日本イスラーム研究所 Japan Islamic Research Institute


سائنس آف ہسٹری

تیسری قسط

قرآن ایک ایسی بات کہتا ہے جو فکر و نظر کی پوری کائنات کو اپنی طرف مرکوز کرلیتی ہے۔وہ کہتا ہے کہ یہ کچھ یونہی ہنگامی طور پر نہیں ہوتا بلکہ ہمارے قانونِ مکافات کی رو سے ہوتا ہے جسے نتیجہ خیز بنانے کیلئے یہ ساری کائنات مصروفِ گردش ہے۔ وما خلقنا السّمآءَ ولارض وما بینھما لٰعبین 21:11تا 16۔یہ کائنات اور یہ ارض و سماء کا سلسلہ ہم نے یونہی کھیل تماشا کے طور پر نہیں بنا دیا۔یہی عظیم کارگہ ایک خاص مقصد کیلئے مصروفِ تگ وتاز ہے۔اور وہ مقصد یہ ہے کہ دنیا میں کوئی عمل اپنا نتیجہ مرتب کئے بغیر نہ رہ سکے۔اور اس کے ایک آیت کے بعد وہ آیت ہے جسے پہلے بھی درج کیا جاچکا ہے یعنی بل نقذف بالحق علی الباطل فید مغہ فاذا ھو زاحق 21:18۔ یہ سلسلۂ کائنات اس لئے سرگرم ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں حق غالب رہے اور باطل کا سر کچلا جائے۔ لہٰذا قوموں کے عروج و زوال کیلئے جو قانون ہم نے مقرر کیا ہے وہ نتیجہ خیز ہوکر رہتا ہے۔اس کے راستے میں کوئی قوت مزاحم نہیں ہوسکتی۔غور کیجئے ! کہ قرآن نے قوموں کی تباہی اور بربادی کے متعلق دوسرا  کیااصول بیان کیا ہے؟اس نے کہاہے کہ جس نظام کی رو سے ایک طبقہ دوسرے طبقہ کی محنت پر عیش کی زندگی بسر کرے وہ نظام کبھی دیر پا نہیں ہوسکتا           ؎

تدبر کی فسوں سازی سے قائم رہ نہیں سکتا             جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایا داری ہے

نظامِ سرمایہ داری کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ ایک طبقہ محنت کرتا ہے اور دوسرا طبقہ ان کی محنت پر مفت میں عیش اڑاتا ہے؎

