار کی جراءت نہیں کر سکتاکہ اس کی جڑیں پاتال ِلسانیت سے مربوط و  مفرُوش  ہیں۔یہی وہ زبان  تھی  جس میں قرآنِ کریم ،اللہ کی آخری کتاب نازل ہوئی ۔جو نوعِ انساں کیلئے واحد اور مکمل ضابطۂ حیات ہے ۔یہ ایسے ابدی حقائق پر مشتمل ہے جن پر زمانہ  کےتغیرات اثر انداز نہیں ہوسکتے،اور جو اس قدر عالمتاب اور ہمہ گیر  ہیں کہ زندگی کے ہر شعبے اور تاریخ کے ہر دور میں انسانی فکر کی امامت کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ  جس کتاب کی کیفیت یہ ہو اسکی زبان کو کسقدر جامع ، ہمہ گیر، وسیع، بلند اور عمیق، اور  اسکے ساتھ، کسقدر صاف، واضح اور متعین ہونا چاہئے۔ایک مغربی مفکر نے ، جو عیسائیت سے بر گشتہ ہو کر ایک ایسے مذہب کی تلاش میں ہے جو انسانی  عقل و بصیرت کی تسکین کر سکے، کہا ہے کہ وہ جس مذہب کی تلاش میں ہے اُس کی کتاب کی زبان ایسی ہونی چاہئے:"جو ایک طرف ایسی سلیس اور سادہ ہو کہ عام سطح کے انسان بھی اس سے مستفید ہوسکیں اور دوسری طرف اس قدر عمیق اور برمعنی کہ ایک بلند پایہ مفکر بھی اس سے مطمئن ہوجائے" ۔ (جولیئن ہکسلے۔نیویارک ٹائمز22-8-52)۔قرآن کریم کی زبان اس معیار پر بھی صحیح طور پر پوری اترتی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب مشیتِ ایزدی نے قرآن کے انقلابی پروگرام کو عملاً متشکل کرنے کیلئے عربوں جیسی قوم کا انتخاب کیا تو، نزولِ قرآن سے صدیوں پہلے، اس قوم کے ذمے یہ فریضہ عائد کر دیا کہ وہ اپنی زبان کو بتدریج ارتقائی منازل طے کراتے اس مقام تک لے جائے کہ وہ قرآن کے عظیم حقائق کی متحمل ہوسکے۔جب حضرت ابرہیمؑ کی اولاد کو  دو شاخوں میں تقسیم کیا گیا، تو ایک شاخ، بنی اسرائیل، کے حصے میں نبوت اور حکومت آئی اور دوسری شاخ، بنی اسماعیل،کو حجاز کی وادئ غیر ذی زرع میں بسایا گیا، جہاں ان کے ہاں، حضرت اسمٰعیلؑ کے بعد، نہ کوئی نبی مبعوث ہوا، نہ انہیں بادشاہت ملی۔ لیکن یہ شاخ، رفتہ رفتہ ایک ایسی قوم بن گئی جو دایۂ فطرت کے آغوش میں پل کر جوان ہوئی اور نبی آخر الزماں  ﷺ کی اولین مخاطب بننے کی اہل قرار پائی۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی زبان کو اس قدر جِلا دی کہ وہ اپنے آپ کو، بجا طور پر ، عرب(یعنی فصیح البیان) اور دوسروں کو عجم(یعنی گونگے) کہا کرتے تھے۔لفظ"عربی" کے معنی ہی صاف، واضح اور بیّن کے ہیں۔اِس وقت، عربی زبان کی اصل(اوریجن) اور اس کے ارتقائی مراحل کے متعلق کوئی تحقیقاتی بحث میرے پیشِ نظر نہیں۔مقصود صرف یہ بتانا ہے کہ جہاں بنی اسرائیل صدیوں تک تمدن و حضارت کے بلند اور پُرشکوہ محلات تعمیر کرنے میں مصروف رہے، اور سطوتِ داؤدیؑ اور شوکتِ سلیمانیؑ کے حامل بنے، ان کے بھائی، بنی اسمٰعیل، اس تمام عرصہ میں، شعوری یا غیر شعوری طور پر، ایک ایسی زبان کی ترتیب و تہذیب میں کوشاں رہے جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی زبان نہیں کرتی تھی۔ماہرینِ علم الالسنہ کے پیش کردہ نظریات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اگر تاریخ کے کسی خاص دور میں، کسی قوم کی ذہنی سطح کا اندازہ لگانا ہو تو دیکھنا یہ چاہئے کہ اس دور میں ، کسی قوم کی زبان میں کتنے الفاظ ایسے تھے جو تصورات(کانسپٹس) کے مظہر تھے۔اس ضمن میں ان کی تحقیق یہ ہے کہ ہندی- یورپیئن(انڈو یورپیئن) زبانوں میں جس قدر الفاظ مروّج ہیں ان کے تصوراتی مشتقات(روٹ کانسیپٹس) کی تعداد زیادہ سے زیادہ ایک سو اکیس تک پہنچتی ہے۔اور تو اور، جس زمانے میں سنسکرت ایک زندہ زبان تھی، اور سورج اور آگ کو دیوتا مانا جاتا تھا، اُس زمانے میں اس زبان میں سورج کیلئے کل سینتیس37 الفاظ تھے اور آگ کیلئے پینتیس 35 ۔اس کے برعکس عربوں کو دیکھئے تو ان کے ہاں شہد کیلئے اسّی 80 الفاظ، سانپ کیلئے دو سو 200، شیر کیلئے پانچ سو 500، تلوار کیلئے ایک ہزار1،000، اور اونٹ کیلئے پانچ ہزارسات سو چوالیس 5،744 الفاظ موجود تھے۔(کوسمک کانشیئسنیس۔رچرڈ موریس  صفحہ 30 اور 31 )۔اس سے عربی اور عربوں کے تخیل کی وسعت اور جامعیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا، اور اپنے مطالب میں بڑا صاف، واضح اور آسان۔اس سے انسان، عام طور پر، اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ جس شخص کو عربی زبان آتی ہو وہ قرآنی حقائق کو بآسانی سمجھ سکتا ہے۔