日本イスラーム研究所 Japan Islamic Research Institute


 

انسانی ذات اورعقیدۂوحدت الوجود

انسانی خاصہ  ہے کہ جو نئی بات اُس کے سامنے آئے اس کی کنہ  و حقیقت  جاننا چاہتا ہے۔انسان کا یہ ذوقِ تجسس ہی تو ہے جو اسے اس طرح صحراؤں اور سمندروں، میدانوں اور پہاڑوں میں لئے پھرتا ہے۔حصولِ علم کا سارا راز تسکینِ استعجاب (سیٹسفیکشن آف کرئیوسٹی) میں ہے۔ یہ کیا ہے؟ وہ کیا ہے؟ یہ کیوں ہے؟یہی وہ جذبہ ہے جو بچوں کو ہمہ تن استفسار بنائے رکھتا ہے۔ انسان کی عروسِ حقیقت کے چہرے سے نقاب کشائی کی  اس بے پناہ خواہش کا ذکرقرآن نے  چند الفاظ میں سمیٹ دیا ہے  وَوَجدک ضالّاً فھدٰی (93/7) یعنی ہم نے تجھے(اے رسول) تلاشِ حقیقت میں سرگرداں پایا تو راستہ دکھا دیا۔یہی تھی وہ کیفیت جسے "کارل لائل" نےاپنی کتاب "ہیروز اینڈ ہیرو ورشپ " میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

شروع ہی سے چلتے پھرتے، آپ ؐکے دل میں ہزاروں سوالات پیدا ہوتے تھے۔میں کیا ہوں؟ کائنات کا لامتناہی سلسلہ کیا ہے؟ زندگی کیا ہے؟موت کیا ہے؟ مجھے کس چیز کو نصب العینِ حیات بنا چاہئے؟ مجھے کیا کرنا چاہئے؟

حرا اور فاران کی پہاڑیاں، ریت کے ٹیلوں کا سکوت، ان سوالات کا کوئی جواب نہیں دیتے تھے۔چرخِ چنبری اور اس کے درخشندہ ستارے بھی خاموش تھے۔ان سوالات کا جواب کہیں سے نہیں ملتا تھا۔ان سوالات کا جواب ملنا تھا انسان کی اپنی ذات اور اللہ کی اس وحی سے جو اُس ذات کو اپنا محیط بنا لے۔

انسانی زندگی کے متعلق ایک تصور تو وہ ہے جسے عام طور پر میکانکی نظریۂحیات (میکانسٹک کانسپٹ آف لائف) کی اصطلاح سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جس کا موجد یونانی فلاسفر دیمقریطیس قرار دیا جاتا ہے۔اگرچہ اس نظریہ کی تفاصیل میں، دیمقریطیس کے زمانے سے لے کر آج تک بڑے بڑے اہم اختلافات پیدا ہوئے ہیں لیکن اس کا ماحصل وہی ہے جسے اقبال ؒنے دو چھوٹے چھوٹے مصرعوں میں سمو دیا ہے۔یعنی؎

در نگاہش آدمی آب وگِل است               کاروانِ زندگی بے منزل است

اس نظریہ کی رُو سے مانا یہ جاتا ہے کہ انسان بس اسی آب و گِل کا پیکر ہے۔مٹی کا گھروندا جو طبعی حادثہ کی ایک ٹھوکر سے خاک کا ڈھیر بن جاتا ہے۔نہ اس کا کوئی مستقبل ہے، نہ کاروانِ زندگی کی کوئی منزل۔یہی وہ تصور ہے جسے چکبست نے اپنے اس مشہور شعر میں بیان کیا ہے؎

زندگی کیا ہے؟عناصر میں ظہورِ ترتیب            موت کیا ہے؟ اُنہی اجزاء کا پریشاں ہونا

یعنی مختلف عناصر(فزیکل ایلیمنٹس) میں کسی نہ کسی طرح اتفاقی طور پر ، ایک خاص ترتیب پیدا ہوگئی جس سے بے جان مادہ، جاندار بن گیا۔جب تک یہ ترتیب قائم رہتی  ہے ، انسان زندہ کہلاتا ہے۔جب کسی حادثے سے (وہ ہنگامی ہو یا بتدریج واقع ہوجائے) یہ ترتیب درہم برہم ہوجاتی ہے تو زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔انسان کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا۔وہ تھی زندگی کی نمود، یہ ہے اس کا انجام۔اللہ اللہ، خیر سلا۔اس تصورِ حیات کے تحت ان لوگوں کے نزدیک زندگی کے سارے مسئلے حل ہوجاتے ہیں۔اور انسان بیساختہ کہہ اٹھتا ہے کہ      ؎  

بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست

چار دن کی زندگی ہے، کھاؤ پیؤ، مزے اڑاؤ انسانی زندگی کے تقاضے ہیں ۔عیش و آرام کی زندگی ہی مقصودِ حیات ہے۔اس قسم کی زندگی کے لئے دولت کی ضرورت ہے۔جو شخص دولت حاصل کر لیتا ہے(خواہ کسی طریقے سے ہو) اس کے ہاں سامانِ زیست کی فراوانی ہوجاتی ہے۔وہ جسم کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے سب کچھ خرید سکتا ہے۔اس کی زندگی کو بڑی کامیاب زندگی کہا جاتاہے۔ ناکام وہ ہے جو دولت حاصل نہ کر سکے۔جو عیش و عشرت کے سامان مہیا نہ کر سکے۔اس انداز کی زندگی میں زیادہ سے زیادہ اُن ضوابط کی پابندی ضروری ہوتی ہے جو سوسائٹی نے متعین کر رکھے ہوں۔لیکن اگر کوئی شخص ایسا انتظام کر لے کہ وہ سوسائٹی کی گرفت میں نہ آسکے تو اسے ان قواعد و ضوابط کی پابندی کی بھی ضرورت  نہیں رہتی۔ یہی زندگی کی کامیابی ہے۔اس کے بعدموت آجاتی ہے (جس سے کسی کو مفر نہیں) جسم کی طبعی مشینری چلتے چلتے رک جاتی ہے۔ کچھ دنوں کے بعد خود جسم بھی گل سڑ جاتا ہے، قصہ ختم ہوا۔اس نظریہ کے ماتحت زندگی کی کوئی اور شکل سامنے آ ہی نہیں سکتی۔ ایک ، شخص جھوٹ، فریب، مکر، دغابازی، بد معاشی، چالاکی، عیاری سے دولت کماتا، عیش اڑاتا اور اس کے بعد مر جاتا ہے۔دوسرا شخص عمر بھر دیانت داری کی زندگی بسر کرتا ہے۔ بھوکوں مرتا ہے۔فاقے کاٹتا ہے ۔تنگ حال رہتا ہے اور اسی عسرت کی حالت میں اسے موت آجاتی ہے۔میکانکی نظریۂ حیات کے مطابق مرنے کے بعد دونوں کا معاملہ برابر ہے۔یعنی دونوں ختم ہوجاتے ہیں۔اس نظریے کے حامی یہ کہتے ہیں کہ اس دیانتدار کی اصول پرستی نے اسے کیا دیدیا جس سے وہ بدمعاش محروم رہا؟ اس کے برعکس اس بدمعاش کی عیاریوں نے اسے یقیناً وہ کچھ دیدیا جس سے اُس دیانتدار کی اصول پرستی نے اُسے محروم رکھا۔یعنی دھن، دولت، عیش آرام، نازونعمت، ہر چیز سے محروم رکھا۔اگر زندگی اس جسم کی زندگی ہے اور اس کے بعد یکسر خاتمہ ہے تو پھر اصول و اخلاق کے لئے دنیا میں کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔اس صورت میں صرف سوسائٹی کے قوانین و ضوابط کا سوال باقی  رہ جاتا ہے۔اور جو شخص ان قوانین سے بچ نکلنے کی تدبیر کر سکتا ہے اس کے لئے یہ ضوابط بھی کچھ معنی نہیں رکھتے۔اس لئے یہ سوال کہ انسانی زندگی اس جسم تک محدود ہے یا اس سے الگ کچھ اور بھی ہے، محض نظری سوال(اکیڈیمک کوئیسچن) نہیں ،اس کا زندگی کے مسائل سے بڑا بنیادی تعلق ہے۔لہٰذا سوال یہ ہے کہ زندگی یہی طبعی زندگی ہے یا اس کے ماوراء کچھ اور بھی۔موت ، انسان کا خاتمہ کر دیتی ہے یا انسان میں کچھ ایسا بھی ہے جوموت سے ختم نہیں ہوجاتا۔

Anabolism, Catabolism, and Metabolism

کی رُو سے انسانی جسم کے کثیر التعداد خلیات (سیلز) ہر وقت ضائع ہوتے ہیں اور اُن کی جگہ نئے خلیات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔یہ سلسلۂ فنا و تجدید مسلسل جاری رہتا ہے تاآنکہ کچھ وقت کے بعد سابقہ جسم تما م کا تمام ایک نئے جسم میں تبدیل ہوجاتا ہے۔اور پرانے جسم کا نام و نشان  تک بھی  باقی نہیں رہتا۔تو کیاکل جو قول و اقرار، معاہدے ، لین دین  "میں " نے کیا تھا وہ کوئی اور ہے اور آج کا "میں" کوئی اور؟ نہیں !ہرگز نہیں۔ جسم کے ایک ایک ذرے کے تبدیل ہوجانے کے بعد بھی، ایک چیز ہے جو بدستور اسی طرح قائم رہتی ہے اور جس میں قطعاً کوئی فرق نہیں آتا اور وہ ہے "میں" یا جسے انسانی ذات (پرسنیلٹی) یا  نفس(سیلف) یا اَنا یا (اقبال کے الفاظ میں) خودی کہا جاتا ہے۔یہی وہ  میں(عربی زبان میں "انا") ہے جس کے متعلق فلسفی برگسان کہتا ہے :

