日本イスラーム研究所 Japan Islamic Research Institute


Jamaat-e-Isami could not become a political force in winning elections,
 but has succeeded in persuading masses to reject Secularism
 and turn them towards Islamic ideology,
 admits a Secularist in his book in defence of Secularism.
 
JAMAAT-E-ISLAMI HAS SUCCEEDED IN CRUSHING LEFTISTS,
 SOCIALISTS AND COMMUNISTS AT ALL LEVELS IN PAKISTAN.
ALL LEFTISTS ATTEMPTS AT STUDENTS', LABOR AND URDU LITERARY FRONTS HAVE BEEN DEFEATED
 BY MAUDUDI THOUGHT, BY ISLAMI JAMIAT-E-TULABA AND BY JAMAAT-E-ISLAMI IN MY OPINION, (HUSSAIN KHAN, TOKYO)
 
ISLAMIST IQBAL'S POETRY DISTORTED TO PRESENT HIM AS A SECULARIST.
Shahnawaz Faruqi, a Jasarat columnist, exposes
 how the Secularist Sahar Ansari has twisted the meaning of Iqbal's poetry
 
A Secularist has recently published a book lamenting on the failure of Secularism in Pakistan. Jamaat-e-Isami could not become a political force in winning elections, but has succeeded in persuading masses to reject Secularism and turn towards Islamic ideology, admits Sahar Ansari in his book in defence of Secularism.
The writer of this Article, Shahnawaz Faruqi, a Jasarat columnist, exposes how the Secularist Sahar Ansari has twisted the meaning of Iqbal's poetry in order to try to portarat Iqbal as a Secularist. Shahnawaz Faruqi presents Iqbal as an Islamist, denying the distortion to present Iqbal as a Secularist.
 
بلاشبہ جماعت اسلامی نہ ابھی اقتدار میں آئی ہے اور نہ وہ مقبولِ عوام پارٹی بن سکی ہے، مگر اس کے نظریات کا اثر مقبولِ عوام پارٹیوں نے قبول کیا ہے۔ چنانچہ غلط یا صحیح، سیکولر اور لبرل عناصر مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کو بھی دائیں بازو کی ایسی جماعتیں سمجھتے ہیں جو مذہبی فکر کی عَلم بردار اور سیکولرازم سے بیزار ہیں۔ اس صورت حال نے سیکولر عناصر کے احساسِ تنہائی اور بے بسی کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ سحر "انصاری نے سیکولرازم کے بارے میں کہا کیا ہے؟     "
 

"زندگی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جو اصطلاح جس تہذیب یا نظام خیال سے آتی ہے ہم اُس تہذیب اور نظامِ خیال سے اُس کے معنی پوچھتے ہیں۔ اگرچہ توحید ہر مذہب کا بنیادی تصور ہے لیکن چوںکہ اکثر مذاہب نے شرک ایجاد کرلیا، اس لیے توحید اب صرف اسلام کا تصور بن کر رہ گیا۔ چنانچہ اگر کسی کو توحید کے معنی پوچھنے ہیں تو وہ قرآن وسنت اور اس کے شارحین مثلاً امام غزالیؒ، مجددالف ثانیؒ، شاہ ولی اللہؒ اور مولانا مودودیؒ سے پوچھے۔ جدلیاتی مادیت سوشلزم کا ایک بنیادی تصور ہے، چنانچہ اگر کسی کو اس اصطلاح کا مفہوم جاننا ہو تو اِسے کارل مارکس، ٹرائے ٹسکی، اینگلز، لینن سے رجوع کرنا چاہیے۔ تثلیث عیسائیت کی اصطلاح ہے اور اس کا مفہوم جتنا عیسائی جانتے ہیں اتنا کوئی اور نہیں جان سکتا۔ اسی طرح سیکولرازم جدید مغرب کی اصطلاح ہے اور اس کے سلسلے میں جب ہم مغرب کی بڑی بڑی لغات اور بڑے بڑے مفکرین سے رجوع کرتے ہیں تو وہ بتاتے ہیں کہ اس اصطلاح کا مطلب لادینیت کے سوا کچھ نہیں۔ مگر سحر انصاری اور ان جیسے لوگ مغرب کی اصطلاح کے سلسلے میں مغرب کے مؤقف کو بھی تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔ یہ غلط روش تو ہے ہی، علمی طریقۂ کار بھی نہیں ہے۔ لیکن انسان حقائق کو مسخ کرتا ہے تو کہیں نہ کہیں پکڑا جاتا ہے۔"   