یعنی قرآنی حقائق کے سمجھنے کیلئے صرف عربی زبان کا جاننا کافی ہوگا۔یہ خیال صحیح نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم کے سمجھنے کیلئے عربی زبان کا جاننا ضروری ہے۔دنیا میں کوئی کتاب بھی سمجھی نہیں جاسکتی جب تک انسان اس زبان سے واقف نہ ہو جس میں وہ کتاب لکھی  گئی ہے۔لیکن اگر صرف عربی زبان  جاننے سے قرآنی حقائق سمجھ میں آسکتے تو عرب کس حد تک قرآن کریم کی تعلیم کو سمجھتے ہیں اس کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔عربوں سے مراد صرف ان کے عوام نہیں۔اس میں اُن کا پڑھا لکھا، علماء کا طبقہ، بھی شامل ہے۔جب اس باب میں خود عربوں کی یہ حالت ہے تو غیر عربوں کے متعلق اندازہ کرنا مشکل نہیں۔اس سے ایک اہم سوال ہمارے سامنے آتا ہے، اور وہ یہ کہ ایک طرف قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہے کہ عربی زبان کی آسان کتاب ہے اور دوسری طرف کیفیت یہ ہے کہ نہ صرف عربی جاننے والوں میں سے، بلکہ خود ان میں سے جن کی مادری زبان عربی ہے، بہت کم ہیں جو قرآنی تعلیم کو کما حقہ سمجھتے ہیں۔اس کی وجہ کیا ہے؟ یہ سوال بڑا بنیادی اور اہم ہے اور اس کا اچھی طرح سمجھ لینا ضروری۔عربی زبان کی وسعت و جامعیت کے متعلق تو کہا جاچکا ہے کہ زمانۂ نزولِ قرآن سے پہلے ہی یہ زبان بہت منجھ چکی تھی۔لیکن یہ معلوم کرکے غالباً آپ کو حیرت ہوگی کہ قرآن کریم نثر کی سب سے پہلی کتاب ہے جو اس زبان میں لکھی گئی۔عربوں کے ہاں شعر و شاعری کا زیادہ رواج تھا اس لئے ان کی زبان کا تمام تر ذخیرہ اشعار کی شکل میں تھا جو نسلاً بعد نسلٍ (زبانی) آگے منتقل ہوتا چلا آرہا تھا۔ جسے آج عربی لٹریچر کہا جاتا ہے وہ بیشتر عباسیوں کے زمانے میں مرتب ہوا۔یہی وہ زمانہ تھا جس میں کتب احادیث و سیر اور تاریخ و آثار مرتب ہوئیں۔قرآن کریم کی تفاسیر لکھی گئیں۔عربی ادب کی کتابیں تالیف ہوئیں۔اس کے ساتھ یہ بھی عجب ماجرا ہے کہ جن حضرات نے یہ کتابیں مرتب کیں وہ (باستثنائے معدودے چند) سب غیر عرب ، یعنی عجمی ، تھے۔یہی کتابیں عربی زبان کا اولین سرمایہ ہیں۔تاریخ کا طالبِ علم اس حقیقت سے واقف ہے کہ عباسیوں کے زمانے میں، عجمی تصورات ِ حیات ساری فضا میں پھیل چکے تھے۔انہوں نے سلطنت انہی کی مدد سے حاصل کی تھی اس لئے اُس دور کی سیاست پر بھی انہی کا اثر غالب تھا۔اور یہ حقیقت ہے کہ جس گروہ کا سیاست پر اثر ہو اس کا زندگی کے ہر شعبے پر اثر چھا جاتا ہے۔نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ ان لوگوں کے قلم سے جو کچھ نکلا اس کے الفاظ تو عربی  تھے لیکن ان الفاظ کے پیکروں میں تصورات عجمی تھے۔یوں عربی زبان ، تصنیف و تالیف کے پہلے دور میں غیر عربی تصورات کی حامل بن گئی۔یہ تبدیلی کس کس انداز سے ہوئی، اس کی تفصیل علامہ احمدامین مصریؒ نے اپنی مایہ ناز تصنیف فجر الاسلام میں شرح و بسط سے دی ہے۔اس بحث کے آخر میں وہ لکھتے ہیں:"یقیناً آپ اس بارے میں مجھ سے متفق ہونگے کہ ایرانی لٹریچر نے عربی لٹریچر کو ایک نئے رنگ میں رنگ دیا"۔ ظاہر ہے جب عربی زبان پر خارجی، غیر عربی، اثرات اس طرح مرتب ہوئے اور اس کے الفاظ کے حقیقی مفہوم میں تبدیلی پیدا ہوگئی تو اس زبان کے جو الفاظ قرآن کریم میں آئے تھے ان کے مفہوم میں بھی فرق آگیا۔چونکہ ہماری کتب و تفاسیر بھی اسی فضا میں مرتب ہوئی تھیں اس لئے وہ بھی عجمی تصورات سے متاثر ہوئیں۔یوں قرآنی الفاظ کے اس مفہوم میں فرق آگیا جو ان سے زمانۂ نزولِ قرآن میں لیا جاتا تھا۔(جس طرح الفاظ کی گرائمر کیلئے گرائمر کی جڑوں تک اُتر جانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہئے، اسی طرح  الفاظ کے معنی  کی جڑوں تک پہنچنے کی تگ و دو اورجد و جہد سے بھی عار  نہیں برتنا چاہئے۔اور اس صنف کی تحت و الثری ٰمیں اُتر کر الفاظ کے حقائق  کا متلاشی ہونا چاہئے)اس  کے علاوہ اس فرق کی ایک اور وجہ بھی ہوئی  ۔ہمارے ہاں جب تفاسیر لکھنے کی ابتداء ہوئی(یعنی تیسری  چوتھی صدی ہجری میں) تو ان کا انداز یہ رکھا گیا کہ قریب قریب ہر اہم آیت کے متعلق یہ کہا گیا کہ اس کی "شانِ نزول" یہ ہے۔