日本イスラーム研究所 Japan Islamic Research Institute


 

 

یوم بازیابئ پاکستان

ملائیشیا، برادر ملک کے طیارے کی گمشدگی کے 15 دن گزر جانے کے باوجود معمہ لاینحل ہے۔ تاہم لگے ہاتھوں اس سے طالبان کی پٹائی کا کام لیا جا سکتا تھا سو لیا گیا۔ دنیا بھر کی کھسیانی بلیوں کو خراسان میں شکست کا بدلہ چکانے کو موقع ہاتھ آ گیا سو طالبان کا کھمبا نوچا جانے لگا۔ مذاکرات پر بے چین ہو ہو کر پہلو بدلنے والے امریکہ برطانیہ کے اندھوں کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی۔ برطانوی‘  ِمرر’ نے 17 مارچ کو سرخی جمائی کہ‘‘ گمشدہ ملائیشیا کا طیارہ طالبان کے زیر کنٹرول علاقے میں اڑا کر لے جایا گیا بعد ازاں استعمال کے لیے’’۔ بوئنگ 777 جیٹ نہ ہوا کاغذ کا جہاز ہو گیا جو شمالی وزیرستان (جہاں ہیلی کاپٹر لینڈ کر جانا بھی غنیمت ہے!) کے ٹانگہ اسٹینڈ پر جا اترا! یاد رہے کہ مذاکرات کی بات شروع ہوتے ہی پہلے سے جاری 24 گھنٹے ڈرون پروازوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ 239افراد کو لیے یہ شمالی وزیرستان میں مہمان بنا بیٹھا ہے؟ 26 ممالک کی ٹیمیں طیارہ سرچ آپریشن میں حصہ ڈال چکیں۔ سمندر چھان مارے۔ سیٹلائیٹوں سے پوچھ پوچھ تھک گئے۔ ساری سائنس ٹیکنالوجی فوت ہو گئی۔ ‘  ِمرر’ اور بعد ازاں نیو یارک ٹائمز اور ایکسپریس (برطانیہ) کی کہانیوں، اور ریٹائرڈ (ایئر فورس کے) امریکی جنرل نے شمالی وزیرستان میں طیارہ تلاش کرنے کی خبر چھوڑی ہے۔ افغانستان میں طالبان پہلے ہی امریکہ، نیٹو اور دنیا بھر کی بری فضائی افواج اور عسکری مشینری کو ناکوں چنے چبوا چکے ہیں۔ بس اب تو ہار مان کر گلوبل ویلیج کے چوہدری، طالبان کے ہاتھ پر بیعت کر ہی لیں تو بہتر ہے! افسانہ ساز میڈیا ہر کہانی میں رنگ بھر لیتا ہے۔ یہ بھی عجب نہ ہو گا کہ سراغ لگے کہ ٹائی ٹینک کے ڈوبنے میں بھی طالبان کا ہاتھ تھا (اس زمانے میں بھی مدارس و طالبان موجود تھے) اور پرل ہاربر پر حملہ بھی انہی نے کیا تھا! یوں بھی طیارہ  ‘لاپتہ’ ہوا ہے۔ماہرین لاپتگی و جبری گمشدگی کی مہارت بھی بلا کی ہے۔ 35 سماعتوں میں 35افراد کا معمہ حل نہ ہوا۔ نظام عدل سر پٹخ چکا۔گمشدہ افراد بھی ملائیشیا کا طیارہ ہو گئے یا بالفاظ دیگر طیارہ بھی جبری گمشدگان میں شامل ہو گیا۔
ابھی یہ طیارہ کہانی جاری و ساری تھی کہ امریکی اخبار کو ایک اور انہونا دورہ پڑ گیا۔  ‘‘اسامہ ؒ کی حفاظت کے لیے
ISI نے ڈیسک بنا رکھا تھا’’۔ یہ کہانی بھی اتنی ہی مضحکہ خیز ہے جتنی طیارے والی! امریکی مالیخولیا (Hallucinations) کا شکار ہو گئے ہیں۔ کبھی طالبان سوتے جاگتے میں ہر سو دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی اسامہ کا بھوت سوار ہو جاتا ہے۔ ڈوبتی معیشت، افغانستان سے انخلاء، آنکھیں دکھاتا کرزئی، یو کرین میں کرچی کرچی خواب، روسیوں کے فوجی بوٹوں کی دھمک، گھر میں پے در پے آتے بے موسم کے طوفان (اسے بھی ‘مسلم طوفان’  کا نام دیا ہے) کمربستہ قطر، ثابت قدم طیب اردوان۔۔۔ اک میری جنڈری تے دُکھڑے ہزار! اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں! خصوصاً امریکہ کی چاکری پر مامور پاشا اور اسامہ کی حفاظت؟ چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک۔ پاشا کے دور میں اسرائیل کو خطرات سے آگاہ کرنے، بچانے بارے کہانیاں بین الاقوامی میڈیا پر موجود ہیں۔ مشرف دور میں بھی یہ تعلق ڈھکا چھپا نہیں۔ عالمی ایجنڈوں کی کونسی خدمت ہے جو ان کم نصیب 13 سالوں میں ہم بجا نہ لائے۔ مسلم افغانستان سے جو برادر کشی کی پالیسی ہم نے اپنائی۔ مملکت خداداد پاکستان کی پوری شناخت، ساخت بدل ڈالی۔ کشمیر پس پشت ڈالا۔ امت کے گل سر سبد ڈالروں کے عوض بیچے۔ مشرقی سرحد تقریباً خالی کر کے ساری فوج امریکی جنگ میں جھونک ڈالی۔ اپنے ہی جسد ملکی پر آپریشنوں کے چرکوں پر چرکے لگائے۔ محب وطن قبائل کو در بدری کی خاک چھاننے پر مجبور کیا۔ اس جنگ میں امریکی سلامتی کو یقینی بناتے آج بیچارہ کمانڈو ہلکان ہوا پڑا ہے۔ ایسے میں نیویارک ٹائمز کی رپورٹ نے زخموں پر نمک چھڑکا ہے کہ بڑے بڑے طالبان کی (امریکی ایماء پر) چٹنی بنانے والے ہونق ہوئے اب امریکہ کو حیرت سے منہ پھاڑے دیکھ رہے ہیں۔ لو وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ بے ننگ و نام ہے! اپنا گھر لٹا کر آج یہ بھی سننے کو ملنا تھا! حالانکہ سب جانتے ہیں یہ مہا جھوٹ ہے۔ سروں کی قیمت وصول کرنے والے حفاظت نہیں کیا کرتے۔ امریکہ ان کی مجبوری سے کھیل رہا ہے۔ ملی بھگت آپریشن قبول کریں تو مشکل، انکار کریں تو مشکل۔ تاہم الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔ امریکی میڈیا۔۔۔ امریکی پالیسیوں کا ہراول دستہ ہوا کرتا ہے۔ یہ جو بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں۔ اللہ خیر کرے ان جھوٹ کے پلندوں کے پیچھے آپ کے (عراق سٹائل) WMD’sکا مسئلہ تو اٹھانے کا ارادہ نہیں ہے۔۔۔؟ آخر ہمارا ایٹمی پروگرام ان کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتا تو ہے۔ یہ سارے میلے سجے تو ہمارا ایٹمی کمبل چرانے ہی کو تھے۔ ذرا چوکس رہیے۔ یوں بھی۔ ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو۔۔۔ لکھا ہی امریکہ کے لیے گیا تھا گویا!
اس دوران قومی سلامتی پالیسی کا سارا نزلہ مدارس پر آن گرا۔غیر ملکی طلباء کی مدارس سے گرفتاری کا کیا جواز ہے؟ کیا قرآن و سنت کی تعلیم برادر مسلم ممالک کے بچوں کو دنیا آئین کی رو سے جرم ہے؟ اگر غیر ملکی دنیاوی تعلیمی اداروں میں پڑھ سکتے ہیں تو مدارس میں کیوں نہیں؟ یہ قومی سلامتی پالیسی نہیں اسی ہرجائی امریکہ کی سلامتی پالیسی ہے۔ 13 سالوں میں اٹھائے جانے والا ہر قدم امریکی سلامتی سے نتھی رہا۔ امریکہ کے فرمائشی پروگرام چلے ہیں۔ عافیہ اور اس کے بچے پاکستان کو کیا دُکھ دے رہے تھے جو اٹھا کر امریکہ برد کر دیے تھے؟ آپریشنز، حراستی مراکز، لاپتگان، امریکی ٹرینرز اور نیٹو اسلحے سے تیار کردہ ٹارگٹ کلرز جن کے نشانے پر جید علماء رہے۔ یہ سب امریکی سلامتی پروگرام چلا ہے۔ مصر کے نقش قدم پر پاکستان کو چلایا جا رہا ہے۔ وہاں اب مساجد پر کریک ڈاؤن ہے۔ جامعہ الازہر زد میں ہے۔ یہ دجالی ایجنڈے مسلم دنیا میں مسلط کیے جا رہے ہیں۔ 23 مارچ آپ کو گزری تاریخ یاد دلاتا ہے۔ پاکستان ایک منفرد تاریخ کا حامل ہے۔ جسے کھرچ کھرچ کر نصابوں، تعلیم و تربیت سے مٹانے میں 13 سال دن رات ایک کیے۔ پاکستان کی شناخت مٹھی بھر امریکی ٹاؤٹوں، سیکولر فاشسٹوں کی بھینٹ نہیں چڑھائی جا سکتی۔ میڈیا پر اسلام دشمن بولیاں 50 ملین ڈالر کی مرہون منت ہیں جو امریکہ نے ان کے لیے مختص کر رکھا ہے۔ میڈیا کی آزادی مجرے دکھانے، لباس کے نام پر برہنگی اور چیتھڑا پوشوں کے رقص و سرود کی آزادی بن کر رہ گئی ہے۔ دو قومی نظریے کا مدفن بن چکا ہے ‘آزاد میڈیا’۔ پالیسی درست کیجیے اول تا آخر۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں دھوکے کی اب گنجائش نہیں۔ پہلے دھوکہ دے کر مولانا محمود اور حاجی مسلم خان کو مذاکرات جھانسے میں گرفتار کیا۔ ملاعبدالسلام ضعیف کی کہانی شرمناک دھبہ ہے۔ ‘کوئی بچہ یا خاتون قید نہیں’ ۔ اتنی ہی بڑی سچائی ہے جتنی پرویز مشرف کی بیماری کی داستان یا لاپتہ افراد پر سپریم کورٹ سے کھیلے جانے والی آنکھ مچولی۔۔۔ یا یہ دعویٰ کہ لال مسجد میں خواتین ماری نہیں گئیں۔ سیکولر اخلاقیات، دہشت گردی کی جنگ کی اخلاقیات کا مرکز و محور جھوٹ ہے۔ عراق پر جھوٹ ہو یا سوات آپریشن کے لیے ویڈیو سوات کا جھوٹ۔ اب 23 مارچ ہی کو یوم بازیابئ پاکستان منا لیجیے!
گلیوں گلیوں بھٹک رہا تھا ایک سنہرا خواب جسے
میرے بڑوں نے اپنی لاکھوں نیندیں بیچ کے پالا تھا

 

http://www.naibaat.pk/?p=79537c

http://www.naibaat.com.pk/ePaper/islamabad/23-03-2014/details.aspx?id=p12_07.jpg

 

 