اُمّتے بر اُمّتے دیگر چرد                 دانہ ایں  می کارد،آں حاصل برُد

اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایک طبقہ دولت کو سمیٹ کر اپنے لئے مخصوص کئے جاتا ہے اور اسے نوعِ انسانی کی نشو ونما کیلئے کھلا نہیں رکھتا۔قرآن کی اصطلاح میں اسے بخل کہتے ہیں۔قرآن کا کہنا یہ ہے کہ جو نظام بخل کے نظریہ کو دلیلِ راہ بنائے اس کی حامل قوم  کبھی زندہ و پائندہ نہیں رہ سکتی۔اسے مٹا دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ دوسری قوم لے لیتی ہے۔سورۃ محمد میں ہے ھٰٓانتم ھٰٓؤلآءِ تدعوب لتنفقوا فی سبیل اللہ، فمنکم مّن یّبخل ۔سن رکھو کہ تمہاری کیفیت کیا ہے؟ تم وہ لوگ ہو کہ  تمہیں کہا جاتا ہے کہ تم اپنا نظام ایسا رکھو جس میں تمہاری محنت کا ماحصل نوعِ انسانی کی فلاح و بہبود کیلئے اس طرح کھلا رہے کہ تم اس کے معاوضے میں کسی سے کچھ لینے کے طلبگار نہ ہو۔لیکن تم میں ایسی ذہنیت رکھنے والے پیدا ہوجاتے ہیں جو سب کچھ سمیٹ کر اپنے لئے رکھنا چاہتے ہیں۔یاد رکھو! ومن یّبخل فانّما یبخل عن نّفسہِ۔جو شخص دوسروں کو مال و دولت سے محروم رکھتا ہے وہ در حقیقت اپنی ذات کو سعادتوں اور کامرانیوں سے محروم رکھتا ہے۔اس سے اللہ کا کچھ  نہیں بگڑتا۔واللہ الغنی وانتم الفقرآءُ ۔اللہ تمہارے مال و دولت سے بے نیاز ہے اور تم اپنی نشو ونما کیلئے اس کے محتاج ہو۔بہرحال اسے اچھی طرح سن رکھو کہ  و ان تتولّوا یستبدل قوماً غیر کم۔ اگر تم نے حق کے نظام سے منہ موڑ کر غلط روش اختیار کرلی تو وہ تمہاری جگہ دوسری قوم لے آئے گا۔ثمّ لا یکونوٓا امثالکم 47:38۔ اور وہ قوم تمہارے جیسی نہیں ہوگی۔دیکھئے کہ آیت کے آخری ٹکڑے میں قرآن نے کتنی گہری بات کہہ دی ہے؟ اس نے کہا یہ ہے کہ قوموں کی ادلا بدلی یونہی اندھا دھند نہیں ہوجاتی کہ ایک قوم مٹادی جاتی ہے اور اس کی جگہ اس جیسی ایک اور قوم آجاتی ہے۔اگر اس کی جگہ اس جیسی قوم نے آنا ہو تو پہلی قوم کو مٹایا  ہی کیوں جائے؟ محض تبدیلی کی خاطر تبدیلی(چینج فار سیک آف چینج) می نسزد خداے را(اللہ کے شایانِ شان نہیں)۔ ایک قوم مٹتی ہی اس وقت ہے جب اس میں باقی رہنے کی صلاحیت نہیں رہتی۔لہٰذا اس کی جگہ وہی قوم آسکتی ہے جس میں زندہ رہنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیت ہو۔یہاں گردشِ دلابی نہیں کہ ایک کلچر نے کچھ وقت کے بعد مٹنا ہے اور اس کی جگہ دوسرے کلچر نے لینی ہے خواہ  یہ دوسرا کلچر اس سے پہلے کلچر جیسا یا اس سے بدتر ہی کیوں نہ ہو۔یہاں حق  وباطل کی کشمکش ہے۔مٹتی وہ قوم ہے جو حق پر  نہ رہے۔اور اس کی جگہ آتی وہ قوم ہے جو اس کے مقابلہ میں حق پر ہو۔ یہ ہیں معنی  ثمّ لایکونو ٓا امثالکم کے۔