یعنی فلاں واقعہ یوں ہوا اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔اس طرح قرآن کریم کی آیات کا مفہوم ان کے الفاظ کی رو سے نہیں، بلکہ ان واقعات کی رُو سے متعین کیا گیا جن کے متعلق سمجھا گیا کہ وہ ان کے نزول کا سبب تھے۔پھر اسی مفہوم کے مطابق قرآنی الفاظ کے معانی متعین کئے گئے۔جو تفاسیر ان کے بعد لکھی گئیں ان میں متقدمین کا اتباع ہوتا چلا گیا۔یعنی مکھی پر مکھی بٹھائی جاتی رہی۔اس طرح متعلقہ آیات کا وہ مفہوم مسلّمہ کی حیثیت اختیار کر گیا۔اور چونکہ شانِ نزول کی روایات کا انتساب خود نبی اکرم ﷺ یا صحابہ کباررضوان اللہ اجمعین  کی طرف کیا گیا تھا اس لئے آیات کی وہ تفسیر خود نبی اکرم ﷺ یا صحابہ کبار رضوان اللہ اجمعین سمجھ لی گئی۔ اس طرح قرآن کریم کے اس مفہوم کو مقدس ترین سند بھی حاصل ہوگئی۔حالانکہ تفسیری روایات کی کیفیت یہ ہے کہ ان میں بیشتر ضعیف اور وضعی ہیں۔حتیٰ کہ بعض اکابر ائمہ نے سرے سے ان کا انکار ہی کردیا ہے۔مثلاً امام احمد بن حنبلؒ کا قول ہے کہ تین کتابیں ہیں جن کی کوئی اصلیت  نہیں ۔مغازی، ملاحم اور تفسیر(تذکرہ الموضوعات الشیخ محمد طاہر) لیکن اس کے باوجود ہماری کتب تفاسیر کا مدار بیش تر انہی روایات پر ہے۔اور یہ ظاہر ہے کہ جب کسی ضعیف یا وضعی روایات کی بنا پر قرآنی الفاظ کا مفہوم متعین کیا جائیگا تو وہ مفہوم قرآن کریم کا صحیح صحیح مطلب بیان نہیں کر سکے گا۔(الفاظ کے معنوں کا انتخاب آیات کے سیاق و سباق سے کیا جانا  بہت ضروری ہے)۔یہ بات وضاحت کے ساتھ ایک مثال سے سمجھ میں آسکے گی۔سورۃ انساء کی  چونتیسویں آیت ہے الرّجال قوّامون علیٰ النّساءِ،،،، ،،،علّیاً کبیراً 4:34 ۔اسمیں ابتدائی چار الفاظ کا ترجمہ یہ کیا جاتا ہے"مرد حاکم ہیں اوپر عورتوں کے"(ترجمہ شاہ رفیع الدینؒ)۔ یہاں "قوامون" کا ترجمہ "حاکم" کیا گیا ہے حالانکہ لغت کی رُو سے اس کے معنی ہیں"روزی مہیا کرنے والے" جس کا مطلب یہ ہے کہ تقسیم عمل کی رُو سے مردوں کا فریضہ کسبِ معاش ہے۔اب یہ دیکھئے کہ اس لفظ (قوّام) کا ترجمہ "حاکم" کس طرح ہوگیا۔اس آیت کی تفسیر میں کہا گیا ہے۔ "حضرت ابن عباس رضی اللہ فرماتے ہیں کہ (اسکا) مطلب یہ ہے کہ عورتوں کو مردوں کی اطاعت کرنی پڑیگی۔حضرت حسن بصری رضی اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنے خاوند کی شکایت کی کہ اس نے مجھے تھپڑ مارا ہے۔اس پر آپؐ نے بدلہ لینے کا حکم دیا ہی تھا جو یہ آیت اتری اور بدلہ نہ دلوایا گیا"۔ ایک اور روایت میں ہے کہ "ایک انصاری اپنی بیوی صاحبہ کو لئے ہوئے حاضر خدمت ہوئے۔اس عورت نے حضورؐ سے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ میرے خاوند نے مجھے تھپڑ مارا ہے جس کا نشان اب تک میرے چہرے پر موجود ہے۔آپ نے فرمایا کہ اسے(اسکا)حق نہ تھا۔وہیں یہ آیت اتری کہ ادب سکھانے کیلئے مرد عورتوں پر حاکم ہیں۔آپ نے فرمایا کہ میں نے اور چاہا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اور چاہا"۔ایک حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا، اللہ کی لونڈیوں کو مارو نہیں۔اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کرنے لگے۔یا رسول اللہ ﷺ! عورتیں آپکے اس حکم کو سن کر مردوں پر دلیر ہوگئیں۔اس پر حضورؐ نے انہیں مارنے کی اجازت دیدی۔اب مردوں کی طرف سے دھڑا دھڑ مارپیٹ شروع ہوئی  اور بہت سی عورتیں شکایتیں لیکر آنحضرتؐ کے پاس آئیں تو آپ نے لوگوں سے فرمایا۔سنو! میرے پاس عورتوں کی فریاد پہنچی ہے۔یاد رکھو جو تم  میں سے اپنی عورتوں کو زد وکوب کرتے ہیں وہ اچھے آدمی نہیں ہیں۔حضرت اشعت ؒ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا مہمان ہوا۔ اتفاقاً میاں بیوی میں اس روز ناچاقی ہوگئی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی صاحبہ کو مارا۔پھر مجھ سے فرمانے لگے۔اشعت! تین باتیں یاد رکھو جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن کر یاد رکھی ہیں۔ایک تو یہ کہ مرد سے پوچھا نہ جائے کہ اس نے اپنی عورت کو کس بنا پر مارا۔دوسری یہ کہ وتر پڑھے بغیر سونامت۔اور تیسری بات راوی کے ذہن سے نکل گئی(نسائی)۔ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا  ، اگر میں کسی کو حکم کر سکتا کہ ماسوائے اللہ تعالیٰ کے دوسرے کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے(تفسیر ابن کثیر۔پارہ پنجم صفحہ 16 تا 20)۔