تیرا اندیشہ افلا کی نہیں ہے

مشرف دور میں تصوف پر خوب کانفرنسیں ہوتی رہیں۔ حال ہی میں پھر سے ان کا چرچاہوا تو اس دور کی ایک کانفرنس کا واقعہ یاد آ گیا۔ شرکت کے لیے یورپ سے ایک گوری، واجبی سا اسلام اور تصوف کا سطحی شوق (ترکی والے درویش ڈانس تک محدود) لیے چلی آئی۔ دوران سفر ایک دینی اجتماع کے لیے آنے والے مرد و زن کے ساتھ شوقیہ وہ بھی نتھی ہو گئی۔ نو مسلمہ سمجھ کر اس کی خوب آؤ بھگت ہوئی۔ تاہم اسلام سے شناسائی بقدر اشک بلبل ہی تھی۔  ‘تصوف’ کے لیے گٹار بھی سامان میں باندھ رکھا تھا! ایک موقع پر تو یہ بھی ہوا کہ اس نے تبدیلئ لباس کے لیے خواتین بھرے کمرے کو بالکل باپردہ پایا! سادہ، دیندار خواتین تو مارے گھبراہٹ کے آنکھیں بند، دیوار کی طرف منہ کیے چیخیں چھوڑنے لگیں۔ جا کر سیز فائر کروایا۔ اور گوری ‘صوفیہ’ کو ایک طویل نشست میں ادب آداب، تہذیب اور اسلام کی حقیقت سے الف سے متعارف کروایا۔ حیرت میں گڑی، مسحور وہ اصل اسلام سے متعارف ہو رہی تھی۔ (بیچاری رینڈ کارپوریشن اسلام لیے سیاحت فرما رہی تھی۔) حقیقی تصوف جو تزکیۂ نفس اور قرب الٰہی ہے شریعت سے ہٹ کر نہیں ہے۔ اسوۂ رسولؐ (اول تا آخر مکہ تا مدینہ) اور قرآن ہی پر مبنی ہو گا مگر موصوفہ جس کانفرنس کے لیے عازم سفر تھین اس میں یہ سب عنقا تھا۔ یہ تو امریکہ کے ناک میں جہاد نے دم کر رکھا تھا۔ لہٰذا دم پخت ہو کر ابلیس سے رجوع کیا تو اس نے اقبالیؒ بیان یہ دیا کہ۔۔۔ مست رکھو ذکر و فکر صبحگاہی میں اسے، پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں اسے۔۔۔ کل انگریز نے جہاد سے پیچھا چھڑانے کو قادیانیت کاشت کی تھی۔ آج ٹھیکہ رینڈ کارپوریشن کو دیا گیا تو اسلام کے وہ نرم ملائم بے دانت کے برانڈ نکل آئے جو مسلمان کو سر کس کا شیر بنا دے۔ لہٰذا یہ نسخہ کامیاب رہا۔ سرکس میں اس کے شیر، شیرنیاں موجود ہیں۔ آسکر ایوارڈ سے لے کر فیشن پیریڈ اور بل بورڈ تک باقی کرکٹ کے چھکوں اور مخلوط بھنگڑوں میں۔ اقبالؒ نے تو یہ بھی کہہ دیا تھا۔ نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیریؓ۔ لہٰذا پہلے شبیرؓ پیدا کرنے کی فیکٹریاں بند کرنی بھی ضروری تھیں۔ اس کے لیے حضرت فاطمہؓ (سیدہ بتولؓ) کے اسوۂ کو جاتے سارے دروازے بند کیے۔ فلائنگ سے فلائنگ کوچ تک ہر محاذ پر ’مومنات‘ لا بٹھائی گئیں تا کہ امریکی تصوف پھل پھول سکے جسے اسلام سے دور کی بھی نسبت نہ ہو! حالانکہ تزکیۂ نفس اور قرب الٰہی کی ساری منزلیں میدان جہاد و رباط میں فوراً ہی طے ہو جاتی ہیں جو یوں شب بیداریوں میں کبھی نہ ہو سکیں۔ تیراکی بستر پر لیٹ کر تو سیکھی نہیں جا سکتی۔ پانی میں پھینکے جانے کی دیر ہے کہ ہاتھ پیر چلنا سیکھ جاتے ہیں! ہجرت و جہاد میں رہبانیت و سیاحت کے سارے ذوق پورے ہو جاتے ہیں۔۔۔ مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ۔۔۔ پھر یہ تو امریکہ کے لیے زہر قاتل ہے۔۔۔ یہی تو عین دہشت گردی ہے جس سے بچانے کو۔۔۔ خواجگی نے خوب چن چن کر بنائے مسکرات۔ انہی مسکرات (نشہ آور) میں سے ایک قادری، گولن تصوف بھی ہے۔ اگرچہ تصوف کا ایک سلسلۂ ملامتیہ بھی ہے۔ ریا کے حملے سے بچنے اور باطنی کیفیات چھپانے، باطن کی اصلاح کے لیے ملامت سمیٹ کر اجر کمانے کا جو متمنی ہو۔۔۔۔ اس دور کے جہادی تو عین اسی سلسلے سے متعلق ہیں! ساری دنیا کی تُھوتُھو، انگریزی، فرنچ، جرمن، اردو، عربی، پنجابی ہر زبان میں لوگ ان پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ مگر یہ اپنی ہی دھن میں رہتے ہیں۔۔۔ طائفۃ منصورہ بنے۔ (وہ ایک گروہ جو قیامت تک جہاد کرے گا اللہ کی مدد اسے حاصل رہے گی) سورۃ المائدۃ آیت 54 کی روشنی میں جاری و ساری ہیں۔ ان کی صفت یہ بیان کی گئی کہ ’کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے‘۔ نیز رزم حق و باطل کا فولاد، حلقۂ یاراں کے لیے بریشم، مجاہد فی سبیل اللہ اور اللہ کی محبوبیت پانے والے، چاہنے والے ہوں گے۔ لیکن یہ نئے سلسلۂ ملامتیہ کا فولاد ہی تو ناکوں چنے چبوا رہا ہے۔ یہ والا تصوف بھی امریکہ کے وارے میں نہیں! سب سے کار آمد سیسی طریق واردات ہے۔ ڈالر خرچ بالا نشین۔ پہلے خود مرسی کے خلاف مظاہروں میں ڈالر جھونکے۔ بابائے جمہوریت امریکہ نے مرسی اور اخوان جمہوریت بلڈوز کرائی۔ 16 ہزار اخوانی گرفتار ہوئے۔ تشدد، مظالم کا بازار گرم ہوا۔ جیلیں تھوڑی پڑ گئیں (ہماری ہاں بھی اب ہائی سکیورٹی جیلیں تعمیر کرنے کا حکم دیا گیا ہے)۔ تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں۔ بے رحمی سے مظاہرے کچلے گئے۔ جمہوریت کے ذبیحے کے بعد امریکہ منظر سے ہٹ گیا اور سعودی عرب، خلیجی ممالک سے ڈالروں کی کھیپ دلوا کر ’جمہوری آمریت‘ گھڑی گئی۔ اب ’قانون‘ حرکت میں آیا۔ وہی قانون جو بنگلہ دیش میں عبدالقادر ملا کو پھانسی دیتا اور اب جماعت اسلامی کو کالعدم کرنے کی تیاری میں ہے۔ اور پاکستان میں وہ تحفظ پاکستان آرڈیننس کے تحت کار فرما ہے۔ مصر میں ذرا زیادہ برق رفتار نکلا۔ اجتماعی قتل (Mass Murders) کی طرح قانون کی اجتماعی قبروں (Mass Graves) میں 529افراد کو بذریعہ سزائے موقت اتارنے کا سامان کیا۔ نہ ملزمان موجود، نہ عینی شاہدین نہ وکیل دفاع کی بات سنی گئی۔ مسلم دنیا میں جمہوریت کی رسوا کن لاش خونچکاں پڑی ہے! یہ ہے وہ فتنۂ دجال جس سے تمام انبیاء نے پناہ مانگی۔ ہر نبی نے اپنی امت کو ڈرایا۔ اور وہ آج اس امت کو در پیش ہے۔ برما، جمہوریہ وسطی افریقہ، شام میں درندگی سے روندی بے امان لاشیں، بے در بے گھر عورتیں بوڑھے بچے۔ بہرے گونگے بھیڑ بکریوں کے ریوڑوں کی مانند کروڑوں مسلمان۔ کفر کے لشکروں کا حصہ بنی ڈالر بٹورتی مسلم ممالک کی حکومتیں۔ خراسان (دریائے آموتا دریائے اٹک ) اور شام میں احادیث کی خوشخبریوں پر لپکتے دیوانے نوجوان۔ یہی وہ فتنہ ہے کہ: فتنۂ فردا کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ آج، کانپتے ہیں کوہسار و مرغزار و جوئے بار۔۔۔
غزہ، کشمیر، یمن، صومالیہ، دنیا کے نقشے پر کون سا مسلم خطہ ہے جہاں ماڈرن تاتاریت سائنس ٹیکنالوجی سے لیس، قانون کی دھجیاں بکھیرتی، میڈیا پر جھوٹ کے طوفان اٹھاتی کھوپڑیوں کے مینار تعمیر نہیں کر رہی۔ ان ماڈرن لیپے پوتے چہروں میں پوری تاریخ کے سیاہ کارنامے، سیاہ نام سمٹ آئے ہیں۔ نمرود، اصحٰب الاخدود، فرعون، ہامان، قارون، بوجہل، بو لہب، کعب بن اشرف، ابو رافع، عبداللہ بن ابی، ہلاکو، چنگیز، ہٹلر، اسٹالن، گوئبلز، میکیاولی۔۔۔ فہرست بہت طویل ہے اور سب کردار نئے ناموں سے 21 ویں صدی کے لبادے اوڑھے کارفرما ہیں۔ پاکستان میں مصر ہی کی طرح یوسف ؑ ہائے دوراں نذرِ زنداں ہیں۔ یعقوب علیہ السلام کے پیچھے صف در صف کھڑے باپوں کی طویل قطار آنکھیں سفید کیے ہوئے ہے۔ تاسیف ملک کیس صرف ایک نمونہ ہے۔ عدلیہ 2 سال پتہ پوچھتی رہی۔ مسلسل جھوٹ بولا گیا۔ تآنکہ ظاہر کرنا پڑا۔ عدلیہ کے سخت ریمارکس ریکارڈ پر ہیں۔ مسلم ممالک میں سے یہ عدلیہ امریکہ اور مقتدر قوتوں کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے جو اندھے ظلم کے راستے میں حتیٰ الوسع دیوار بنی کھڑی ہے۔ ملاقات پر حراستی مرکز میں تاسیف کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ ایسی ان گنت کہانیاں موجود ہیں جو ہٹلر کے کیمپوں کا نمونہ ہیں۔ یہ ہے شرعی آئین اور حقوق انسانی کی پاسداری! اس پر بھی دفاعی کمیٹی کے آگے ایجنسی والے پھٹ پڑے کہ انہیں بدنام کیا جا رہا ہے۔ اس کا آسان حل ہے کہ اب تو بلال صوفی برانڈ تصوف کا
PPO موجود ہے۔ سارے حراستی مراکز کھول دیں۔ فہرستیں اور افراد قانون اور عدالتوں کے حوالے کریں۔ جا کر خود اصل کام کریں۔ ریمنڈ ڈیوسوں اور را، بلیک واٹریوں کو دھریں۔ کیوں بدنامی مول لیں؟ اُدھر سالہا سال بعد 23 مارچ زندہ ہوا۔ ایم ایم عالم۔۔۔ حقیقی ہیرو۔۔۔ کفر پر جھپٹنے والا شاہین یاد آیا۔ آخر عمر تک کاک پٹ میں بیٹھ کر کفر سے دو، دو ہاتھ کرنے، اس کی سونڈ پر داغ لگانے کا  متمنی عالم!۔۔۔ مگر۔۔۔ عالم دوبارہ نیست! دو قومی نظریہ بحال کرنے کی ضرورت امریکہ نے دو ٹیکے پے در پے لگا کر یاد دلا دی! شر میں سے خیربرآمد ہوئی! فریب خوردہ شاہین جو مشرفی کرگسوں کے دور میں پل بڑھ کر تیار ہوئے۔ کاش کہ اپنی اصل پہچان لیں! مگر۔۔۔
تیرا اندیشہ افلا کی نہیں ہے
تیری پرواز لولاکی نہیں ہے
یہ مانا اصل شاہینی ہے تیری
تیری آنکھوں میں بے باکی نہیں ہے!
(کفر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والی بے باکی مطلوب ہے۔۔۔ حسینائیں دیکھنے والی نہیں۔)

http://www.naibaat.pk/?p=80183c

http://www.naibaat.com.pk/ePaper/islamabad/30-03-2014/details.aspx?id=p12_07.jpg

 

