日本イスラーム研究所 Japan Islamic Research Institute


Some Comments on Tahirul Qadri by Various Readers
SOME COMMENTS

From: TSidd9647]
Sent: Tuesday, June 24, 2014 7:51 PM
To: 786@mail.towardsquran.com
Subject: Re: Jasart Comments on Police Brutality and State Terrorism in Model Town, L...

 

Salaam

 

Ap Rah te Japan main hain and Siyasat  MAIN ULJHEY HUWAY HAIN PAKISTAN KI. 

 

This is derailing you  from your  mission..  Allah hafiz

 

FY information, there is no Khair in Sharif Government. There is a straight line that connect  Civil, military and  Uncle Sam's policy against the so-called  "terrorism". Pakistan is fighting  the LOST battle of Uncle Sam.   

 

Shamim

.  . 

From: Malik Sarwar
Sent: Friday, June 27, 2014 12:28 AM
To:

From: Salim Mansur Khalid

Sent: Friday, June 27, 2014 12:31 AM
To: Hussain Khan, Tokyo
Cc:
Subject: Re: Prevalence and Promotion of Gullu Butts-like Characters in our Society by our Brutal Police and the Government AND TOKYO PROTEST RALLY NEWS & VIDEO

 

Sir,

 with great respect I beg to say:

that 13 Shohadas are victim of governmental

brutality, but Tahir ul Qadri is also a dragon.

U sir do not know his mental bankruptcy.

But we have personal experience with his

madness and greed.

smk 

From: Mumtaz Ahmad

Sent: Friday, June 27, 2014 12:44 AM
To: Saleem Mansur Khalid; 786@mail.towardsquran.com
Cc: Irfan Gilani; Hashir Faruqi; Tarik Jan; Khurshid Professor IPS; Muttaqin ur Rahman; Zubair bin Umar Siddiqui
Subject: RE: Prevalence and Promotion of Gullu Butts-like Characters in our Society by our Brutal Police and the Government AND TOKYO PROTEST RALLY NEWS & VIDEO

 

I agree with SMK; the death of several people in Model Town was a great tragedy; it could have been easily avoided. I don't know who ordered the killing but what I do know is that Tahirul Quadri is fake, number 2, and may be a psychic case.  
Mumtaz
From: Faiz
Sent: Thursday, June 26, 2014 2:45 PM
To: 'Hussain Khan, Tokyo'; pakistanpost@yahoogroups.com
Subject: RE: Jasart Comments on Police Brutality and State Terrorism in Model Town, Lahore
 
The events of Model Town are indeed sad. The police used unnecessary heavy handedness and behaved grossly aggressively. Now, Tahirul Qadri--an inveterate pathological liar and a seasoned hypocrite that has fooled droves of simple-minded people for decades through his daily useless and fabricated peeri-fakeeri tales and phony dreams in the name of Islam.
Qadri doesn't deserve even a tiny bit of what the Nawaz Government has given him by resorting to such senseless violence the other day. This guy was nothing in politics---ZERO, zilch---could not get even 2% votes in a genuine election--now he is becoming 'something' now--thanks to the sheer stupidity of Nawaz Shareef government exhibited in model town a week ago.
If the Pakistanis had a modicum of common sense, they would never fall this Qadri charlatan. But then, asking Pakistani people to understand and act wisely is asking a bit too much.
Shareef has never grabbed power illegally. He has always been voted by people. So if you don't like, DON'T vote for him. He comes to power because people WANT him--simple as that. They voted for him, didn't they--for right or wrong reasons. It is his right to govern for the mandated period of 5 years. For God's sake, you mullahs need to have some mercy on Pakistan; this country has seen the light of democracy after such a long time! Now you want to derail it and impose a totally brutal system you call "Shari'a"--a man-made senseless, caveman system that has never made any sense at any time in history--one that has nothing to do with the Qur'anic teachings??? You want to push Pakistan to the 6th Century Jahiliyyah???
If you have guts, come and put yourself on the ballot in the next elections? You WILL NOT win--you are only good to create mess by creating law and order situations.

TOKYO PROTEST RALLY NEWS & VIDEO

http://www.dawahislamia.com/state-terrorism-against-minhaj-ul-quran.php

You can see Gullu Butt Picture below with a long stick, DANDA, breaking glasses of a white car with the blessings of Police..  

A Jasarat Article on
Prevalence and Promotion of Gullu Butts-like Characters in Our Society
 by Our Brutal Police and the Government
عارف بہار

 