 
  
  

اس اقتباس سے سیکولرازم کے بارے میں کئی اہم نکات عیاں ہوکر سامنے آتے ہیں۔ پہلا نکتہ یہ کہ سیکولرازم کا تعلق مغرب سے ہے، اور اس کا اطلاق بیش تر صورتوں میں 20 ویں صدی میں ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہے اور سیکولرازم انسانی تاریخ میں کوئی جڑ ہی نہیں رکھتا تو وہ کسی بھی اصطلاح اور کسی بھی صورت میں مسلمانوں کے لیے کیوںکر قابلِ قبول ہوسکتا ہے؟ سحر صاحب نے تسلیم کیا ہے کہ سیکولرازم الوہیت کے تصور کے بجائے زمینی حقائق پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ یہ فقرہ مجرد ہے اور اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ سیکولرازم وحی کی روشنی کے بجائے انسانی عقل کی روشنی میں مسائل کا تجزیہ کرتا ہے اور ان کا حل تجویز کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسی فکر کسی بھی اسلامی معاشرے کے لیے کیوںکر قابلِ قبول ہوسکتی ہے؟ مزید سوال یہ ہے کہ ایسی فکر کو لادینیت نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے؟ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ سحر صاحب نے اقبال کو کن بنیادوں پر سیکولر بنا کر پیش کیا ہے؟   

  
افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج
ملاّ کو اس کے کوہ و دمن سے نکال دو
 
اس تعریف کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کا ملاّ نماز بھی پڑھاتا ہے اور ضرورت پڑتی ہے تو جہاد بھی کرتا ہے۔ اقبال کو برصغیر کے ملا ّسے شکایت یہ ہے کہ وہ پیشہ ور ملاّ بن گیا ہے۔ ایسا ملا ّجو نماز تو پڑھاتا ہے مگر جہاد کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ "

 

 
 