 

 

۔۔۔ ایک سویرا ہوتا ہے

پاکستان 9/11 کے بعد سے پلاسٹک سرجنوں کی زد میں ہے۔ گزشتہ دنوں بالخصوص اندرونی و بیرونی ماہرین پلاسٹک سرجری کی خصوصی یلغار رہی۔ تفصیل اس اجمال کی دیکھنے کے لیے مائیکل جیکسن کے چہرے کی تیس پلاسٹک سرجریوں کی کہانی ذرا پڑھ لیں تو بات واضح ہو جائے گی۔ وہ گلوکار جو سیاہ فام مرد پیدا ہوا تھا مرنے تک ایک سفید فام عورت دکھائی دینے لگا تھا۔ کئی مرتبہ ناک بدلوائی۔ پھر سانس کی آمد و رفت کے راستے بحال کرنے کو ہنگامی سرجری کرنی پڑی کیونکہ ناک کی ہڈی ڈھے گئی تھی۔ ایک مختصر سے چہرے (اندازہً پون مربع فٹ) کا سب ہی کچھ بدل ڈالا گیا۔ سو یہی کھیل پاکستان کا چہرہ بدلنے کو جاری و ساری ہے۔ وہ ملک جو لا الٰہ الا اللہ اور دو قومی نظریے کا چہرہ لیے اقوام عالم میں طلوع ہوا تھا اب مغربی، بھارتی ثقافت بھی اسے دیکھ کر حیا سے منہ چھپا لیتی ہے۔ پرویز مشرف کی روشن خیالی کی چکا چوند والے آپریشن تھیٹر میں اس کی پوری ساخت بدلی گئی۔ اس میں مغرب نے بھرپور سرمایہ کاری کی۔ بالخصوص میڈیا، قلم کاروں، دانشوروں (نام نہاد)، شعبۂ تعلیم کے ذریعے نیا چہرہ پینٹ ہوا۔۔۔ اور اصغر سودائی کے پاکستان کی پکار کا گلا گھونٹ دیا گیا۔   ‘‘قرآن سے ہے اس کی بنا،ایمان سے ہے نشوونما، پاکستان ہے ملک خدا، پوچھے اگر دنیا تو بتا، پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔ لا الٰہ الا اللہ۔۔۔!’’ یہ ایک سودائی کی پکار تھی۔ اب پاکستان وہ ہے جس کا وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ امور فرماتا ہے ‘‘ناچ گانے پر پابندی لگائی تو معاشرہ گھٹ کر مر جائے گا’’۔یہاں بھی ساخت بدلتے بدلتے سانس کی آمد و رفت دشوار ہو گئی جسے یہ ناچ ناچ کر بحال کرتے ہیں۔ مقامی قلم کاروں کی آواز میں آواز ملانے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے تعلیم اور سابق برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن آن پہنچے۔۔۔ ‘تری آواز لندن اور واشنگٹن کہتے ہوئے۔۔۔ اپنے مقامی گماشتوں کی پیٹھ ٹھونکتے، ستر چھیدوں والی اس چھلنی سے آواز آئی۔ ‘‘ہم پاکستان کو کم عمری کی شادی سے پاک علاقہ بنائیں گے’’۔ جناب پہلے آپ اپنے گھر کی اور مغربی ممالک کی خبر لیجیے۔ کم عمری میں بچے پیدا کرتی بے نکاحی لڑکیوں کی فکر کیجیے۔ نکاح کے جھنجٹ سے ہی آزاد ہو جانے والے ہمیں عمر کی حدود و قیود نہ بتائیں۔ بے راہ رو، آوارہ، بدکار معاشروں کی فکری آلودگی کے بیج یہاں نہ بوئیں۔ گورڈن براؤن کے بیان کے ساتھ ہی ان کے معاشرے کی تصویر بھی چھپی ہے ۔ دو عدد (معروف شخصیات) دولہے (دلہن عنقا) ‘نکاح’  پڑھوانے بیٹھے ہیں جس پر برطانوی وزیراعظم نے اظہار اطمینان فرمایا ہے! ملعون و مردود تہذیبوں کو بحرِ مردار سے کھود نکالنے اور روم و یونان کی اڑھائی ہزار سال پرانی بت پرست (Pagan) جہالتوں کو فخریہ اپنانے کی قدامت پر ستی انہی کو مبارک ہو۔ ہماری کوثر و تسنیم سے دھلی تہذیب، حیا، غیرت، پاکیزگی سے عبارت ہے۔ وہ اپنی نسلوں کو باپ کا نام بتانے کے قابل بنانے کی فکر فرمائیں۔ مٹھی بھر قلم کاروں اور سطح آب پر (rootless) تیرنے والی اس فکری کائی کو پاکستان کے عوام کی آواز سمجھنے سے بڑی غلطی کوئی نہ ہو گی۔ ان کا پیسہ بند ہوا تو منقار زیر پر ہو جائیں گے۔ جیسے ANP کے مرکزی رہنما فرید طوفان صاحب ڈالر بند ہونے اور کرسی چھن جانے  پر اب فرما رہے ہیں۔ ‘‘غیروں کی جنگ سے نکلنا ہو گا’’ ! ہمیں اس جنگ میں تباہ کرنے والوں کو برما اور جمہوریہ وسطی افریقہ میں مسلمانوں کے تکے بوٹیاں اڑانے والوں میں کوئی دہشت گرد نظر نہ آیا؟ ان علاقوں کو ظلم سے پاک کرنے کے عزم کا اظہار عالمی ٹھیکہ داروں نے کبھی نہ کیا۔ نہ کوئی اقتصادی پابندیاں لگائی گئیں نہ ان کے اکاؤنٹ سر بمہر ہوئے۔ روہنگیا مسلمانوں سے حق شہریت اور حق زندگی چھیننے پر بدھوں کو دہشت گرد نہ گردانا گیا۔ دجالی جنگ کا دجل و فریب اب بالکل کھل چکا۔ دنیا پر مبنی بر استحصال و ظلم مسلط اس نظام کا تریاق صرف اسلام میں ہے جس کا راستہ روکنے کے لیے ہر خطے میں جنگیں چھڑی جا چکیں۔ سیاسی، معاشی، معاشرتی مکرو فریب تو ہم بھگت ہی رہے ہیں۔ اب ذرا سائنسی بد دیانتی کی طرف بھی دیکھیے۔ اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ عالمی حدت میں اضافے کے اثرات سے آگاہ کر رہی ہے۔ زمین کے درجۂ حرارت میں اضافے کا باعث بننے کے عوامل پر قابو نہ پایا گیا تو خطرات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔ ان عوامل میں حقیر چھوٹے چھوٹے عوامل تو سب گنے جائیں گے لیکن پوری دنیا میں بارود اور آتش و آہن کی بارش برساتی ان کی مسلط کردہ جنگوں کا تذکرہ کہیں نہ آئے گا۔ اوزون کی تہ کالا لفافہ اور سپرے سے تو بگڑ جائے گی مگر ماحولیاتی آلودگی میں عراق افغانستان میں استعمال کردہ ڈیپلیڈڈ یورینیم کا تذکرہ بھولے سے بھی نہ آئے گا۔ دوران تعلیم ایک مضمون ماحولیاتی آلودگی کا پڑھا تھا پوسٹ گریجوایٹ سطح پر۔۔۔ یادش بخیر اس وقت بھی اور آج بھی اس آلودگی میں نہ ہیرو شیماو ناگا ساکی نے زمین کے درجۂ حرارت کو اُف کہا۔۔۔ نہ ہی اوزون تہ کے ماتھے پر شکن آئی۔ موجودہ سائنس اور تحقیقات بھی عالمی سیاست، کارپوریٹ مفادات، فارماسیوٹیکل صنعت کی ضروریات کے تابع ہے۔ جھوٹ، فریب، دجل ، مکر زندگی کے ہر دائرے میں گلوبل ویلج کے چودھریوں کا چلن ہے۔ یونیورسٹیاں، سیمینار، تعلیمی سرگرمیوں کے غلغلے، سکالرشپ، یوتھ ایکس چینج پروگرام، اساتذہ کے تربیتی دورے، صحافتی تربیت، ثقافتی کثافت، کھیل سب پلاسٹک سرجری کے ہی سامان ہیں۔ پاکستان کا مائیکل جیکسن بنا ڈالا۔ پاکستان کے نام پر قربانیاں دینے والے جی اٹھیں تو یہ نیا چہرہ دیکھ کر اسی لمحے مارے شاک کے پھر فوت ہو جائیں کہ یہ وہ خطہ ہے کہ میر عربؐ  کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے! اب ساری ٹھنڈی ہوائیں دجال کے لیے وقف ہیں۔ میر عربؐ کے چاہنے والوں کے لیے حراستی مراکز اور عقوبت خانے ہیں۔ اس حکومت نے تمامتر بلند بانگ دعوؤں کے باوجود کرسی پر بیٹھ کر انسانی حقوق کا قاتل PPO قانون پوری اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود منظور کروا دیا۔ لاپتگی کے گھناؤنے جرم کو قانون کا پاجامہ پہنا دیا۔ یہ پاکستان کے تحفظ کا نہیں دجال کے لشکریوں کے لیے لامحدود اختیارات او ہر اختلافی آواز کو کچلنے کا سامان ہے۔ امریکی ایماء پر نہ صرف لاہور میں امریکی قونصلیٹ کا فوجی قلعہ تعمیر کرنے اور مٹھی بھر اہلکاروں کے لیے مزید 100 میرینز کی تعیناتی کی بھی منظوری دے دی ہے۔ ان کے دیے گئے ایجنڈے کے مطابق پنجاب میں 174آبادیاں اب حکومت کے نشانے پر ہیں۔ قبائل میں آپریشنوں سے بے گھر ہو ہو کر پٹھان کراچی اور پنجاب پہنچے۔۔۔ جہاں کہیں جا کر آباد ہوئے انہیں نشانے پر رکھ لیا۔ کے پی سے اسلام آباد آمد پر معزز پشتونوں کی ناکوں پر درگت بنائی جاتی ہے۔ ٹوپی، نماز، داڑھی، لباس انہیں دہشت گرد قرار دینے کو کافی ہے۔ باشریعت یہ آبادیاں جہاں بھی ہو ں ہدف پر ہیں۔ ان سے ملنے کے لیے آنے والے رشتہ دار بھی چونکہ انہی حلیوں کے ہوں گے لہٰذا ۔۔۔  ‘یہ دہشت گردوں کو ٹھہراتے ہیں’  کا مفروضہ پنجاب میں آپریشن کے لیے کافی ہے۔ دوسری جانب وہ شاہی ملزم جو کراچی تا خیبر مسلمانوں کے خون کا ذمہ دار ہے۔ ملک و ملت انسانیت، آئین، قانون کا مجرم۔ اپنی کتاب میں فخریہ اقرار جرائم کر رکھا ہے۔ یہ فہرست اتنی طویل ہے کہ قلم ہانپ جائے۔ اس کی قانون سے آنکھ مچولی اور مضحکہ خیز ڈراموں پر مفلوک الحال، مقروض ملک کے خزانوں سے غریب عوام کا پیسہ لٹایا جائے؟ قومی اداروں کی اس پورے عمل کی پشت پناہی ان کی ساکھ بھی لے ڈوبی! دوسری جانب شک اور مفروضوں کی بنیاد پر عقوبت خانے نیم مردہ نوجوانوں سے بھرے پڑے ہیں۔ یہاں مستعد ہوائی، بری ایمبولینسوں کے بیڑے ایک ہٹے کٹے مجرم کی خدمت پرمامور۔ وہاں تاسف ملک جیسے دوا اور علاج کو ترستے، سسکتے ہیں۔ اکا دکا جو عدالتوں میں سنے جاتے ہیں وہ تو دیگ کا صرف ایک دانہ ہے۔ جو ظلم بویا ہے اس کا لاوا پھٹ پڑا تو سب کچھ بہا لے جائے گا ۔ تاہم۔۔۔
درد کی آخری حد پہ بھی یہ دل کو سہارا ہوتا ہے
ہر اک کالی رات کے پیچھے ایک سویرا ہوتا ہے

http://www.naibaat.pk/?p=80751c

http://www.naibaat.com.pk/ePaper/islamabad/06-04-2014/details.aspx?id=p12_07.jpg

 