یعنی وہ قوم تمہارے کلچر  کی حامل نہیں ہوگی۔اس کے بعد قرآن ایک ایسی حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ نگۂ بصیرت جوں جوں اس پر غور کرتی ہے، وجد و مسرت سے جھوم اٹھتی ہے۔اس لئے کہ اس میں قوموں کی موت و حیات کا ایک ایسا راز پوشیدہ ہے جس تک بہت کم نگاہیں پہنچتی ہیں۔دنیا میں ہر پروگرام کے دو حصے ہوتے ہیں۔پہلا حصہ پلان اور اسکیم کا حصہ ہے۔اس میں پروگرام کے مختلف پہلوؤں پر فکری طور پر غور کیا جاتا ہے۔اس کے مالہُ و ماعلیہ(پروز اینڈ کانز) کو سامنے لایا جاتا ہے۔اس کی عملی تشکیل کے مختلف نقشے بنائے جاتے ہیں۔اس پر پوری پوری بحث و تمحیص کی جاتی ہے۔ظاہر ہے کہ یہ حصہ محض لفظوں اور باتوں، کاغذوں اور لکیروں پر مشتمل ہوتا ہے۔لیکن اس پروگرام کی تکمیل کیلئے یہ ہوتا ہے  نہایت ضروری۔جب اس حصہ کی تکمیل ہو جاتی  ہے، تو پھر اس پروگرام کا عملی پہلو شروع ہوجاتا ہے اور جو چیزیں اس وقت تک باتوں اور لفظوں تک محدود تھیں وہ اب رفتہ رفتہ محسوس پیکروں میں سامنے آنے لگ جاتی ہیں۔جو قوم اس طرح پروگرام بناتی  اور انہیں تکمیل تک پہنچاتی ہے وہ کامیاب و کامران رہتی ہے لیکن اگر کوئی قوم ساری عمر اسکیمیں ہی بناتی رہے۔تمام وقت سوچنےمیں ہی صرف کردے۔زندگی بھر باتیں ہی کرتی رہے اور عملاً ایک قدم نہ اٹھائے وہ قوم تباہ و برباد ہو کر رہتی ہے۔خواہ اس کی فکر کتنی ہی ثریا بوس  اور اس کی نگاہ کیسی ہی فلک رس کیوں نہ ہو۔بالفاظِ دیگر قومیں محض فلسفے کے سہارے زندہ نہیں رہ سکتیں۔زندگی عمل سے بنتی ہے۔فلسفہ، فکری صلاحیتوں کو جلا دیتا ہے تاکہ ان سے عمل کی راہیں روشن ہو جائیں۔لیکن اگر کوئی قوم محض فلسفی بن کر رہ جائے اور عمل کیلئے کوئی قدم نہ اٹھائے تو اس کی مثال اس راہ گزر کی سی ہوگی جو راستہ چلنے کیلئے شمع تو روشن کرے لیکن اس شمع کو لے کر اپنی کوٹھری میں بیٹھا رہے۔ظاہر ہے کہ یہ مسافر عمر بھر اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکے گا اور اس کی لالٹین کا تیل بھی بیکار جلے گا۔ جو قومیں عمل سے بیگانہ ہو جائیں ان کے مفکرین کی فکر، مابعدالطبیعاتی مسائل(میٹا فیزیکل پرابلم ز) کے حل کرنے۔ میں دماغ سوزی کرتے رہتے ہیں اور ان کے لیڈر اسکمیں بنانے میں مصروف اوربیانات دینے اور تقریریں کرنے میں مشغول رہتے ہیں۔اور دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے کارہائے نمایاں سر انجام دے رہے ہیں۔حالانکہ نہ ان مفکرین کی فکر، اور نہ ان لیڈروں کے الفاظ قوم کو تباہی سے بچا سکتے ہیں جو قومی زندگی کے عملی مسائل کی طرف سے آنکھیں بند کرکے نظری مباحث میں الجھ کر رہ جاتی ہے،اس کی موت یقینی ہے۔اسی لئے اقبالؒ نے کہا ہے کہ ؎