شاہنواز فاروقی     
  
سحر انصاری ہمارے اُن ادیبوں اور شاعروں میں سے ہیں جن کے لیے ادب ہی سب کچھ ہے۔ وہ چاہتے تو کسی بھی دائرے میں کامیاب سماجی اور معاشی انسان بن سکتے تھے، مگر انہوں نے ادب کو اپنے لیے پسند کیا اور ساری زندگی اب کے دائرے میں بسر کردی۔ سحر صاحب کی دوسری خوبی یہ ہے کہ وہ ترقی پسند ہونے کے باوجود حقیقی مذہبی لوگوں کی طرح وسیع المشرب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام مکاتبِ فکر میں اُن کا احترام پایا جاتا ہے۔ سحر صاحب کی شخصیت کا ایک پہلو یہ ہے کہ ان کی عمر 70 سال سے زائد ہوگئی ہے مگر وہ اب بھی کتابوں سے اس طرح محبت کرتے ہیں جیسے ان کا عہدِ جوانی ابھی شروع ہورہا ہو۔ سحر صاحب کی ان خوبیوں کے باوجود ان کی حال ہی میں شائع ہونے والی تنقیدی کتاب ’’تنقیدی اُفق‘‘ کئی اعتبار سے حیران کردینے والی ہے۔     
’’تنقیدی اُفق‘‘ میں حیرانی کا ایک پہلو یہ ہے کہ سحر صاحب نے سیکولرازم ایجاد کرنے والے مغرب کو سیکولرازم سکھانے کی کوشش کی ہے۔ ایسا کرتے ہوئے انہوں نے اقبال کو بھی ایک سیکولر شخص اور سیکولر شاعر باور کرانے کی سعی کی ہے۔ لیکن سحر انصاری نے اہلِ مغرب کو سیکولرازم سکھانے کی کوشش کیوں کی ہے؟     
پاکستان کے سیکولر لوگوں میں کئی نفسیاتی مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ مثلاً ان کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں سطحی معنوں میں سہی مگر مذہبیت عام ہوگئی ہے، اور جیسے ہی کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ سیکولرازم کے معنی لادینیت یا لامذہبیت ہیں تو ایک عام     
مسلمان کے اندر سیکولرازم کی اصطلاح اور اس کے حامیوں کے خلاف ایک زبردست ردعمل پیدا ہوجاتا ہے اور وہ سیکولر افراد کی کوئی بھی بات سننے سے انکار کردیتا ہے۔ اس صورت حال نے ایک جانب سیکولر لوگوں کو احساسِ تنہائی میں مبتلا کردیا ہے اور دوسری جانب ان کے لیے ابلاغ کے عمل کو ناممکن یا انتہائی مشکل بنادیا ہے۔ چنانچہ سیکولر عناصر سیکولرازم کے حقیقی مفہوم کا یا تو انکار کرنے لگے ہیں یا اس پر پردہ ڈالنے لگے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ سچے کھرے لوگوں کی روش نہیں۔ انسان کا فرض ہے کہ اس کا عقیدہ خواہ کچھ ہو وہ اس کے ساتھ مخلص رہے، اور خواہ اسے کوئی قبول کرے یا نہ کرے وہ اس کے مفہوم پر سودے بازی نہ کرے۔ پاکستان میں جب تک بھٹو صاحب اور پیپلز پارٹی مقبول تھی سیکولر لوگوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ سیکولرازم کا مطلب لادینیت نہیں ہے۔ اس لیے کہ وہ سمجھتے تھے کہ بھٹو صاحب اور پیپلز پارٹی کی مقبولیت سیکولرازم اور لبرل ازم ہی کی مقبولیت ہے۔ بلاشبہ جماعت اسلامی نہ ابھی اقتدار میں آئی ہے اور نہ وہ مقبولِ عوام پارٹی بن سکی ہے، مگر اس کے نظریات کا اثر مقبولِ عوام پارٹیوں نے قبول کیا ہے۔ چنانچہ غلط یا صحیح، سیکولر اور لبرل عناصر مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کو بھی دائیں بازو کی ایسی جماعتیں سمجھتے ہیں جو مذہبی فکر کی عَلم بردار اور سیکولرازم سے بیزار ہیں۔ اس صورت حال نے سیکولر عناصر کے احساسِ تنہائی اور بے بسی کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ سحر انصاری نے سیکولرازم کے بارے میں کہا کیا ہے؟     
