日本イスラーム研究所 Japan Islamic Research Institute


 

 

 

مسدّس حالیؔ

کسی نے یہ بقراط سے جا کے پوچھا       مرض تیرے نزدیک مہلک ہیں کیا کیا

کہا  دکھ جہاں میں نہیں کوئی ایسا            کہ جس کی دوا حق نے کی ہو نہ پیدا
مگر وہ مرض جس کو آسان سمجھیں       کہے جو طبیب اس کو ہذیان سمجھیں 
سبب یا علامت گر ان کو سجھائیں             تو تشخیص میں سو نکالیں خطائیں 
دوا اور پرہیز سے جی چرائیں               یونہی رفتہ رفتہ مرض کو بڑھائیں 
طبیبوں سے ہر گز نہ مانوس ہوں وہ        یہاں تک کہ جینے سے مایوس ہوں وہ
یہی حال دنیا میں اس قوم کا ہے            بھنور میں جہاز آ کے جس کا گھرا ہے
کنارہ ہے دُور اور طوفان بپا ہے             گماں ہے یہ ہر دم کہ اب ڈوبتا ہے
نہیں لیتے کروٹ مگر اہلِ کشتی             پڑے سوتے ہیں بے خبر اہلِ کشتی
گھٹا سر پہ ادبار کی چھار رہی ہے         فلاکت سماں اپنا دکھلا رہی ہے
نحوست پس و پیش منڈلا رہی ہے         چپ و راست سے یہ صدا آ رہی ہے
کہ کل کون تھے آج کیا ہو گئے تم؟          ابھی جاگتے تھے ابھی سو گئے تم؟

پر اس قومِ غافل کی غفلت وہی ہے           تنزّل پہ اپنے قناعت وہی ہے
ملے خاک میں پررعُونت وہی ہے           ہوئی صُبح اور خوابِ راحت وہی ہے
نہ افسوس انہیں اپنی ذلت پہ ہے کچھ      نہ رشک اور قوموں کی عزت پہ ہے کچھ
بہائم کی اور ان کی حالت ہے یکساں        کہ جس حال میں ہیں اسی میں ہیں شاداں 
نہ ذلت سے نفرت نہ عزت کا ارماں       نہ دوزخ سے ترساں نہ جنت کے خواں 
لیا عقل و دیں سے نہ کچھ کام انہوں نے            کیا دینِ برحق کو بدنام انہوں نے
وہ دیں جس نے اعدا کو اخواں بنایا               وحوش اور بہائم کو انساں بنایا
درندوں کو غمخوارِ دوراں بنایا                گڈریوں کو عالم کا سُلطان بنایا

وہ خطہ جو تھا ایک ڈھوروں کا گلہ             گراں کر دیا اس کا عالم سے پلہ

 

وہ نبیوں ؑمیں رحمت لقب پانے والا        مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا       وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ              یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ
خطا کار سے درگزر کرنے والا               بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا
مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا             قبائل کو شِیر و شکر کرنے والا
اُتر کر حرا سے سوئے قوم آیا           اور اک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا
مسِ خام کو جس نے کندن بنایا             کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا

سدا ان کو مرغوب سیر و سفر تھا         ہر اک بر اعظم میں ان کا گزر تھا

تمام ان کا چھانا ہوا بحر و بر تھا            جو لنکا میں ڈیرا تو بربر میں گھر تھا