 

 


حذر اے چیرہ دستاں۔۔۔

عالمگیریت (Globalization) کی عالمانہ فاضلانہ تشریحات تو بہت سی ہیں۔ الفاظ اور اصطلاحات میں ملفوف ایک خوبصورت کالم میں نظر سے گزریں۔ تاہم عمل کی دنیا میں جو ہم نے دیکھا تو گلوب اس وقت مغربی استعمار کی وہ توند ہے جو قدور راسیات ہے (حضرت سلیمانؑ کے ہاں جنات کی تیار کردہ دیگیں جن پر سیڑھی لگا کر لوگ چڑھتے تھے)۔ دنیا کے سارے ہاتھ اسی کو بھرنے پر مامور ہیں۔ ہاتھی کی توند میں سب کی توند۔ تاہم یہ گلوبل تیزی سے اس منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے جس پر بالآخر وہی لا الٰہ الا اللہ والا جھنڈا نصب ہونا ہے جو استعمار کے لیے بھیانک خواب (Nightmare) ہے۔ المیہ یہ ہے کہ نبی صادقﷺ کی صحاح ستہ میں پیشین گوئیاں یہود و نصاریٰ تو حرز جاں بنائے ان تمام مقامات کو ہدف بنائے پورا زور صرف کر رہے ہیں کہ وہ صبح طلوع نہ ہو جس کا وعدہ ہے۔ دنیا میں یہ دو فریق ڈٹ کر اس وقت برسر پیکار ہیں۔ دوسرا وہ ہے جو ہتھیلی پر سر لیے دنیا کے ہر خطے سے نکل کر دیوانہ وار کفر کے خلاف سر بکف ہے اللہ رسولؐ کے وعدوں کو پانے کے لیے۔ شرق و غرب کے مسلمان، یورپی ممالک، شمالی امریکہ، افریقہ تک کی نمائندگی۔۔۔  ‘طوبیٰ للشام’ (’اہل شام کے لیے خوشخبری‘۔ یہ شام لبنان، شام، فلسطین، اردن پر محیط ہے) کی حدیث پر مرمٹنے کو پروانہ وار لپکے چلے آ رہے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا ‘‘میری امت میں شام سے تعلق رکھنے والا ایک طبقہ ہے، اللہ کی مدد ہمیشہ ان کے ساتھ شامل رہے گی پوری دنیا مل کر ان کا راستہ نہ روک سکے گی’’ ۔ دوسری جانب ایمان و جہاد کا دوسرا مرکز خراسان ہے (دریائے آموتا اٹک) ہم اس دور میں قدم رکھ چکے ہیں۔ آپؐ نے فیصلہ کن جنگوں کے جن مقامات کا تذکرہ کیا تھا جنگیں وہاں لڑی جا رہی ہیں۔ احادیث میں مذکور حلب کے قریب اعماق، وابق اور الغوطہ۔۔۔ اور انگاروں کی جنگ۔ بیرل بموں کی صورت برستے انگارے حرف بہ حرف درست ثابت ہو رہے ہیں۔ ایسے میں آپؐ کا ایک اور اندیشہ بھی درست ثابت ہو رہا ہے۔۔۔ ‘‘میں اپنی امت کے بارے میں جس چیز سے سب سے زیادہ ڈرتا ہوں وہ گمراہ کرنے والے قائدین ہیں’’۔ (ابو داؤد) امت تاریک رات میں کڑکتی بجلیوں اور طوفانوں کی طرح امڈتے فتنوں میں گھری ہوئی ہے۔ گمراہ کن قیادتیں اس تاریکی میں اضافے ہی کا سامان ہیں۔ یہ ساری داستان اپنی شناخت سے بے بہرہ، کفر کی اندھی تقلید کے مریضوں کے لیے حد درجے اجنبی ہے۔ جو توحید، رسالت، آخرت سے واجبی سا مَس رکھتے ہیں۔و ہ آفاقی نگاہ جو اللہ کے نور سے دیکھنے کا ملکہ عطا کرتی ہے ہم پر مسلط استعماری نظام ہم سے چھین چکا۔ خواراز مہجورئ قرآن شدی‘ شکوہ سنج گردش دوراں شدی۔۔۔ قرآن چھوڑ کر مسلمان ذلیل و رسوا ہوا۔ شکوہ حالات، سازشوں گردش دوراں، امریکہ نیٹو کا کرتا ہے! دربغل داری کتاب زندۂ۔۔۔ راندہ و پامال ہوا پڑا ہے حالانکہ بغل میں کتاب زندہ، حیات نو کا سامان موجود ہے۔ آخر افغانوں/ طالبان کا فولاد کن بھٹیوں سے ڈھلا تھا جو ناقابل تسخیر ہوئے اور لا الٰہ کے خراسانی جھنڈے آج شام میں لہرا رہے ہیں؟ یہ اعجاز۔۔۔ در بغل داری کتاب زندہ، کا ہے! ان ذی شان، ایمان افروز معرکوں میں لا الٰہ کا وارث پاکستان کہاں ہے؟ اس سے بڑا المیہ ہماری تاریخ کا شاید ہی کوئی اور ہو کہ مشرف۔۔۔ ننگ ملت، ننگ دیں، ننگ وطن کے گناہوں کی طویل فہرست کے با وصف پاکستان لرز رہا ہو اس کے دفاع کی خاطر؟ یحییٰ خان نے مست مئے ناب ہو کر ملک آدھا گنوا دیا۔ مشرف کی بوتل نے باقی ماندہ کو امریکہ کی بھینٹ چڑھا دیا۔ پاکستان کی بربادی کا تو کیا رونا، افغانستان کی تباہی کے بعد عراق پر حملے کے گناہ میں بھی ہم بالواسطہ شریک ہیں۔ امریکہ کو ہم نے پوری امت کچلنے پر جری کر دیا تعاون پیش کر کے۔ نبی ﷺ فرما چکے: ‘‘جس کسی نے حق کو دبانے کے لیے باطل کا ساتھ دیا اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے اس سے برأت و بیزاری کا عام اعلان ہے’’۔ جناب اس ملک کی بنیاد میں سیکرلرسٹوں کا نہیں شہداء کا خون ہے۔ اللہ رسولؐ سے اس کا ناتا ناچ گا بجا کر، چند بوتلی دانشوروں کی استعمار سے مستعار شدہ دانش کے ذریعے توڑا نہیں جا سکتا۔ یہ رشتہ خون کے ہر قطرے، ہر بن مو اور ہر خلیے میں سمایا ہوا ہے۔ امریکہ نے مسلمان ممالک کو اندر سے کھوکھلا کرنے کے لیے ہمہ گیر اندرونی جنگوں کے بم ہمارے ہاں نصب کر رکھے ہیں۔ ڈالر بھرا ریموٹ کنٹرول اس کے ہاتھ میں ہے۔ عراق، ترکی، مصر، پاکستان کو دیکھ لیجیے۔ آپس ہی میں لڑ مرنے اور اندر سے خود کو کھوکھلا کرنے کا یہ نیا عنوان ‘مشرف’ ہے۔ وزیراعظم گیلانی اور پرویز اشرف کے عدالت میں پیش ہونے پر زلزلہ برپا نہیں ہوا تو مشرف کی ذات بابرکات سے تہلکہ کیوں وابستہ ہو؟ بھٹو کو پھانسی لگنے پر قیامت نہ ٹوٹے لیکن مشرف پر فرد جرم عائد ہو تو نہ ختم ہونے والی چاند ماری شروع ہو جائے؟ قبر میں مشرف کے دفاع اور نکیرین کو جواب دینے بھی کیا پوری یونٹ ساتھ جائے گی؟ کیا ہم خوف خدا، عدل، انصاف اللہ کے حضور حاضری، تنہا، تنہا جوابدہی، میزان، حساب کتاب، ابدی زندگی میں یا بھڑکتے شعلے اور یا راحت بھری بادشاہی سب سے ہاتھ دھو بیٹھے۔۔۔؟

 امریکہ کو سول حکومتیں کبھی نہیں بھائیں۔ لہٰذا ایسی ہلہ شیری دلا کر جمہوریت کا تختہ مصر میں الٹا تھا۔ مگر جان لیجیے سیسی فوج عالم اسلام کی سب سے قابل نفرین فوج ہے جس نے نمائندہ حکومت کو ڈالروں کے عوض صریح ظلم سے ہٹایا۔ ملک میں جنگل کا قانون چلایا۔ اسی کی فوٹو کاپی پاکستان میں PPO ہے جو سول مارشل لاء ہے۔ شاید اب حکمران جماعت کو سمجھ آجائے کہ سب سے پہلے اس قانون کے شکنجے میں وہ خود ہی جکڑی جائے گی۔ یہ شرمناک قانون، مشرفی دور سے رائج کردہ تمام تر لاقانونیت چادر چاردیواری کا مجروح تقدس، بلا وارنٹ گرفتاریاں، گھروں پر چھاپے، ماورائے قانون حراستی مراکز، انسانی حقوق کی بدترین پامالی، بوری بند لاشوں کو جواز بخشنے اور پاکستان کو مصر بنانے کی سازش ہے۔ تمام جماعتوں کو بیک زبان ان سازشوں کو اسی طرح ناکام بنانا ہو گا جیسے ترکی کے عوام نے امریکہ کی تمامتر کوششوں، تمناؤں، پیسہ بہانے کے باوجود اپنا وزن اردوان کے پلڑے میں ڈالا۔ فوج کے نام پر جذبات ابھار کر، تاریخ بدلنا، حقائق مسخ کرنا اور عدل و انصاف کا مثلہ کرنا کسی دانشور، کسی سطح پر بھی قیادت کرنے والے کو زیبا نہیں۔ اتنا جھوٹ، فریب قوم ہضم نہ کر سکے گی۔ سویلین حکومت کا تختہ الٹنے کا خواب ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی تعبیر لائے گا۔ قوم نے خط غربت سے نیچے رہتے ہوئے بھی دفاع کے لیے ہر ممکن ضروریات و سہولیات اپنی استطاعت سے بڑھ کر بہم پہنچائی ہیں۔ بھارت اور کشمیر کے نام پر اپنے محافظوں کو ایستادہ کیا۔ اب وہاں مسلم کش، پاکستان کی جان کا لاگو مودی آنے کو ہے۔ مشرقی سرحد کی فکر کیجیے۔ رہی حکمرانی۔۔۔ تو جس کا کام اسی کو ساجھے۔ بلوچستان سے اٹھتے شعلے اسلام آباد تک آن پہنچے۔ 26 ایجنسیاں کہاں تھیں۔۔۔؟ طالبان سے نمٹنے کے شوق اور مذاکرات سبوتاژ کرنے کی در پردہ کوششیں پاکستان کو بہت مہنگی پڑیں گی۔ ملک ہو گا تو ادارے، کرسیاں، مربعے، رئیل اسٹیٹ، فیکٹریاں دال روٹی سب چلے گی۔ ہوش کے ناخن لیں۔ یہ وقت انا کی چتا میں جلنے جلانے کا نہیں ہے۔
حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

http://www.naibaat.pk/?p=81499c

http://www.naibaat.com.pk/ePaper/islamabad/13-04-2014/details.aspx?id=p12_07.jpg

 