انہوں نے لکھا ہے کہ سیکولرازم کا ترجمہ لادینیت نہیں بلکہ ’’ہمہ دینیت‘‘ ہے۔ لیکن ہمہ دینیت کا مفہوم کیا ہے؟ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں البتہ ریاست کے دائرے میں موجود تمام مذاہب ریاست کے نزدیک برابر ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کے عقائد، اسلام کی تہذیب، اسلام کی تاریخ اور اسلام کی سیاست کے تناظر میں سیکولر اور غیر سیکولر کا سوال کہاں اُٹھتا ہے؟ یہ مسئلہ تو غیر اسلامی ریاست کا ہے کہ وہ سیکولر ہو یا نہ ہو؟ دوسری بات یہ ہے کہ اسلامی ریاست نہ کبھی مذہب کے بارے میں غیر جانب دار ہوسکتی ہے اور نہ اس کی نظر میں تمام مذاہب برابر ہوسکتے ہیں۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔
اسلام کے دائرے میں جماہی اور چھینک اگر غیر اسلامی نہیں ہیں تو ریاست کیسے غیر اسلامی ہوسکتی ہے!
     یا وہ کیسے مذہب سے لاتعلق ہوسکتی ہے!
     مذاہب کے سلسلے میں اسلام کی پوزیشن واضح ہے۔ اسلام یہودیت اور عیسائیت کو آسمانی مذاہب تسلیم کرتا ہے مگر وہ اپنے پیروکاروں کو بتاتا ہے کہ یہودیت اور عیسائیت کے ماننے والوں نے اپنے مذاہب کو مسخ کرلیا ہے، چنانچہ ’’حق‘‘ اب صرف اسلام ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اسلامی ریاست کی نظر میں حق اور باطل کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ لیکن اس مسئلے پر یہ صرف اسلام کی پوزیشن نہیں ہے۔ تمام اشتراکی ریاستیں سوشلزم کو ’’حق‘‘ سمجھتی تھیں، چنانچہ انہوں نے اپنے دائرے میں نہ کبھی کسی مذہب کو پنپنے کی اجازت دی، نہ انہوں نے کسی مذہب کی سرپرستی کی۔ اس لیے کہ مذہب اُن کے نزدیک ’’باطل‘‘ تھا۔ مغرب کی سیکولر اور لبرل ریاستیں بھی چوںکہ سیکولرازم اور لبرل ازم کو ’’حق‘‘ سمجھتی ہیں اس لیے وہ اپنے معاملات میں مذہب کو مداخلت کی اجازت نہیں دیتیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر سوشلزم، سیکولرازم اور لبرل ازم اپنے ’’تصورِ حق‘‘ کے خلاف کچھ نہیں کرتے تو اسلام اور اسلامی ریاست اپنے تصورِ حق کے خلاف کچھ کیوں کرے؟ لیکن یہ باتیں پڑھ کر آپ کہیں گے کہ سحر صاحب نے سیکولرازم کے حوالے سے بات کو صرف گھمایا ہے ورنہ اُن کے نزدیک بھی سیکولرازم کا اصل مفہوم لادینیت ہی ہے۔ آپ کا یہ خیال غلط نہیں۔ ’’ہمہ دینیت‘‘ کا تصور لادینیت کا ’’پردہ‘‘ ہے اور سحر صاحب صرف یہ چاہتے ہیں کہ لوگ سیکولرازم کی اصطلاح پر چونکنا اور فوراً ہی اس کے خلاف ردِعمل ظاہر کرنا بند کردیں۔ لیکن یہ طریقۂ واردات سیکولر لوگوں کی طاقت کا نہیں اُن کی کمزوری کا اشتہار ہے، اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیکولر عناصر لفظوں کی حرمت کے قائل نہیں اور وہ اپنے مقاصد کے لیے لفظوں کی حرمت پامال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔     
زندگی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جو اصطلاح جس تہذیب یا نظام خیال سے آتی ہے ہم اُس تہذیب اور نظامِ خیال سے اُس کے معنی پوچھتے ہیں۔ اگرچہ توحید ہر مذہب کا بنیادی تصور ہے لیکن چوںکہ اکثر مذاہب نے شرک ایجاد کرلیا، اس لیے توحید اب صرف اسلام کا تصور بن کر رہ گیا۔ چنانچہ اگر کسی کو توحید کے معنی پوچھنے ہیں تو وہ قرآن وسنت اور اس کے شارحین مثلاً امام غزالیؒ، مجددالف ثانیؒ، شاہ ولی اللہؒ اور مولانا مودودیؒ سے پوچھے۔ جدلیاتی مادیت سوشلزم کا ایک بنیادی تصور ہے، چنانچہ اگر کسی کو اس اصطلاح کا مفہوم جاننا ہو تو اِسے کارل مارکس، ٹرائے ٹسکی، اینگلز، لینن سے رجوع کرنا چاہیے۔ تثلیث عیسائیت کی اصطلاح ہے اور اس کا مفہوم جتنا عیسائی جانتے ہیں اتنا کوئی اور نہیں جان سکتا۔ اسی طرح سیکولرازم جدید مغرب کی اصطلاح ہے اور اس کے سلسلے میں جب ہم مغرب کی بڑی بڑی لغات اور بڑے بڑے مفکرین سے رجوع کرتے ہیں تو وہ بتاتے ہیں کہ اس اصطلاح کا مطلب لادینیت کے سوا کچھ نہیں۔ مگر سحر انصاری اور ان جیسے لوگ مغرب کی اصطلاح کے سلسلے میں مغرب کے مؤقف کو بھی تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔ یہ غلط روش تو ہے ہی، علمی طریقۂ کار بھی نہیں ہے۔ لیکن انسان حقائق کو مسخ کرتا ہے تو کہیں نہ کہیں پکڑا جاتا ہے۔     
سحر صاحب کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اس سلسلے میں ان کے مضمون ’’سیکولر اقبال‘‘ کا ایک اقتباس ملا حظہ کیجیے، لکھتے ہیں    
’’سیکولر ازم ایک اصطلاح بھی ہے اور ایک طرزِ فکر بھی۔ اس کے تاریخی تناظر پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس اصطلاح کا اطلاق زیادہ تر بیس ویں صدی میں ہوا ہے۔ سیکولرازم لاطینی (لفظ    )
Saeculum
 سے مشتق ہے، جس کے معنی قدامت پسندانہ الوہیت کے بجائے زمینی حقائق اور سماج کی صورت حال پر توجہ دینا ہے۔ اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ مذہبی پیشوائوں کی گرفت سے مذہب آزاد ہونا چاہتا ہے یا اس خیال کے حامی اسے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔    ‘‘ 
اس اقتباس سے سیکولرازم کے بارے میں کئی اہم نکات عیاں ہوکر سامنے آتے ہیں۔ پہلا نکتہ یہ کہ سیکولرازم کا تعلق مغرب سے ہے، اور اس کا اطلاق بیش تر صورتوں میں 20 ویں صدی میں ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہے اور سیکولرازم انسانی تاریخ میں کوئی جڑ ہی نہیں رکھتا تو وہ کسی بھی اصطلاح اور کسی بھی صورت میں مسلمانوں کے لیے کیوںکر قابلِ قبول ہوسکتا ہے؟ سحر صاحب نے تسلیم کیا ہے کہ سیکولرازم الوہیت کے تصور کے بجائے زمینی حقائق پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ یہ فقرہ مجرد ہے اور اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ سیکولرازم وحی کی روشنی کے بجائے انسانی عقل کی روشنی میں مسائل کا تجزیہ کرتا ہے اور ان کا حل تجویز کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسی فکر کسی بھی اسلامی معاشرے کے لیے کیوںکر قابلِ قبول ہوسکتی ہے؟ مزید سوال یہ ہے کہ ایسی فکر کو لادینیت نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے؟ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ سحر صاحب نے اقبال کو کن بنیادوں پر سیکولر بنا کر پیش کیا ہے؟     
سحر صاحب نے اپنے مضمون ’’گلوبلائزیشن اور ادب‘‘ میں اقبال کے سیکولرازم کو ان کے دو شعروں میں تلاش کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا ہے    
’’اب ضرورت ہے کہ اقبال کے اس کلام پر زیادہ توجہ دی جائے جسے ہم سیکولر اقبال کی شاعری کہہ سکتے ہیں۔‘‘ یہ اعلان کرکے سحر صاحب نے اقبال کے دو اشعار کا حوالہ دیا ہے۔ وہ دو اشعار یہ ہیں
قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے
اس کو کیا جانیں یہ بے چارے دو رکعت کے امام
 