اگر نہ سہل ہوں تجھ پر زمیں کے ہنگامے              بُری ہے مستئ اندیشہ ہائے افلاکی

قرآن نے اسے خوض سے تعبیر کیا ہے۔جس کے معنی ہیں بیکار باتوں میں الجھنا۔یونہی نظری طور پر مسائل کی گہرائیوں میں اترنا۔

باقی انشاء اللہ آئندہ

--
Mission of Global-Right-Path is to Educate Muslim Ummah in the light of the Quraan and Authentic Hadeeth, to face all the internal and external challenges, as well as to become a Great Revolutionized Leader to work for Global Revolution to serve the humanity in a balanced way to stabilize the Global World.
http://global-right-path.net16.net
.
Spiritual Doctors are Treating Spiritual Patients, so Please be Patience.
Change yourself according to the Quraan, NOT reverse.
You received this message because you are subscribed to the Google
Groups "Global-Right-Path" group.
To post to this group, send email to
global-right-path@googlegroups.com
To unsubscribe from this group, send email to
global-right-path+unsubscribe@googlegroups.com
For more options, visit this group at
http://groups.google.ca/group/global-right-path
http://global-right-path.net16.net
.
What will be Your Answer, if Allah will Question on the Day-of-Judgment, because of rejecting the Quraanic Messages ?????
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Global-Right-Path" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to global-right-path+unsubscribe@googlegroups.com.
To post to this group, send email to global-right-path@googlegroups.com.
For more options, visit https://groups.google.com/groups/opt_out.