Personality is changelessness in change

  یعنی ہم میں تغیر آتا ہے معدوم ہوئے بغیر۔ اس کے معنی کیا ہیں؟ تغیر (چینج) سے مفہوم یہ ہے کہ جس چیز میں تغیر آتا ہے وہ باقی نہیں رہتی۔معدوم ہوجاتی ہے۔اس کے بعد اس کی جگہ ایک نئی چیز وجود میں آتی ہے۔لیکن برگسان کہتا ہے کہ انسانی ذات ایک ایسی شے جس کی وجہ سے ہم تغیرات سے پیہم گزرنے کے باوجود معدوم نہیں ہوتے۔"میں" ہمیشہ وہی رہتی ہے۔اس میں کوئی  تبدیلی نہیں آتی۔یہ فنا نہیں ہوتی۔یہی وہ تغیر ناآشنا، مستقل، غیر متبدل شے ہے جس کیطرف اشارہ کرتے ہوئے پروفیسر وہائٹ ہیڈ کہتا ہے کہ" کوئی فلسفہ بھی ہو اسے تشخصِ ذات کے متعلق کوئی نہ کوئی نظریہ رکھنا ہی پڑے گا۔اسی اعتبار سے انسانی زندگی میں پیدائش سے موت تک، وحدت رہتی ہے"۔ یہ وہ نہ بدلنے والی وحدت ہے جس پر اخلاقیات کی ساری عمارت قائم ہے۔راشڈل کے الفاظ میں:" اخلاقی نظام کا دارومدار ہی اس مسلّمہ پر ہے کہ "میں" اپنے تمام گزشتہ فیصلوں او ر معاہدوں کا ذمہ دار ہوں اس لئے اگر کچھ عرصہ کے بعد"میں" وہ نہیں رہتا جو پہلے تھا تو اس صورت میں میں اپنے سابقہ فیصلوں اور معاہدوں کا ذمہ دار ہی نہیں قرار پاتا۔ اگر صورتِ حال یہ ہو تو پھر کسی شخص پر معاہدہ کی خلاف ورزی کا الزام ہی عائد نہیں کیا جاسکتا"۔پھر نہ ہی کسی مجرم کو سزا دی جاسکتی ہے۔اس لئے کہ جس شخص نے جرم کیا تھا اگر وہ باقی نہیں ، تو اس کے جرم کی سزا اس دوسرے شخص کو کیوں دی جائے، جس کا اگرچہ نام وہی ہے لیکن جو درحقیقت مدت ہوئی ختم ہو چکا ہے۔

اب یہاں  ایک مسئلہ  یہ اٹھتا ہے کہ  اگر کسی کا حافظہ خراب ہوجائے اور اسے ماضی کے تمام واقعات و حوادث بھول جائیں، اسے قطعاً یاد نہ رہے کہ اس نے پچھلے سال کیا کہا تھا اور گزشتہ ماہ کیا وعدہ کیا تھا ، اور ماضی کے متعلق کچھ بھی یاد نہ رہے، تو کیا اُس کا وہ پرانا "میں" ختم ہوجاتا  ہے اور اُس کی جگہ کسی نئے "میں" کی ابتداء ہوجاتی ہے۔اگر ایسا ہے تو پھر تو انسانی ذات یا انا کوئی شے نہ ہوئی۔یہ صرف انسانی حافظہ ہوا اور چونکہ حافظہ مرنے کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے اس لئے موت کے بعد انسان کا کچھ باقی نہیں رہتا۔

یہ  اعتراض یا دلیل  بظاہربڑی وزنی معلوم ہوتی ہے لیکن بادنیٰ تعّمق اس کی اصلیت نکھر کر سامنے  کرآجاتی ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ انسانی ذات یا میں اپنے تمام فیصلوں کو جسم کے ذریعے بروئے کار لاتی ہے۔جب کوئی  شخص کسی چیز کو اٹھانے کا فیصلہ کرتا  ہے تو وہ اپنے ہاتھ اس  فیصلے کو بروئے کار لانے کیلئے استعمال میں لاتا ہے۔یا جب کوئی ارادہ کرتا ہے کہ اٹھ کر باہر جائے تو اس کے پاؤں اس ارادے کی تکمیل کرتے ہیں۔لیکن اگر ایسا ہو کہ کوئی شخص فالج زدہ ہو جائے اور اس کے ہاتھ اور پاؤں  کی حرکت بند ہوجائے تو پھر اس  "میں" کا کوئی فیصلہ بروئے کار نہیں آتا۔ نہ وہ  اس چیز کو اٹھا سکتا ہے جسے اٹھانا چاہے اور نہ وہاں جاسکتا ہے جہاں جانے کا ارادہ کرے۔  اس سے کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ "میں" کوئی چیز نہ تھی، یہ درحقیقت ہاتھ پاؤں کی حرکت کا نام تھا؟ جب یہ حرکت بند ہوگئی تو  "میں" بھی ختم ہوگئی۔اسی طرح جب سارے جسم کی حرکت بند ہوجائے گی تو کیا "میں" کلیتہً ختم ہوجائے گی؟

دماغ خود انسانی ذات نہیں۔اس لئے دماغ کے خراب ہوجانے یا موت سے بیکار ہوجانے سے یہ مطلب نہیں کہ انسانی ذات بھی ختم  ہوگئی۔اس کی مثال یوں سمجھئے کہ اگرریڈیو میں خرابی کی وجہ سے آپ پروگرام سننے سے قاصر ہوگئے ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ریڈیو اسٹیشن سے براڈ کاسٹنگ بند ہوگیا ہے بلکہ آواز کا نہ آنا ریڈیو سیٹ کی خرابی کے سبب ہے۔ایتھر کی لہریں بدستور موجود ہیں ان لہروں میں ریڈیو اسٹیشن سے نشر شدہ پروگرام بھی بدستور موجود ہے ، ان لہروں کا اور ان کے بردوش پروگرام کا عدم اور وجود برابر ہے لیکن آپ اسے محسوس کرنے سے قاصر ہیں۔اگر کوئی شخص سیٹ کی خرابی سے اس نتیجہ پر پہنچ جائے کہ ریڈیو کی لہریں معدوم ہوگئی ہیں تو اس کا خیال قدر غلط ہوگا۔اسی سے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ دماغ وہ ریڈیو سیٹ ہے جس کے ذریعے انسانی ذات میں  اپنے احساسات و تاثرات تو  موجود ہوتے ہیں لیکن چونکہ ان کے اظہار کا ذریعہ بیکار ہوچکا ہے اس لئے ہم ان تاثرات کو محسوس نہیں کر سکتے۔حافظہ انسانی ذات کے احساسات و تاثرات کے ریکارڈ روم کا نام ہے اور دماغ اس حافظہ کے مشہود (مینی فیسٹ) کرنے کا ذریعہ ہے۔اس لئے حافظہ اور دماغ الگ الگ چیزیں ہیں۔دماغ کا تعلق طبعی جسم (فزیکل باڈی) سے ہے اور حافظہ کا تعلق انسانی ذات سے جو غیر طبعی ہے کیونکہ وہ تغیرات سے متاثر نہیں ہوتی۔برگسان نے اس موضوع کو اپنی معرکہ آراء تصنیف

Matter and Memory

میں بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے۔وہ مختلف نظریات کا تجربہ کرنے کے بعد لکھتا ہے کہ "آپ نے اب سمجھ لیا ہوگا کہ حافظہ کیوں دماغ کا فعل نہیں ہوسکتا۔دماغ ، حافظہ کے تسلسل کو قائم رکھتا ہے اور اسے مادی قالب میں سمو کر اس قابل بنا دیتا ہے کہ یہ حال (پریذنٹ) پر اپنا تصرف کرسکےلیکن خالص حافظہ، مادی شے نہیں۔یہ روح سے متعلق نظریات کا مظہر ہے۔حافظہ کی دنیا در حقیقت روح کی دنیا ہے"۔(یعنی کائناتی لہروں کا کھیل ہے۔پیٹر ہگز کا نظریہ)

اوسپنسکی تو اس سے بھی ایک اور قدم آگے جاتا ہے۔اس کانظریہ یہ ہے کہ دماغ کے خلیات(برین سیلز) جسم کے دوسرے خلیات سے بالکل مختلف ہوتے ہیں اور ناقابلِ فنا۔بہر حال اگر اوسپنسکی کے اس نظریہ سے اتفاق نہ بھی کیا جائے تو بھی یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ دماغ صرف حافظہ کے اظہار کا ذریعہ ہے۔حافظہ دماغ کی پیداوار نہیں۔حافظہ انسانی ذات پر مرتسم شدہ نقوش کا نام ہے۔اس لئے دماغ کے خراب یا مستقل طور پر بیکار ہوجانے سے انسانی ذات فنا نہیں ہوجاتی۔فقط اس کے اظہار کا ذریعہ معطل ہوجاتا ہے۔ پروفیسر ایرون شروڈنگر نے ایک چھوٹی سی لیکن بڑی اہم کتاب"زندگی کیا ہے"(وٹ از لائف) کے عنوان سے لکھی ہے۔ وہ اس میں لکھتا ہے کہ "میں" کسے کہتے ہیں؟: "اگر آپ "میں" کا تجزیہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ یہ انسانی تجارب او رحافظہ سے کچھ زیادہ کا نام ہے۔یہ وہ پردہ ہے جس پر انسانی حافظہ اور تجربہ کے نقوش جمع ہوتے ہیں ۔اگر آپ اپنی داخلی دنیا کا غور سے مطالعہ کریں گے تو آپ پر یہ حقیقت منکشف ہوجائے گی کہ جسے آپ "میں" کہتے ہیں، وہ اس بنیاد کا نام ہے جس پر تجربے اور حافظہ کی عمارت اٹھتی ہے۔اگر کوئی ماہر عملِ تنویم (ہپناٹزم)ایسا بھی کردے کہ تمہاری تمام سابقہ یادداشت یکسر ذہن سے محو ہوجائے، پھر بھی تم دیکھو گے کہ اس سے تمہاری "میں" کی موت واقع نہیں ہوجائے گی۔لہٰذا انسانی ذات کی ہستی کبھی ضائع نہیں ہوتی ، نہ ہی کبھی ضائع ہوگی"۔(نظریۂہگز بھی یہی  ہے)

