日本イスラーム研究所 Japan Islamic Research Institute


اخوان کے مرشد عام، ڈاکٹر محمد بدیع کو سزائے موت!

حافظ محمد ادریس

اخوان المسلمون کے آٹھویں مرشد عام جناب ڈاکٹر محمد بدیع کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ اخوان پوری دنیا میں جانی پہچانی تحریک ہے۔ اس نے ہردور میں فراعنۂ مصر کے ظلم برداشت کیے اور حق کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دیا۔ حسن البنا شہید، عبدالقادر عودہ شہید اور سید قطب شہید نے جو نشان ہائے منزل اپنے خون سے منور کیے وہ آج بھی تابندہ ہیں۔ اخوان المسلمون کی بنیاد مصر میں 1928ء میں رکھی گئی۔ بائیس سالہ نوجوان [امام] حسن البنا اس کے بانی اور پہلے مرشد عام تھے۔ وہ اپنی شہادت 12فروری 1949ء تک اخوان کی قیادت کا حق ادا کرتے رہے۔ ان کے بعد معروف جج اورعالم ربانی جناب حسن الہضیبی نے یہ کٹھن فریضہ 1971ء تک اد اکیا۔ بیش تر زمانہ جیل میں گزرا، 1954ء میں ان کو سزائے موت بھی سنائی گئی، مگر بڑھاپے کی وجہ سے اسے عمرقید میں تبدیل کردیا گیا۔ تیسرے مرشد عام معروف دانش ور، ادیب اور مصنف، قانون دان اور فقیہ جناب عمرتلمسانی منتخب ہوئے۔ جنھوں نے یہ ذمہ داری 22مئی 1986ء تک ادا کی۔ چوتھے مرشد عام معروف خاندان سے تعلق رکھنے والے بڑے زمیندار، مجاہد اور درویش منش راہنما محمد حامد ابوالنصر مقرر ہوئے، جنھوں نے 1996ء میں اپنی وفات تک اخوان کی قیادت کا حق ادا کیا۔ پانچویں مرشد عام عالمی شہرت رکھنے والے متحرک لیڈر داعی اور خطیب، غازی اور مجاہد استاد مصطفی مشہور مقرر ہوئے۔ 14نومبر 2002ء کو ان کی وفات ہوئی تو جناب مامون الہضیبی چھٹے مرشد عام مقرر ہوئے جو پارلیمنٹ کے رکن اور معروف قانون دان تھے۔ انھوں نے کئی بار مصر کی بار ایسوسی ایشنز کی سربراہی بھی کی۔
مامون الہضیبی، دوسرے مرشد عام، جناب حسن الہضیبی کے فرزند ارجمند تھے۔ ان کا بطور مرشد عام تقرر ان کی اپنی قربانیوں، قابلیت اور اخوان کے ساتھ تعلق کی بنیاد پر ہوا نہ کہ حسن الہضیبی کا صاحبزادہ ہونے کی وجہ سے۔ 8جنوری 2004ء کو ان کی وفات کے بعد جناب محمد مہدی عاکف پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی۔ موصوف جوانی کے دور سے لے کر آخر وقت تک اگلی صفوں میں رہ کر کام کرتے رہے ہیں اور انھوں نے قربانیوں کی ایک تاریخ رقم کی ہے۔ جوانی میں جیل کی کال کوٹھڑیوں کو آباد کیا اور زنداں خانوں میں قیدیوں کی تربیت نہایت محبت واپنائیت سے کرتے رہے۔ انھوں نے خود رضا کارانہ طور پر جنوری 2010ء میں اخوان کی قیادت سے فراغت حاصل کرلی۔ اب قیادت کی ذمہ داری جناب ڈاکٹر محمدبدیع پر ڈالی گئی جو تاحال اخوان کے مرشد عام ہیں۔     
ڈاکٹر محمد بدیع کی قیادت میں ہی مصری قوم نے ظالم آمرانہ نظام کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا اور بے پناہ قربانیاں دینے کے بعد حسنی مبارک کی ظالمانہ حکمرانی سے نجات حاصل کی۔ اسی دوران انتخابات کا ڈور ڈالا گیا، جس میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں اور صدارتی انتخابات میں اخوان کو کامیابی حاصل ہوئی۔ اخوان کی طرف سے معروف پارلیمانی شخصیت جناب ڈاکٹر محمد مرسی صدارتی امیدوار تھے جو سخت مقابلے کے بعد دوسرے راؤنڈ میں کامیاب ہوئے۔ 30جون 2012ء سے 3جولائی 2013ء تک محض ایک سال کی قلیل مدت ان کی حکومت رہی۔ اس عرصے میں انھوں نے مصر کو عزت ووقار کا مقام دلانے کے لیے دور رَس اقدامات کیے۔ بنیادی انسانی حقوق، آزاد معیشت، آزاد خارجہ پالیسی، امت مسلمہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور مسئلہ فلسطین پر جرأت مندانہ موقف اختیار کرنے کے فیصلے کیے۔     