وہ گنتے تھے یکساں وطن اور سفر کو        گھر اپنا سمجھتے تھے ہر دشت و در کو

جہاں کو ہے یاد ان کی رفتار اب تک    کہ نقشِ قدم ہیں نمودار اب تک

ملایا میں ہیں ان کے آثار اب تک       انہیں رو رہا ہے ملیبار اب تک

ہمالہ کو ہیں واقعات ان کے ازبر        نشاں ان کے باقی ہیں جبرالٹر پر

نہیں اس طبق پر کوئی بر اعظم          نہ ہوں جس میں ان کی عمارت محکم

عرب، ہند، مصر، اندلس ، شام، ویلم      بِناؤں سے ہیں ان کی معمور عالم

سرِ کوہِ آدم سے تا کوہِ بیضا           جہاں جاؤ گے کھوج پاؤ گے ان کا

وہ سنگیں محل اور وہ ان کی صفائی       جمی جن کے کھنڈروں پہ ہے آج کائی

وہ مرقد کی گنبد تھے جن کے طلائی        وہ معبد جہاں جلوہ گر تھی خدائی

زمانہ نے گو ان کی برکت اٹھا لی         نہیں کوئی ویرانہ پر ان سے خالی

ہوا اندلس ان سے گلزار یکسر         جہاں ان کے آثار باقی ہیں اکثر

جو چاہے کوئی دیکھ لے آج جا کر        یہ ہے بیت حمرا کی گویا زباں پر

       کہ تھے آلِ عدنان سے میرے بانی عرب کی ہوں میں اس زمیں پر نشانی

ہویدا ہے غرناطہ ہے شوکت ان کی        عیاں ہے بلنسیہ سے قدرت ان کی 

      بطلیوس کو یا دہے عظمت ان کی ٹپکتی ہے قادس میں سر حسرت ان کی

نصیب ان کا اشبیلیہ میں ہے سوتا         شب و روز ہے قرطبہ ان کو روتا

کوئی قرطبہ کے کھنڈر جا کے دیکھے         مساجد کے محراب و در جا کے دیکھے

حجازی امیروں کے گھر جا کے دیکھے       خلافت کو زیر و زبر جا کے دیکھے

جلا لا ان کا کھنڈروں میں ہے یوں چمکتا      کہ ہو خاک میں جیسے کندن دمکتا

وہ بلدہ کہ فخرِ بلادِ جہاں تھا           ترو خشک پر جس کا سکہ رواں تھا

گڑا جس میں عباسیوں کا نشاں تھا    عراقِ عرب جس سے رشکِ جناں تھا

اڑا لے گئی بادِ پندار جس کو     بہا لے گئی سیلِ تاتار جس کو

       سنے گوشِ عبرت سے گرجا کے انساں تو واں ذرہ ذرہ یہ کرتا ہے اعلاں 

       کہ تھا جن دنوں مہرِ اسلام تاباں ہوا یاں کی تھی زندگی بخش دواں 

پڑی خاک ایتھنز میں جاں یہیں سے         ہوا زندہ پھر نام یوناں یہیں سے

          وہ لقمان و سقراط کے دُرِ مکنوں وہ اسرارِ بقراط و درسِ فلاطوں 

       ارسطو کی تعلیم سولن کے قانوں پڑے تھے کسی قبر کہنہ میں مدفوں 

یہیں آ کے مہرِ سکوت ان کی ٹوٹی           اسی باغِ رعنا سے بو ان ٍکی پھوٹی

        یہ تھا علم پر واں توجہ کا عالم کہ ہو جیسے مجروح جویائے مرہم

کسی طرح پیاس ان کی ہوتی نہ تھی کم     بجھاتا تھا آگ ان کی باراں نہ شبنم

حریمِ خلافت میں اونٹوں پہ لد کر         چلے آتے تھے مصر و یوناں کے دفتر

وہ تارے جو تھے شرق میں لمعہ افگن    پہ تھا ان کی کرنوں سے تا غرب روشن

نوشتوں سے ہیں جن کے اب تک مزین        کتب خانۂ پیرس و روم و لندن

       پڑا غلغلہ جن کا تھا کشوروں میں وہ سوتے ہیں بغداد کے مقبروں میں 

        وہ سنجار کا اور کوفہ کا میداں فراہم ہوئے جس میں مساحِ دوراں 

        کرہ کی مساحت کے پھیلائے ساماں ہوئی جزو سے قدر کل کی نمایاں 

زمانہ وہاں آج تک نوح گر ہے        کہ عباسیوں کی سبھا وہ کدھر ہے

سمر قند سے اندلس تک سراسر    انہی کی رصدگاہیں تھیں جلوہ گستر

سوادِ مراغہ میں اور قاسیوں پر       زمیں سے صدا آ رہی ہے برابر

     کہ جن کی رصد کے یہ باقی نشاں ہیں وہ اسلامیوں کے منجم کہاں ہیں 

      مورخ جو ہیں آج تحقیق والے تفحص کے ہیں جن کے آئیں نرالے

جنہوں نے ہیں عالم کے دفتر کھنگالے        زمیں کے طبق سر بسر چھان ڈالے

عرب ہی نے دل ان کے جا کر ابھارے       عرب ہی سے وہ بھرنے سیکھے ترارے

 