ان تفسیری روایات کی رو سے مرد کی پوزیشن حاکم، بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ ہوجاتی ہے۔چنانچہ کشاف میں "قوّامون" کا مطلب"مسیطرین" قرار دیا گیا ہے۔یعنی "داروغے"۔اور تفسیر جلالین میں "متسلطین" یعنی عورتوں پر غلبہ و تسلط رکھنے والے۔اس لفظ کا یہی مفہوم کتب لغت میں بھی آگیا اور اسی سے ہمارے ہاں اس کا ترجمہ "حاکم" اور" داروغہ" ہوگیا        ؎

جو چاہے آپکا حسنِ کرشمہ ساز کرے

یہی تفاسیر تمام ممالک اسلامیہ کے مذہبی مدارس میں پڑھائی جاتی ہیں اور انہی کی تعلیم عوام کو دی جاتی ہے۔یہ وجہ ہے کہ عربی جاننے والے، حتیٰ کہ خود عرب(اہلِ زبان) بھی قرآن کریم کے حقیقی مفہوم تک بہت کم پہنچ پاتے ہیں۔اس سے ایک اور اہم سوال سامنے آتا ہے ، اور وہ یہ کہ (1) جب عربی زبان عباسیوں کے دور میں عجمی اثرات سے ملوث ہوگئی تھی اور(2) ہمارے ہاں عربی زبان کا جس قدر اولین تحریری سرمایہ ہے وہ بیشتر اسی دور کا پیدا شدہ ہے۔خواہ یہ کتب تفاسیر ہوں یا لغت کی کتابیں، کتب تاریخ ہوں یا ادبی تصانیف۔اور کتب تفاسیر میں بھی، ضعیف یا وضعی روایات کی وجہ سے قرآنی آیات (و الفاظ) کا مفہوم اپنی اصل سے ہٹ چکا ہے۔تو (3) آج اسکی کونسی صورت باقی ہے کہ قرآنی الفاظ کا وہ مفہوم متعین کیا جاسکے جو ان سے نزول قرآن کے زمانے میں سمجھا جاتا تھا۔ اس میں شبہ نہیں کہ اگر یہ بات کسی اور زبان ( اور کسی اور کتاب) سے متعلق ہوتی تو یہ دشواری ایسی تھی جس کا غالباً کوئی حل نہ مل سکتا۔لیکن عربی زبان(اور قرآن کریم) کے سلسلے میں بعض عناصر ایسے ہیں جنکی موجودگی میں یہ مسئلہ ایسا نہیں رہتا جس کا حل نا ممکن ہو۔سب سے پہلے یہ کہ نزول قرآن سے پہلے عربی زبان کا تمام ذخیرہ ان کے شعراء کے کلام میں محفوظ تھا۔ عربوں کے معاشرہ میں شعراء کو خاص مقام حاصل تھا۔نیز انکی شاعری بھی زیادہ تر مختلف قبائل کے محاسن و خصائص اور ان کے مد مقابل قبائل کے معائب و ذمائم سے متعلق ہوتی تھی، اس لئے یہ اشعار بچے بچے کی زبان پر چڑھ جاتے تھے۔نثر کو اگر ضبطِ تحریر میں نہ لایا جائے تو اسکا علیٰ حالہ منتقل ہونا مشکل ہوتا ہے۔لیکن شعر کی کیفیت یہ نہیں۔اسے جب بھی زبانی یاد کیا جائیگا اور دہرایا جائے گا تو اس کے الفاظ ، اور الفاظ کی ترتیب اسی حالت میں رہیگی۔یعنی شعر بالفاظہ آگے منتقل ہوتا ہے، اسکا مفہوم اپنے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاتا۔یہ وجہ تھی کہ زمانہ قبل از اسلام کے شعراء کا کلام بلفظہ اور بجنسہ آگے منتقل ہوتا رہا تآنکہ وہ (عباسیوں کے عہد میں) ضبطِ تحریر میں آگیا۔اس میں شبہ نہیں کہ اُس دور میں بہت سے وضعی  اشعار بھی شعرائے جاہلیہ کی طرف منسوب کرکے ان کے کلام میں شامل کر دئے گئے، لیکن اس سے مقصد پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا جس کیلئے ہم نے  اس مقام پر اس حقیقت کو پیش کیا ہے۔وضعی اشعار کی زبان لا محالہ وہی رکھنی پڑتی تھی جو اصل اشعار کی زبان تھی۔ایسا نہ کیا جاتا تواصل اور نقل میں فوراً تمیز ہوجاتی۔بہر حال ، شعرائے جاہلیہ کے کلام کا بیشتر حصہ اپنے اصلی الفاظ میں عربی ادب کی کتابوں میں مدون اور محفوظ ہوگیا۔یعنی عربی زبان کے وہ الفاظ جو زمانۂ نزولِ قرآن میں مروج تھے، عربی ادب کی کتابوں میں موجود ہیں۔اور چونکہ وہ اشعار بھی موجود ہیں جن میں وہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں اس لئے (ان اشعار کی مدد سے ) ان الفاظ کا وہ مفہوم بھی متعین کیا جاسکتا ہے جو ان سے زمانۂ نزولِ قرآن میں لیا جاتا  تھا۔ یہ  الفاظ قرآن کریم میں بیشتر انہی معانی میں استعمال ہوئے ہیں جن معانی میں وہ ان اشعار میں استعمال ہوئے تھے اور جن سے زمانۂ نزول ِقرآن کے عرب اچھی طرح واقف تھے۔یہی وجہ ہے کہ انہیں قرآن کریم کے سمجھنے میں کسی قسم کی دشواری پیش نہیں آئی۔یہ اشعار(ادب کی کتابوں کے علاوہ)عربی زبان کی مستند لغت کی کتابوں میں بھی آچکے ہیں اور ان کے الفاظ کے معنی سے بھی بحث کی گئی ہے۔ یہ معانی ، بعد میں مرتب ہونے والی کتب ِ لغت نے ، اول الذکر کتابوں کی سند سے اپنے ہاں درج کرلئے ہیں۔