 

 

۔۔۔ اندیشۂ فردا دے

بھارت میں الیکشن کے بخار میں تپ کر پہلے تو مودی نے پاکستان کے خلاف خوب زہر مسلسل اگلا۔پھر مصلحتاً پینترا بدلا۔ تنقید کا نشانہ بننے پر سو فٹ امیج بیان دیا۔ بغل میں چھری بدستور موجود ہے۔ زبانی کلامی رام رام پر نہ جائیے گا۔ احادیث اگر شام میں قدم بہ قدم حالات پر منطبق ہوتی جا رہی ہیں تو انہیں بھارت میں بھی پورا ہونا ہے۔ اگرچہ کانگریس بھی پاکستان دوست کبھی نہ تھی۔ بنگلہ دیش بنانے، کشمیر پالیسی سے لے کر پاکستان کے دریا ہضم کرنے تک کوئی کسر دشمنی میں اُٹھا نہ رکھی۔ تاہم اب مودی تو کھلا مسلمانوں کا قاتل اور زیادہ موذی ہے۔ لہٰذا غزوۂ ہند کے تناظر میں ہندو جنونیت کو ابھارنے والے اس کردار کا قبول عام فکر انگیز ہے۔ ہندوستان مسلسل بری بحری، فضائی، خلائی قوت میں پوری یکسوئی سے اضافہ کر رہا ہے۔ عالمی علاقائی طاقت بن رہا ہے۔ اِدھر ہم ٹماٹر پیاز تک کے لیے بھارت دوستی اور بھارت محتاجی کا شکار ہیں۔ اپنی انا کے لیے باہم دگر بہ دست و گریبان ہیں۔ ایک دوسرے ہی کو بھنبھوڑ کھانے اور اپنی ہی آبادیاں ملیا میٹ (Sort out) کرنے کے شوق میں مبتلا ہیں۔ دعا کے سوا کیا ہے کہ۔۔۔ احساس عنایت کر آثار مصیبت کا، امروز کی شورش میں اندیشۂ فردا دے۔ پوری دنیا اس وقت دگرگوں ہے۔ یہود و نصاری مسلم دنیا کے ہر خطے میں متحرک ہیں۔ افغانستان میں کٹھ پتلی انتخابات ہوئے ہیں۔ امریکی ڈالروں کی قوت سے، امریکی فوج کے زیر سایہ امریکی پٹھوؤں کو کابل شہر کی حکمرانی سونپنے کا نام جمہوریت ہے۔ دوسرا ماڈل مصر میں اسلام پسند اخوانیوں کا بھاری مینڈیٹ الٹنے کچلنے (119 اخوانی کارکنان کو جمہوریت بحالی مظاہروں پر 3، 3 سال قید، 529کو سزائے موت) والی سِی سِی جمہوریت کا ہے۔ قبل ازیں الجیریا میں بد ترین خونریزی کروا کر اسلام پسند مینڈیٹ قتل کر کے جمہوریت پڑھائی جا چکی ہے۔ ترکی کا جمہوریت ماڈل گولن سازشوں سے اسلام کی طرف جھکاؤ رکھنے والی حکومت کو غیر مستحکم کرنے پر مبنی ہے۔ جمہوریت میں اسلام کی آمیزش کفر کو کسی قیمت گوارا نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ بد ترین خلافت بھی بہترین جمہوریت سے بہتر ہوتی ہے۔ مسلم دنیا کو حسنی مبارک، سیسی، کرزئی، مالکی، اشرف غنی، زرداری سے بہتر کچھ بھی دینے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ یہاں زرخرید دانشوروں سے وہ پاپائیت، تھیوکریسی کی بحثیں کروا کر ملا مولوی کی حکومت کا خوف طاری کرتے اور ذہنوں میں زہر کی کاشت کرواتے ہیں۔ باوجودیکہ حکومت الٰہیۂ (خلافت) اقتدار اعلیٰ پر عیسائیت کی طرح مذہبی طبقے کو فائز کرنے کا نام ہرگز نہیں۔ حکمرانی کشمیر کمیٹی نہیں ہے کہ مذہبی طبقے کو سونپ کر راضی کر دیا جائے۔ ایں چیزے دیگر است۔ یہ دیدہ دانستہ خیانت ہے کہ پاپائیت کے ظلم و جبر اور استحصال کو خلافت اور حکومت الٰہیۂ جیسی انسانیت کے لیے سر تا سر رحمت نظام حکومت سے لا ملایا جائے۔ مذہبی طبقہ خلافت میں الٰہ نہیں بلکہ حاکمیت اللہ کو لوٹا دینے کا نام ہے۔ نفاذِ شریعت عمل میں لانے کا نام ہے۔ جس میں حکمران سیدنا عمرؓ کی طرح نہ صرف عوام ہی میں سے ایک اور اللہ کے حضور پوری مملکت کے لیے جوابدہ ہیں، بلکہ نہایت قابل رحم ہیں۔ لرز لرز کر منصب پر بیٹھتے ہیں۔ روتے بیٹھتے ہیں اور روتے ہی رخصت ہوتے ہیں جبکہ یہاں عوام کو رلاتے بیٹھتے ہیں اور ہچکیوں سسکیوں سے ان کی گھگھی بندھا کر رخصت ہوتے ہیں۔ نیا آ کر انہیں صرف آنسو پونچھنے کو نیا ٹشو پیپر اور دم لینے کو پانی کا گلاس فراہم کر کے۔۔۔ گیس کی لائن میں لگا دیتا ہے۔ ذرا دیکھیے تو۔۔۔ لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجیے! امیر المومنین سیدنا عمرؓ نے معزز سردار احنف بن قیس کو بھی اپنے ساتھ اونٹوں کو تیل ملنے پر لگا رکھا ہے یہ کہہ کر ۔۔۔‘‘آؤ قمیص اتار کر میرے ساتھ اس کا م میں شریک ہو جاؤ یہ صدقے کا اونٹ ہے اس میں یتیموں، مسکینوں، بیواؤں کا حق ہے’’۔۔۔! ہمارے ہاں حکومت سے بڑھ کر نہ کوئی مسکین ہوتا ہے۔ نہ یتیم و یسیر (خصوصاً اگر امریکہ مدد روک دے)۔ سیدنا عمرؓ تو تین براعظموں پر محیط حکمرانی لیے بیٹھے تھے۔ یہاں آدھے پاکستان (بعد از بنگلہ دیش) کا کوئی وزیر ہی سرکاری گاڑی دھوتا یا اس کا دروازہ خود کھول کر بیٹھتا دکھا دیں! تھیو کریسی کا خوف دلا دلا کر آج یہاں مافیا کریسی گورا کریسی، (منفی 62، 63) سیاسی خانوادہ کریسی، باری کریسی، فوج کریسی قائم ہے۔ اللہ کا تذکرہ آئین میں کافی ہے یا ہر کارِ بد (کالے قوانین کے نفاذ، حد شکن فیسٹیول وغیرہ) کا آغاز تلاوت قرآن سے کروا لیا جاتا ہے۔ باقی اللہ خیر کریسی! تمہیں کیا ہو گیا کہ تم اللہ کے لیے کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے؟ (نوح)۔

 ملک بھر میں لاقانونیت نے طوفان اٹھا رکھے ہیں۔ پشاور میں اغوا کاری میں ایلیٹ فورس اورکاؤنٹر ٹیرریزم کا مل کر اغوا برائے تاوان کرنے والا گروہ پکڑا گیا۔ اُدھر موٹر وے پر پولیس اور انٹیلی جنس افسر نے مل کر ڈاکہ مارا۔ یہ اتفاق و اتحاد عوام کے لیے کیا خوب شگون ہے! پہلے بھی کئی وارداتیں ناکوں سے بہ عافیت گزرنے والی ان سیاہ شیشوں والی مسلح گاڑیوں نے کی ہیں۔ کھاتا طالبان کے نام کا کھول رکھا ہے۔ ایسا ہر جرم ان کے نام! اُدھر لاہور میں پچھلے دنوں جامعہ نعیمیہ شفیعہ کے قریب دکان لے کر اس میں سرنگ کھود کر تخریب کاری کا ایک منصوبہ بروقت پکڑا گیا۔ نقلی ڈاڑھیاں بھی کارروائی کے لیے موجود تھیں! اُدھر ہم ابھی مشرف واپسی کو بھگت رہے ہیں کہ اب الطاف حسین نے بھی آنے کی دھمکی دے دی ہے۔ ان مقدس گایوں کے بوجھ تلے پاکستان چرچرائے گا۔ مشرف کے آنے پر اس غریب قوم کے خزانے سے بہ نام سکیورٹی کروڑوں لٹ چکے۔ اُدھر الطاف حسین صاحب سندھی محبت کے پردے میں کراچی، سندھ میں (کفر کا ہدف) پٹھانوں کا درپردہ منفی تذکرہ فرما کر اشارے دے چکے۔ نہ ہوا اسلامی قانون کہ جس کی رو سے عصبیت پر مبنی جاہلیت کی ایسی پکار فوجداری جرم ہے۔ جس پر فقہاء کے ایک گروہ نے پچاس تازیانے کی سزا سنائی ہے۔ مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں۔۔۔ سو ادھر سے ہزارہ، ادھر سے سرائیکی پکاریں۔ سب مبنی بر عصبیت! جب ہم اسلامی اخوت کے رشتوں میں بندھے دنیا پر صورت خلافتِ عثمانیہ حکمران تھے تو۔۔۔ اس کی زمیں بے حدود اس کا افق بے ثغور، اس کے سمندر کی موج دجلہ و دینیوب و نیل، تھی۔۔۔ اور ہمیں نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر ایک ہونا آتا تھا۔۔۔ مگر پلوں کے نیچے بہتا پانی گدلا ہو گیا اور اس نے ہمیں ‘سب سے پہلے پاکستان’ کے اس جوہڑ کنارے لا پھینکا جس کا افق امریکی ڈرونز اور سی آئی اے کی جولانیوں کے لیے بے حدود و ثغور ہو گیا!
ایک اہم مبارکباد گورڈن براؤن کو وزارت تعلیم (جہاں وہ خصوصی ایلچی یو این برائے تعلیم بن کروارد ہوئے تھے) پہنچا دے۔ وہ یہاں کم عمری کی شادی سے نجات دہندگی مشن پر آئے تھے۔ اب ان کے ہاں قوم کی 12 سالہ بیٹی نے گورڈن براؤن کو ایک عدد نواسی کا تحفہ دیا ہے اپنے 13 سالہ دوست کی معرفت۔ یہ دونوں بے نکاحے ہیں۔ چونکہ تعلیم چھوڑ کر نومولود کو پالنے کا ارادہ رکھتے ہیں لہٰذا برطانیہ کے لیے یقیناًنئی تعلیمی پالیسی بھی درکار ہو گی۔ (ملالہ پروموٹر بھی یہی گورڈن براؤن صاحب تھے۔) اب بتائیے اس بے نکاحی والدہ کی تعلیم کا کیا بنے گا؟ جناب قصہ یہ ہے کہ بقول سید قطبؒ : ‘‘تم اپنی اقدار زمین اور خواہشات نفس سے لیتے ہو۔۔۔ ہم اپنی اقدار آسمان، اپنے رب، وحئ الٰہی اور رسولﷺ سے لیتے ہیں’’۔ سید قطب کے دور میں یہ گلوبل جنگل والے اقدار زمین سے لیتے ہوں گے اب تو وہ بحر مردار (مقام عذاب قوم لوطؑ ) کی تہ سے بہ صد فخر لیتے ہیں۔ لہٰذا یہ اقدار انہی کو مبارک۔ اللہ پاکستان کو پاک کر دے۔ پاک رکھے۔ (آمین)
جاں لاغر و تن فربہ و ملبوس بدن زیب
دل نزع کی حالت میں خرد پختہ و چالاک!