عملِ تنویم(ہپناٹزم) کے متعلق ہکسلے نے اپنے ہاں لکھا ہے:"ایک عامل نے اپنے معمول کو بے ہوش کردیا، بالکل بے ہوش۔اس بے ہوشی کے عالم میں اُس سے کہا کہ دیکھو!جب شام کے چھ بجیں تو تم اپنے کمرے کی گھڑی کو اٹھا کر باہر پھینک دینا۔اس کے بعد وہ معمول کو ہوش میں لے آیا۔اُس وقت بارہ بجے تھے۔یہ معمول ساری دوپہر اور سہ پہر بالکل اچھا بھلا اپنے کام کاج میں مصروف رہا، اسے قطعاً یاد نہیں تھا کہ اس کی بے ہوشی کے عالم میں عامل نے اسے کیا کہا تھا۔چھ بجے کے قریب وہ دوستوں کے ساتھ بیٹھا، اپنے کمرے میں تاش کھیل رہا تھا۔جوں ہی گھڑی نے چھ بجائے، وہ یک لخت اٹھا اور یہ کہہ کر اسے باہر پھینک دیا کہ اس کی ٹِک ٹِک نے میرا ناک میں دم کر رکھا ہے۔اس کے بعد وہ پھر نہایت اطمینان سے اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گیا اور تاش کھیلنے لگ گیا۔عملِ تنویم کا اثر انسان کے دماغ پر نہیں ہوتا۔اُس کی ذات پر ہوتا ہے اور دماغ  اور دوسرے حواس، بصارت و سماعت وغیرہ اس لئے معطل ہوجاتے ہیں کہ انسانی ذات  اُن سے اس وقت کام نہیں لینا چاہتی"۔

لیکن ایک بات عملِ تنویم کے ضمن میں اور بھی کرتا چلو ں کہ معمول سے عالمِ بے ہوشی میں آپ جو جی میں آئے، منواتے جائیے۔وہ آپ کی ہر بات پر ہاں کرتا جائیگا۔لیکن اگر آپ نے کوئی ایسی بات کہی جو اُس کے عقیدے کے خلاف ہو، تو وہ اُس کے جواب میں کبھی ہاں نہیں کریگا۔انسان پر عقیدے کا اثر اس قدر گہرا ہوتا ہے کہ بے ہوشی کے عالم میں  بھی آپ اسے معمول کی لوحِ ذات سے مٹا نہیں سکتے۔ انسان کے معتقدات کا بدلنا، خواہ وہ کیسے ہی غلط کیوں نہ ہوں، بہت مشکل ہوتا ہے بلکہ عام صورتوں میں تو ناممکن۔ یہی وجہ  ہے کہ مسلمان اپنے غلط مذہب کو چھوڑ کر دین یعنی قرآن کے قریب نہیں آتا۔حالانکہ اس کی تعلیم اس قدر عقل و بصیرت کے مطابق اور علم و دانش کو اپیل کرتی ہے۔اُس کے لئے انسان کو خاص طور پر کوشش کرنی پڑتی ہے۔یعنی ان غلط معتقدات کے خلاف قوی دلائل بہم پہنچانے پڑتے ہیں۔

قرآن نے انسانی ذات کے متعلق کہا ہے کہ اس کا تعلق مادی دنیا سے نہیں، جس میں ہر آن تغیرات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔اسے اس نے "روحِ الہٰیہ" یا ڈوائن انرجی، سے تعبیر کیا ہے جو تغیرات سے بلند و بالا ہے۔وہ کہتا ہے کہ جہاں تک انسان کے جسم کی طبعی ساخت کا تعلق ہے اس میں اور حیوانات میں کوئی فرق نہیں۔استقرارِ حمل  سے ان دونوں کی ابتداء ہوتی ہے اور دونوں رحمِ مادر کے اندر مختلف پہلو بدلتے ہوئے ایک خاص شکل اختیار کر لیتے ہیں۔لیکن اس کے بعد وہ کہتا ہے کہ انسان کی تخلیق میں نئی منزل آتی ہے اور وہ یہ کہ  فنفخنا فیہ من روحنا "اس میں الوہیاتی توانائی(ڈوائن انرجی) کا شمہ ڈال دیا جاتا ہے۔اسی کا نام انسانی ذات یا نفس یا انا یا خودی ہے۔اسی سے انسان صاحبِ اختیار و ارادہ ہوتا ہے اور اسی سے انسان کی انسانیت مرتب ہوتی ہے۔یہ "روحِ الہٰیہ" یا انسانی ذات ہر انسانی بچہ کے اندر موجود ہوتی ہے۔لیکن محض امکانی شکل(پوٹینشل فارم)میں۔اس کی امکانی قوتیں مناسب نشو ونما پانے سے( ڈویلپ )ہوکر بتدریج مشہود(رئیلائزڈ) ہوجاتی ہیں۔اس کا نام تربیتِ ذات یا ربوبیت ہے۔اسی کو تزکیۂ نفس کہتے ہیں۔ تزکیہ کے معنی نشو ونما(گروتھ) کے ہیں۔قرآن کہتا ہے کہ  قد افلح من زکّٰھا" جس نے اسے نشو ونما دیکر ڈویلپ کر لیا ، وہ کامیاب ہوگیا۔ اُس کی کھیتی پروان چڑھ گئی۔اور    قد خاب من دسّٰھا (91/9) "اور جس نے اسے مٹی کے تودے کے نیچے دبا دیا وہ برباد ہوگیا"۔سارا قرآن اسی اجمال کی تفصیل ہے کہ انسانی ذات کی نشو ونمایا ربوبیت کس طرح ہوتی ہے اور اسکی ربوبیت سے کس طرح بنی نوعِ انسان کی مضمر صلاحیتوں میں بالیدگی اور کشادگی آتی جاتی ہے۔جب تک انسان کی ذات یا خودی خام رہتی ہے ، وہ خارجی حوادث کے تھپیڑوں سے متزلزل ہوتا رہتا ہے۔لیکن جوں جوں اس میں پختگی آجاتی ہے وہ کوہِ پیکر بن جاتا ہے۔

اوسپنسکی کے استاد گرجیف کی کتاب"آل اینڈ ایوری تھنگ" میں اوسپنسکی نے گرجیف سے پوچھا کہ کیا انسان مرنے کے بعد بھی زندہ رہتا ہ یہ ہے؟ تو اس کے جواب میں اُس نے کہا کہ :"اگر انسان ہر آن بدلتا رہے، اگر اس میں کوئی شے ایسی نہ ہو جو خارجی تغیرات سے متاثر نہ ہو، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جو موت کا مقابلہ کر سکے۔لیکن اگر وہ خارجی اثرات سے آزاد ہوجائے۔اگر اس میں اس شے کی نمود ہوجائے جو اپنی زندگی جئے، تو یہ شے کبھی مر نہیں سکتی۔عام حالات میں ہم ہر ثانیہ مرتے رہتے ہیں۔خارجی حالات بدلتے ہیں اور ان کے ساتھ ہی ہم بھی بدل جاتے ہیں۔لیکن اگر انسان اپنی مستقل انا کونشو ونما دے لے تو یہ خارجی تغیرات سے غیر متاثر رہ سکتا ہے اور اس طرح طبعی جسم کی موت کے بعد بھی زندہ رہ سکتا ہے۔(پیٹر ہگز کانظریہ اسکی موافقت کرتا ہے)۔

اقبال ؒنے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ     ؎

زندگانی ہے صدف قطرۂ نیساں ہے خودی           وہ صدف کیا کہ جو قطرے کو گہر کر نہ سکے

ہو اگر خود نگر و خود گر و خود گیر  خودی                   یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے

مغرب کا فکر، جو مادیت   پرمبنی ہے، اس شے کے وجود سے انکار کرتا ہے اور انسانی زندگی کو محض طبیعیاتی زندگی تک محدود سمجھتا ہے۔یہ در حقیقت ردِ عمل ہے اسلام سے پہلے مذاہب  کی اُس خانقاہیت کا جس میں دنیا کو ناثبات اور روح کو اصل کائنات قرار دے کر ترکِ دنیا کو مقصودِ زندگی بنا لیا گیا تھا۔یہ تصور افلاطونی فلسفۂ امثال سے مستعار لیا گیا تھا ۔یہی وہ تصور تھا جو ہندوستان میں ویدانت اور ایران میں تصوف کے نام سے چمکا اور اسی راستے سے اسلام کے اندر بھی آپہنچا اور اسے یکسر اپنے رنگ میں رنگ دیا۔اس نقطۂ نگاہ سے اگر دیکھا جائے تو ایک اچھے دماغ کا انسان اگر غلط راستے پر پڑ جائے تو وہ نوعِ انسانی کے لئے کس قدر نقصانِ عظیم کا باعث بن جاتا ہے۔افلاطون (پلوٹو) نہایت طباع اور ذہین مفکر تھا۔لیکن غلط راستے پر پڑگیا۔اس نے اس غلط روش کو اپنے منطقی دلائل کی بنا ء پر ایسا حقیقت بنا کر دکھا یا کہ اس سے قوموں کی قومیں متاثر ہوگئیں۔اس وقت انسانی دنیا کی شاید ہی کوئی فکر ایسی ہو جو کسی نہ کسی رنگ میں افلاطونی فکر  سے متاثر نہ ہوئی ہو۔بعض مقامات پر یہ اثر ایسا گہرا ہوا کہ اس نے مذہب کی حیثیت اختیار کرلی۔اب غورکیجئے کہ اس دو اڑھائی ہزار سال کے عرصے میں، اس ایک دماغ کی غلط فکر نے انسان کو کس قدر پستیوں میں دھکیل رکھا ہے۔اگر وہ اس غلط فکر کو اختیار نہ کرتا تو  انسان آج کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہوتا۔قرآن اس فکر کے خلاف اعلانِ جنگ تھا۔اس نے مادی دنیا اور انسانی ذات کے مقام کا صحیح صحیح تعین کیا اور کھلے کھلے الفاظ میں بتایا کہ کس طرح دنیا کی تسخیر اور اس کے ماحصل کا صحیح مصرف، انسانی ذات کی نشو ونما و بالیدگی کا موجب بنتے ہیں۔مسلمانوں نے قرآن کے اس فکر کو عملی رنگ دیا تو دیکھتے ہی دیکھتے ان کی یہ کیفیت ہوگئی کہ ،قرآن کے الفاظ میں، ان کے تمدن کی جڑیں مادی دنیا کے پاتال میں تھیں اور اس کی شاخیں بلند کائنات کی فضاؤں میں جھولے جھول رہی تھیں۔یہ قرآن کے سانچے میں ڈھلا ہوا بندۂ مومن کا ذہن تھا جو طلسمِ افلاطون سے متاثر نہیں تھا۔لیکن اس کے بعد عجمی ذہن اسلام کے دائرے میں آیا جو یکسر افلاطونی قالب کا ساختہ پرداختہ تھا، تو اس نے خود اسلام ہی کو اپنے رنگ میں رنگ لیا۔یہی عجمی اسلام ہے جو ہزار برس سے بھی زیادہ ہمارے رگ وپے میں اس طرح سرایت کر چکا ہے کہ ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر یہ نکل گیا تو اس کے ساتھ ہی ہماری جان نکل جائے گی۔بقول مومن     ؎

