by Eric Margolis | No Comments | Add a Comment

Email this Email this 

May 3, 2014

Did anyone really think that John Kerry’s nine-month effort to produce a Palestinian mini-state would ever work? If so, they were either ignorant of the Mideast, naïve, or deeply cynical.

The best one could say about Kerry’s fiasco was that it was a charade designed to show America’s Arab allies that Washington was really making an effort to resolve the nearly seven-decade suffering of the 5 million homeless Palestinians.

In 2002, I wrote that the latest Arab-Israel peace initiative – called “the roadmap to peace” – would be a dead end in the desert. So it was, and so was each ensuing peace spasm as Washington beseeched, begged , implored, cajoled and pleaded with Israel to allow creation of a small, semi-independent Palestinian state on the Israel-occupied West Bank.

Oooops! New Jersey governor Chris Christie, the Republican frontrunner for president, went to Las Vegas to lick the hand of Uber Zionist media mogul billionaire Sheldon Adelson. While kow-towing to Adelson, who made his billions by exploiting poor people’s addiction to gambling, Christie made what could be a fatal faux pas.

The New Jersey governor referred to what the United Nations terms the “Israeli-occupied West Bank” as the “Israeli-occupied West Bank.” Adelson, a chief financier of militant Jewish settlers on the West Bank and Golan, went ballistic. No, no, no! It’s Judea and Samaria, thundered the casino mogul, given to the chosen people by God himself!

Poor Christie slunk back to New Jersey. His plain speaking may cost him the presidential nomination. Adelson repeated his offer to give a sufficiently pro-Greater Israel Republican candidate $100 million.

This sickening tale of dirty money and an American political process totally corrupted by now unlimited money explains why Israel has no intention of signing a peace deal with the Palestinians. Why should it?

First, Israel’s ruling Likud Party and its even more extreme allies have vowed there will never be a Palestinian state. Period. In their view, all of Palestine belongs to the Jews, even if they hail from Russia, Morocco, Poland or Lithuania. As the late Gen. Ariel Sharon so often proclaimed, the true Palestinian state is Jordan. There will be no return to pre-1967 borders.

Second, Palestinians don’t exist, as the late Israeli PM Golda Meir was so fond of saying: they are merely landless Bedouin. How ironic that the Jewish thinker Arthur Koestler wrote much the same about the Jews, calling them descendants of nomadic Khazars.

Third, as Sharon used to boast, “don’t worry about the US. I control the US!” Israel’s right wing has turned the US Congress into performing seals. Any US official or politician deemed insufficiently pro-Israel has a short career. Israel’s PM Benjamin Netanyahu even humiliated President Obama and VP Joe Biden – and was cheered by Congress.

Fourth, Israel holds all the cards. US Mideast policy is determined by the potent Israel lobby. Israel grows rich from US aid ($3-5 billion annually) and new energy discoveries. Its economy thrives and its tech sector is a world leader. Israel has annexed the region’s key water sources.

Militarily, Israel could conquer much of the Mideast in mere days. Israel’s American allies, known as neocons, engineered the Iraq war that destroyed Israel’s most capable Arab enemy. Now, thanks again to the neocons, the other serious enemy, Syria, lies in ruins.

Egypt, the Arab world’s leading power, is now run by a brutal fascist regime that is secretly allied with Israel. Distant Iran offers no current military challenge to Israel. Besides, nuclear-armed Israel has unlimited American military and financial backing.

Palestinians are split between the useless PLO – a sock puppet for the US and Israel – and Hamas, locked up in Gaza. They pose only nuisance value to Israel. The only serious remaining Arab fighting force is Lebanon’s Hezbollah – but it is only effective when fighting at home.

Israel’s right is quite prepared to enforce an apartheid state where Arabs have few rights and no political power. It’s no coincidence that Israel and apartheid South Africa were the closest of allies.

Finally, Israel’s Zionist hard right has always been reluctant to fix the nation’s borders with Syria and Lebanon. Who knows what Israel’s final borders will look like. Some on Israel’s hard right see golden opportunities in a collapsing, fragmented Arab world.
copyright Eric S. Margolis 2014

This post is in: IranIraqIsraelMideastPalestineSyriaVenezuela 

Evidence of Hindu Prejudices against Muslims
There was a mistake in the web address of my Home Page given earlier. the correct one is http://www.dawahislamia.com
I am repeating it on the request of some readers.

Regrettable and Painful 150 years

 of Muslim History's Darkest Age


Hussain Khan, M. A. Tokyo

Visit my Home Pages for details:



اخوان کے مرشد عام، ڈاکٹر محمد بدیع کو سزائے موت!