差出人:                {GRP} مسدسِ حالی

 

اندھیرا تواریخ پر چھا رہا تھا             ستارہ روایت کا گہنا رہا تھا

درایت کے سورج پہ ابر آ رہا تھا          شہادت کا میدان دھندلا رہا تھا

سرِ رہ چراغ اک عرب نے جلایا       ہر اک قافلہ کا نشاں جس سے پایا

گروہ ایک جو یا تھا علمِ نبی کا        لگایا پتا جس نے ہر مفتری کا

نہ چھوڑا کوئی رخنہ کذبِ خفی کا     کیا قافیہ تنگ ہر مدعی کا

          کیے جرح و تعدیل کے وضع قانوں           نہ چلنے دیا کوئی باطل کا افسوں

اسی دھن میں آساں کیا ہر سفر کو      اسی شوق میں طے کیا بحر و بر کو

سنا خازنِ علم دیں جس بشر کو          لیا اس سے جا کر خبر اور اثر کو

پھر آپ اس کو پرکھا کسوٹی پہ رکھ کر      دیا اور کو کود مزا اس کا چکھ کر 

کیا فاش راوی میں جو عیب پایا         مناقب کو چھانا مثالب کو تایا

مشائخ میں جو قبح نکلا جتایا         ائمہ میں جو داغ دیکھا، بتایا

طلسم ورع ہر مقدس کا توڑا         نہ مُلّا کو چھوڑا نہ صُوفی کو چھوڑا

رجال اور اسانید کے جو ہیں دفتر       گواہ ان کی آزادگی کے ہیں یکسر

نہ تھا ان کا احساں یہ اک اہلِ دیں پر     وہ تھے اس میں ہر قوم و ملت کے رہبر

لبرٹی میں جو آج فائق ہیں سب سے      بتائیں کہ لبرل بنے ہیں وہ کب سے

فصاحت کے دفتر تھے سب گاؤ خوردہ      بلاغت کے رستے تھے سب نا سپردہ

ادھر روم کی شمع انشا تھی مردہ     ادھر آتشِ پارسی تھی فسردہ

یکایک جو برق آ کے چمکی عرب کی     کھلی کی کھلی رہ گئی آنکھ سب کی 

عرب کی جو دیکھی وہ آتش زبانی     سنی بر محل ان کی شیوا بیانی

وہ اشعار کی دل میں ریشہ دوانی        وہ خطبوں کی مانند دریا روانی

       وہ جادو کے جملے وہ فقرے فسوں کے تو سمجھے کہ گویا ہم اب تک تھے گونگے

سلیقہ کسی کو نہ تھا مدح و ذم کا           نہ ڈھب یاد تھا شرحِ شادی و غم کا

نہ انداز تلقین وعظ و حکم کا          خزانہ تھا مدفوں زباں اور قلم کا

نوا سنجیاں ان سے سیکھیں یہ سب نے        زباں کھول دی سب کی نطقِ عرب نے

زمانہ میں پھیلی طب ان کی بدولت       وہی بہرہ ور جس سے ہر قوم و ملت

نہ صرف ایک مشرق میں تھی ان کی شہرت    مسلّم تھی مغرب تک ان کی حذاقت 

سلر نو میں جو ایک نامی مطب تھا         وہ مغرب میں عطارِ مشکِ عرب تھا

ابو بکر رازی علی ابنِ عیسیٰ        حکیم ِگرامی حسین ابن سینا

حنین ابن اسحٰق قسمیں دانا           ضیا ابنِ بیطار راس الاطبا

انھیں کے ہیں مشرق میں سب نام لیوا        انہیں سے ہوا پار مغرب کا کھیوا

غرض فن ہیں جو مایۂ دین و دولت       طبیعی ، الہی، ریاضی و حکمت

طب اور کیمیا، ہندہ اور ہیئت         سیاست، تجارت، عمارت، فلاحت

لگاؤ گے کھوج ان کا جا کر جہاں تم        نشاں ان کے قدموں کے پاؤ گے واں تم

ہوا گو کہ پامال بستاں عرب کا       مگر اک جہاں ہے غزلخواں عرب کا

ہرا کر گیا سب کو باروں عرب کا    سپید و سیہ پر ہے احساس عرب کا