درد ہے جاں کے عوض ہر رگ و پے میں ساری                   چارہ گر ہم نہیں ہونے کے جو درماں ہوگا

اس مقام پر اتنا سمجھ لینا ضروری ہے کہ "عجم "سے مراد کوئی خاص خطۂ زمین نہیں، اس سے مقصد ہر غیر قرآنی تصور ہے خواہ وہ عرب سے آیا ہو یا ایران سے۔اس کا سر چشمہ مشرق ہو یا مغرب۔

بہر کیف یہ سمجھنا ضروری ہے کہ  انسانی ذات ،انسانی جسم کے ساتھ فنا نہیں ہوجاتی۔انسان کے تمام اعمالِ حیات، حتّٰی کہ اس کی نگاہ کی جنبش اور دل کی لغزش سب انسانی ذات پر اپنا نقش مرتب کرتے رہتے ہیں۔انسا ن کو اس کا احساس و شعور ہو یا نہ ہو، اس کا کوئی عمل اور ارادہ اس کی ذات پر اپنا اثر چھوڑے بغیرنہیں رہتا۔اس کا نام ہے قانونِ مکافاتِ عمل۔یہی ہے وہ "نامۂ اعمال" جس میں سب کچھ ریکارڈ ہوتا رہتا ہے۔یہی ہے وہ میزانِ عمل جس میں سب کچھ تُلتا رہتا ہے۔نیک اعمال وہ ہیں جن سے انسانی ذات پختگی  حاصل کرتی ہے ۔برائی اسے کہتے ہیں جس سے اس میں ضعف پیدا ہوتا ہے۔اس زندگی میں انسانی ذات، جسم کو اپنی توانائیوں کے بروئے کار لانے کا ذریعہ بناتی ہے۔جسم کے انتشار کے بعد ، جسے طبعی موت کہا جاتا ہے، انسانی ذات کے اعمال کے ظہور(مینی فیسٹیشن) کے لئے کوئی اور ذریعہ  مل جائے گا کہ کائنات  کی وسعتیں اور ان کا ہر لمحہ پھیلاؤ اس بات کی دلیل ہے کہ زندگی کی روانی کو دوام ہے۔(نظریۂ پیٹر ہگز)حیاتِ ارضی میں جسم ہی و ہ ذریعہ ہے جس سے انسانی ذات اپنی توانائیوں کی نمود کرتی ہے، اس لئے اس ذریعہ کا مضبوط ، متوازن اور درست ہونا نہایت ضروری ہے۔اگر کوئی روشنی کا بلب پانچ بتی  طاقت( کینڈل پاور یا واٹ )کا ہے تو بجلی کی لہر کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو اس میں سے نہایت مدھم روشنی نکلے گی۔اس کے برعکس اگر قمقمہ سو بتی کا ہے تو کمرہ جگمگا اٹھے گا۔کرنٹ دونوں صورتوں میں ایک جیسا ہے لیکن اس کی نمود، بلب کی طاقت کے مطابق ہے۔اس لئے کرنٹ کے طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ بلب کا طاقتور ہونا بھی ضروری ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن مادی کائنات کی تسخیر کو اس قدر اہمیت دیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس نے انسانی ذات کی نشو ونما کا پروگرام ہی یہ بتایا ہے کہ انسان مادی اشیائے کائنات کو مسخر کرتا جائے اور اپنی تسخیر کے ماحصل کو نوعِ انسانی کی نشو ونما کے لئے عام رکھے، جسے نظامِ ربوبیت کہتے ہیں۔انسان جس قدر ربوبیتِ عامہ میں زیادہ سعی و کاوش کرتا ہے ہے اسی قدر وہ اپنی محنت کے ثمرات کو عام کئے جاتا ہے اور یوں اسی قدر اس کی ذات میں کشاد اور استحکام پیدا ہوتا چلا جاتا ہے۔یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، تاآنکہ اس کا طبعی جسم، عام قوانینِ طبعی کے ماتحت، متحرک سے ساکن ہوجاتا ہے، یعنی اسے موت آجاتی ہے۔لیکن اس کی ذات ، زندگی کی اس سطح سے آگے نکل کر دوسری سطح پر جاپہنچتی ہے اور اپنے کائناتی سفر کی اگلی منزل طے کرنے میں مصروف ہوجاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ انسانی ذات کی ہستی کے اقرار و انکار سےزندگی کا پورا نقشہ بدل جاتا ہے۔اگر انسانی ذات کا اقرار کرلیا جائے تو پھر اللہ پر ایمان، اور مکافاتِ عمل کے غیر متبدل قانون پر ایمان ایک حقیقتِ ثابتہ بن کر سامنے آجاتے ہیں۔اگر انسانی ذات ہی سے انکار کر دیا جائے تو اس کے بعد نہ اللہ کی ہستی پر ایمان کے کچھ معنی رہتے ہیں اور نہ قانون ِ مجازات کی کچھ حقیقت۔اس کے بعد زندگی محض حیوانی سطح(اینی مل لیول) پر اتر آتی ہے جس کے سامنے ، جسم کی پرورش کے سوا، نہ کوئی مقصد ہوتا ہے نہ مفہوم، نہ کوئی نصب العین ہوتا ہے نہ منزل۔قرآن کے الفاظ میں  والذین کفروا   جو لوگ اس بنیادی حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے تو ان کی زندگی فقط اتنی رہ جاتی ہے کہ  یتمتّعون و یاکلون کما تاکُلُ الانعام (47/12) وہ اسی طرح سامانِ زیست سے فائدہ اٹھاتے ہیں  اور کھاتے پیتے ہیں جس طرح حیوان، اور پھر ان ہی کی طرح کھا پی کر طبعی موت مرجاتے ہیں۔بلکہ اس فرق کے ساتھ کہ حیوانات کو رزق کی تلاش کبھی اس طرح پریشان نہیں کرتی جس طرح انسان کوکرتی ہے اور حیوانات کو موت کا تصور بھی کبھی نہیں ستاتا، اس لئے کہ حیوانات موت کے تصور سے آشنا ہی نہیں ہوتے۔اس کے بر عکس، انسان ہر وقت موت کے تصور سے بد حواس رہتا ہے۔

اس ایغو یا انا کو حیاتِ جاوید بطورِ استحقاق نہیں ملتی، حاصل کرنی پڑتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اس جنت کے متعلق جس میں آدم دوبارہ داخل ہوگا کہہ دیا ہے کہ وہ صرف تمہارے اعمال کا نتیجہ ہوگی،  پہلے کی طرح بطورِ بخشیش نہیں مل جائے گی۔ہمارا ہر عمل، ہماری ایغو یا انا میں جنت یا جہنم کی تخم ریزی  کرتا رہتا ہے۔وہ جو اقبالؒ نے کہا ہے کہ جہنم ایک خطۂ زمہریر ہے۔اس میں داخل ہونے والے اپنا اپنا ایندھن اپنی پیٹھ پر لاد کر لاتے ہیں، تو اس استعارہ میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اسی لئے اقبالؒ نے کہا ہے کہ عملِ خیر وہ ہے جس سے انسانی خودی پختگی حاصل کرلے اور عملِ شر وہ ہے جس سے اس میں ضعف و انتشار پیدا ہوجائے۔  اس سے ظاہر ہے کہ انسانی ذات وہ معیار ہے جس سے خیر و شر کا تعین ہوتا ہے۔اگر انسانی ذات کا انکار کر دیا جائے تو دنیا میں خیر و شر کا معیار ہی باقی نہیں رہتا۔انسانی ذات میں جوں جوں پختگی آتی جاتی ہے، اس کی انفرادیت محکم ہوتی چلی جاتی ہے حتیٰ کہ اس میں ایسی احدیّت (یونیک نیس) آجاتی ہے کہ یہ اپنی ذات میں یکسر منفرد ہوتی ہے۔ایسی منفرد کہ اقبالؒ کے الفاظ میں یہ انائے مطلق(اللہ) کے حضور بھی اپنی انفرادیت کو قائم رکھتی ہے، اس میں جذب نہیں ہوجاتی؎

بخود محکم گزار اندر حضورش              مشو  ناپید اندر بحرِ نورش

 بس یہی فرق ہے وحدتِ وجود کے عجمی تصور اور انسانی ذات کے قرآنی تصور میں۔وحدتِ وجود کا عقیدہ(ویدانت کے تتبع میں) انسانی ذات کا منتہیٰ یہ قرار دیتا ہے کہ وہ اللہ کی ہستی میں جذب(فنا) ہوجائے۔لیکن یہ تصور قرآن کی تعلیم کے خلاف ہے۔صحیح قرآنی تصور وہ ہے جسے اقبالؒ نے پیش کیا ہے۔اسی بناء پر اقبالؒ عالمگیر حیات (یونیورسل لائف) کا بھی قائل نہیں۔ وہ زندگی کی انفرادیت کا قائل ہے۔اس کے نزدیک اللہ بھی ایک فرد ہے، بے مثل و بے نظیر فرد۔اس لئے جوں جوں انسانی ذات اپنے اندر اللہ کی صفات مشہود کرتی جاتی ہے، انفرادیت حاصل کرتی جاتی ہے،  کہ  کائنات کی ہر شے منفرد ہے۔

--
Mission of Global-Right-Path is to Educate Muslim Ummah in the light of the Quraan and Authentic Hadeeth, to face all the internal and external challenges, as well as to become a Great Revolutionized Leader to work for Global Revolution to serve the humanity in a balanced way to stabilize the Global World.
http://global-right-path.net16.net
.
Spiritual Doctors are Treating Spiritual Patients, so Please be Patience.
Change yourself according to the Quraan, NOT reverse.
You received this message because you are subscribed to the Google
Groups "Global-Right-Path" group.
To post to this group, send email to
global-right-path@googlegroups.com
To unsubscribe from this group, send email to
global-right-path+unsubscribe@googlegroups.com
For more options, visit this group at
http://groups.google.ca/group/global-right-path
http://global-right-path.net16.net
.
What will be Your Answer, if Allah will Question on the Day-of-Judgment, because of rejecting the Quraanic Messages ?????
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Global-Right-Path" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to global-right-path+unsubscribe@googlegroups.com.
To post to this group, send email to global-right-path@googlegroups.com.
For more options, visit https://groups.google.com/groups/opt_out.

