日本イスラーム研究所 Japan Islamic Research Institute


 http://fridayspecial.com.pk/18384

رپورٹ / میاں منیر احمد
بجلی کا بحران کتنا مصنوعی‘ کتنا اصلی

بجلی کا بحران… حکومت کی اولین ترجیح

 

بجلی کا بحران کتنا مصنوعی‘ کتنا اصلی

On Friday, May 31st, 2013

آج سے 16 سال قبل 1997ء کے عام انتخابات میں نوازشریف پہلی بار دو تہائی سے زائد اکثریت لے کر قومی اسمبلی میں پہنچے تھے تو انہوں نے اپنے اقتدار کے پہلے تیس دنوں میں قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد اُس وقت کے صدر فاروق لغاری سے ایک ملاقات میں کہا تھا کہ ملک میں بجلی کا بحران ان کی دو تہائی اکثریت کو کھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ میری حکومت صرف اور صرف واپڈا کے باعث ناکام ہوگی۔ یہ الگ بات ہے کہ اُس وقت نوازشریف واپڈا کے بجائے کارگل جنگ کے تنازع کی نذر ہوئے اور اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ واپڈا کی زبوں حالی کے باوجود نوازشریف اس وقت بھارت کو چینی کے ساتھ ساتھ بجلی بھی فروخت کرنے کے خواہش مند تھے۔ اُس وقت عالمی بینک نے پاکستان میں توانائی کے بحران سے متعلق ایک رپورٹ مرتب کی تھی جس میں اس بات کی نشان دہی کی گئی تھی کہ آئندہ بیس سال میں پاکستان توانائی کے بدترین بحران کا شکار ملک بن جائے گا۔ یہ رپورٹ عین اُس وقت منظرعام پر لائی گئی تھی جب نوازشریف حکومت بھارت کو ایک ہزار میگاواٹ بجلی فروخت کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھی۔ یہ رپورٹ فرائیڈے اسپیشل کے اُن دنوں کے شمارے میں بطور ریکارڈ دیکھی جاسکتی ہے۔ آج جب کہ نوازشریف ایک بار پھرواضح اکثریت کے ساتھ قومی اسمبلی میںپہنچے ہیں اور عوام نے انہیں بجلی کے بحران کے حل کے لیے ہی ووٹ دیئے ہیں، اگر وہ بجلی کا یہ حالیہ بحران حل کرگئے یا اس کے حل کی جانب قابلِ عمل پیش رفت کرنے میں بھی کامیاب رہے تو ان کی حکومت لوگوں کے اعتماد کے چاند کی چاندنی سے مستفید رہے گی، دوسری صورت میں ایک لمبی اندھیری رات ان کے سیاسی نصیب میں لکھ دی جائے گی۔
ملک میں بجلی کا بحران تو ایک عرصے سے ہے، مگر نگران حکومت کے آخری دو ہفتوں میں یہ بحران گمبھیر صورت اختیار کرگیا ہے۔ پورے ملک میں گرمی کے موسم کے باوجود بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ اسلام آباد میں طے شدہ اوقات کے علاوہ طویل وقفے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی گئی، اور یہ ابھی تک جاری ہے۔ ملک میں بجلی کا یہ بحران کئی پہلوئوں سے غور طلب ہے۔ یہ کس قدر مصنوعی ہے اور کس قدر اصلی ہے! سپریم کورٹ نے بھی اسے مصنوعی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر بدانتظامی پر قابو پالیا جائے تو یہ بحران حل ہوسکتا ہے۔ سپریم کورٹ کی یہ آبزرویشن بالکل درست ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق ملک میں بجلی کی ضرورت 17 سے 18 ہزار میگا واٹ ہے، جبکہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 23 سے 24 ہزار میگا واٹ ہے، یوں ہمارے پاس 6 ہزار میگاواٹ بجلی اضافی ہے جسے برآمد کرکے بھاری زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے، لیکن اس کے بجائے ملک 6 ہزار میگاواٹ کے شارٹ فال کا شکار ہے۔ اس پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں بجلی کی چوری روکی جائے، سرکاری ادارے بجلی کے بلوں کی ادائیگی ممکن بنائیں، بجلی گھروں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے پرانی مشینری تبدیل کی جائے اور ملک کے تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز میں پیپر بلز کے بجائے کمپیوٹر کارڈز والے میٹر لگائے جائیں تاکہ صارفین جتنی بجلی استعمال کریں ان سے اتنا ہی بل وصول کیا جائے۔ اس طرح میٹر ریڈرز کے ساتھ مک مکا کرکے زیادہ بجلی استعمال کرکے کم بل دینے کے تمام امکانات بھی ختم ہوجائیں گے۔
اس وقت مرکزی حکومت واپڈا کی 7 ارب روپے، چاروں صوبائی حکومتیں 80 ارب روپے، آزاد کشمیر حکومت 3 ارب روپے، عام صارفین 250 ارب روپے، اور کے ای ایس سی 23 ارب کے نادہندہ ہیں۔
وزارتِ پانی و بجلی کی ایک رپورٹ کے مطابق پیپلزپارٹی کے دور میں ملک میں 90 ارب روپے کی بجلی چوری کی گئی ہے اور گردشی قرضوں کی مالیت 872 ارب سے بھی بڑھ چکی ہے۔ یہ گردشی قرضوں میں مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس کی وجہ بجلی چوری اور دیگر انتظامی خرابیاں اور کمزوریاں ہیں۔ سبسڈی کی مد میں ملنے والی ہر ماہ کی 76 ارب روپے کی رقم کا غلط استعمال اور فرنس آئل کا بہت بڑی مقدار میں چوری ہوجانا بھی بجلی کے بحران کا ایک بنیادی سبب ہے۔ فرنس آئل چوری کرکے اس میں پانی ملاکر کم ہوجانے والی مقدار پوری کی جاتی ہے اور اس میں راکھ ملاکر اسے استعمال کے قابل بنانے کے لیے گاڑھا کیا جاتا ہے جس کے باعث بجلی گھروں کی مشینری بھی خراب ہوئی ہے۔ اس وقت جو سرکاری بجلی گھر خراب پڑے ہیں ان کی خرابی کا سبب بھی یہی ہے۔ اس پر مزید تماشا یہ ہورہا ہے کہ سبسڈی کی مد میں ملنے والی 76 ارب روپے کی خطیر رقم ہر ماہ واپڈا کے انتظامی امور کے اللے تللوں میں صرف کردی جاتی ہے اور اس کے بدلے عام صارفین کو کچھ نہیں ملتا۔ اس وقت بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کو روزانہ 17 ہزار ٹن تیل فراہم کیا جارہا ہے، جب کہ سابق وزیراعظم راجا پرویزاشرف نے روزانہ 22 ہزار ٹن آئل فراہم کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس پر عمل درآمد کیوں نہ ہوا؟ ممکن ہے کاغذوں میں تو 22 ہزار ٹن آئل ہی فراہم کیا جارہا ہو۔ اب کہا جارہا ہے کہ سعودی عرب سے تیل ملے گا۔ یہ بھی مل جائے تو بجلی کا بحران تین ماہ کے لیے ٹل سکتا ہے، حل نہیں ہوسکتا۔ بجلی کے بحران کے حل کے لیے نہایت سنجیدہ کوششوں اور فیصلوں پر عمل درآمد کی مسلسل مانیٹرنگ کی ضرورت ہے۔ بجلی کے لائن لاسز ہی کنٹرول کرلیے جائیں تو کسی حد تک مسئلہ کا حل نکل سکتا ہے۔ اس وقت لائن لاسز میں حیدر آباد سب سے آگے ہے، اس کے بعد ملتان اور کوئٹہ ہیں۔
بجلی کی پیداوار اور لاگت سے متعلق حقائق یہ ہیں کہ پن بجلی اس وقت سب سے سستی ہے، اس پر فی یونٹ ایک روپیہ چوّن پیسے لاگت آتی ہے، جب کہ کوئلے سے بجلی تیار کرنے پر فی یونٹ چار روپے پچاس پیسے، گیس کے ذریعے چھ روپے پچاس پیسے ، ڈیزل سے اکیس روپے لاگت آتی ہے۔ پن بجلی سستی ہونے کے باوجود کمیشن مافیا کے باعث اس پر توجہ نہیں دی جاتی۔ سرکار کی سرپرستی میں یہ مافیا بہت طاقت ور ہوچکا ہے، ملک کے تمام بڑے صنعت کار اس مافیا کا حصہ ہیں۔