    ٭……٭……٭     
شیر مردوں سے ہوا پیشۂ تحقیق تہی
رہ گئے صوفی و ملاّ کے غلام اے ساقی
 
ہم نے ان دو شعروں پر بہت غور کیا مگر ان میں سیکولرازم کا ’’س‘‘ بھی تلاش نہ کرسکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان شعروں میں کہیں سیکولرازم موجود     ہی نہیں۔ بلاشبہ ان شعروں میں ملاّ اور صوفی کی مذمت موجود ہے، مگر اسلام کا بنیادی تصور توحید، رسالت اور آخرت وغیرہ ہیں… ملاّ اور صوفی نہیں۔ چنانچہ ملا ّاور صوفی کی مذمت سے اقبال کی اسلام بیزاری ظاہر نہیں ہوتی۔ غور کیا جائے تو پہلے شعر میں اقبال نے ملاّ سے شکایت کی ہے کہ اس نے خود کو امامتِ صغریٰ تک محدود کرلیا ہے اور وہ امامتِ کبریٰ سے صرفِ نظر کررہا ہے۔ اسلام میں نماز کی امامت امامتِ صغریٰ ہے اور قوم، ملت یا امت کی قیادت امامتِ کبریٰ ہے۔ امامتِ کبریٰ کے لیے اقبال نے تین شرائط پیش کی ہیں۔ کہتے ہیں
سبق پھر پڑھ صداقت کا امانت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
 
چنانچہ اقبال نے دو رکعت والے شعر میں ملاّ سے شکوہ کیا ہے کہ تُو نماز کی امامت تو کررہا ہے مگر تُو نے صداقت، امانت اور شجاعت کی صفت سے خود کو دور کرلیا ہے چنانچہ تُویہ سمجھنے سے بھی قاصر ہوگیا ہے کہ قوم کیا چیز ہے اور قوموں کی امامت کس بلا کا نام ہے! سوال یہ ہے کہ شعر کے اس مفہوم میں سیکولرازم کہاں ہے؟ اقبال کی شاعری میں ملا ّکی مذمت موجود ہے، اس سے بعض لوگ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ وہ فی نفسہٖ ملاّ کے خلاف تھے۔ ایسا نہیں ہے۔ اقبال نے افغانستان کے ملاّ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے
افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج
ملاّ کو اس کے کوہ و دمن سے نکال دو
 
اس تعریف کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کا ملاّ نماز بھی پڑھاتا ہے اور ضرورت پڑتی ہے تو جہاد بھی کرتا ہے۔ اقبال کو برصغیر کے ملا ّسے شکایت یہ ہے کہ وہ پیشہ ور ملاّ بن گیا ہے۔ ایسا ملا ّجو نماز تو پڑھاتا ہے مگر جہاد کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ جہاں تک اقبال کے دوسرے شعر کا تعلق ہے تو اس میں ملا ّاور صوفی دونوں کی مذمت ہے۔ لیکن یہاں بھی اقبال کا مسئلہ کچھ اور ہے۔ اس مسئلے کو اقبال نے ایک اور شعر میں بیان کیا ہے، انہوں نے کہا ہے
:
نہ اُٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے
وہی آب و گِلِ ایراں وہی تبریز ہے ساقی
 
یعنی اقبال کہہ رہے ہیں کہ اب ہمارے ملاّ اور صوفیوں میں مولانا روم جیسے لوگ کیوں پیدا نہیں ہو رہے! اب ہم مکھی پر مکھی مارنے والے لوگ کیوں پیدا کررہے ہیں! سوال یہ ہے کہ اس منظر نامے میں سیکولرازم کہاں ہے؟ سحر انصاری صاحب نے اقبال اور سیکولر ازم کے باہمی تعلق کے حوالے سے لکھے گئے اپنے مضمون میں اقبال کے درجنوں اشعار اُن کی سیکولر فکر کی مثالوں کے طور پر پیش کیے ہیں مگر ان کی تشریح وتعبیر کی نوعیت بھی وہی ہے جو مذکورہ دو شعروں کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔
 
شاہنواز فاروقی