     وہ قومیں جو ہیں آج سرتاج سب کی کنونڈی رہیں گی ہمیشہ عرب کی

رہے جب تک ارکان اسلام برپا    چلن اہلِ دیں کا رہا سیدھا سادا

رہا میل سے شہد صافی مصفا      رہی کھوٹ سے سیمِ خالص مبرا

       نہ تھا کوئی اسلام کا مردِ میداں علم ایک تھا شش جہت میں در افشاں 

پہ گدلا ہوا جب کہ چشمہ صفا کا       گیا چھوٹ سر رشتہ دینِ ہدیٰ کا

رہا سر پہ باقی نہ سایہ ہما کا          تو پورا ہوا عہد جو تھا خدا کا

کہ ہم نے بگاڑا نہیں کوئی اب تک     وہ بگڑا نہیں آپ دنیا میں جب تک

--

اکیسویں صدی اور مسلمان

مولانا محمد اسرار الحق قاس

آئے دن منظرعام پر آنے والی رپورٹیں واضح طورسے یہ بیان کررہی ہیں کہ مجموعی اعتبار سے عالمی سطح پر مسلمان ناگفتہ بہ حالات سے دوچار ہیں۔معاش ‘تعلیم ‘سیاست ‘غرض تمام اہم میدانوں میںمسلمانوںکی صورت حال تشویشناک ہے ۔ ہندوستان میں سچر کمیٹی کی رپورٹ اوردیگر سرکاری وغیرسرکاری رپورٹیں بتاتی ہیں کہ ملک میں مسلمان جن کی تعداد انڈونیشیا کے بعدسب سے زیادہ ہے ‘ پسماندگی سے دوچارہیں اوردیگرتمام طبقات کے مقابلے میں پچھڑے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں ایک اورخبرمنظرعام پر آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والوںکی تعداد قریب ایک تہائی ہے ۔ اس خبرکے مطابق خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے مسلمانوں کی ماہانہ آمدنی ایک ہزارروپئے بھی نہیں ہے ۔ گویا کہ ہندوستان میں کروڑوں مسلمان انتہائی کسمپرسی اورفاقہ کشی کی زندگی گذارنے پرمجبورہیں۔ ایک طرف اشیا ءخوردنی کی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں‘ آٹا ‘چاول ‘تیل ‘دالوں اورسبزیوں کی قیمتیں بھی بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ ایسے میں ایک ہزارسے کم میں پورے مہینہ کی ضروریات کو پورا کرنا کتنا مشکل ہوگا ‘اندازہ کیاجاسکتاہے ۔چندممالک کوچھوڑکر تقریباً تمام ملکوںمیں مسلمانوں کی حالت قریب ایک جیسی ہی معلوم ہوتی ہے ۔

تعلیمی سطح پر مسلمانوں کی کیا حالت ہوگی اس کا اندازہ مسلمانوں کی ابترمعاشی صورت حال سے لگایاجاسکتاہے ۔چونکہ دنیا مادی ترقی کی طرف بڑ ھ رہی ہے ‘اس لئے تعلیم لحظہ بہ لحظہ مہنگی ہوتی جارہی ہے ۔ رپورٹوں سے معلوم ہوتاہے کہ پانچ یا چھ سوروپئے ماہانہ فیس والے اسکولوں کا کوئی تعلیمی معیارہے ہی نہیں جوکہ بہت سے مسلمانوں کی کل آمدنی ہے یعنی بہت سے مسلمان اپنے بچوں کوان غیر معیاری اسکولوں میں بھی تعلیم نہیں دلاسکتے ہیں۔ وہ اسکول جہاں تعلیم کا معیار بلند ہے وہاں ماہانہ فیس ہزاروںمیں ہے ۔ یعنی چند فیصدکوچھوڑکر بقیہ فیصد مسلمان ان اسکولوںمیں اپنے بچوں کوتعلیم دلانے کی بابت سوچ بھی نہیں سکتے ۔ سیاسی سطح پربھی ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ جوچاہتا ہے ان کا استعمال کرلیتا ہے اوروہ ہرانتخاب کے بعدوہیں کے وہیں رہتے ہیں۔ 