http://www.naibaat.pk/?p=82170c

http://www.naibaat.com.pk/ePaper/islamabad/20-04-2014/details.aspx?id=p12_07.jpg

 

 

تحفظ عوام آرڈیننس کی ضرورت

دہشت گردی کی نامراد جنگ نے اس ملک پر آسیبی سائے پھیلا دیئے۔ ہمارا قومی ملی تشخص کردار وقار اقدار سب ہی کچھ چھین لیا گیا۔ ہم اپنے ہی خلاف جنگیں لڑنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ بلوچستان تا فاٹا ہم نے اپنے دامن کو خود آگ لگائی۔ آدم خور ہو گئے۔ سالہا سال حکومتی ، عسکری ادارے اپنے عوام ہی کے خلاف محاذ آرا رہے۔ نئی حکومت نے اس جنگ کو لگام دینے کی کوشش کی تو باہم سول ملٹری کشمکش شروع ہو گئی۔ ایک فرد، مشرف کی خاطر ملک کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ ابھی اس سے عہدہ برآ ہوئے بھی نہ تھے کہ ایک نئی جنگ باہم دگر چھڑ گئی۔ مشرف کا پاکستان آنا حامد میر پر بھاری ثابت ہوا۔ شاید اسی لیے کہا گیا ۔۔۔ مگس کو باغ میں جانے نہ دیجیو کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا! جس گائے کا تقدس اتنا بے پناہ تھا۔ اس کی درآمد کے ہم متحمل کب ہو سکتے تھے۔ مشرف کے پاکستان آنے پر فوج کے بزرگوں (اسلم بیگم و حمید گل صاحبان) کو پیش بندی کرنی چاہیے تھی۔ اب حامد میر پر حملہ مشرف غداری کیس کا تسلسل بن کر خود حامد میر اور انصار عباسی جیسے افراد کے خلاف غداری کیس میں ڈھل گیاہے! یہ عجب اتفاق ہے کہ اسلام آباد سے پے در پے دو پروازیں اور دو مسافر روانہ ہوئے۔ حامد میر کو کراچی ایئر پورٹ سے پیچھا کر کے قاتلوں نے آن لیا۔ مشرف کو پاکستانی تاریخ کی شدید ترین سکیورٹی کے حفاظتی حصار میں بہ صد عافیت کراچی پہنچا دیا گیا۔ اس کے بعد پہلے عامر میر، پھر جیو نے حامد میر کی مخدوش صحت کے تناظر میں جن خدشات، و شبہات کا اظہار کیا اس پر ملک ہلا۔ عقل معطل کر دی گئی۔ زبانیں جھپٹ جھپٹ کر حملے کرنے لگیں۔ وہ آندھیاں طوفان اٹھے، عدل و انصاف اور قومی سلامتی گرد باد میں گھر کر رہ گئے۔ حالانکہ ابھی تو قومی اسمبلی نے تحفظ پاکستان آرڈیننس قومی سلامتی اور تحفظ کے نام پر، سکیورٹی اداروں کے دباؤ پر ہی پاس کیا تھا۔ اس کا بنیادی نکتہ ہی یہ ہے کہ جس پر شک کی انگلی دھر دی جائے، اپنی بے گناہی ثابت کرنا عین اسی کے ذمہ ہے۔ کرنے کا کام تو سادہ، آسان اور قانونی طور پر یہ تھا کہ جو ڈیشل کمیشن بنتے ہی جنگی بنیادوں پر ISIجیسے قومی ادارے پر سے یہ دھبہ دھونے کو فوری کام شروع ہو جاتا۔ شواہد پیش ہوتے اور اتنا باوسائل ادارہ جسے نہایت باصلاحیت افراد اور 26 مزید انٹیلی جنس ایجنسیوں کی معاونت مل سکتی تھی۔۔۔پاتال سے بھی مجرم ڈھونڈ نکالتا۔ قانون کی حکمرانی بھلا اور کس چڑیا کا نام ہے؟ جو کردار بحیثیت قوم اور اس کے مختلف اجزاء اور اداروں کے ہم نے اختیار کیا تو وہ حجرے شاہ مقیم پر کھڑی جٹی کی عرض معروض سے کچھ بھی مختلف نہ تھا۔ جو اگر تحریر کریں تو شکایت ہو گی! صاحبان عقل و دانش اس دائر کر دہ (جٹی) درخواست کے مندرجات سے خوب واقف ہیں! تفنن بر طرف۔۔۔ اس نہایت گھمبیر مسئلے میں ہمارے قومی کردار میں در آنے والی کمزوریاں بہت کھل کر سامنے آئی ہیں۔ خوف اور لالچ کی اس معاشرے میں تیرہ سالہ کار فرمائی نے ہماری اخلاقیات میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ نجی چینلز پر گفتگوئیں ہوں، کالم نگاری ہو یا تجزیہ فرمائی۔۔۔ آئین جوانمرداں حق گوئی و بے باکی شاذ ہی نظر آتی ہے۔ جہاں کوئی حق کہہ گزرے تو وہ فوراً ہی ملک دشمنی، غیر ملکی قوتوں کی آلۂ کاری کے تیروں سے نوازا جاتا ہے۔ حالانکہ بھارت دوستی کشمیر فروشی کے بعد نہ مشرقی سرحد پر فوجیں ہیں نہ جیلوں میں ’را‘ والے! صرف ڈاڑھیوں والے دشمن ہیں! دوہری گفتگو کر کے باغباں بھی خوش رہے راضی رہے صیاد بھی، میں عافیت سمجھی جاتی ہے! باوجودیکہ متفق علیہ حدیث رہنمائی کرتی، متنبہ کرتی ہے: ’تم قیامت کے دن بد ترین شخص اسے پاؤ گے جو دنیا میں دو چہرے رکھتا تھا۔ کچھ لوگوں کے ساتھ ایک چہرے سے ملتا اور دوسرے لوگوں سے دوسرے چہرے سے‘۔ دو رُخا پن قوم کی رہنمائی دینے کے دعویدار طبقات میں کیونکر گوارا کیا جا سکتا ہے۔ اصلاً ہم قومی سطح پر۔ خواہ سیاست ہو، میڈیا، صحافت ہو یا محافظ ادارے کلیتاً سیکولر ہو چکے ہیں۔ صرف سیاست میں ہی نہیں دین سے جدا ہو کر ہر طرف ہی چنگیزیت کا دور دورہ ہے۔ دنیا میں اتنا واویلا کرتے ہوئے ہم آخرت کا صفحہ سرے سے پھاڑ کر پھینک دیتے ہیں۔ حالانکہ بہت جلد ہم سب (50برس مزید سے زیادہ کون جی لے گا!) اپنے گھر (آخرت۔ قبر) تنہا تنہا لوٹ جائیں گے۔ دنیا کے حساب و احتساب کا معاملہ تو بقول سیدنا عمرؓ یہ ہے  ‘‘اپنا حساب کر لو قبل اس کے کہ تمہارا احتساب کیا جائے’’۔ آپ مشرف کو، اداروں کو (سکیورٹی یا میڈیا، حکومت یا صحافت) یہاں بچا بھی لے جائیں گے تو آگے کیا بنے گا؟ ہمارے واویلوں پر اللہ کہتا ہے۔۔۔ کفٰی باللہ حسیباً۔۔۔ حساب لینے کو اللہ بہت کافی ہے! اور پھر وہ دن۔۔۔ ‘‘جس روز پوشیدہ راز کھل جائیں گے’’ (الطارق: 9)۔ ‘‘وہ وقت جب قبروں میں جو کچھ (مدفون) ہے اسے نکال لیا جائے گا اور سینوں میں جو کچھ (مخفی) ہے اسے برآمد کر کے اس کی جانچ پڑتال کی جائے گی’’ (العادیٰت۔ 9,10) ۔ ‘‘اس روز زمین اپنے (اوپر گزرے ہوئے) حالات بیان کرے گی’’۔  ‘‘اس روز لوگ منتشر حالت میں پلٹیں گے تا کہ ان کے اعمال ان کو دکھائے جائیں’’ (الزلزال)۔ تقریریں، گفتگوئیں، تحریریں ہی نہیں۔ ظلم، آلات ظلم، ہر قاتل، مقتول، سارے وقوعے حق و باطل کے سارے معرکے اس حد تک سامنے کھول کر رکھ دیئے جائیں گے کہ ۔۔۔ ’جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا‘۔ مکمل ری پلے، مکمل ریکارڈ، تصویر کشی،مفتی شامزئی تالال مسجد۔۔۔  اکبر بگٹی، سلیم شہزاد تا حامد میر ۔ سارے لاپتگان، تمام حراستی مراکز اور ان کے سر بستہ راز۔ حکم صادر کرنے والے، بجا آوری کرنے والے، ہر کاغذ، ہر پرزہ، ہر زخم، ہر لاش۔ کرپشن کا ایک ایک ٹکہ، ایک ایک ڈالر۔۔۔! گرافک تفاصیل کے ساتھ۔ یقیناًعدل و انصاف کی جنگ برسر زمین لڑی جائے گی اور لڑی جانی چاہیے لیکن حالات کے جبر اور جھوٹ کی آندھیوں پر دل برداشتہ ہونے کی کوئی گنجائش نہیں۔ یوم الدین۔ یوم الحساب ابھی باقی ہے۔ یوم التغابن۔۔۔ ہار جیت کا دن ابھی آگے ہے۔ فراعنہ اور نمارود کو قرآن میں دیکھ لیجیے۔ دنیا کے پروٹوکول، ٹھاٹ، شان شوکت، سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارہ۔ انا کی جنگیں یہیں رہ جائیں گی۔ زمین پر تاریخ اپنا بے رحم فیصلہ لکھ دے گی اور آسمانوں پر بھی مقام کا تعین ہو جائے گا۔ علیین یا سجین۔۔۔ پاکیزہ روحوں کی بلند مقامی یا دوزخی قید خانہ! رہا حامد میر تو لاپتہ مظلوموں کی داد رسی کے لیے توانا، بے خوف آواز، بلوچوں کے حقوق کے لیے سرگرمی، مشرفی غداریوں کو ڈنکے کی چوٹ بیان کرنے والا،۔۔۔ پیالہ لبالب بھر چکا تھا! جس کو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں! ضرورت اب ایک تحفظ عوام آرڈیننس لانے کی ہے۔ اگر مضبوط ترین میڈیا ہاؤس کا وہ اینکر جو کنڈو لیزا رائس تا ہیلری کلنٹن اور مشرف تا زرداری سب ہی کا انٹرویو کرتا ہے۔۔۔ محفوظ نہیں تو پھر باقی کس برتے پر سکون کی نیند سوئیں؟ قومی اداروں کی ساکھ کی بحالی کے لیے شفاف تحقیق لازم ہے۔ یہ کمیشن بھی سلیم شہزاد کمیشن کی طرح گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کا فریضہ انجام دے کر کام لپیٹ نہ دے!