حافظ محمد ادریس

اخوان المسلمون کے آٹھویں مرشد عام جناب ڈاکٹر محمد بدیع کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ اخوان پوری دنیا میں جانی پہچانی تحریک ہے۔ اس نے ہردور میں فراعنۂ مصر کے ظلم برداشت کیے اور حق کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دیا۔ حسن البنا شہید، عبدالقادر عودہ شہید اور سید قطب شہید نے جو نشان ہائے منزل اپنے خون سے منور کیے وہ آج بھی تابندہ ہیں۔ اخوان المسلمون کی بنیاد مصر میں 1928ء میں رکھی گئی۔ بائیس سالہ نوجوان [امام] حسن البنا اس کے بانی اور پہلے مرشد عام تھے۔ وہ اپنی شہادت 12فروری 1949ء تک اخوان کی قیادت کا حق ادا کرتے رہے۔ ان کے بعد معروف جج اورعالم ربانی جناب حسن الہضیبی نے یہ کٹھن فریضہ 1971ء تک اد اکیا۔ بیش تر زمانہ جیل میں گزرا، 1954ء میں ان کو سزائے موت بھی سنائی گئی، مگر بڑھاپے کی وجہ سے اسے عمرقید میں تبدیل کردیا گیا۔ تیسرے مرشد عام معروف دانش ور، ادیب اور مصنف، قانون دان اور فقیہ جناب عمرتلمسانی منتخب ہوئے۔ جنھوں نے یہ ذمہ داری 22مئی 1986ء تک ادا کی۔ چوتھے مرشد عام معروف خاندان سے تعلق رکھنے والے بڑے زمیندار، مجاہد اور درویش منش راہنما محمد حامد ابوالنصر مقرر ہوئے، جنھوں نے 1996ء میں اپنی وفات تک اخوان کی قیادت کا حق ادا کیا۔ پانچویں مرشد عام عالمی شہرت رکھنے والے متحرک لیڈر داعی اور خطیب، غازی اور مجاہد استاد مصطفی مشہور مقرر ہوئے۔ 14نومبر 2002ء کو ان کی وفات ہوئی تو جناب مامون الہضیبی چھٹے مرشد عام مقرر ہوئے جو پارلیمنٹ کے رکن اور معروف قانون دان تھے۔ انھوں نے کئی بار مصر کی بار ایسوسی ایشنز کی سربراہی بھی کی۔
مامون الہضیبی، دوسرے مرشد عام، جناب حسن الہضیبی کے فرزند ارجمند تھے۔ ان کا بطور مرشد عام تقرر ان کی اپنی قربانیوں، قابلیت اور اخوان کے ساتھ تعلق کی بنیاد پر ہوا نہ کہ حسن الہضیبی کا صاحبزادہ ہونے کی وجہ سے۔ 8جنوری 2004ء کو ان کی وفات کے بعد جناب محمد مہدی عاکف پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی۔ موصوف جوانی کے دور سے لے کر آخر وقت تک اگلی صفوں میں رہ کر کام کرتے رہے ہیں اور انھوں نے قربانیوں کی ایک تاریخ رقم کی ہے۔ جوانی میں جیل کی کال کوٹھڑیوں کو آباد کیا اور زنداں خانوں میں قیدیوں کی تربیت نہایت محبت واپنائیت سے کرتے رہے۔ انھوں نے خود رضا کارانہ طور پر جنوری 2010ء میں اخوان کی قیادت سے فراغت حاصل کرلی۔ اب قیادت کی ذمہ داری جناب ڈاکٹر محمدبدیع پر ڈالی گئی جو تاحال اخوان کے مرشد عام ہیں۔     
ڈاکٹر محمد بدیع کی قیادت میں ہی مصری قوم نے ظالم آمرانہ نظام کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا اور بے پناہ قربانیاں دینے کے بعد حسنی مبارک کی ظالمانہ حکمرانی سے نجات حاصل کی۔ اسی دوران انتخابات کا ڈور ڈالا گیا، جس میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں اور صدارتی انتخابات میں اخوان کو کامیابی حاصل ہوئی۔ اخوان کی طرف سے معروف پارلیمانی شخصیت جناب ڈاکٹر محمد مرسی صدارتی امیدوار تھے جو سخت مقابلے کے بعد دوسرے راؤنڈ میں کامیاب ہوئے۔ 30جون 2012ء سے 3جولائی 2013ء تک محض ایک سال کی قلیل مدت ان کی حکومت رہی۔ اس عرصے میں انھوں نے مصر کو عزت ووقار کا مقام دلانے کے لیے دور رَس اقدامات کیے۔ بنیادی انسانی حقوق، آزاد معیشت، آزاد خارجہ پالیسی، امت مسلمہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور مسئلہ فلسطین پر جرأت مندانہ موقف اختیار کرنے کے فیصلے کیے۔     