سائنس آف ہسٹری

دوسری قسط

سب سے پہلے قرآن یہ کہتا ہے کہ جو کلچر، انسانی زندگی کو حیوانی سطح(اینیمل لیول) ہی پر رکھتا ہے ، اسے کبھی ثبات و بقا نصیب نہیں ہوسکتی۔وہ 

کلچر باطل کا حامل ہے۔قرآن کی رو سے، انسان اور حیوان میں اتنا ہی فرق نہیں کہ انسان، سلسلۂ ارتقاء میں حیوان سے اگلی کڑی ہے۔وہ یہ کہتا ہے کہ انسان کی سطح پر پہنچ کر، زندگی ایسے نئے امتیازات کی حامل ہوجاتی ہے جو حیوانی سطح پر قطعاً موجود نہیں ہوتے۔انہی امتیازات کانام شرفِ انسانیت ہے اور انہی کی نشو ونما مقصودِ حیات۔ہمارے دور میں اس نظریۂ زندگی کو جو انسانی زندگی کو محض حیوانی زندگی کی ایک بڑھی ہوئی شکل قرار دیتا ہے مادی نظریۂ زندگی (میٹیرئیلسکٹک کانسپٹ آف لائف) کی اصطلاح سے تعبیر کیا جاتا ہے۔قرآن کہتا ہے کہ اس نظریہ کی حامل قومیں، خواہ کتنی ہی قوت اور ساز و سامان کیوں نہ جمع کر لیں، کامیاب و کامران نہیں ہوسکتیں۔ سورۂ محمدؐ میں ہے افلم یسیروا فی الارض فینظر وا کیف کان عاقبۃ الّذین من قبلھم، کیا ان لوگوں نے دنیا میں چل پھر کر  دیکھا نہیں کہ ان قوموں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں؟قرآن تاریخی نوشتوں کے مطالعے پر کس قدر زور دیتا ہے اور اس مطالعہ کو کس طرح ایک سائنس کی حیثیت دیتا ہے۔یعنی اس نے آگے چل کر جو اصول بیان کرنا ہے اس کی صداقت کے لئے وہ اقوامِ سابقہ کی تاریخ کو بطور شہادت پیش کرتا ہے۔ان اقوام کے متعلق وہ کہتا ہے کہ دمّرا للہ علیھم ، قانونِ الٰہیہ نے انہیں تباہ برباد کردیا۔اس کے بعد ہے وللکافرین امثالھا۔ اقوامِ سابقہ کی جس تباہی و بربادی کا ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق یہ نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ یہ  محض ماضی کی داستانیں ہیں جنہیں قصے کہانیوں کی طرح دہرایا جارہا ہے اور ہم سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔یہ چیز بطور اصول بیان کی جارہی ہے کہ جن اقوام نے حق کی روش سے انکار کیا ان کا حشر یہ ہوا۔لہٰذا اب بھی جو قوم اس قسم کی روش اختیار کریگی اس کا انجام ایسا ہی ہوگا۔ذٰلک بانّ اللہ مولی الّذین اٰمنوا و انّ الکافرین لا مولیٰ لھم،یہ اس لئے کہ کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے دھاندلی سے نہیں ہوتا۔یہاں سب کچھ قاعدے اور قانون کے مطابق ہوتا ہے۔سو جو قوم اللہ کے مقرر کردہ قانون کے مطابق زندگی بسر کرتی ہے، اس کی اس روش کے نتائج اس کے پشت پناہ بن جاتے ہیں۔لیکن جو قوم اس قانون سے انکار کرکے کوئی دوسری روش اختیار کرتی ہے تو اس کا محافظ و کارساز کوئی نہیں ہوسکتا۔یہ ایک محکم اصول ہے جو شروع سے چلاآتا ہے اور آج بھی اسی طرح کار فرما ہے ۔اسی اصول کے مطابق انّ اللہ یدخل الّذین اٰمنو و عملوالصّٰلحٰت جنّٰتٍ تجری من تحتھا الانھار، جو لوگ اس قانون کی صداقت پر یقین رکھتے ہیں اور اس کے متعین کردہ صلاحیت بخش پروگرام پر عمل پیرا ہوتے ہیں وہ شاد کامیوں اور کامرانیوں کی سدا بہار جنّتی زندگی  بسر کرتے ہیں۔اس کے بر عکس والذّین کفروا یتمتّعون و یا کلون کما تاکل الانعام وا لنّار مثوًی لّھم، جو لوگ اس قانون کی صداقت سے انکار کرتے ہیں ان کی زندگی حیوانی سطح پر ہوتی ہے جس میں مقصودِ حیات کھانا، پینا اور طبعی زندگی  پوری  کرکے مرجانا ہوتا ہے۔اس روش ِ زندگی اور نظریۂ حیات کا انجام تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ان لوگوں کا خیال یہ ہوتا ہے کہ اگر ہم بہت سی قوت اور جمعیت اکٹھی کرلیں گے تو ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔یہ ان کی خام خیالی ہے۔انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ و کاین مّن قریۃٍ ھی اشدّ قوّۃً مّن قریتک الّتی اخرجتک اھلکنٰھم فلا ناصر لھم47:10 تا 13۔کتنی ہی قومیں ان سے پہلے ایسی گزر چکی ہیں جن کے پاس ان(موجودہ) لوگوں سے جنہوں نے اے رسولؐ! تجھے تیرے وطن سے نکال دیا ہے کہیں زیادہ قوت تھی۔ہمارے قانونِ مکافات نے انہیں ہلاک کردیا اور ان کا کوئی ایسا حامی و مددگار نہ نکلا جو انہیں اس تباہی سے بچا سکتا۔سو جب ان کا حشر یہ ہوا تو ان کا انجام بھی ایسا ہی ہوگا۔یہ ہو نہیں سکتا کہ غلط روش ، سابقہ زمانہ میں تو تباہی و بربادی پر منتج ہو اور وہی روش اس زمانہ میں کامیابی و کامرانی عطا کردے۔جس تصورِ حیات کی رو سے یہ سمجھ لیا جائے کہ انسانی زندگی محض حیوانوں کی طرح طبعی زندگی ہے اور اس کے سامنے خورد نوش سے بلند کوئی  مقصد نہیں اس تصور(کلچر) کو بقا اور دوام نصیب نہیں ہوسکتا اور جو معاشرہ ان خطوط پر متشکل ہو اس میں انسان کبھی امن و سکون کی زندگی بسر نہیں کر سکتا۔انسانی سطح پر زندگی کے معنی ہیں کہ  انسان کے سامنے زندگی کی مستقل اقدار ہوں اور ان کا حصول اس کا نصب العین ِ حیات ۔یہی وہ اقدار ہیں جن کے حصول سے انسان طبعی موت سے بھی مر نہیں سکتا بلکہ حیاتِ جاوید حاصل کرسکتا ہے۔