ان الفاظ کے ان معانی سے ، قرآن کریم کے الفاظ کے وہ معانی سامنے آسکتے ہیں جو زمانۂ نزولِ قرآن میں درج تھے۔(4) یہ تو رہا وہ خارجی عنصر جس کے ذریعے یہ متعین کیا جاسکتا ہے کہ فلاں لفظ سے ، زمانۂ نزول قرآن میں، کیا مفہوم لیا جاتا تھا۔ لیکن اس کے علاوہ عربی زبان کی ایک داخلی خصوصیت ایسی ہے جو خارجی اسباب سے اثر پذیر نہیں ہوسکتی اور جس پر غوروفکر سے اسکے الفاظ کے صحیح مفہوم تک پہنچنا مشکل نہیں رہتا۔عربی زبان کے ہر لفظ کا ایک مادہ (روٹ) ہوتا ہے جو اپنے بنیادی معنی رکھتا ہے۔گرامر کے قواعد کی رو سے اس مادہ کی شکلیں خواہ کیسے ہی بدلتی رہیں، اس کے بنیادی معنی کی جھلک ہر شکل میں موجود رہیگی۔( اس زبان کی یہی خصوصیت ہے جس کی وجہ سے اس سے ہر زمانے کی نئی نئی  ضرورتوں کے ماتحت نئے نئے الفاظ بنتے چلے جاتے ہیں۔اس کیلئے مادہ کے بنیادی معنی اور مختلف ابواب کے خواص سامنے ہونے چاہئیں، پھر کوئی نیا تصور ایسا نہیں رہتا جسکے لئے موزوں لفظ نہ بن سکے)۔مادہ کے بنیادی معنی تو ایک  طرف ، اس سلسلہ میں یہاں تک بھی متعین ہے کہ اگر مادہ میں فلاں حروف (مثلاً ح اور ب) اکٹھے آئیں تو فلاں مفہوم پایا جائیگا اور فلاں حروف(مثلاً ص اور ر) اکٹھے آئیں تو فلاں مفہوم۔ لہٰذا، اگر مرور ِ زمانہ سے کسی لفظ کے مفہوم میں فرق بھی آجائے تو بھی اس کے مادہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ابتداءً وہ لفظ کس مفہوم کیلئے استعمال ہوتا تھا۔اس طریق سے بھی یہ متعین کیا جاسکتا ہے کہ جو الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں زمانۂ نزولِ قرآن میں ان سے بالعموم کیامفہوم لیا جاتا ہے۔(6) مادہ کے بنیادی مفہوم اور ان صحرا نشینوں کے ہاں ان الفاظ کے عملی استعمال سے الفاظ کا صحیح مفہوم کس طرح سامنے آ جاتا ہے، اس کا اندازہ ایک مثال سے لگائیے۔قرآن کریم میں ہے ان اللہ مع الصابرین 2:153۔یہ حقیقت ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔لفظ صبر کے جو معنی ہمارے ہاں مروج ہیں اس کی تفصیل میں جانے کی کوئی صورت نہیں۔جب کسی پر ایسی مصیبت آ پڑے جس سے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہو۔جہاں انسان یکسر بے چارہ اور بے بس و بے کس ہو کر رہ جائے۔جہاں کوئی تدبیر کارگر نہ ہو، وہاں ہم کہتے ہیں کہ میاں صبر کرو۔صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں۔حتیٰ کہ جب کوئی کمزور و ناتواں مظلوم کسی کے ظلم و زیادتی کے خلاف کچھ نہ کر سکے تو وہ ٹھنڈی سانس بھر کر کہہ دیتا ہے کہ "اچھا! میرا صبر"۔لیکن عربی مبین میں اس  مادہ (ص۔ب۔ر) کے بنیادی معنی ہیں، کسی شخص کا مطلوبہ شے کے حصول کیلئے مسلسل جدو جہد کرنا، جم کر کھڑے ہوجانا، ثابت قدم رہنا۔اب دیکھئے کہ صحرا نشین عرب اس مادہ کو کن معنوں میں استعمال کرتے تھے۔بادل کا وہ ٹکڑا جو چوبیس گھنٹے ایک ہی جگہ کھڑا رہے اور ادھر ادھر نہ ہو، الصبیر کہلاتا تھا۔الاصبرۃ ان اونٹوں یا بکریوں کوکہتے تھے، جو صبح جنگل میں چرنے کیلئے چلے جائیں اور شام کو ٹھیک انہی قدموں پر واپس آجائیں۔نہ کوئی ادھر ادھر ہو، نہ پیچھے رہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ ان (عربوں) کے ہاں صبر کے معنی تھے استقامت، استقلال، استواری، ثابت قدمی ، ایک اصول اور روش پر جم کر کھڑے رہنا، عمل میں دوام و استمرار۔یہ ہے صبر کی وہ کیفیت جو انسان کے اپنے اندر پیدا ہوتی ہے۔اب اس سے آگے بڑھئے۔اگر کبھی بوجھ یا سواریوں کی کمی بیشی سے کشتی کا توازن بگڑ جائے اور وہ ڈگمگانے لگے تو ملاح ایک بڑا سا پتھر کشتی میں رکھ دیتے تھے جس سے اسکا وزن ہموار ہوجاتا  تھا۔ اس  پتھر کو  الصابورۃ کہتے ہیں۔لہٰذا صبر کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ  جب کسی کے پاؤں ڈگمگانے لگیں تو "صبر" سے اس کا توازن بر قرار ہوجاتا ہے اور اس کے پاؤں میں لغزش نہیں آتی۔چونکہ اس قسم کے عملِ پیہم اور ثبات و قرار کا نتیجہ کامرانیاں اور کامیابیاں ہوتا ہے اس لئے الصبرۃ غلے کے اس ڈھیر کوکہتے ہیں جس کی ناپ اور تول نہ کی گئی ہو۔