عالم کفر کو یہ بات ہرگز گوارا نہیں تھی کہ مصر جیسے اہم ملک میں ان لوگوں کی حکومت قائم ہوجائے جوخود داری اور حمیت ملی سے اپنے معاملات آزادنہ طور پر چلانا چاہتے ہیں۔ پوری دنیا کی باطل قوتیں ان کے خلاف محاذ آرا ہوگئیں۔ طالع آزما جنرل عبدالفتاح سیسی موقع کی تاک میں تھا۔ کفر ونفاق کی قوتوں نے اس کی پیٹھ ٹھونکی اور اس نے حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ منتخب صدر اور اخوان کی ساری قیادت، ارکان پارلیمان وسینٹ بلکہ عام کارکنان حتّٰی کہ خواتین اور طالبات تک کو جیل میں ڈالا گیا۔ احتجاجی مظاہر وں کے دوران نمازیوں پر بلڈوزر چلائے گئے۔ ہزاروں معصوم شہریوں، بزرگوں، بچوں اور مردو خواتین کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ اخوان کو بغیر کیس سنے موت کی سزائیں سنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ صدر مرسی کو پہلے پھانسی کی سزا سنا دی گئی تھی۔ اب مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع کو بھی سیکڑوں بے گناہ اخوانیوں کے ساتھ سزائے موت سنائی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد بدیع کے اکلوتے بیٹے اور کئی عزیز شہید ہوچکے ہیں۔ ان کے بیٹے کو 16اگست 2013ء کے روزہ قاہرہ میں ایک مظاہرے کے دوران پولیس کے مسلح دستوں نے گولی مار کر شہید کردیا تھا۔ ڈاکٹر محمد بدیع کی تین بیٹیاں ہیں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی ساری جائیداد بھی قبضے میں لے لی گئی ہے اور ان کے حسابات بھی منجمد کردیے گئے ہیں۔ یہ عظیم راہنما بچپن ہی سے نیکی، خیر اور تقویٰ کا علم بردار تھا۔ مصر کے صنعتی شہر ’’محلہ الکبریٰ‘‘ میں 7اگست 1943ء کو ان کی پیدائش ہوئی۔ انھوں نے ویٹرنری میڈیسن میں قاہرہ یونی ورسٹی سے 1965ء میں بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ اسی سال 22برس کی عمر میں انھیں اخوان کا رکن ہونے کی پاداش میں گرفتار کر لیا گیا۔ ایک جعلی ملٹری عدالت نے ان کو 15سال قید کی سزا سنا دی۔ ان کی یہ سزا1974ء میں اس وقت ختم ہوئی جب انوار سادات نے اخوانی قیدیوں کو رہا کرنا شروع کیا۔ رہائی کے بعد ڈاکٹر محمد بدیع نے مختلف مصری یونی ورسٹیوں میں تدریس کے فرائض ادا کیے۔ گرفتاری کے وقت تک وہ جزوقتی پروفیسر آف پتھالوجی کے طور پر بنی سیف یونی ورسٹی میں ویٹرنری کے شعبے میں پڑھا رہے تھے۔     
14
جولائی 2013ء ڈاکٹر محمد بدیع کے خلاف جھوٹا کیس بنایا گیا جس کے تحت 20اگست کو انھیں جیل میں ڈال دیا گیا۔ اس وقت سے وہ جیل میں ہیں۔ قاہرہ کی فوجداری عدالت کے تین ججوں نے یکے بعد دیگرے کیس کی سماعت سے معذرت کرکے خود کو اس سے الگ کرلیا۔ آخر حکومت کے منظور نظر ججوں نے 28اپریل کو بغیر کسی قانونی جواز کے ڈاکٹر محمد بدیع کو کیس سنے بغیر سزائے موت سنا دی ہے۔     
چمن میں غارتِ گل چیں سے جانے کیا گزری
قفس سے آج صبا بے قرار گزری ہے
پوری دنیا کے انصاف پسند حلقے اس ظلم وسفاکی پر سراپا احتجاج ہیں، جب کہ ڈاکٹر محمد بدیع نے جیل کی کال کوٹھری سے کہا ہے کہ موت کا وقت متعین ہے، جو ٹالے ٹلتا نہیں اور وقت سے پہلے کبھی آتا نہیں۔ اللہ کی راہ میں شہادت اعزاز اور سعادت ہے، ہم نہ جھکیں گے اور نہ اپنا راستہ چھوڑیں گے۔ اللہ کے ہر فیصلے پر ہم راضی ہیں۔ اللہ اپنے ان     مخلص ومظلوم بندوں کی مدد فرمائے اور ظالموں کے کرتوتوں پر ان کی رسی کھینچ لے۔
کوئے جاناں میں کھلا میرے لہو کا پرچم
دیکھیے دیتے ہیں کس کس کو صدا میرے بعد

!