قرآن نے دوسرا اصول یہ بتایا ہے کہ جس نظام میں حالت یہ ہو کو معاشرہ میں نچلا طبقہ دن رات محنت کرکے پیدا کرے اور اوپر کا طبقہ ان کی محنت  پرمفت میں عیش اڑائے وہ نظام کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔حق پر مبنی نظام میں کبھی یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک (محنت کش) طبقہ کے خون کی رنگینی دوسرے (بیکار) طبقہ کی عشرت گاہوں کی تزئین و آرائش میں صرف ہو۔سورۃ انبیاء میں ہے۔وکم قصمنا من قریۃٍ کانت ظالمۃً وّ انشانا بعد ھا قوماً اٰخرین۔کتنی ہی قومیں ایسی گزری ہیں کہ ہمارے قانونِ مکافات نے انہیں ان کی زیادتیوں کی وجہ سے تباہ کر دیا اور ان کی جگہ اور قوموں نے لے لی۔چنانچہ ان کے ساتھ ہوا یہ کہ  فلمّا احسّوا باسنآ اذا ھم مّنھا یر کضون۔جب انہوں نے محسوس کیا (یعنی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا) کہ عذاب سامنے آرہا ہے تو وہ اس سے بھاگنے لگے۔موضوع کے تسلسل کا تقاضہ ہے کہ اس سے اگلی آیت فوراً سامنے لے آئی جائے۔لیکن اس آیت میں ایک نکتہ ایساہے کہ جس کی وضاحت کے بغیر آگے بڑھا نہیں جاسکتا۔ یہ آیت ہے فلمّا احسّوا با سنآ۔جب انہوں نے محسوس کر لیا کہ ہمارا عذاب آرہا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب تو بہت پہلے سے آرہا تھا لیکن وہ ابھی محسوس شکل میں ان کے سامنے نمودار نہیں ہوا تھا۔ وہ ان کے حواس(سینس پر سیپشن) کی زد میں نہیں آیا تھا۔وہ ابھی غیر مرئی شکل میں مرتب ہورہا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ ہر عمل کا نتیجہ مرتب ہونا تو اسی وقت شروع ہوجاتا ہے جب وہ عمل سرزد ہو ۔ لیکن یہ نتیجہ اپنے ابتدائی مراحل میں غیر محسوس اور غیر مرئی ہوتا ہے اور انسان سمجھتا  نہیں کہ اس عمل کا نتیجہ مرتب ہورہا ہے۔یہ بات اس کی سمجھ میں اس وقت آتی ہے جب وہ محسوس شکل میں سامنے آجاتا ہے۔عمل کے ارتکاب اور اس کے نتیجہ کے محسوس شکل میں سامنے آنے کے درمیانی وقفہ کو اجل یا معیاد کہتے ہیں۔اس کو مہلت کا وقفہ بھی کہا جاتا ہے۔غلط نظام کی حامل قومیں، اپنی عقل و فکر اور تدبر و سیاست کی ر و سے ان تمام دروازوں، کھڑکیوں ، روشندانوں اور رخنوں کو بند کرلیتی ہیں ، جن کے راستے(وہ سمجھتی ہیں کہ ) تباہی آسکتی ہے۔اور جب اس طرح سے تباہی فوراً سامنے نہیں آتی تو وہ مطمئن ہوجاتی ہیں کہ ہمارا انتظام بڑا محکم اور فول پروف ہے۔لیکن اللہ کا قانون ان کی غلط روش کے تباہ کن نتائج کو آہستہ آہستہ ، بتدریج ان راستوں سے لے آتا ہے جو ان کے فہم و شعور میں بھی نہیں آسکتے۔سنستدرجھم مّن حیث لا یعلمون7:182۔ اور وہ اس وقت دیکھ پاتے ہیں جب وہ محسوس شکل میں ان کے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔یہ مطلب ہے فلمّا احسّوا باسنا کا۔ بہر حال قرآن کہہ رہا تھا کہ جب ان لوگوں کے سامنے ہمارا عذاب محسوس شکل میں آگیا تو وہ لگے بھاگنے۔لیکن ہمارے قانونِ مکافات نے انہیں آواز دی کہ لا ترکضو ۔مت بھاگو۔کھڑے ہوجاؤ۔رکو۔تھمو۔تم بھاگ کر جا کہاں رہے ہو؟  وارجعوٓا الیٰ مآ اترفتم فیہ و مساکنکم۔ رکو اور لوٹ کر وہیں چلو جہاں تم نے اپنی عیش و عشرت کے سامان جمع کر رکھے تھے اور غریبوں کی کمائی سے بڑے بڑے ذی شان محلات تعمیر کر رکھے تھے ۔چلولوٹ کر وہیں چلو۔لعلکم تسئلون۔تاکہ تم سے پوچھا جائے کہ تم نے یہ چیزیں دوسروں کی کمائی سے کیسے بنا لیں؟تمہیں اس کا حق کیسے پہنچتا تھا؟غور کیجئے قرآن نے کیا بات کہہ دی ہے۔غلط نظام میں اوپر کا طبقہ سمجھتا  یہ ہے کہ ہم جو کچھ جی چاہے کریں، ہمیں کوئی  پوچھنے والا نہیں۔ اول  تو وہ اپنے آپ کو قانون کی زد سے باہر سمجھتے ہیں؛ وہ ایسی تدابیر اختیار کرتے رہتے ہیں جن سے وہ قانون کی گرفت میں آہی  نہ سکیں۔