日本イスラーム研究所 Japan Islamic Research Institute


 

Also please visit my another website for some new materials:  http://www.ourquran.net  (Under Construction) 

Pervaiz Musharraf imposed Martial Law in Pakistan.

 This crime is tried as treason against Pakistan Constitution. Other military dictators like Ayub Khan, Yahya Khan and Zia-ul-Haq also abrogated Constitution. But they were somehow saved from the disgrace and dishonor, which Musharraf is undergoing now as an accused behind bars.

 This offense may lead to his Death Sentence.

It maybe because of his greater crime of TREASON against Allah.

He abolished 29-year old Islamic Laws, known as Hudood Laws.

Quran calls it an act of treason against the Almighty.

For details, please read my booklet on the link below:

http://www.japanislamicfoundation.com/hudoodbk8.pdf

http://www.japanislamicfoundation.com/hudoodbk8.pdf

 

TAZATAREEN
 
 
 
 
 
 
intro image
article image
 

E-mail This Page
Print This Page

 
 
 
 
FOOTER.gif
   

 

TAZATAREEN
 
 
 
 
 
 
intro image
article image
 

E-mail This Page
Print This Page

 
 
 
 
FOOTER.gif
   

 

TAZATAREEN
 
 
 
 
 
 
intro image
article image
 

E-mail This Page
Print This Page

 
 
 
 
FOOTER.gif
   

 