اس لفظ (صبر) کے طریقِ استعمال کی ان محسوس مثالوں سے یہ حقیقت ابھر کر سامنے آ جاتی ہےکہ زمانہ نزولِ قرآن میں عربوں کے ہاں اس کا مفہوم کیا تھا۔اس مفہوم کی رو سے قرآن کریم کی اس آیت کا مفہوم بھی آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ "اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے"۔

بقیہ دوسری قسط میں

--
Mission of Global-Right-Path is to Educate Muslim Ummah in the light of the Quraan and Authentic Hadeeth, to face all the internal and external challenges, as well as to become a Great Revolutionized Leader to work for Global Revolution to serve the humanity in a balanced way to stabilize the Global World.
http://global-right-path.net16.net
.
Spiritual Doctors are Treating Spiritual Patients, so Please be Patience.
Change yourself according to the Quraan, NOT reverse.
You received this message because you are subscribed to the Google
Groups "Global-Right-Path" group.
To post to this group, send email to
global-right-path@googlegroups.com
To unsubscribe from this group, send email to
global-right-path+unsubscribe@googlegroups.com
For more options, visit this group at
http://groups.google.ca/group/global-right-path
http://global-right-path.net16.net
.
What will be Your Answer, if Allah will Question on the Day-of-Judgment, because of rejecting the Quraanic Messages ?????
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Global-Right-Path" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to global-right-path+unsubscribe@googlegroups.com.
To post to this group, send email to global-right-path@googlegroups.com.
For more options, visit https://groups.google.com/groups/opt_out.