اور اگر کہیں ایسا ممکن نہ ہو تو وہ قانون ہی ایسا بنا لیتے ہیں جس کی رو سے وہ سب کچھ جائز قرار پا جائے جو  کچھ وہ کرتے ہیں۔الذّین یبخلون و یامرون النّاس بالبخل 4:37۔ چنانچہ نظامِ سرمایہ داری میں یہی کچھ ہوتا ہے کہ اوپر کا طبقہ اس قسم کے قوانین بنا لیتا ہے کہ وسائل پیداوار پر انفرادی ملکیت بے حد  ونہایت ، اَن لمیٹڈ، جائز ہے۔ دوسری طرف وہ اربابِ شریعت کو اپنے ساتھ ملا لیتا ہے اور وہ فتوے دیدیتے ہیں کہ اس قسم کی ذاتی ملکیت پر حد بندی عائد کرنا مداخلت فی الدّین ہے۔اس طرح یہ سب کچھ شرعاً جائز قرار پا جاتا ہے اور اس کے متعلق ان سے کچھ پوچھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔لیکن قرآن کہتا ہے کہ ان حیلوں اور بہانوں ، ان روباہ بازیوں اور دسیسہ کاریوں ، ان اللہ فریبیوں اور خود فراموشیوں سے تم اللہ کے قانونِ مکافات کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ان سے تم اس "خطرے" سے محفوظ نہیں ہوسکتے کہ اگر کسی نے پوچھ لیا تو اس کا کیا جواب دینگے۔اللہ کا قانون تو پائی پائی کا حساب لے لے گا۔جب " تم جہنم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے"۔(لترون الجحیم) تو اس وقت لتسئلنّ یومئذٍ عن النّعیم 102:8۔ تم سے ہر نعمت کے متعلق پوچھا جائے گا کہ وہ کیسے حاصل کی گئی تھی اور کہاں صرف  ہوئی تھی۔ اس وضاحت کے بعد پھر اصل آیت کی طرف لوٹتے ہیں۔قرآن کہتا ہے کہ جب ان قوموں کی طرف تباہی کا عذاب آیا۔اور وہ اسے دیکھ کر بھاگنے لگے تو ہمارے قانون نے انہیں للکارا اور کہا کہ رک جاؤ اور لوٹ کر اپنے عشرت کدوں کی طرف چلو تاکہ تم سے پوچھا جائے کہ ان پر تمہارا کیا حق تھا۔اس کے بعد ہے قالو یٰویلنا انّا کنّا ظٰلمین۔ اس کے جواب میں انہوں نے (بزبانِ حال کہاکہ) حقیقت یہ ہے کہ ہم واقعی زیادتی کیا کرتے تھے۔دوسرے کے حق پر غاصبانہ قبضہ جما لیا کرتے تھے اور یہ تباہی اسی وجہ سے آئی ہے فما زالت تلک دعوٰ ھم حتّیٰ جعلنٰھم حصیداً خامدین۔لیکن اس وقت ان کے اس اعتراف اور اقرار سے کچھ حاصل نہ ہوا۔وہ یہ کہتے رہے اور ہمارا قانون انہیں تباہ و برباد کرتا رہا تاآنکہ وہ ایسے ہوگئے جیسے کوئی کٹا ہؤا کھیت یا بجھا ہؤا انگارہ ہو۔

باقی آئندہ انشاء اللہ 

--
Mission of Global-Right-Path is to Educate Muslim Ummah in the light of the Quraan and Authentic Hadeeth, to face all the internal and external challenges, as well as to become a Great Revolutionized Leader to work for Global Revolution to serve the humanity in a balanced way to stabilize the Global World.
http://global-right-path.net16.net
.
Spiritual Doctors are Treating Spiritual Patients, so Please be Patience.
Change yourself according to the Quraan, NOT reverse.
You received this message because you are subscribed to the Google
Groups "Global-Right-Path" group.
To post to this group, send email to
global-right-path@googlegroups.com
To unsubscribe from this group, send email to
global-right-path+unsubscribe@googlegroups.com
For more options, visit this group at
http://groups.google.ca/group/global-right-path
http://global-right-path.net16.net
.
What will be Your Answer, if Allah will Question on the Day-of-Judgment, because of rejecting the Quraanic Messages ?????
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Global-Right-Path" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to global-right-path+unsubscribe@googlegroups.com.
To post to this group, send email to global-right-path@googlegroups.com.
For more options, visit https://groups.google.com/groups/opt_out.