مشرف تیرا شکریہ...قلم کمان …حامد میر
 
کئی قانونی ماہرین اسے قومی مجرم قرار دیتے ہیں لیکن مجھ ناچیز کی رائے میں وہ اب پاکستانی قوم کا محسن بن چکا ہے۔ یہ درست ہے کہ31جولائی2009ء کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو آئین توڑنے کا مجرم قرار دیا۔ آئین کی دفعہ چھ کے تحت آئین توڑنے والا غدار ہے اور غداری کا مقدمہ سپریم کورٹ نہیں چلاتی بلکہ وفاقی حکومت چلاتی ہے۔ یہ مقدمہ چلانے کی ذمہ داری صدر آصف علی زرداری اور ان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی تھی۔ دونوں نے یہ مقدمہ چلانے میں کوئی دلچسپی نہیں لی کیونکہ مشرف کی سابقہ اتحادی جماعتیں مسلم لیگ(ق) اور متحدہ قومی موومنٹ اب پیپلز پارٹی کی اتحادی بن چکی تھیں۔2010 ء میں پرویز مشرف نے لندن میں آل پاکستان مسلم لیگ کے نام سے ایک سیاسی جماعت قائم کرلی۔2012ء میں انہوں نے پاکستان واپسی کااعلان کیا تو سینیٹ میں ایک متفقہ قرار دادمنظور کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس قرار داد کو نظر انداز کردیا۔ شاید پیپلز پارٹی کی قیادت اس قومی مفاہمتی آرڈی ننس(این آر او) پر کاربند تھی جسے سپریم کورٹ نے16دسمبر 2009ء کو غیر موثر قرار دیدیا تھا۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ بدترین آرڈیننس پرویز مشرف کے دستخطوں سے جاری ہوا تھا جس کے ذریعہ کرپشن کو قانونی تحفظ دیا گیا تھا۔ جتنا عرصہ پیپلز پارٹی کی حکومت رہی مشرف پاکستان نہیں آئے۔ جیسے ہی نگران حکومت قائم ہوئی تو مشرف پاکستان آدھمکے۔ کراچی ائیر پورٹ پر چند درجن لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ سندھ ہائی کورٹ سے انہوں نے عبوری ضمانت کرائی اور بڑے آرام سے اسلام آباد آگئے۔ وہ کئی مقدمات میں مطلوب تھے، مفرور بھی تھے اور اشتہاری بھی قرار دئیے جاچکے تھے لیکن کسی پولیس والے نے ان سے تفتیش کی جرات نہ کی اور نہ ہی گرفتاری کے لئے ان کے فارم ہاؤس کا دروازہ کھٹکھٹانے کی کوئی کوشش کی۔پرویز مشرف نے بڑے اطمینان سے قومی اسمبلی کے چار حلقوں سے الیکشن لڑنے کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ یہ وہ دن تھے جب میڈیا اور عدالتیں سیاستدانوں کا آپریشن کلین اپ کررہی تھیں۔ کسی نے پرویز مشرف سے یہ نہیں پوچھا کہ جناب آپ کو سپریم کورٹ نے آئین توڑنے کا مجرم قرار دیا ہے آپ نے بطور آرمی چیف اپنا حلف توڑا آپ الیکشن کیسے لڑسکتے ہیں؟ جب یہ سوال اٹھا تو تین حلقوں سے ان کے کاغذات مسترد ہوگئے لیکن چترال سے منظور ہوگئے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مجھے احساس ہوا کہ شاید کراچی، قصور اور اسلام آباد کا قانون چترال سے مختلف ہے۔ بعدازاں چترال سے بھی مسترد ہوگئے۔ پرویز مشرف کی بدولت ہمارے نظام میں موجود تضادات کھل کر سامنے آرہے تھے اور میں دل ہی دل میں مشرف کو داد دے رہا تھا اگر وہ واپس نہ آتے تو شاید یہ تضادات بھی سامنے نہ آتے۔ وہ میرے مجرم بھی تھے اور محسن بھی۔
پھر وہ دن آیا جب پرویز مشرف ججوں کی نظر بندی کے کیس میں اپنی ضمانت کرانے کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے۔ عدالت نے ان کی درخواست ضمانت مسترد کردی اور گرفتاری کا حکم دیا۔ عدالت میں موجود کسی پولیس افسر نے مشرف کو گرفتار نہیں کیا بلکہ وہ بڑے آرام سے اپنے ذاتی محافظوں کے ساتھ اپنے فارم ہاؤس واپس پہنچ گئے۔ جب قانون ایک سابق فوجی ڈکٹیٹر کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا تو وکلاء میں اشتعال پیدا ہوا۔ وکلاء نے عدالتوں میں مشرف کے حامیوں کے ساتھ مار پیٹ شروع کردی جو نہیں کرنی چاہئے تھی۔ یہ پہلو قابل غور ہے کہ وکلاء کے رویے میں شدت اس وقت پیدا ہوئی جب انہوں نے دیکھا کہ مشرف کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک نہیں کیا جارہا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے تحریری حکم میں مشرف کی گرفتاری پر اصرار کیا اور ان کے خلاف مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل کردیں تو پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔ انہیں ایک رات پولیس لائنز میں رکھا اگلے دن ان کے فارم ہاؤس کو سب جیل قرار دیدیا گیا۔ ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ پاکستان میں منتخب وزرائے اعظم اور عوام کے مسترد شدہ ڈکٹیٹر کے لئے قانون مختلف ہے۔ ذرا اپنی تاریخ میں جھانکئے ،پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی کتاب”اگر مجھے قتل کردیا گیا“ پڑھئے جو بھٹو نے راولپنڈی جیل کی کال کوٹھڑی میں لکھی تھی۔ اس جیل کی سیکورٹی کرنل رفیع الدین کے ذمہ تھی۔ کرنل رفیع الدین کی کتاب”بھٹو کے آخری 323دن“ پڑھئے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ ہم نے اپنے ایٹمی پروگرام کے بانی کے ساتھ جیل میں کیا سلوک کیا تھا۔بھٹو کو عدالتوں میں تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ بھٹو کے ذاتی دشمن جسٹس انوارالحق کو چیف جسٹس بنا کر انہیں قتل کے ایک ایسے مقدمے میں پھانسی دیدی گئی جس کی کسی نچلی عدالت میں کبھی سماعت نہ ہوئی تھی۔ ان کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو کو پولیس نے سر میں لاٹھیاں ماریں۔ بینظیر بھٹو کو سکھر جیل میں ڈالا گیا۔
بھٹو کے ساتھ جو ہوا یہ 1977ء اور1979ء کے درمیان ہوا، پھر1999ء میں نواز شریف کے ساتھ کیا ہوا؟ آرمی چیف کو آئینی طریقے سے برخاست کیا گیا لیکن اس کے ساتھی چھڑیاں گھماتے ہوئے وزیر اعظم ہاؤس میں داخل ہوئے اور نواز شریف کو گرفتار کرلیا۔ ان کے بھائی شہباز شریف اور بیٹے حسین نواز سمیت کئی عزیزوں اور ساتھیوں کو قید تنہائی میں رکھا گیا۔ پہلے نواز شریف کو راولپنڈی کے کور ہیڈ کوارٹر میں بند کیا گیا، پھر مری لے جایا گیا، پھر کراچی اور پھر اٹک قلعے میں ڈال دیا گیا۔ شہباز شریف کو ان کے بھائی کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش ہوئی لیکن وہ ڈٹے رہے۔ حسین نواز کا کچھ اتہ پتہ نہ تھا۔ آخر کار بیگم کلثوم نواز نے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی اور کئی ہفتوں کے بعد ماں کی اپنے بیٹے سے ملاقات ہوئی۔ اس دوران نواز شریف پر ہائی جیکنگ کا مقدمہ درج کرلیا گیا اور عدالتوں میں انہیں پولیس کی بکتر بند گاڑیوں میں پیش کیا جاتا تھا۔ انہی بکتر بند گاڑیوں میں آصف زرداری کو کراچی، لاہور اور راولپنڈی کی عدالتوں میں پیش کیا جاتا تھا لیکن پرویز مشرف کا معاملہ مختلف ہے۔انہیں ان کی آرام دہ بلٹ پروف جیپ فارم ہاؤس سے عدالت لے جاتی ہے اور واپس بھی چھوڑتی ہے۔ سیاستدانوں کے لئے لانڈھی جیل، اڈیالہ جیل اور اٹک کا قلعہ لیکن سابق ڈکٹیٹر کے لئے اس کا فارم ہاؤس جیل قرار پاتا ہے۔ سیاستدان پولیس کی بکتر بند گاڑی میں جھٹکے کھائے لیکن ڈکٹیٹر اپنی لینڈ کروزر میں مزے سے آئے جائے۔ یہ وہ فرق ہے جو صرف پرویز مشرف کی وجہ سے ہمیں سمجھ آیا۔ وہ واقعی ہمارامحسن ہے۔
اسی پر بس نہیں، مشرف کی گرفتاری کا حکم دینے والے جج کی کردار کشی شروع ہوگئی ہے۔ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ(ق) بھی مشرف کے حق میں بولنے لگی ہے۔ نوجوان پوچھتے ہیں کہ طالبان پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے۔ وہ آئین توڑیں تو دہشتگرد مشرف آئین توڑے تو کوئی بات نہیں۔ اتنا فرق اور اتنا تضاد کیوں؟ میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں لیکن میں مشرف کا شکر گزار ہوں کہ وہ پاکستان واپس آئے اور میری اس غلط فہمی کو دور کیا کہ پاکستان کا قانون سب کے لئے برابر ہے۔ اب مشرف کے وکلاء نے عدالت میں کہا ہے کہ موصوف کی والدہ دبئی میں بیمار ہیں اور مشرف کو ان کی عیادت کے لئے دبئی جانا ہے لہٰذا ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ اس سلسلے میں درخواست دی جائے، عام خیال یہ ہے کہ پرویز مشرف کو پاکستان سے بھگانے کے لئے ان کے غیر ملکی دوست حرکت میں آچکے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر پرویز مشرف پاکستان سے بھاگ گئے یا بھگا دئیے گئے تو پھر ہم کس منہ سے آئین اور قانون کی بالا دستی کے دعوے کریں گے؟ مشرف کی واپسی کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ پاکستان میں دو قانون ہیں ، ایک عام آدمی کے لئے ایک خاص آدمی کے لئے، اگر وہ بھاگ گیا تو پتہ چلے گا کہ خاص آدمی کے لئے اب کوئی قانون نہیں،کیا ہم مشرف کا پیشگی ایک اور شکریہ ادا کردیں؟