 

انسانی ذات اورعقیدۂوحدت الوجود

انسانی خاصہ  ہے کہ جو نئی بات اُس کے سامنے آئے اس کی کنہ  و حقیقت  جاننا چاہتا ہے۔انسان کا یہ ذوقِ تجسس ہی تو ہے جو اسے اس طرح صحراؤں اور سمندروں، میدانوں اور پہاڑوں میں لئے پھرتا ہے۔حصولِ علم کا سارا راز تسکینِ استعجاب (سیٹسفیکشن آف کرئیوسٹی) میں ہے۔ یہ کیا ہے؟ وہ کیا ہے؟ یہ کیوں ہے؟یہی وہ جذبہ ہے جو بچوں کو ہمہ تن استفسار بنائے رکھتا ہے۔ انسان کی عروسِ حقیقت کے چہرے سے نقاب کشائی کی  اس بے پناہ خواہش کا ذکرقرآن نے  چند الفاظ میں سمیٹ دیا ہے  وَوَجدک ضالّاً فھدٰی (93/7) یعنی ہم نے تجھے(اے رسول) تلاشِ حقیقت میں سرگرداں پایا تو راستہ دکھا دیا۔یہی تھی وہ کیفیت جسے "کارل لائل" نےاپنی کتاب "ہیروز اینڈ ہیرو ورشپ " میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

شروع ہی سے چلتے پھرتے، آپ ؐکے دل میں ہزاروں سوالات پیدا ہوتے تھے۔میں کیا ہوں؟ کائنات کا لامتناہی سلسلہ کیا ہے؟ زندگی کیا ہے؟موت کیا ہے؟ مجھے کس چیز کو نصب العینِ حیات بنا چاہئے؟ مجھے کیا کرنا چاہئے؟

حرا اور فاران کی پہاڑیاں، ریت کے ٹیلوں کا سکوت، ان سوالات کا کوئی جواب نہیں دیتے تھے۔چرخِ چنبری اور اس کے درخشندہ ستارے بھی خاموش تھے۔ان سوالات کا جواب کہیں سے نہیں ملتا تھا۔ان سوالات کا جواب ملنا تھا انسان کی اپنی ذات اور اللہ کی اس وحی سے جو اُس ذات کو اپنا محیط بنا لے۔

انسانی زندگی کے متعلق ایک تصور تو وہ ہے جسے عام طور پر میکانکی نظریۂحیات (میکانسٹک کانسپٹ آف لائف) کی اصطلاح سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جس کا موجد یونانی فلاسفر دیمقریطیس قرار دیا جاتا ہے۔اگرچہ اس نظریہ کی تفاصیل میں، دیمقریطیس کے زمانے سے لے کر آج تک بڑے بڑے اہم اختلافات پیدا ہوئے ہیں لیکن اس کا ماحصل وہی ہے جسے اقبال ؒنے دو چھوٹے چھوٹے مصرعوں میں سمو دیا ہے۔یعنی؎

در نگاہش آدمی آب وگِل است               کاروانِ زندگی بے منزل است

اس نظریہ کی رُو سے مانا یہ جاتا ہے کہ انسان بس اسی آب و گِل کا پیکر ہے۔مٹی کا گھروندا جو طبعی حادثہ کی ایک ٹھوکر سے خاک کا ڈھیر بن جاتا ہے۔نہ اس کا کوئی مستقبل ہے، نہ کاروانِ زندگی کی کوئی منزل۔یہی وہ تصور ہے جسے چکبست نے اپنے اس مشہور شعر میں بیان کیا ہے؎

زندگی کیا ہے؟عناصر میں ظہورِ ترتیب            موت کیا ہے؟ اُنہی اجزاء کا پریشاں ہونا

یعنی مختلف عناصر(فزیکل ایلیمنٹس) میں کسی نہ کسی طرح اتفاقی طور پر ، ایک خاص ترتیب پیدا ہوگئی جس سے بے جان مادہ، جاندار بن گیا۔جب تک یہ ترتیب قائم رہتی  ہے ، انسان زندہ کہلاتا ہے۔جب کسی حادثے سے (وہ ہنگامی ہو یا بتدریج واقع ہوجائے) یہ ترتیب درہم برہم ہوجاتی ہے تو زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔انسان کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا۔وہ تھی زندگی کی نمود، یہ ہے اس کا انجام۔اللہ اللہ، خیر سلا۔اس تصورِ حیات کے تحت ان لوگوں کے نزدیک زندگی کے سارے مسئلے حل ہوجاتے ہیں۔اور انسان بیساختہ کہہ اٹھتا ہے کہ      ؎  

بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست

چار دن کی زندگی ہے، کھاؤ پیؤ، مزے اڑاؤ انسانی زندگی کے تقاضے ہیں ۔عیش و آرام کی زندگی ہی مقصودِ حیات ہے۔اس قسم کی زندگی کے لئے دولت کی ضرورت ہے۔جو شخص دولت حاصل کر لیتا ہے(خواہ کسی طریقے سے ہو) اس کے ہاں سامانِ زیست کی فراوانی ہوجاتی ہے۔وہ جسم کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے سب کچھ خرید سکتا ہے۔اس کی زندگی کو بڑی کامیاب زندگی کہا جاتاہے۔ ناکام وہ ہے جو دولت حاصل نہ کر سکے۔جو عیش و عشرت کے سامان مہیا نہ کر سکے۔اس انداز کی زندگی میں زیادہ سے زیادہ اُن ضوابط کی پابندی ضروری ہوتی ہے جو سوسائٹی نے متعین کر رکھے ہوں۔لیکن اگر کوئی شخص ایسا انتظام کر لے کہ وہ سوسائٹی کی گرفت میں نہ آسکے تو اسے ان قواعد و ضوابط کی پابندی کی بھی ضرورت  نہیں رہتی۔ یہی زندگی کی کامیابی ہے۔اس کے بعدموت آجاتی ہے (جس سے کسی کو مفر نہیں) جسم کی طبعی مشینری چلتے چلتے رک جاتی ہے۔ کچھ دنوں کے بعد خود جسم بھی گل سڑ جاتا ہے، قصہ ختم ہوا۔اس نظریہ کے ماتحت زندگی کی کوئی اور شکل سامنے آ ہی نہیں سکتی۔ ایک ، شخص جھوٹ، فریب، مکر، دغابازی، بد معاشی، چالاکی، عیاری سے دولت کماتا، عیش اڑاتا اور اس کے بعد مر جاتا ہے۔دوسرا شخص عمر بھر دیانت داری کی زندگی بسر کرتا ہے۔ بھوکوں مرتا ہے۔فاقے کاٹتا ہے ۔تنگ حال رہتا ہے اور اسی عسرت کی حالت میں اسے موت آجاتی ہے۔میکانکی نظریۂ حیات کے مطابق مرنے کے بعد دونوں کا معاملہ برابر ہے۔یعنی دونوں ختم ہوجاتے ہیں۔اس نظریے کے حامی یہ کہتے ہیں کہ اس دیانتدار کی اصول پرستی نے اسے کیا دیدیا جس سے وہ بدمعاش محروم رہا؟ اس کے برعکس اس بدمعاش کی عیاریوں نے اسے یقیناً وہ کچھ دیدیا جس سے اُس دیانتدار کی اصول پرستی نے اُسے محروم رکھا۔یعنی دھن، دولت، عیش آرام، نازونعمت، ہر چیز سے محروم رکھا۔اگر زندگی اس جسم کی زندگی ہے اور اس کے بعد یکسر خاتمہ ہے تو پھر اصول و اخلاق کے لئے دنیا میں کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔اس صورت میں صرف سوسائٹی کے قوانین و ضوابط کا سوال باقی  رہ جاتا ہے۔اور جو شخص ان قوانین سے بچ نکلنے کی تدبیر کر سکتا ہے اس کے لئے یہ ضوابط بھی کچھ معنی نہیں رکھتے۔اس لئے یہ سوال کہ انسانی زندگی اس جسم تک محدود ہے یا اس سے الگ کچھ اور بھی ہے، محض نظری سوال(اکیڈیمک کوئیسچن) نہیں ،اس کا زندگی کے مسائل سے بڑا بنیادی تعلق ہے۔لہٰذا سوال یہ ہے کہ زندگی یہی طبعی زندگی ہے یا اس کے ماوراء کچھ اور بھی۔موت ، انسان کا خاتمہ کر دیتی ہے یا انسان میں کچھ ایسا بھی ہے جوموت سے ختم نہیں ہوجاتا۔

Anabolism, Catabolism, and Metabolism

کی رُو سے انسانی جسم کے کثیر التعداد خلیات (سیلز) ہر وقت ضائع ہوتے ہیں اور اُن کی جگہ نئے خلیات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔یہ سلسلۂ فنا و تجدید مسلسل جاری رہتا ہے تاآنکہ کچھ وقت کے بعد سابقہ جسم تما م کا تمام ایک نئے جسم میں تبدیل ہوجاتا ہے۔اور پرانے جسم کا نام و نشان  تک بھی  باقی نہیں رہتا۔تو کیاکل جو قول و اقرار، معاہدے ، لین دین  "میں " نے کیا تھا وہ کوئی اور ہے اور آج کا "میں" کوئی اور؟ نہیں !ہرگز نہیں۔ جسم کے ایک ایک ذرے کے تبدیل ہوجانے کے بعد بھی، ایک چیز ہے جو بدستور اسی طرح قائم رہتی ہے اور جس میں قطعاً کوئی فرق نہیں آتا اور وہ ہے "میں" یا جسے انسانی ذات (پرسنیلٹی) یا  نفس(سیلف) یا اَنا یا (اقبال کے الفاظ میں) خودی کہا جاتا ہے۔یہی وہ  میں(عربی زبان میں "انا") ہے جس کے متعلق فلسفی برگسان کہتا ہے :