تشویشناک بات یہ ہے کہ مسلمان اتنے پسماندہ اچانک نہیں ہوگئے بلکہ گزشتہ کئی صدیوں سے وہ بتدریج انحطاط کے شکارہیں۔ ورنہ ایسا وقت بھی گزرا ہے کہ پوری دنیا میں ان کا شوروشورہ تھا ۔ ان کا شمار ترقی یافتہ اورزندہ دل قوموں میں ہوا کرتا تھا اور انہیں شاندار تہذیب ‘سلیقہ مندی اوراعلیٰ ترین اخلاق واقدار کے آئینہ میں دیکھا جاتا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ عہد حاضرمیں دیگراقوام نے تواپنی شب وروزکی کاوشوں ‘کھوجوں اور محنتوں کے بعدمعاشی ‘ سیاسی ‘ تہذیبی ‘ دفاعی اورتحقیقی وفکری لحاظ سے نمایاں کامیابی حاصل کی ‘لیکن مسلمان معاشیات‘ سیاسیات ‘تحقیق ‘دفاع اورتعلیم سے دورہوگئے ۔ اس وقت مغربی اقوام اقتصادی ‘ سیاسی اورتہذیبی بالا دستی رکھتی ہیں۔ امریکہ کے ”ڈالر “اوریورپ کے ”یورو“ کوپوری دنیا میں زبردست مقبولیت حاصل ہورہی ہے ۔ اگرایک طرف عالمی تجارتی منڈیوں میں انہیں کی بالادستی ہے توعالمی مارکیٹوںمیں بھی انہیں کے تیارکردہ پروڈکٹس کی بڑے پیمانہ پر کھپت ہوتی ہے ۔ اس لئے ان کی کرنسی دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت بلند ہے۔ اس کے برعکس مسلم حکومتیں ان کے مقابلے میں کافی پیچھے ہیں۔ اگرمتحدہ عرب امارات اورملیشیا سمیت چند ممالک کوچھوڑدیاجائے توزیادہ ترمسلم ممالک کی کرنسی بڑی حد تک گری ہوئی ہے تیل اورپٹرول کے قدرتی ذخائر کے علاوہ مسلم ممالک کے تیارکردہ پروڈکٹس عالمی مارکیٹ میں نظر نہیں آتے۔ یہی حال دفاع کا بھی ہے کہ دنیا کی آبادی کا چھٹا حصہ ہونے کے باوجود ان کے پاس دفاعی سازوسامان نہیں ہے اورامریکہ یا مغربی ممالک کے مقابلے میں وہ مجبور شخص بنے ہوئے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی مسلمانوں کا کوئی مقام نہیں ہے ۔ اگربات تحقیق وجستجو کی کریں تواس اعتبار سے بھی مسلمان بڑی حد تک پچھڑگئے ۔تعلیم جونوع انساں کے لئے انتہائی اہم ہے ‘زیادہ تر مسلمانوںمیں اس کا بھی فقدان ہے۔ 

اب سوال یہ ہے کہ رواں صدی میں مسلمانوں کو نازک حالات اورپسماندگی وانحطاط کے دائرے سے کیسے نجات دلائی جائے ۔ دوسرے یہ کہ کیسے انہیں ترقی کی راہ میں رواں دواں کیاجائے ۔ اگرچہ مختلف میدانوںمیں جذبات واستقلال کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ‘ البتہ ان میں تعلیم کی طرف توجہ کومرکوز کرنا سب سے اہم اوراولین تقاضہ ہے ‘لیکن تعلیم کے حصول کا مطلب یہ نہیں کہ اندھا دھند تحصیل علم کی طرف بڑھا جائے اورغیرمنظم اندازسے تعلیم حاصل کی جائے ‘بلکہ تعلیم کوبہترنظام اوراچھے طریقہ سے مسلمانوںمیں رواج دینے کی اشد ضرورت ہے ۔ 