 

مشرف کوبچانے کی نئی شرارت...کس سے منصفی چاہیں…انصار عباسی
 
جنرل مشرف کے لیے چاہے اُن کی رہائش گاہ کوجیل قرار دے دیا جائے یا انہیں پولیس ہیڈ کوارٹر کے آرام دہ ریسٹ ہاؤس میں گرفتار کر کے بند کیا جائے وہ ہم سب کے لیے نشان عبرت کی ایک زندہ مثال ہیں۔ اُن پر کوئی ترس کھانے والا نہیں۔ مشرف کے حق میں کوئی احتجاج نہیں ، کوئی جلسہ جلوس نہیں۔ اپنے وقت کا انتہائی طاقتور ڈکٹیٹرکے لیے احمد رضا قصوری اور ڈاکٹر امجد کے علاوہ کوئی بات کرنے والا نہیں، اگر کوئی حمایتی نظر آ جائے تو اُس بچارے کی بھی دھلائی کر دی جاتی ہے۔ اپنے دور میں مکے لہرا لہرا کر اپنی طاقت کا اظہار کرنے والا سہمے ہوئے انداز میں عدالتوں کے دھکے کھا رہا ہے ۔ خوف اور بد حواسی اُس کے چہرے سے عیاں ہے۔ دیکھنے والوں کو بھی یہ خوف رہتا ہے کہ کہاں سے کوئی جوتا اُس پر آن پڑے۔ اُس نے اپنے دور میں لوگوں کو دکھ اتنے دیے کہ کسی کو بھی اُس کے دشمنوں کا کوئی اندازہ نہیں۔ ایک وزیر اعظم (میاں نواز شریف) اوردوسرے کئی افراد کو کس بے رحمی سے ہتھکڑیاں لگوا کر اٹک قلعہ میں ڈالنے والا، اپنی حکمرانی کو بچانے کے لیے درجنوں ججوں کو اُن کے گھروں میں قید کرنے والا، اپنی ذات کے لیے دو مرتبہ آئین پاکستان کی دھجیاں اُڑانے والا، اقتدار کے نشے میں مست ہو کر لال مسجد میں پاک فوج کے ذریعے دھاوا بول کر وہاں سینکڑوں مسلمانوں کو قتل کرنے والا، امریکا کی مسلم کُش نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور پاکستان کی فوج کو جھونکنے کا سنگین گناہ کرنے والا، نواب اکبر بگٹی کو قتل کر کے بلوچستان میں آگ لگانے والا، خود ایک بیٹی کا باپ ہوتے ہوئے قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کو ڈالرز کی خاطر امریکا کے حوالے کرنے والا، 12مئی 2007 کو کراچی میں درجنوں معصوموں کو قتل کروا کر اُسی شام اسلام آباد میں مکے لہرا کر یہ کہنے والا کہ دنیا نے میری طاقت دیکھ لی، روشن خیالی کے نام پر پاکستان میں فحاشی وعریانیت کو فروغ دینے والا، اسلام دشمنوں کی خواہش پر پاک فوج کے نعرہ ”ایمان، تقویٰ، جہاد فی سبیل اللہ“ کو بدلنے والا، اللہ کے رستے میں افغانستان میں جارح امریکی و نیٹو افواج کے خلاف افغان مسلمانوں کی مدد کرنے والے اسلام پسند جہادیوں کو چن چن کر مارنے اور انہیں امریکا کے حوالے کرنے والا ، اپنے اقتدار کی خاطر اربوں کی کرپشن میں ملوث سیاسی رہمناؤں سے NROڈیل کرکے پاکستانی عوام پر تاریخ کی بدترین اور کرپٹ ترین حکمران مسلط کرنے والے، امریکا کو پاکستان کی خودمختاری کا سودا کرتے ہوئے ڈرون حملوں کی اجازت دینے والے جنرل مشرف کے جرائم کی لسٹ اتنی طویل ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔ اس کے باجود نجانے کس خوش فہمی کی بنیاد پر یہ شخص پاکستان اس امید سے لوٹا کہ جیسے یہ قوم اُس کا بے چینی سے انتظار کر رہی ہے، مگر یہاں پہنچ کر پاکستان میںآ ٹھ سال تک بلا شرکت غیرے حکمرانی کرنے والے مشرف کو اب اپنی حقیقت اور مقبولیت کا اندازہ ہو گیا ہو گا۔ اپنی آمد پر لاکھوں کے مجمع کی خواہش رکھنے والے کو چند سوافراد نے کراچی میں خوش آمدید کہا، سندھ ہائی کورٹ میں اپنی پہلی ہی پیشی کے موقع پر جوتے کے حملے میں بال بال بچے، جان کو اتنا خطرہ ہے کہ سخت ترین سیکورٹی کے بغیر کہیں جا نہیں سکتے۔ الیکشن لڑنے کا خواب چکنا چور ہو چکا اور اب تو گرفتاری اور پھر جیل (چاہے گھر کو ہی جیل قرار دیا جائے) کی ہوا بھی کھانی پڑ رہی ہے اور یہ تو ابھی ابتدا ہے۔ ابھی تو غداری کے سنگین کیس کی تلوار سر پر لٹک رہی ہے جس کی سزا موت ہے۔ ان حالات میں مشرف سے بڑا نشان عبرت کون ہو سکتا ہے۔آج مشرف کے خلاف قانون کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے اور اس سابق ڈکٹیٹر کا تحفظ کرنے والی کرپشن میں لتھڑی NRO حکومت بھی رخصت ہو چکی۔ پاکستان اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سابق آرمی چیف کو اُس کے جرائم کی سزا دینے کی تیاری کر رہا ہے۔ ایسے میں کچھ لوگ دانستہطور پر مشرف کو سزا سے بچانے کے لیے شرارتاً بہانے بہانے سے بلواسطہ یا بلاواسطہ موجودہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور موجودہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے احتساب کی بھی بات کر رہے ہیں۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ جن ججوں نے مشرف کے 1999 کے مارشل لاء کو جائز قرار دیا اور جو جرنیل نومبر 2007 میں مشرف کے ساتھ تھے اُن کے خلاف بھی آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔ کہا یہ بھی جا رہا ہے کہ جن سیاستدانوں نے مشرف کی حکمرانی کے دوران اُس کا ساتھ دیا، جن اخبار نویسوں نے اُس کے حق میں لکھا اور جس پارلیمنٹ نے اُس کے مارشل لاء کو جائز قرار دیا اُن سب پر بھی غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔ گویا مقصد یہ ہے کہ مشرف کے مسئلہ کو اتنا گمبھیر بنا دیا جائے کہ کچھ بھی نہ ہو اور مشرف بچ کر نکل جائے۔ اس ساری صورتحال کو لندن میں مقیم ہمارے ایک دوست واجد عباسی عرف ”پاجی“ نے سب کو مشرف کے ساتھ عدالت کے کٹھہرے میں کھڑا کرنے کی بات کے بارے میں کہا کہ یہ تو ”کٹّے کو کھولنے والی بات ہوئی“۔ اُن کا کہنا تھا کہ جو لوگ ”کٹّے “ کو کھلا چھوڑنا چاہ رہے ہیں وہ دراصل الیکشن کو ملتوی کرانا اور مشرف کو بچاناچاہتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق ہی مشرف سے نمٹا جائے۔ مشرف جرائم کی سنگینی اپنی جگہ مگر یہ مشرف کا بھی حق ہے کہ اُن کوعدالتوں میں اپنا دفاع پیش کرنے کا پورا پورا موقع دیا جائے۔