Personality is changelessness in change

  یعنی ہم میں تغیر آتا ہے معدوم ہوئے بغیر۔ اس کے معنی کیا ہیں؟ تغیر (چینج) سے مفہوم یہ ہے کہ جس چیز میں تغیر آتا ہے وہ باقی نہیں رہتی۔معدوم ہوجاتی ہے۔اس کے بعد اس کی جگہ ایک نئی چیز وجود میں آتی ہے۔لیکن برگسان کہتا ہے کہ انسانی ذات ایک ایسی شے جس کی وجہ سے ہم تغیرات سے پیہم گزرنے کے باوجود معدوم نہیں ہوتے۔"میں" ہمیشہ وہی رہتی ہے۔اس میں کوئی  تبدیلی نہیں آتی۔یہ فنا نہیں ہوتی۔یہی وہ تغیر ناآشنا، مستقل، غیر متبدل شے ہے جس کیطرف اشارہ کرتے ہوئے پروفیسر وہائٹ ہیڈ کہتا ہے کہ" کوئی فلسفہ بھی ہو اسے تشخصِ ذات کے متعلق کوئی نہ کوئی نظریہ رکھنا ہی پڑے گا۔اسی اعتبار سے انسانی زندگی میں پیدائش سے موت تک، وحدت رہتی ہے"۔ یہ وہ نہ بدلنے والی وحدت ہے جس پر اخلاقیات کی ساری عمارت قائم ہے۔راشڈل کے الفاظ میں:" اخلاقی نظام کا دارومدار ہی اس مسلّمہ پر ہے کہ "میں" اپنے تمام گزشتہ فیصلوں او ر معاہدوں کا ذمہ دار ہوں اس لئے اگر کچھ عرصہ کے بعد"میں" وہ نہیں رہتا جو پہلے تھا تو اس صورت میں میں اپنے سابقہ فیصلوں اور معاہدوں کا ذمہ دار ہی نہیں قرار پاتا۔ اگر صورتِ حال یہ ہو تو پھر کسی شخص پر معاہدہ کی خلاف ورزی کا الزام ہی عائد نہیں کیا جاسکتا"۔پھر نہ ہی کسی مجرم کو سزا دی جاسکتی ہے۔اس لئے کہ جس شخص نے جرم کیا تھا اگر وہ باقی نہیں ، تو اس کے جرم کی سزا اس دوسرے شخص کو کیوں دی جائے، جس کا اگرچہ نام وہی ہے لیکن جو درحقیقت مدت ہوئی ختم ہو چکا ہے۔

اب یہاں  ایک مسئلہ  یہ اٹھتا ہے کہ  اگر کسی کا حافظہ خراب ہوجائے اور اسے ماضی کے تمام واقعات و حوادث بھول جائیں، اسے قطعاً یاد نہ رہے کہ اس نے پچھلے سال کیا کہا تھا اور گزشتہ ماہ کیا وعدہ کیا تھا ، اور ماضی کے متعلق کچھ بھی یاد نہ رہے، تو کیا اُس کا وہ پرانا "میں" ختم ہوجاتا  ہے اور اُس کی جگہ کسی نئے "میں" کی ابتداء ہوجاتی ہے۔اگر ایسا ہے تو پھر تو انسانی ذات یا انا کوئی شے نہ ہوئی۔یہ صرف انسانی حافظہ ہوا اور چونکہ حافظہ مرنے کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے اس لئے موت کے بعد انسان کا کچھ باقی نہیں رہتا۔

یہ  اعتراض یا دلیل  بظاہربڑی وزنی معلوم ہوتی ہے لیکن بادنیٰ تعّمق اس کی اصلیت نکھر کر سامنے  کرآجاتی ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ انسانی ذات یا میں اپنے تمام فیصلوں کو جسم کے ذریعے بروئے کار لاتی ہے۔جب کوئی  شخص کسی چیز کو اٹھانے کا فیصلہ کرتا  ہے تو وہ اپنے ہاتھ اس  فیصلے کو بروئے کار لانے کیلئے استعمال میں لاتا ہے۔یا جب کوئی ارادہ کرتا ہے کہ اٹھ کر باہر جائے تو اس کے پاؤں اس ارادے کی تکمیل کرتے ہیں۔لیکن اگر ایسا ہو کہ کوئی شخص فالج زدہ ہو جائے اور اس کے ہاتھ اور پاؤں  کی حرکت بند ہوجائے تو پھر اس  "میں" کا کوئی فیصلہ بروئے کار نہیں آتا۔ نہ وہ  اس چیز کو اٹھا سکتا ہے جسے اٹھانا چاہے اور نہ وہاں جاسکتا ہے جہاں جانے کا ارادہ کرے۔  اس سے کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ "میں" کوئی چیز نہ تھی، یہ درحقیقت ہاتھ پاؤں کی حرکت کا نام تھا؟ جب یہ حرکت بند ہوگئی تو  "میں" بھی ختم ہوگئی۔اسی طرح جب سارے جسم کی حرکت بند ہوجائے گی تو کیا "میں" کلیتہً ختم ہوجائے گی؟

دماغ خود انسانی ذات نہیں۔اس لئے دماغ کے خراب ہوجانے یا موت سے بیکار ہوجانے سے یہ مطلب نہیں کہ انسانی ذات بھی ختم  ہوگئی۔اس کی مثال یوں سمجھئے کہ اگرریڈیو میں خرابی کی وجہ سے آپ پروگرام سننے سے قاصر ہوگئے ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ریڈیو اسٹیشن سے براڈ کاسٹنگ بند ہوگیا ہے بلکہ آواز کا نہ آنا ریڈیو سیٹ کی خرابی کے سبب ہے۔ایتھر کی لہریں بدستور موجود ہیں ان لہروں میں ریڈیو اسٹیشن سے نشر شدہ پروگرام بھی بدستور موجود ہے ، ان لہروں کا اور ان کے بردوش پروگرام کا عدم اور وجود برابر ہے لیکن آپ اسے محسوس کرنے سے قاصر ہیں۔اگر کوئی شخص سیٹ کی خرابی سے اس نتیجہ پر پہنچ جائے کہ ریڈیو کی لہریں معدوم ہوگئی ہیں تو اس کا خیال قدر غلط ہوگا۔اسی سے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ دماغ وہ ریڈیو سیٹ ہے جس کے ذریعے انسانی ذات میں  اپنے احساسات و تاثرات تو  موجود ہوتے ہیں لیکن چونکہ ان کے اظہار کا ذریعہ بیکار ہوچکا ہے اس لئے ہم ان تاثرات کو محسوس نہیں کر سکتے۔حافظہ انسانی ذات کے احساسات و تاثرات کے ریکارڈ روم کا نام ہے اور دماغ اس حافظہ کے مشہود (مینی فیسٹ) کرنے کا ذریعہ ہے۔اس لئے حافظہ اور دماغ الگ الگ چیزیں ہیں۔دماغ کا تعلق طبعی جسم (فزیکل باڈی) سے ہے اور حافظہ کا تعلق انسانی ذات سے جو غیر طبعی ہے کیونکہ وہ تغیرات سے متاثر نہیں ہوتی۔برگسان نے اس موضوع کو اپنی معرکہ آراء تصنیف

Matter and Memory

میں بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے۔وہ مختلف نظریات کا تجربہ کرنے کے بعد لکھتا ہے کہ "آپ نے اب سمجھ لیا ہوگا کہ حافظہ کیوں دماغ کا فعل نہیں ہوسکتا۔دماغ ، حافظہ کے تسلسل کو قائم رکھتا ہے اور اسے مادی قالب میں سمو کر اس قابل بنا دیتا ہے کہ یہ حال (پریذنٹ) پر اپنا تصرف کرسکےلیکن خالص حافظہ، مادی شے نہیں۔یہ روح سے متعلق نظریات کا مظہر ہے۔حافظہ کی دنیا در حقیقت روح کی دنیا ہے"۔(یعنی کائناتی لہروں کا کھیل ہے۔پیٹر ہگز کا نظریہ)

اوسپنسکی تو اس سے بھی ایک اور قدم آگے جاتا ہے۔اس کانظریہ یہ ہے کہ دماغ کے خلیات(برین سیلز) جسم کے دوسرے خلیات سے بالکل مختلف ہوتے ہیں اور ناقابلِ فنا۔بہر حال اگر اوسپنسکی کے اس نظریہ سے اتفاق نہ بھی کیا جائے تو بھی یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ دماغ صرف حافظہ کے اظہار کا ذریعہ ہے۔حافظہ دماغ کی پیداوار نہیں۔حافظہ انسانی ذات پر مرتسم شدہ نقوش کا نام ہے۔اس لئے دماغ کے خراب یا مستقل طور پر بیکار ہوجانے سے انسانی ذات فنا نہیں ہوجاتی۔فقط اس کے اظہار کا ذریعہ معطل ہوجاتا ہے۔ پروفیسر ایرون شروڈنگر نے ایک چھوٹی سی لیکن بڑی اہم کتاب"زندگی کیا ہے"(وٹ از لائف) کے عنوان سے لکھی ہے۔ وہ اس میں لکھتا ہے کہ "میں" کسے کہتے ہیں؟: "اگر آپ "میں" کا تجزیہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ یہ انسانی تجارب او رحافظہ سے کچھ زیادہ کا نام ہے۔یہ وہ پردہ ہے جس پر انسانی حافظہ اور تجربہ کے نقوش جمع ہوتے ہیں ۔اگر آپ اپنی داخلی دنیا کا غور سے مطالعہ کریں گے تو آپ پر یہ حقیقت منکشف ہوجائے گی کہ جسے آپ "میں" کہتے ہیں، وہ اس بنیاد کا نام ہے جس پر تجربے اور حافظہ کی عمارت اٹھتی ہے۔اگر کوئی ماہر عملِ تنویم (ہپناٹزم)ایسا بھی کردے کہ تمہاری تمام سابقہ یادداشت یکسر ذہن سے محو ہوجائے، پھر بھی تم دیکھو گے کہ اس سے تمہاری "میں" کی موت واقع نہیں ہوجائے گی۔لہٰذا انسانی ذات کی ہستی کبھی ضائع نہیں ہوتی ، نہ ہی کبھی ضائع ہوگی"۔(نظریۂہگز بھی یہی  ہے)