http://www.naibaat.pk/?p=82872c

http://www.naibaat.com.pk/ePaper/islamabad/27-04-2014/details.aspx?id=p12_07.jpg

 

 

 

 

نیک و بد سمجھائے جاتے ہیں

اِدھر سول، ملٹری، میڈیائی آنکھ مچولی جاری تھی۔ بیچ میں یکایک کینیڈا بیٹھے کنٹینر فیم غم خوارِ پُراسرار متحرک ہو گئے۔ نہایت متنازع اور مشکوک فنکار زید حامد منظر پر آ دھمکا۔ ایک سال بعد عمران خان کو دورۂ دھاندلی پڑ گیا۔ اسی غل غپاڑے میں میری باری تیری باری جمہوریت کی چولیں ڈھیلی کرنے کو (ق) لیگ بھی آن کودی۔ ایک نیا ورلڈ ریکارڈ دنیا کی تاریخ میں فوج کے حق میں مظاہروں کا قائم ہوا۔ (مصر میں شاید اس کی نظیر مل جائے)۔ عوام کی اپنی مصروفیات ہیں۔ لوڈشیڈنگ سے نمٹتے۔ بجلی کے بھاری بلوں کی بدستور ادائیگی کا غم، سی این جی کی طویل لائنیں، غرباء کی خود کشیاں، خود سوزیاں، نوجوانوں کی جا بجا دست درازیاں۔ غرض ایک طوفانِ بدتمیزی چہار جانب برپا ہے۔ امریکی جرنیلوں کی آمد و رفت پر مہر ثبت کرنے کے لیے امریکی نائب وزیر خارجہ ولیم برنز نے سول ملٹری حکام سے ملاقات کر کے فرمائش نما مطالبہ سامنے رکھ دیا ہے۔ (آخر اتنے سالوں سے ان کے فرمائشی پروگرام ہم نے پورے کیے ہیں۔ لال مسجد آپریشن، سوات تا فاٹا آپریشن در آپریشن)۔ برنز صاحب فرماتے ہیں ’افغانستان میں نئی کٹھ پتلی حکومت کے قیام سے پہلے شمالی وزیرستان میں آپریشن کر کے دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر دو‘۔ یوں بھی مذاکرات جب شروع کیے تھے تو اسی وقت یہ بات واضح تھی کہ افغانستان میں انتخابات ہونے تک، برف پگھلنے ، موسم آپریشن کے لیے سازگار ہونے تک ’دہشت گردوں‘ کو مصروف رکھو۔ عوام بھی مذاکرات کی دھول چاٹ لیں۔ اِدھر بھی اب تیاری کی خبریں گرم ہیں۔ پس کچھ اخباری کالمز اور میڈیا پر ٹاک شوز کی دھواں دھاری سے فضا تیار کرنی ہو گی۔ کسے مارنے بھجوانا ہے؟ امریکہ کو مطلوب مسلمان؟ وہ آ کر ڈکٹیشن کیوں دے رہے ہیں۔ مسلمانوں کو یمن، مصر سٹائل یہاں بھی مارنے کی بے قراری انہیں کیوں ہے؟ اس کی فرمائش پر یہ آپریشن ہوا تو چلئے لگے ہاتھوں اقبالؒ کا شعر پڑ ھ لیجیے۔ جو انہوں نے خاکی پاور کے لیے لکھا تھا۔ ’عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی، یہ ’خاکی‘ اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے‘! اگر جہادفی سبیل اللہ۔ اللہ کا کلمہ بلند کرنے، تحفظ اسلام و شریعت کے لیے ہو گا تو لاریب نوری ہے۔ اگر جہاد فی سبیل الطاغوت ہوا۔ کفر کی رضا، اس کی فرمائش اور حکم پر تو خود سوچ لیجیے! سادہ سا اصول ہے کوئی راکٹ سائنس تو ہے نہیں۔ اسی ہنگامے کے بیچوں بیچ کراچی سے نیٹو طیارے ہماری فضائی حدود روندتے ہوئے انخلاء کرتے امریکیوں کے لیے سازو سامان پہنچا رہے ہیں۔ جس کی منطق سیانے بھی سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اور اب حکم آپریشن۔ الیس منکم رجلٌ رشید۔؟ کیا کوئی ایک۔ کوئی ایک بھی رجل رشید اس قوم میں باقی نہیں؟ (پرویز رشید، شیخ رشیدوں کی بات نہیں ہو رہی) ایف بی آئی کا ایجنٹ الگ ممنوعہ اسلحہ لیے منہ چڑاتا ضمانت کروا کر نکل گیا!

 اس دگر گوں ملکی صورت حال میں اخلاق و کردار کی دھجیاں اڑانے کو رہی سہی کسر نصابوں نے نکال رکھی ہے۔ بات اب یہ نہیں رہی کہ قرآن اسلام نصابوں سے نکال دو۔ بھاری بھر کم فیسوں کے ساتھ والدین نہایت مہنگی جہالت خرید رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں ہر طرح کا نصاب صرف دو نکات پر مبنی ہے۔ ایک یہ کہ روحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو۔ اور دوسرا یہ کہ عریانی فحاشی، رقص و سرود، موسیقی، دوستی یاری کے اسباق بلا مبالغہ پالنے میں پڑے بچے سے شروع کرو۔ آکسفورڈ (کی اعلیٰ تعلیم!) کی دوسری جماعت کی کتاب نظر سے گزری۔ (اگرچہ یہ موضوع کئی وہائٹ پیپر سیاہ کرنے کو کافی ہے نمونہ صرف ملاحظہ فرمائیے) ننھے بچے کو انگریزی پڑھائی جا رہی ہے۔ ایک مضمون پورا چڑیل، اس کے کھانے کی ترکیب پر مشتمل ہے۔ چڑیل کا سالن بنانے کے لیے جو اشیاء لکھی گئی ہیں وہ ہیں آٹھ عدد سبز سانپ ، 12 عدد مینڈکوں کی آنکھیں، گیارہ طوطوں کے پنجے، نوکتے کی دمیں، 7 کپ پانی اور تھوڑا سا نمک، ترکیب تصویر وار پوری دکھائی بتائی گئی ہے۔ سانپ کے ٹکڑے کرو، کتے کی دمیں اور مینڈک کی آنکھیں کاٹو، ابالو۔ کانٹے سے ملاؤ، فرائی کرو، پانی ڈالو۔ بیس منٹ ابالو، طوطے کے پنجے ڈالو، اب سالن کے مزے اٹھاؤ۔ (تصویر چڑیل کی ہے!) کتنا اہم سبق ہے آمدِ دجال سے پہلے بیگم شیطان کی خوراک تیار کرنا سکھانے کا! معصوم ننھا بچہ اگلا سبق پڑھ رہا ہے چمپینزی (بن مانس) کے خاندان کا۔ پورا کنبہ تصویر میں حاضر ہے۔ چمپ (دلار سے چمپنزی کو کہا گیا ہے) کے دادا، دادی، بہن بھائی، ماموں، پھوپھی! کتنا اہم تعارف ہے! گورے کی مجبوری تو ہم جانتے ہیں کہ یہ ان کے معزز ڈارونی جد امجد کا خاندان ہے۔ (اپنے چچا، پھوپھی، خالہ تو عنقا ہو گئے۔ حرام کے رشتوں میں کیا، کہاں تلاش کرتے پھریں۔ ہمارے معصوموں کی کیا مجبوری ہے کہ پورا نصاب جانوروں، چڑیلوں سے بھرا ہوا ہے۔۔۔؟ پنجاب بھر میں سوشل سکیورٹی سکولوں میں ساتویں جماعت کے بچوں کی انگریزی میں اعلیٰ تعلیم کے نام پر آکسن (?!Oxen) اکیڈمکس کی کتاب پڑھائی جا رہی ہے۔ تعلیم و تربیت کے لیے ڈائن (Dion) نامی اسم با مسمٰی گلوکارہ کے عشق کی ٹھنڈی آہیں بھرتا انگریزی فلم کا گانا حاضر ہے۔ استاد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کلاس میں بار بار یہ سنوائے طالب علموں کی سماعت کی صلاحیت بڑھانے کو۔ نیز ان کی دلچسپی بڑھانے کو مزید مشق بھی کروائی جا سکتی ہے۔ اسی میں مائیکل جیکسن کا گانا \’Smooth Criminal\’ بھی شامل ہے۔ یہ ’شاطر مجرم‘ بھی بار بار سن کر پھر شاید تجربہ بھی کیا جائے گا! (کم عمر ذہن گہرا اثر قبول کرتے ہیں)۔ لب لباب اس ’فن پارے‘ کا یہ ہے کہ ’وہ شاطر مجرم کھڑکی کے راستے دھماکہ خیز طریقے سے اس کے اپارٹمنٹ میں وارد ہوا۔ فرش پر خون کے دھبے چھوڑے۔ وہ میز کے نیچے چھپی، بیڈ روم میں بھاگی دوڑی اس نے اس کو جا لیا۔ یہی بربادی اس کا مقدر تھی۔ پھر بارہ مرتبہ پوچھا جاتا ہے۔ اینی کیا تم ٹھیک ہو؟ تم ٹھیک توہو اینی۔۔۔‘ تمہیں ایک شاطر مجرم نے آلیا۔۔۔! یہ تربیت رائیگاں نہیں جا رہی۔ خبر یہ ہے کہ اجتماعی زیادتی کی وارداتوں میں ہولناک اضافہ ہوا ہے۔ ہر ساڑھے تین گھنٹے بعد ایک زیادتی کا کیس پنجاب میں سامنے آ رہا ہے۔ عارف والا میں پرائمری کے 3 لڑکوں نے ویران گھر میں لے جا کر 4 سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کی۔ مدارس کے نصاب کی اصلاح پر کمربستگان ذرا غور تو فرمائیں! ضرورت تو امریکہ یورپ کے نصاب بدلنے کی تھی جہاں انسانوں کی جگہ اب بن مانسوں کے جنگل اخلاق و کردار کی سطح پر اگ رہے ہیں۔ Gender fluid یعنی کبھی مرد کبھی عورت کی شناخت اختیار کرنے کا قانونی حق۔ Homo-polygamist گڑ کی گندگی اور غلاظت سے بدتر قانونی نکاح پڑھا کر حرام کاریوں کو جواز بخشنے والے۔ ضرورت اب یہ ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو تحفظ دینے کے لیے سب سے پہلے بوزنے نصاب بیک قلم مسترد کر کے شرفاء کی نصابی کمیٹیاں جنگی بنیادوں پر تشکیل دیں۔ قبل اس کے کہ آپ کے ہاں بھی ڈائینوں اور  مائیکل جیکسنوں کی افزائش مزید بڑھے۔ دینی جماعتیں ان کے اساتذہ کے شعبے کہاں ہیں؟ امریکی فرمائشی پروگرام خواہ وہ شمالی وزیرستان میں نسل کشی کے ہوں یا تعلیمی سطح پر موت بانٹنے کے۔ بیک قلم مسترد ہوں۔ فوج سے اظہارِ محبت بسلسلہ بھارت اور کشمیر ہے۔ امریکی ایجنڈے پورے کرنے کے لیے ہرگز نہیں۔ امریکہ ان مظاہروں کا فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ فرمائے۔

 

http://www.naibaat.pk/?p=84231c

http://www.naibaat.com.pk/ePaper/islamabad/11-05-2014/details.aspx?id=p12_07.jpg

 

 

راہ میں رہبر مل گیا!