بجلی کے نرخوں کا تعین کرنے کے لیے نیپرا کے اقدامات اور فیصلے سمجھ سے بالاتر ہیں۔ نیپرا پچاس یونٹ تک استعمال کرنے والے صارفین سے پن بجلی کی لاگت کے مطابق چارج کررہا ہے، اور اس سے زائد بجلی استعمال کرنے والوں کو تھرمل بجلی کی لاگت کے مطابق بل ادا کرنا پڑتے ہیں۔ پچاس یونٹ تک استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ سرکاری رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت بجلی کے بلوں سے حاصل ہونے والی رقم میں سے تیرہ ارب روپے ہر ماہ سرکاری بجلی گھروں کو فراہم کیے جارہے ہیں جو اس رقم سے چھ سو پچاس میگا واٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اگر دس ارب روپے نجی بجلی گھروں کو دئیے جائیں تو وہ بہتر مشینری کے باعث اسی رقم سے گیارہ سو پچاس میگا واٹ بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ملک میں 80 سے 800 میگا واٹ تک بجلی پیدا کرنے والے بہت سے بجلی گھر مشینری ناکارہ ہونے اور دیگر بد انتظامیوں کے باعث بند پڑے ہیں۔ ان بجلی گھروں کو درست کرکے مزید 23 فی صد بجلی حاصل کی جاسکتی ہے۔ پیپلزپارٹی نے اپنے پانچ سالوں کے دوران اس جانب بالکل بھی توجہ نہیں دی۔ جامشورو کا پلانٹ ایک ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے مگر اس سے دو سو پچاس میگا واٹ بجلی حاصل کی جارہی ہے ۔ یہی صورت حال گدو پاور پلانٹ کی ہے جس سے گیارہ سو میگا واٹ کے بجائے بہت کم بجلی حاصل کی جارہی ہے۔
ملک میں بجلی کے بحران کی وجوہات میں ایک وجہ آئی پی پیز کے ساتھ حکومت کے معاہدے ہیں جن میں لکھا گیا ہے کہ آئی پی پیز اپنی مینٹی نینس کے لیے حکومت سے ہی مالی وسائل حاصل کریں گے اور جو رقم حکومت دے گی اس کے بدلے تیس فی صد بجلی فراہم کریں گے، باقی رقم مینٹی نینس میں خرچ کی جائے گی۔ اس پر سپریم کورٹ نے دو نوں فریقوں کو اس معاملے کا ایک بار پھر ازسرنو جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے اور یہ بھی حکم دیا ہے کہ گھریلو اور کاروباری صارفین کو برابری کی بنیاد پر بجلی فراہم کی جائے۔ کے ای ایس سی کا معاملہ بھی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں زیربحث آیاہے۔ کمیٹی نے کے ای ایس سی کو 650 میگا واٹ بجلی کی اضافی فراہمی بندکرنے اور کنڈا مافیا کو لگام ڈالنے کی ہدایت کی ہے۔ اگلے روز کے ای ایس سی نے سینیٹ سیکرٹریٹ کو وضاحت بھجوائی کہ کے ای ایس سی ان اضافی میگا واٹ کے باعث کراچی کے علاوہ گھارو اور بلوچستان کے علاقوں کو بھی بجلی فراہم کررہی ہے۔ لیکن اس وضاحت میں کنڈا مافیا کے خلاف کارروائی کا کوئی ذکر تک نہیں تھا۔ کے ای ایس سی اور سوئی سدرن گیس کے مابین 48 ارب روپے کے باہمی واجبات کا تنازع بھی اسلام آباد پہنچا ہے۔ دو بد مست ہاتھیوں کے اس تنازع کے باعث اہلِ کراچی بجلی کے بدترین بحران کا شکار بنے ہوئے ہیں۔
گزشتہ ہفتے چین کے وزیر اعظم لی کی چیانگ پاکستان کے دو روزہ دورہ پر اسلام آباد پہنچے تھے، انہوں نے توانائی کے شعبے میں پاکستان کو تعاون فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ چین نے اس وقت سنکیانگ میں انرجی سٹی بنایا ہوا ہے جہاں وہ قریبی ہمسایہ ممالک کو بجلی فروخت کے منصوبوں پر عمل کررہا ہے اور پاکستان کو بھی اس نے پیش کش کی ہے۔ بجلی کے بحران کے حل کے لیے چین سے بڑی مقدار میں اب مشینری منگوائی جائے گی جو جون کے آخر تک پاکستان پہنچ جائے گی۔ لیکن لوڈشیڈنگ کے جن کو قابو میں لانے کے لیے اور بہت کچھ کرنا ہوگا۔
میاں منیر احمد