عملِ تنویم(ہپناٹزم) کے متعلق ہکسلے نے اپنے ہاں لکھا ہے:"ایک عامل نے اپنے معمول کو بے ہوش کردیا، بالکل بے ہوش۔اس بے ہوشی کے عالم میں اُس سے کہا کہ دیکھو!جب شام کے چھ بجیں تو تم اپنے کمرے کی گھڑی کو اٹھا کر باہر پھینک دینا۔اس کے بعد وہ معمول کو ہوش میں لے آیا۔اُس وقت بارہ بجے تھے۔یہ معمول ساری دوپہر اور سہ پہر بالکل اچھا بھلا اپنے کام کاج میں مصروف رہا، اسے قطعاً یاد نہیں تھا کہ اس کی بے ہوشی کے عالم میں عامل نے اسے کیا کہا تھا۔چھ بجے کے قریب وہ دوستوں کے ساتھ بیٹھا، اپنے کمرے میں تاش کھیل رہا تھا۔جوں ہی گھڑی نے چھ بجائے، وہ یک لخت اٹھا اور یہ کہہ کر اسے باہر پھینک دیا کہ اس کی ٹِک ٹِک نے میرا ناک میں دم کر رکھا ہے۔اس کے بعد وہ پھر نہایت اطمینان سے اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گیا اور تاش کھیلنے لگ گیا۔عملِ تنویم کا اثر انسان کے دماغ پر نہیں ہوتا۔اُس کی ذات پر ہوتا ہے اور دماغ  اور دوسرے حواس، بصارت و سماعت وغیرہ اس لئے معطل ہوجاتے ہیں کہ انسانی ذات  اُن سے اس وقت کام نہیں لینا چاہتی"۔

لیکن ایک بات عملِ تنویم کے ضمن میں اور بھی کرتا چلو ں کہ معمول سے عالمِ بے ہوشی میں آپ جو جی میں آئے، منواتے جائیے۔وہ آپ کی ہر بات پر ہاں کرتا جائیگا۔لیکن اگر آپ نے کوئی ایسی بات کہی جو اُس کے عقیدے کے خلاف ہو، تو وہ اُس کے جواب میں کبھی ہاں نہیں کریگا۔انسان پر عقیدے کا اثر اس قدر گہرا ہوتا ہے کہ بے ہوشی کے عالم میں  بھی آپ اسے معمول کی لوحِ ذات سے مٹا نہیں سکتے۔ انسان کے معتقدات کا بدلنا، خواہ وہ کیسے ہی غلط کیوں نہ ہوں، بہت مشکل ہوتا ہے بلکہ عام صورتوں میں تو ناممکن۔ یہی وجہ  ہے کہ مسلمان اپنے غلط مذہب کو چھوڑ کر دین یعنی قرآن کے قریب نہیں آتا۔حالانکہ اس کی تعلیم اس قدر عقل و بصیرت کے مطابق اور علم و دانش کو اپیل کرتی ہے۔اُس کے لئے انسان کو خاص طور پر کوشش کرنی پڑتی ہے۔یعنی ان غلط معتقدات کے خلاف قوی دلائل بہم پہنچانے پڑتے ہیں۔

قرآن نے انسانی ذات کے متعلق کہا ہے کہ اس کا تعلق مادی دنیا سے نہیں، جس میں ہر آن تغیرات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔اسے اس نے "روحِ الہٰیہ" یا ڈوائن انرجی، سے تعبیر کیا ہے جو تغیرات سے بلند و بالا ہے۔وہ کہتا ہے کہ جہاں تک انسان کے جسم کی طبعی ساخت کا تعلق ہے اس میں اور حیوانات میں کوئی فرق نہیں۔استقرارِ حمل  سے ان دونوں کی ابتداء ہوتی ہے اور دونوں رحمِ مادر کے اندر مختلف پہلو بدلتے ہوئے ایک خاص شکل اختیار کر لیتے ہیں۔لیکن اس کے بعد وہ کہتا ہے کہ انسان کی تخلیق میں نئی منزل آتی ہے اور وہ یہ کہ  فنفخنا فیہ من روحنا "اس میں الوہیاتی توانائی(ڈوائن انرجی) کا شمہ ڈال دیا جاتا ہے۔اسی کا نام انسانی ذات یا نفس یا انا یا خودی ہے۔اسی سے انسان صاحبِ اختیار و ارادہ ہوتا ہے اور اسی سے انسان کی انسانیت مرتب ہوتی ہے۔یہ "روحِ الہٰیہ" یا انسانی ذات ہر انسانی بچہ کے اندر موجود ہوتی ہے۔لیکن محض امکانی شکل(پوٹینشل فارم)میں۔اس کی امکانی قوتیں مناسب نشو ونما پانے سے( ڈویلپ )ہوکر بتدریج مشہود(رئیلائزڈ) ہوجاتی ہیں۔اس کا نام تربیتِ ذات یا ربوبیت ہے۔اسی کو تزکیۂ نفس کہتے ہیں۔ تزکیہ کے معنی نشو ونما(گروتھ) کے ہیں۔قرآن کہتا ہے کہ  قد افلح من زکّٰھا" جس نے اسے نشو ونما دیکر ڈویلپ کر لیا ، وہ کامیاب ہوگیا۔ اُس کی کھیتی پروان چڑھ گئی۔اور    قد خاب من دسّٰھا (91/9) "اور جس نے اسے مٹی کے تودے کے نیچے دبا دیا وہ برباد ہوگیا"۔سارا قرآن اسی اجمال کی تفصیل ہے کہ انسانی ذات کی نشو ونمایا ربوبیت کس طرح ہوتی ہے اور اسکی ربوبیت سے کس طرح بنی نوعِ انسان کی مضمر صلاحیتوں میں بالیدگی اور کشادگی آتی جاتی ہے۔جب تک انسان کی ذات یا خودی خام رہتی ہے ، وہ خارجی حوادث کے تھپیڑوں سے متزلزل ہوتا رہتا ہے۔لیکن جوں جوں اس میں پختگی آجاتی ہے وہ کوہِ پیکر بن جاتا ہے۔

اوسپنسکی کے استاد گرجیف کی کتاب"آل اینڈ ایوری تھنگ" میں اوسپنسکی نے گرجیف سے پوچھا کہ کیا انسان مرنے کے بعد بھی زندہ رہتا ہ یہ ہے؟ تو اس کے جواب میں اُس نے کہا کہ :"اگر انسان ہر آن بدلتا رہے، اگر اس میں کوئی شے ایسی نہ ہو جو خارجی تغیرات سے متاثر نہ ہو، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جو موت کا مقابلہ کر سکے۔لیکن اگر وہ خارجی اثرات سے آزاد ہوجائے۔اگر اس میں اس شے کی نمود ہوجائے جو اپنی زندگی جئے، تو یہ شے کبھی مر نہیں سکتی۔عام حالات میں ہم ہر ثانیہ مرتے رہتے ہیں۔خارجی حالات بدلتے ہیں اور ان کے ساتھ ہی ہم بھی بدل جاتے ہیں۔لیکن اگر انسان اپنی مستقل انا کونشو ونما دے لے تو یہ خارجی تغیرات سے غیر متاثر رہ سکتا ہے اور اس طرح طبعی جسم کی موت کے بعد بھی زندہ رہ سکتا ہے۔(پیٹر ہگز کانظریہ اسکی موافقت کرتا ہے)۔

اقبال ؒنے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ     ؎

زندگانی ہے صدف قطرۂ نیساں ہے خودی           وہ صدف کیا کہ جو قطرے کو گہر کر نہ سکے

ہو اگر خود نگر و خود گر و خود گیر  خودی                   یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے

مغرب کا فکر، جو مادیت   پرمبنی ہے، اس شے کے وجود سے انکار کرتا ہے اور انسانی زندگی کو محض طبیعیاتی زندگی تک محدود سمجھتا ہے۔یہ در حقیقت ردِ عمل ہے اسلام سے پہلے مذاہب  کی اُس خانقاہیت کا جس میں دنیا کو ناثبات اور روح کو اصل کائنات قرار دے کر ترکِ دنیا کو مقصودِ زندگی بنا لیا گیا تھا۔یہ تصور افلاطونی فلسفۂ امثال سے مستعار لیا گیا تھا ۔یہی وہ تصور تھا جو ہندوستان میں ویدانت اور ایران میں تصوف کے نام سے چمکا اور اسی راستے سے اسلام کے اندر بھی آپہنچا اور اسے یکسر اپنے رنگ میں رنگ دیا۔اس نقطۂ نگاہ سے اگر دیکھا جائے تو ایک اچھے دماغ کا انسان اگر غلط راستے پر پڑ جائے تو وہ نوعِ انسانی کے لئے کس قدر نقصانِ عظیم کا باعث بن جاتا ہے۔افلاطون (پلوٹو) نہایت طباع اور ذہین مفکر تھا۔لیکن غلط راستے پر پڑگیا۔اس نے اس غلط روش کو اپنے منطقی دلائل کی بنا ء پر ایسا حقیقت بنا کر دکھا یا کہ اس سے قوموں کی قومیں متاثر ہوگئیں۔اس وقت انسانی دنیا کی شاید ہی کوئی فکر ایسی ہو جو کسی نہ کسی رنگ میں افلاطونی فکر  سے متاثر نہ ہوئی ہو۔بعض مقامات پر یہ اثر ایسا گہرا ہوا کہ اس نے مذہب کی حیثیت اختیار کرلی۔اب غورکیجئے کہ اس دو اڑھائی ہزار سال کے عرصے میں، اس ایک دماغ کی غلط فکر نے انسان کو کس قدر پستیوں میں دھکیل رکھا ہے۔اگر وہ اس غلط فکر کو اختیار نہ کرتا تو  انسان آج کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہوتا۔قرآن اس فکر کے خلاف اعلانِ جنگ تھا۔اس نے مادی دنیا اور انسانی ذات کے مقام کا صحیح صحیح تعین کیا اور کھلے کھلے الفاظ میں بتایا کہ کس طرح دنیا کی تسخیر اور اس کے ماحصل کا صحیح مصرف، انسانی ذات کی نشو ونما و بالیدگی کا موجب بنتے ہیں۔مسلمانوں نے قرآن کے اس فکر کو عملی رنگ دیا تو دیکھتے ہی دیکھتے ان کی یہ کیفیت ہوگئی کہ ،قرآن کے الفاظ میں، ان کے تمدن کی جڑیں مادی دنیا کے پاتال میں تھیں اور اس کی شاخیں بلند کائنات کی فضاؤں میں جھولے جھول رہی تھیں۔یہ قرآن کے سانچے میں ڈھلا ہوا بندۂ مومن کا ذہن تھا جو طلسمِ افلاطون سے متاثر نہیں تھا۔لیکن اس کے بعد عجمی ذہن اسلام کے دائرے میں آیا جو یکسر افلاطونی قالب کا ساختہ پرداختہ تھا، تو اس نے خود اسلام ہی کو اپنے رنگ میں رنگ لیا۔یہی عجمی اسلام ہے جو ہزار برس سے بھی زیادہ ہمارے رگ وپے میں اس طرح سرایت کر چکا ہے کہ ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر یہ نکل گیا تو اس کے ساتھ ہی ہماری جان نکل جائے گی۔بقول مومن     ؎