تعلیمی خاکہ کے طورپر بنیادی طور سے تعلیم کودوحصوںمیں تقسیم کیاجاسکتاہے۔ اول ابتدائی تعلیم ‘دوم اعلیٰ تعلیم ۔ ابتدائی وبنیادی تعلیم میں ان مضامین کوشامل کیاجائے جوہر شخص کے لئے ضروری ہیں۔ مثلاً دینی تعلیم ‘ کیونکہ ہر صاحب ایمان کوپوری زندگی دینی تعلیم سے واسطہ پڑتاہے ۔ اس کا کوئی بھی دن بغیردین کے مکمل نہیں ہوتاہے ۔ اسی طرح بنیادی تعلیم میں ان عصری مضامین کوبھی شامل کیاجائے جوموجودہ حالات میں زندگی گزارنے کے لئے ضروری ہیں۔ مثلاً مادری وقومی زبانوں سے واقفیت‘ مادری زبان پرعبور اورقومی زبان سے اس قدرشناسائی کہ سرکاری اورقومی سطح کے معاملات کو انجام دیاجاسکے۔ دستاویزات کوپڑھ ‘ سمجھ سکے اور ضرورت کے مطابق لکھ سکے۔ ایک بین الاقوامی زبان بھی آئے تویہ بھی کیریئر کے لئے مفید ہے۔ کیونکہ یہ دورگلوبلائزیشن کا ہے ‘امپورٹ وایکسپورٹ کا زمانہ ہے ‘ اس لئے رابطہ کے طورپر کوئی بین الاقوامی زبان کا حصول بھی فائدے سے خالی نہیں ہے ۔ زبان کے علاوہ ”ریاضی “میں بھی ہرشخص کے لئے قدرے مہارت ضروری ہے ۔ اس کے علاوہ بقدرضرورت سائنس ‘جغرافیہ ‘ تاریخ اورطب جیسے علوم سے شناسائی بھی ضروری ہے ۔ 

اعلیٰ تعلیم میں ایسے تمام مضامین شامل ہونے چاہئیں ‘جووقت کی ضرورت ہوں اورجن کی بنیاد پربڑے پیمانہ پر خلق خدا کی خدمت انجام دی جاسکتی ہو۔ دینی لحاظ سے فقہ ‘ تفسیر ‘حدیث اوراسلامک اسٹڈیزر کے ایسے مراکزہوں‘جہاں سے متعد دمسلمان فقہا ‘ علما ء‘ مفسرین ‘ محدثین اوراسلامی اسکالرزبن کرنکلیں۔ تاکہ وہ اپنی اعلیٰ تعلیم کی بنیادپر بڑے پیمانہ پر دینی خدمات انجام د ے سکیں۔ عصری مضامین میں”انفارمیشن ٹیکنالوجی “ ‘ ” انجینئرنگ “ ‘ ” میڈیکل “اور دیگرپروفیشنل علوم پر خصوصی توجہ دی جائے ۔ 

انفارمیشن ٹیکنالوجی اس لئے ضروری ہے کہ موجودہ زمانہ میں آئی ٹی (I.T)کا جادو سرچڑھ کر بول رہا ہے ۔ انجینئرنگ میں بھی بہت سے شعبے ہیں‘میڈیکل میں ایم بی بی ایس ‘ایم ڈی اوردیگر مخصوص ڈگریوں کے حصول کی بھی تگ ودوکی جانی چاہئے ۔ علاوہ ازیں سیاسیات ‘سماجیات ‘نفسیات‘ریاضی ‘ سائنس اور تاریخ میں بھی اعلیٰ تعلیم ضروری ہے تاکہ جہا ں ان علوم کے حصول کے بعدمعاشیات میں استحکام آئے ‘وہیں دیگرلحاظ سے بھی ترقی ممکن ہو۔ ۲۱ویں صدی میں تعلیمی سطح پرکام کرنے کے لئے موجودہ تعلیمی خاکہ کوکامیابی کے ساتھ نافذ کردیاجائے تواگلی چنددہائیوں میں بڑی حصولیابی کی توقع کی جاسکتی ہے ۔ معاشرتی اورمعاشی سطح پربھی بیداری ضروری ہے ۔ جس قوم کی تہذیب ومعاشرت دم توڑدیتی ہے اس کی شناخت بھی گم ہوتی جاتی ہے ۔ اسی طر ح معاشی پسماندگی بھی بہت سے معاملات میں انسان کومجبور بنادیتی ہے ۔ اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ تعلیم کے ساتھ معاش اورتہذیب ومعاشرت پربھی پوری توجہ دیں۔ 

 

 

.