عالم کفر کو یہ بات ہرگز گوارا نہیں تھی کہ مصر جیسے اہم ملک میں ان لوگوں کی حکومت قائم ہوجائے جوخود داری اور حمیت ملی سے اپنے معاملات آزادنہ طور پر چلانا چاہتے ہیں۔ پوری دنیا کی باطل قوتیں ان کے خلاف محاذ آرا ہوگئیں۔ طالع آزما جنرل عبدالفتاح سیسی موقع کی تاک میں تھا۔ کفر ونفاق کی قوتوں نے اس کی پیٹھ ٹھونکی اور اس نے حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ منتخب صدر اور اخوان کی ساری قیادت، ارکان پارلیمان وسینٹ بلکہ عام کارکنان حتّٰی کہ خواتین اور طالبات تک کو جیل میں ڈالا گیا۔ احتجاجی مظاہر وں کے دوران نمازیوں پر بلڈوزر چلائے گئے۔ ہزاروں معصوم شہریوں، بزرگوں، بچوں اور مردو خواتین کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ اخوان کو بغیر کیس سنے موت کی سزائیں سنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ صدر مرسی کو پہلے پھانسی کی سزا سنا دی گئی تھی۔ اب مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع کو بھی سیکڑوں بے گناہ اخوانیوں کے ساتھ سزائے موت سنائی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد بدیع کے اکلوتے بیٹے اور کئی عزیز شہید ہوچکے ہیں۔ ان کے بیٹے کو 16اگست 2013ء کے روزہ قاہرہ میں ایک مظاہرے کے دوران پولیس کے مسلح دستوں نے گولی مار کر شہید کردیا تھا۔ ڈاکٹر محمد بدیع کی تین بیٹیاں ہیں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی ساری جائیداد بھی قبضے میں لے لی گئی ہے اور ان کے حسابات بھی منجمد کردیے گئے ہیں۔ یہ عظیم راہنما بچپن ہی سے نیکی، خیر اور تقویٰ کا علم بردار تھا۔ مصر کے صنعتی شہر ’’محلہ الکبریٰ‘‘ میں 7اگست 1943ء کو ان کی پیدائش ہوئی۔ انھوں نے ویٹرنری میڈیسن میں قاہرہ یونی ورسٹی سے 1965ء میں بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ اسی سال 22برس کی عمر میں انھیں اخوان کا رکن ہونے کی پاداش میں گرفتار کر لیا گیا۔ ایک جعلی ملٹری عدالت نے ان کو 15سال قید کی سزا سنا دی۔ ان کی یہ سزا1974ء میں اس وقت ختم ہوئی جب انوار سادات نے اخوانی قیدیوں کو رہا کرنا شروع کیا۔ رہائی کے بعد ڈاکٹر محمد بدیع نے مختلف مصری یونی ورسٹیوں میں تدریس کے فرائض ادا کیے۔ گرفتاری کے وقت تک وہ جزوقتی پروفیسر آف پتھالوجی کے طور پر بنی سیف یونی ورسٹی میں ویٹرنری کے شعبے میں پڑھا رہے تھے۔     
جولائی 2013ء ڈاکٹر محمد بدیع کے خلاف جھوٹا کیس بنایا گیا جس کے تحت 20اگست کو انھیں جیل میں ڈال دیا گیا۔ اس وقت سے وہ جیل میں ہیں۔ قاہرہ کی فوجداری عدالت کے تین ججوں نے یکے بعد دیگرے کیس کی سماعت سے معذرت کرکے خود کو اس سے الگ کرلیا۔ آخر حکومت کے منظور نظر ججوں نے 28اپریل کو بغیر کسی قانونی جواز کے ڈاکٹر محمد بدیع کو کیس سنے بغیر سزائے موت سنا دی ہے۔     
چمن میں غارتِ گل چیں سے جانے کیا گزری
قفس سے آج صبا بے قرار گزری ہے
پوری دنیا کے انصاف پسند حلقے اس ظلم وسفاکی پر سراپا احتجاج ہیں، جب کہ ڈاکٹر محمد بدیع نے جیل کی کال کوٹھری سے کہا ہے کہ موت کا وقت متعین ہے، جو ٹالے ٹلتا نہیں اور وقت سے پہلے کبھی آتا نہیں۔ اللہ کی راہ میں شہادت اعزاز اور سعادت ہے، ہم نہ جھکیں گے اور نہ اپنا راستہ چھوڑیں گے۔ اللہ کے ہر فیصلے پر ہم راضی ہیں۔ اللہ اپنے ان     مخلص ومظلوم بندوں کی مدد فرمائے اور ظالموں کے کرتوتوں پر ان کی رسی کھینچ لے۔
کوئے جاناں میں کھلا میرے لہو کا پرچم
دیکھیے دیتے ہیں کس کس کو صدا میرے بعد