درد ہے جاں کے عوض ہر رگ و پے میں ساری                   چارہ گر ہم نہیں ہونے کے جو درماں ہوگا

اس مقام پر اتنا سمجھ لینا ضروری ہے کہ "عجم "سے مراد کوئی خاص خطۂ زمین نہیں، اس سے مقصد ہر غیر قرآنی تصور ہے خواہ وہ عرب سے آیا ہو یا ایران سے۔اس کا سر چشمہ مشرق ہو یا مغرب۔

بہر کیف یہ سمجھنا ضروری ہے کہ  انسانی ذات ،انسانی جسم کے ساتھ فنا نہیں ہوجاتی۔انسان کے تمام اعمالِ حیات، حتّٰی کہ اس کی نگاہ کی جنبش اور دل کی لغزش سب انسانی ذات پر اپنا نقش مرتب کرتے رہتے ہیں۔انسا ن کو اس کا احساس و شعور ہو یا نہ ہو، اس کا کوئی عمل اور ارادہ اس کی ذات پر اپنا اثر چھوڑے بغیرنہیں رہتا۔اس کا نام ہے قانونِ مکافاتِ عمل۔یہی ہے وہ "نامۂ اعمال" جس میں سب کچھ ریکارڈ ہوتا رہتا ہے۔یہی ہے وہ میزانِ عمل جس میں سب کچھ تُلتا رہتا ہے۔نیک اعمال وہ ہیں جن سے انسانی ذات پختگی  حاصل کرتی ہے ۔برائی اسے کہتے ہیں جس سے اس میں ضعف پیدا ہوتا ہے۔اس زندگی میں انسانی ذات، جسم کو اپنی توانائیوں کے بروئے کار لانے کا ذریعہ بناتی ہے۔جسم کے انتشار کے بعد ، جسے طبعی موت کہا جاتا ہے، انسانی ذات کے اعمال کے ظہور(مینی فیسٹیشن) کے لئے کوئی اور ذریعہ  مل جائے گا کہ کائنات  کی وسعتیں اور ان کا ہر لمحہ پھیلاؤ اس بات کی دلیل ہے کہ زندگی کی روانی کو دوام ہے۔(نظریۂ پیٹر ہگز)حیاتِ ارضی میں جسم ہی و ہ ذریعہ ہے جس سے انسانی ذات اپنی توانائیوں کی نمود کرتی ہے، اس لئے اس ذریعہ کا مضبوط ، متوازن اور درست ہونا نہایت ضروری ہے۔اگر کوئی روشنی کا بلب پانچ بتی  طاقت( کینڈل پاور یا واٹ )کا ہے تو بجلی کی لہر کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو اس میں سے نہایت مدھم روشنی نکلے گی۔اس کے برعکس اگر قمقمہ سو بتی کا ہے تو کمرہ جگمگا اٹھے گا۔کرنٹ دونوں صورتوں میں ایک جیسا ہے لیکن اس کی نمود، بلب کی طاقت کے مطابق ہے۔اس لئے کرنٹ کے طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ بلب کا طاقتور ہونا بھی ضروری ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن مادی کائنات کی تسخیر کو اس قدر اہمیت دیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس نے انسانی ذات کی نشو ونما کا پروگرام ہی یہ بتایا ہے کہ انسان مادی اشیائے کائنات کو مسخر کرتا جائے اور اپنی تسخیر کے ماحصل کو نوعِ انسانی کی نشو ونما کے لئے عام رکھے، جسے نظامِ ربوبیت کہتے ہیں۔انسان جس قدر ربوبیتِ عامہ میں زیادہ سعی و کاوش کرتا ہے ہے اسی قدر وہ اپنی محنت کے ثمرات کو عام کئے جاتا ہے اور یوں اسی قدر اس کی ذات میں کشاد اور استحکام پیدا ہوتا چلا جاتا ہے۔یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، تاآنکہ اس کا طبعی جسم، عام قوانینِ طبعی کے ماتحت، متحرک سے ساکن ہوجاتا ہے، یعنی اسے موت آجاتی ہے۔لیکن اس کی ذات ، زندگی کی اس سطح سے آگے نکل کر دوسری سطح پر جاپہنچتی ہے اور اپنے کائناتی سفر کی اگلی منزل طے کرنے میں مصروف ہوجاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ انسانی ذات کی ہستی کے اقرار و انکار سےزندگی کا پورا نقشہ بدل جاتا ہے۔اگر انسانی ذات کا اقرار کرلیا جائے تو پھر اللہ پر ایمان، اور مکافاتِ عمل کے غیر متبدل قانون پر ایمان ایک حقیقتِ ثابتہ بن کر سامنے آجاتے ہیں۔اگر انسانی ذات ہی سے انکار کر دیا جائے تو اس کے بعد نہ اللہ کی ہستی پر ایمان کے کچھ معنی رہتے ہیں اور نہ قانون ِ مجازات کی کچھ حقیقت۔اس کے بعد زندگی محض حیوانی سطح(اینی مل لیول) پر اتر آتی ہے جس کے سامنے ، جسم کی پرورش کے سوا، نہ کوئی مقصد ہوتا ہے نہ مفہوم، نہ کوئی نصب العین ہوتا ہے نہ منزل۔قرآن کے الفاظ میں  والذین کفروا   جو لوگ اس بنیادی حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے تو ان کی زندگی فقط اتنی رہ جاتی ہے کہ  یتمتّعون و یاکلون کما تاکُلُ الانعام (47/12) وہ اسی طرح سامانِ زیست سے فائدہ اٹھاتے ہیں  اور کھاتے پیتے ہیں جس طرح حیوان، اور پھر ان ہی کی طرح کھا پی کر طبعی موت مرجاتے ہیں۔بلکہ اس فرق کے ساتھ کہ حیوانات کو رزق کی تلاش کبھی اس طرح پریشان نہیں کرتی جس طرح انسان کوکرتی ہے اور حیوانات کو موت کا تصور بھی کبھی نہیں ستاتا، اس لئے کہ حیوانات موت کے تصور سے آشنا ہی نہیں ہوتے۔اس کے بر عکس، انسان ہر وقت موت کے تصور سے بد حواس رہتا ہے۔

اس ایغو یا انا کو حیاتِ جاوید بطورِ استحقاق نہیں ملتی، حاصل کرنی پڑتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اس جنت کے متعلق جس میں آدم دوبارہ داخل ہوگا کہہ دیا ہے کہ وہ صرف تمہارے اعمال کا نتیجہ ہوگی،  پہلے کی طرح بطورِ بخشیش نہیں مل جائے گی۔ہمارا ہر عمل، ہماری ایغو یا انا میں جنت یا جہنم کی تخم ریزی  کرتا رہتا ہے۔وہ جو اقبالؒ نے کہا ہے کہ جہنم ایک خطۂ زمہریر ہے۔اس میں داخل ہونے والے اپنا اپنا ایندھن اپنی پیٹھ پر لاد کر لاتے ہیں، تو اس استعارہ میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اسی لئے اقبالؒ نے کہا ہے کہ عملِ خیر وہ ہے جس سے انسانی خودی پختگی حاصل کرلے اور عملِ شر وہ ہے جس سے اس میں ضعف و انتشار پیدا ہوجائے۔  اس سے ظاہر ہے کہ انسانی ذات وہ معیار ہے جس سے خیر و شر کا تعین ہوتا ہے۔اگر انسانی ذات کا انکار کر دیا جائے تو دنیا میں خیر و شر کا معیار ہی باقی نہیں رہتا۔انسانی ذات میں جوں جوں پختگی آتی جاتی ہے، اس کی انفرادیت محکم ہوتی چلی جاتی ہے حتیٰ کہ اس میں ایسی احدیّت (یونیک نیس) آجاتی ہے کہ یہ اپنی ذات میں یکسر منفرد ہوتی ہے۔ایسی منفرد کہ اقبالؒ کے الفاظ میں یہ انائے مطلق(اللہ) کے حضور بھی اپنی انفرادیت کو قائم رکھتی ہے، اس میں جذب نہیں ہوجاتی؎

بخود محکم گزار اندر حضورش              مشو  ناپید اندر بحرِ نورش

 بس یہی فرق ہے وحدتِ وجود کے عجمی تصور اور انسانی ذات کے قرآنی تصور میں۔وحدتِ وجود کا عقیدہ(ویدانت کے تتبع میں) انسانی ذات کا منتہیٰ یہ قرار دیتا ہے کہ وہ اللہ کی ہستی میں جذب(فنا) ہوجائے۔لیکن یہ تصور قرآن کی تعلیم کے خلاف ہے۔صحیح قرآنی تصور وہ ہے جسے اقبالؒ نے پیش کیا ہے۔اسی بناء پر اقبالؒ عالمگیر حیات (یونیورسل لائف) کا بھی قائل نہیں۔ وہ زندگی کی انفرادیت کا قائل ہے۔اس کے نزدیک اللہ بھی ایک فرد ہے، بے مثل و بے نظیر فرد۔اس لئے جوں جوں انسانی ذات اپنے اندر اللہ کی صفات مشہود کرتی جاتی ہے، انفرادیت حاصل کرتی جاتی ہے،  کہ  کائنات کی ہر شے منفرد ہے۔

--
Mission of Global-Right-Path is to Educate Muslim Ummah in the light of the Quraan and Authentic Hadeeth, to face all the internal and external challenges, as well as to become a Great Revolutionized Leader to work for Global Revolution to serve the humanity in a balanced way to stabilize the Global World.
http://global-right-path.net16.net
.
Spiritual Doctors are Treating Spiritual Patients, so Please be Patience.
Change yourself according to the Quraan, NOT reverse.
You received this message because you are subscribed to the Google
Groups "Global-Right-Path" group.
To post to this group, send email to
global-right-path@googlegroups.com
To unsubscribe from this group, send email to
global-right-path+unsubscribe@googlegroups.com
For more options, visit this group at
http://groups.google.ca/group/global-right-path
http://global-right-path.net16.net
.
What will be Your Answer, if Allah will Question on the Day-of-Judgment, because of rejecting the Quraanic Messages ?????
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Global-Right-Path" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to global-right-path+unsubscribe@googlegroups.com.
To post to this group, send email to global-right-path@googlegroups.com.
For more options, visit https://groups.google.com/groups/opt_out.