جمہوریت کے بے انتہا مہنگے کھیل میں غریب مسکین قوم نے عمران خان، قادری ڈرامہ 50 کروڑ کا دیکھا۔ ایک طرف کینیڈین ڈالروں کی ریل پیل اور ویڈیو لنک خطاب تھا۔ اُدھر عمران خان نے قوم کے غم میں انتخاب لڑنے والے ایک ساتھی کا بار بار تذکرہ کیا۔ حامد زمان صاحب کو بقول ان کے سیاست میں آنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ ہم مسکینوں کی فلاح اور پاکستان کے مستقبل کی خاطر نہ صرف انتخابات میں اپنا پیسہ قربان کیا بلکہ دھاندلی سے ہار نے پر مزید 57 لاکھ وکیلوں، عدالتوں پر خرچ کیا! ہمارے بھی ہیں غم خوار کیسے کیسے! یہی کروڑ کے لگ بھگ اپنے حلقے کی فلاح و بہبود، کچھ کو روزگار فراہم کرنے، کچھ چولہے ٹھنڈے ہونے سے بچانے پر فی سبیل انتخابات و جمہوریت لٹانے کی بجائے فی سبیل اللہ لگا کھپا دیتے! عوام لٹو ہو کر کندھوں پر بٹھا کر اسمبلی چھوڑ آئے ہوتے۔ عوام وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔ اربوں کے خرچ سے ایک قومی انتخاب ہوا نہیں کہ وہ 35 مقامات سے پنکچر بھی ہو گیا۔ 57 لاکھ ایک پنکچر لگوانے پر بے نیل و مرام خرچ ہو گیا۔ اور اب سال گزرا نہیں کہ پھر تختہ الٹنے کو سارے ملک سے ریزگاری اکٹھی کی جانے لگی۔ ایک ڈیڑھ سیٹ پارٹی سے لے کر بھان متی کے کنبے کو جوڑنے کے لیے سب سر جوڑ بیٹھے! حامد میر حملے سے ایک کہانی شروع ہوئی تھی۔ سویلین حکومت جو ذرا آزادی و خود مختاری کے موڈ میں پر پرزے نکالنے‘ مذکرات کرنے اور اپنا آپ منوانے کیا چلی۔ بھونچال آ گیا! امریکی جرنیلوں کی آمد و رفت، کھسر پسر، یکایک کینیڈا سے دہائیاں پڑنے لگیں۔ پردے اٹھانے کی جرأت نہ ہو۔ مشرف کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش نہ کی جائے۔ جو تیوں میں دال بٹنے لگی۔ ایک دوسرے کے کچے چٹھے کھول، محلے کی عورتوں کی طرح اوئے توئے کرتے للکاریں، پھٹکاریں برسنے لگیں! افراتفری کے بیچوں بیچ لگے ہاتھوں ہمارے زخموں پر، جلتی پر مزید تیل ڈالنے یکایک مسٹر برنز امریکی نائب وزیر خارجہ نے۔۔۔ بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی۔ یعنی شمالی وزیرستان میں آپریشن کا حکم دیا ’ہماری جنگ لڑو‘۔ ابھی کچھ توقف کرنا پڑے گا تا کہ نادان گوروں کے پھوڑے ہوئے بھانڈوں کی گرد بیٹھ جائے۔ دراصل ہماری معیشت کا کافی دارو مدار اس بھیک پر ہے جو سخی ہمیں طالبان کچلنے کے نام پر دیتے ہیں۔ بقیہ تعلیم کی تباہی، برہنگی اور فیشن شوز پر مل رہی ہے۔ اس
دوران کچھ پلانٹڈ دھماکے درکار ہوں گے تا کہ خبروں کا تنور دہکایا جا سکے۔ درجۂ حرارت بڑھایا جا سکے۔ شمالی وزیرستان میں لگاتار طویل کرفیو سے آبادی پر خوراک اور ضروریات زندگی تنگ کی جا رہی ہیں تاکہ آپریشن آسان ہو جائے۔ کرفیو میں طبی سہولتیں میسر نہ آنے سے عورتوں بچوں کی اموات کی خبریں آ رہی ہیں۔ پاکستان دوست حقانیوں کو امریکہ کی فرمائش پر بمباریوں، گولہ باریوں کا لقمہ بنانے (اسی کے لیے ہمیں ہوائی جہاز عنایت کیے گئے ہیں) کا نتیجہ کیا ہو گا؟ سوچنے کی زحمت کسی نے اُٹھائی؟ ایک طرف مودی اور پاکستان دشمن بھارتی آرمی چیف کی آمد آمد ہے۔ بٹل سیکٹر میں بلا جواز رات بھر فائرنگ کر کے مقامی آبادی کو خوفزدہ کیا گیا۔ دوسری طرف افغانستان میں بھارت نواز امریکی کٹھ پتلی (سفاک شمالی اتحاد فیم) عبداللہ عبداللہ کی حکمرانی تیار ہے۔ (خوشی میں) یہاں افغان فوج نے قلعہ سیف اللہ کی چیک پوسٹ پر گولیاں برسا دیں۔ فائرنگ ہوتی رہی۔ سرحدوں سے امڈتے خطرات سے بے نیاز 12 مہینوں میں حکمران برادران کے 14غیر ملکی دورے۔ ان کی توجہ کا مرکز دو شہر ادھیڑ کر میٹرو بس میں اربوں کی کھیپ ملاحظہ ہو۔ اُدھر کراچی میں آپریشن کے عزائم۔ تمام سیاسی جماعتوں اور اسی گورنر کے جلو میں اعلان آپریشن کے کیا معنی ہیں؟
 بھتہ خور، قاتل، ڈکیت تو سیاسی جماعتیں بغل میں دابے پھرتی ہیں۔ یہ سارے امریکہ برطانیہ کے فرمائشی پروگرام چل رہے ہیں۔ کراچی کا امن اور دولت لٹ رہی ہے۔ نزلہ سارا پٹھان آبادیوں اور فاٹا میں آپریشن درآپریشن سے جان بچا کر کراچی اور پنجاب میں پناہ لینے والوں پر گر رہا ہے۔ بلوچستان اور کراچی کا امن (کون نہیں جانتا) برطانیہ مقیم ریموٹ کنٹرول سے درہم برہم ہوتا ہے۔ بلوچ لیڈروں کی پناہ گاہ بھی برطانیہ ہے۔ ضرورت تو یہ تھی کہ اگر اخلاص ہوتا تو تمام سیاسی جماعتیں اور فوج مل کر دجل اور فریب کی امریکی جنگ کو دفن کرتی۔ کراچی، فاٹا، بلوچستان کا امن اس جنگ سے ہی نتھی ہے۔ امریکی براہ راست آداب سفارت پامال کرتے ہوئے کس برتے پر ہمارے جرنیل کو آپریشن کا حکم صادر کرتے ہیں؟ اس سے عزت پر حرف کیوں نہیں آتا، مظاہرے کیوں نہیں ہوتے، احتجاج سرکیوں نہیں اٹھاتا؟
ہم ٹھنڈے پیٹوں ایسے حکم قبول کر کے تیاری میں کیونکر جت جاتے ہیں؟ اُدھر خبر یہ ہے کہ ایمرجنسی لگانے میں کسی نے مدد نہیں کی تھی، خود بخود لگ گئی۔ لال مسجد آپریشن بھی خود بخود ہی تھا۔ اس کا حکم نہ پرویز مشرف نے دیا نہ کابینہ نے۔ نہ وزیراعظم ملوث تھا۔ پاکستان میں یقیناًجنات کارفرما ہیں۔ عاملوں سے کام لینا پڑے گا۔ 12 مئی پر جو خون کراچی میں بہا تھا اگرچہ ویڈیو ریکارڈ دن بھر کا اور شام کا مشرفی خطاب بھی موجود ہے لیکن ذمہ دار کوئی بھی نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ مشرف پاک پوتر ہے ہر عیب سے مبرّا۔ ہر اٹھنے والی انگلی خود بخود کٹ کر گر جائے گی۔ حراستی مراکز کا جال بچھا ہے۔ جان بہ لب نوجوانوں کی خبریں مسلسل آ رہی ہیں۔ لیکن یہ بھی جنات کی کارفرمائی ہے۔ سپریم کورٹ، ہائی کورٹ سرپٹخ چکی۔ لاپتہ نوجوانوں کا کوئی بھی تو ذمہ دار نہیں۔ سڑکوں پر آمنہ جنجوعہ اور دیگر مظلوموں پر تشدد کرنے والے ظاہر ہے نواز حکومت کے کارندے تو ہو نہیں سکتے وہ تو ان کے درد مند بہی خواہ ہیں۔ یہ بھی پر اسرار نامعلوم ہاتھ ہیں! اُدھر بیورو کریسی فراڈ اور کرپشن میں ملوث 750افسران کے نام بتانے سے انکاری ہے۔ 487افسران کے خلاف انکوائریاں بند کر دی گئیں ان کے نام بھی سامنے نہیں لا سکتے۔ پارلیمنٹ نہیں پوچھ سکتی! کیا شہنشاہی ہے! ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس! بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔ ان ہمہ نوع کرسیوں پر براجمان بادشاہوں کو ہم خلافت راشدہ یا امارت اسلامیہ کے نمونے تو کیا دکھائیں وہ بہت اعلیٰ وارفع شے ہے تاہم مغربی جمہوریت کے یہ (لکھ لٹ) پیروکار فرانسیسی وزیر کی تصویر ہی دیکھ لیں۔ (یہ گوروں کے بے دام کے غلام جو ٹھہرے)۔ فرنچ وزیر انصاف اپنی قوم کے خزانے پر رحم کھاتے ہوئے، سائیکل پر پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے بلاہٹو بچو، نتھو خیرا بنا چلا آ رہا ہے! اُدھر مودی خاندان آٹو رکشے پر سوار ہو کر ووٹ ڈالنے گئے! یہاں
BMW سے کم پر تو کوئی راضی نہیں ہوتا!
غریب عوام کے امیر غم خوار ملاحظہ ہوں! سردار جی کے بارے میں آپ نے پڑھا تو ہو گا۔ ان سے پوچھا گیا کہ سردار جی آپ سے کیا غلطی ہوئی جو جیل آ گئے؟ سردار جی بولے۔ دراصل ہم نے بینک لوٹا اور وہیں پیسے جمع کروانے رک گئے! تاہم پاکستان وہ بینک ہے جہاں لوٹ کر پیسے بھی وہیں جمع کروائے جا سکتے ہیں۔ (جیلیں تو بحق اہل ایمان محفوظ ہیں) اور یہ سارے سردار ہمارے سردار ہیں۔۔۔! وہ والے سردار بھارتی پنجاب کے بفر زون میں ہوتے ہیں جسے آنجہانی خشونت سنگھ نے ’ڈفر زون‘ کہا تھا۔ ڈفر تھے تو جیل گئے ورنہ یہاں ہوتے تو کم از کم وزیر ہوتے، سیکرٹری ہوتے یا جرنیل! بیچارا پاکستان!
میں تو منزل پہ ہوتا مگر
راہ میں راہبر مل گیا!

http://www.naibaat.pk/?p=84830c

http://www.naibaat.com.pk/ePaper/lahore/18-05-2014/details.aspx?id=p12_06.jpg