عربئ مبین

دوسری قسط

(7) مذکررہ بالا ہر سہ عناصر عربی زبان کی وہ خصوصیت ہیں جن کی بنا پر اس کے الفاظ کا صحیح مفہوم متعین کرنے میں زیادہ دشواری نہیں رہتی۔لیکن، بایں ہمہ، صرف اتنی خصوصیات سے قرآن کریم جیسی کتاب کے الفاظ کے صحیح صحیح معانی متعین نہیں کئے جاسکتے۔اس لئے کہ یہ کتاب زندگی کے ان اصولوں کا ضابطہ ہے جن میں تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا اورجن کی صداقت پرہمارا ایمان ہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کا صحیح مفہوم یقینی طور پر ہمارے سامنے آجائے۔تنہا لغت سے یہ نہیں ہوسکتا۔لغت انسانی کوششوں کا نتیجہ ہے جس سے سہو و خطا اور خارجی اثرات کا امکان بہرحال باقی رہتا ہے۔علاوہ بریں ، قرآن کریم نے بعض الفاظ کو اصطلاحات کے طور پر استعمال کیا ہے۔یہ اصطلاحات اس قدر جامع ہیں کہ تنہا لغت سے وہ عظیم تصورات سامنے نہیں آسکتےجنہیں قرآن نے ان الفاظ میں سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔مثلاً صلوٰۃ۔زکوٰۃ۔تقویٰ۔ ایمان۔اسلام ۔کفر۔فسق۔فجور۔دنیا۔آخرت وغیرہ۔ان اصطلاحات میں قرآنی تعلیم کے بنیادی تصورات بڑی جامعیت سے سمو دئے گئے ہیں۔ان کی اس جامعیت کا ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ جوں جوں انسانی علم کا دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے ان کے مفہوم میں وسعت پیداہوتی چلی جاتی ہے۔ان اصطلاحات کا مفہوم خود قرآن کریم ہی سے سمجھا جا سکتا ہے۔قرآن کا اندازیہ  ہے کہ اسمیں ایک مقام پر ایک بات کہی گئی ہے تو دوسرے مقام پراس کی وضاحت اس انداز سے کر دی گئی ہے کہ  اس سے مقام اول کی بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے۔اس انداز کو قرآن نے "تصریف آیات" سے تعبیر کیا ہے۔یعنی آیات کو مختلف مقامات پر لوٹا کرلانا اور اس طرح مطالب کی وضاحت کر دینا۔سورۃ انعام میں ہے  و کذالک نصرّف الاٰیاتِ و لیقولو درست و لنبیّنہ لقوم یعلمون 6:106۔ اس طرح ہم آیات کو لوٹا کر لاتے ہیں تاکہ یہ لوگ کہیں کہ تو نے بات ذہن نشین کر دی ہے اور تاکہ ہم اسے ان لوگوں کیلئے واضح کردیں جو علم وبصیرت سے کام لیں۔قرآن کریم کا یہ وہ خصوصی انداز ہے جس سے اس کے مطالب واضح طور پر سامنے آجاتے ہیں اور اس کے الفاظ کا مفہوم متعین کرنے میں دقت نہیں ہوتی۔مثلاً لفظ (صبر) کے جو لغوی معنی اوپر  دئے گئے ہیں انہیں پیشِ نظر رکھئے اور پھر قرآن کریم کی طرف آئیے۔قرآن کریم میں ایک جگہ ہے  ان اللہ مع الصّابرین 2:153۔یقیناً اللہ صابرین کے ساتھ ہے۔یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ الصابرین کن لوگوں کو کہتے ہیں۔دوسری جگہ ہے  وکایّن مّن نبّیٍ فی سبیل اللہ معہ ربّیون کثیر فما و ھنوا لما اصابھم فی سبیل اللہ وما ضعفوا وما استکانو واللہ یحب الصابرین 3:145۔ کتنے ہی انبیاء (ایسے گزرے) ہیں جن کی معیت میں بہت سے ربّانی لوگوں نے (مخالفین کے مقابلے میں) جنگ کی۔پھر ان تکالیف کی وجہ سے جو انہیں اس طرح اللہ کی راہ میں پیش آئیں نہ وہ سست گام ہوئے۔نہ ان میں کمزوری آئی۔اور نہ ہی وہ مخالفین سے مغلوب ہوئے۔(یہی وہ) الصابرین ہیں  جنہیں اللہ دوست رکھتا ہے۔ اگلی آیت میں ان کی اس کیفیت کو ثبّت اقدامنا3:146  دعاء سے تعبیر کیا گیا ہے۔یعنی یہ دعا کہ "ہمارے قدموں کو مضبوط رکھ"۔عین میدان جنگ کی حالت میں کہا ہے فان یّکن مّنکم ماۃ صابرۃ یّغلبوا ماتین،،،،8:66۔اگر تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے ہوں تو وہ دو سو پر غالب آجائینگے۔ ان آیات کی روشنی میں یہ حقیقت واضح اور متعین طور پر سامنے آجاتی ہے کہ قرآن کریم میں صبر سے مفہوم کیا ہے اور صابر کسے کہتے ہیں۔یہی کیفیت قرآنی اصطلاحات کی بھی ہے۔قرآن کریم ان کے مفہوم کی وضاحت بھی تصریف آیات کی رو سے کردیتا ہے۔لہٰذا کوئی عام لفظ ہو یا قرآنی اصطلاح، اگر وہ تمام آیات بیک وقت سامنے رکھ لی جائیں جن میں قرآن کریم نے انہیں استعمال کیا ہے، یا ان کے مفہوم کو بیان کیا ہے ، تو ان الفاظ و اصطلاحات کے معانی متعین کرنے میں دشواری نہیں رہتی۔ان مقامات پر غور وفکر سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ "قرآن اپنی تفسیر آپ کرتا ہے"۔ عرب کے لوگ کلام میں مجازی معنی بھی لیتے ہیں۔یعنی ان کے ہاں بات کہنے کے کئی طریقے اور کئی اسلوب ہوتے ہیں۔چنانچہ استعارہ، تمثیل، قلب، تقدیم، تاخیر، خزف، تکرار، اخفاء، اظہار، تعریض، اقصاح، کنایہ ، ایضاح، واحد کو جمع کے صیغے سے خطاب کرنا اور جمع کو واحد کے صیغے سے ۔خاص لفظ سے عام معنی مراد لینا اور عام لفظ سے خاص۔غرضیکہ بہت سے اسلوب ہوتےہیں جو آپکو مجاز کے ابواب میں مل سکتے ہیں۔قرآن کا نزول ان تمام اسالیبِ کلام کے مطابق ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کوئی ترجمہ کرنے والا، قرآن کریم کا ترجمہ کسی دوسری زبان میں نہیں کر سکتا۔کیونکر عجمی زبانوں میں مجاز کی وہ وسعت نہیں جو عربی زبان میں ہے۔یہ اندازِ بیان عام کتابوں میں بھی ہوتا ہے۔لیکن جس کتابِ عظیم کی یہ کیفیت ہو کہ اس کے حقائق کو تمام نوع انسان کیلئے، ہر زمانے میں مشعلِ ہدایت بننا ہو، اس کا وہ حصہ اسی انداز کا ہونا چاہئے جس کا تعلق حقائق سے ہو۔اس سے ہر دور کے ارباب علم و بصیرت اور اصحاب ِ فکر و تدبر، اپنے زمانے کی علمی سطح کے مطابق ، الفاظ کے مجازی معانی سے ، قرآنی حقائق کو سمجھتے چلے جائیں گے۔اور یوں، جوں جوں انسانی عقل کی سطح بلند ہوتی جائیگی، قرآنی حقائق بے نقاب ہوکر سامنے آتے جائیں گے۔لہٰذا قرآنی الفاظ کا مفہوم سمجھنے کے لئے ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ متعلقہ آیت میں فلاں لفظ کے معنی حقیقی لئے جانے چاہئیں یا مجازی۔اسکا یہ مطلب نہیں کہ جن مقامات پر ہم کسی لفظ کے مجازی معنی لیں وہاں (بالضرور) اس کے مجازی معنی لیں۔دیکھنا چاہئے کہ ان الفاظ کے حقیقی معنی کیا ہیں۔اس کے بعد متعلقہ آیت میں جو معنی (حقیقی یا مجازی) زیادہ موزوں نظر آئیں انہیں اختیار کرلینا چاہیئے۔اس سلسلے میں مختلف لغات اوراربابِ علم وبصیرت کی  ممکنہ مدد بھی  کئی الجھنوں کو دور کرنے میں ممد  ہوسکتی ہے۔لیکن یہ  بات ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ ان  کی آراء  پران کی ذاتی استعداد ، رجحانات و میلانات،   علمی سطح ، اور زمان و مکاں کا  بھی اثر ہوتا ہے۔ایک  ہی لفظ کے متعدد معنی ہوتے ہیں اور بعض اوقات متضاد بھی۔ یہ علم الا لسنہ کا ایک اہم مسئلہ ہے۔بالعموم یہ اختلاف معانی ان الفاظ کے طریقِ استعمال کی بنا پر ہوتا ہے۔قرآن کریم میں اس قسم کا لفظ جس مقام پر آئے گا، یا تو اسے سیاق و سباق  بتا دیگا کہ اسکا صحیح مفہوم کیا ہے، یا تصریف آیات سے یہ مقصد حاصل ہوجائیگا۔

قرآن کریم کا ترجمہ کسی زبان میں بھی نہیں ہوسکتا۔یورپ کے اکثر فاضل مستشرقین بھی اسی امر پر متفق ہیں۔لہٰذا کوئی ایسا اسلوب جو ترجمہ اور تفسیر کے بین بین ہو  یا اس سے کچھ ملتا جلتا ہو اسے اختیار کرلینا چاہئے۔جسے انگریزی میں پیرافریزنگ  اور اردو میں مفہوم  کے لفظ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔لیکن اس میں بھی سہو وخطا کا امکان موجود ہے۔لہٰذا میں اپنی  کسی بھی تحریر اور قرآنی  الفاظ کےمعنی کوسہو و خطا سے منزہ  نہیں سمجھتا۔اور  نہ یہ حرف آخرہو سکتے ہیں کہ بہر حال یہ انسانی کوشش ہے جس میں سہو و خطا کا امکان اور حک و اضافہ کی گنجائش ہے۔جو احباب  مجھےمیری غلطیوں  سے  مطلع اور اپنے مشوروں سے مستفیذ فرمائیں گے میں انکا شکر گزار ہونگا بشرطیکہ یہ  بغرض ِ تعاون ہو، نہ کہ بحث و جدل کی خاطر۔اگر میری اس کوشش ناتمام سے کچھ احباب بھی قرآن کریم کو براہ راست سمجھنے کے قابل ہوگئے تو میں سمجھوں گا کہ مجھے میری محنت کا صلہ مل گیا۔یہی میری زندگی کا مقصد اور یہی میری کاوشوں کا منتہیٰ ہے۔

ربنا تقبّل منّا انک انت السمیع العلیم

میں قرآن  کریم کا ایک ادنیٰ سا طالب علم ہوں۔ پیدائشی مسلمان ہونے کے ناطے ابتداءً  میں نے اسکا مطالعہ تقلیدی اور رواجی انداز سے کیا۔لیکن اس  سےکچھ بات نہ بنی۔بعد میں جب میرے شعور میں انقلاب آیا اور میں نے ان راستوں پر تنقیدی نگاہ ڈالی تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ   ؎

منزل و مقصود دیگر است                         رسم و آئینِ مسلماں دیگر است

 علامہ اقبالؒ کی بصیرت ِ قرآنی سے بھی یہ اہم نکتہ میری سمجھ میں آیا کہ قرآن کریم کو عربی زبان اور تصریف آیات کی رو سے سمجھنا چاہئے۔اور اس پر خارجی عناصر کو اثر انداز نہیں ہونے دینا چاہئے۔

--
Mission of Global-Right-Path is to Educate Muslim Ummah in the light of the Quraan and Authentic Hadeeth, to face all the internal and external challenges, as well as to become a Great Revolutionized Leader to work for Global Revolution to serve the humanity in a balanced way to stabilize the Global World.
http://global-right-path.net16.net
.
Spiritual Doctors are Treating Spiritual Patients, so Please be Patience.
Change yourself according to the Quraan, NOT reverse.
You received this message because you are subscribed to the Google
Groups "Global-Right-Path" group.
To post to this group, send email to
global-right-path@googlegroups.com
To unsubscribe from this group, send email to
global-right-path+unsubscribe@googlegroups.com
For more options, visit this group at
http://groups.google.ca/group/global-right-path
http://global-right-path.net16.net
.
What will be Your Answer, if Allah will Question on the Day-of-Judgment, because of rejecting the Quraanic Messages ?????
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Global-Right-Path" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to global-right-path+unsubscribe@googlegroups.com.
To post to this group, send email to global-right-path@googlegroups.com.
For more options, visit https://groups.google.com/groups/opt_out.