ذلت اور زوال جب کسی قوم کے گھر کی راہ دیکھ لیتے ہیں تو اس کی پہچان اور شناخت بھی عجیب الخلقت چیزوں سے ہونے لگتی ہے۔ دنیا میں عروج کی راہوں پر گامزن قوموں کے سفر کے پڑائو اور مراحل کا جائزہ لیا جائے تو کسی موڑ پر ان کی پہچان کوئی محقق بنتا ہے توکسی مرحلے پر شاعر، ادیب اور دانشور… کبھی وہ قوم اپنے وجود سے کسی سائنس دان، موسیقار یا موجد کو جنم دیتی ہے۔ زوال کا سفر درپیش ہو تو پھر قوموں کے بطن سے ’’گلوبٹ‘‘ جیسے کردار جنم لے کر چہار سو مشہور ہوجاتے ہیں۔ اسلام آباد میں ڈراما کرنے والے سکندر کے بعد جو شہرت گلوبٹ کو حاصل ہوئی، بے شمار لوگ اس کی تمنا کرتے کرتے اگلے جہان سدھار جاتے ہیں۔ کتنے ہی باصلاحیت لوگ لاہور کی فلم انڈسٹری میں ہیرو بننے اور شہرت کی بلندیوں کو چھونے کی تمنا میں کسی اسٹوڈیو کی دہلیز پار کرتے ہیں، مگر ماہ وسال یوں دبے پائوں گزر جاتے ہیں کہ اس دن کے انتظار میں ان کی کمر میں کمان اور بالوں میں چاندی اتر آتی ہے۔ چند برس قبل لاہور کی فلم انڈسٹری کے 70۔72 سالہ بزرگ شخص کا انٹرویو کسی ٹی وی چینل نے نشر کیا تھا جو پچاس برس قبل ہیرو بننے آیا تھا۔ اسے فلم ساز نے ابتدا میں چائے لانے کے کام پر مامور کیا۔ یوں وہ ہیرو بننے کے شوق میں اس ذمہ داری کو نبھاتا چلا گیا۔ اس شخص کا کہنا تھا کہ ہر دن ایک اچھے دن کی امید پر گزرتا گیا، یہاں تک کہ چائے لاتے لاتے عمر ہی گزر گئی، نہ شہرت ہاتھ آئی نہ خواب کی تعبیر۔ ایسے میں گلوبٹ اور سکندر جیسے کردار پاکستان کے منظر پر نمودار ہوکر چھا جائیں تو اسے ان کی خوش قسمتی ہی کہا جا سکتا ہے۔

میڈیا ہو یا سیاست دان… عام آدمی ہو یا ارکانِ پارلیمنٹ… جسے دیکھیے گلو، گلو کرتا پھرتا ہے۔ چائے خانہ ہو یا اسمبلی، ٹی وی اسٹوڈیو ہوں یا عوامی بیٹھکیں… ہر جگہ گلو ہی زبان زدِ خاص و عام ہے۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں تو پورا دن گلوبٹ ہی کارروائی پر چھایا رہا، یہاں تک کہ اس نام کے کثرتِ استعمال کے باعث ہنگامہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون رکن نے دورانِ تقریر شرجیل میمن کو گلوبٹ قرار دیا، جس پر شرجیل میمن اور ان کے ساتھی طیش میں آگئے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی وڈیو کلپ کے مطابق شرجیل میمن زیر زبان بڑبڑاتے رہے، جس پر خاتون رکن اسمبلی نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جناب اسپیکر صبح سے اب تک اسمبلی میں گلو گلو ہورہی ہے، اگر میں نے نام لے لیا تو کیا ہوا؟‘‘ غرض یہ کہ گلو کے چرچے ملک میں عام ہیں۔     

اگر گوگل کا ریکارڈ دیکھا جائے تو بلاشبہ بے شمار لوگوں نے گلوبٹ لکھ کر گوگل میں سرچ کیا ہوگا۔ کیوںکہ ہر شخص یہ جاننے میں دلچسپی رکھتا ہے کہ جنابِ خادمِ اعلیٰ نے گوہرِ نایاب جسے زمانہ گلوبٹ کے نام سے پہچانتا ہے، اتنی مدت تک کہاں چھپائے رکھا۔ گویا کہ گلو کا پروفائل آج گرم کیک کی طرح فروخت ہورہا ہے۔ گلوکی پرانی تصویروں کی مانگ بھی زیادہ ہے۔ لوگ اس کے ماضی، ماضی کی سرگرمیوں اور سوچ وفکر میں گہری دل چسپی رکھتے ہیں۔ گلوبٹ کا کردار اس قدر مضبوط نکلا کہ لوگ لاہور کے اُن مظلوموں کو بھول گئے جنہوں نے پولیس فائرنگ کے نتیجے میں تڑپ تڑپ کر جانیں دیں، جن میں دوخواتین بھی شامل تھیں۔ ملک کے کسی کونے میں ان مرحومین کے نام پوچھے جائیں تو شاید ہی کوئی نام کسی کی زبان پر آسکے، مگر انہی لوگوں کی لوحِ حافظہ سے گلوبٹ کا نام چمٹ کر رہ گیا ہے۔ حکومت خوف زدہ ہوگئی اور اس کے ہاتھ پائوں پھول گئے وگرنہ اگر حکومت مزید مہارت کے ساتھ گلوبٹ کے کردار کو عوام اور میڈیا کے سامنے پیش کرتی تو ڈاکٹر طاہرالقادری کے کارکن بھی تحریک چلانا بھول کر گلو کے کردار میں یوں مگن ہوجاتے کہ انہیں اپنے قائد کی آمد کا ہوش بھی نہ رہتا، باقی لوگوں کا اس کردار میں گم ہوجانا تو یقینی ہی تھا۔ مثلاً ایک ٹیلی ویژن چینل اگر پابندیوں کی زد میں نہ آیا ہوتا تو ’’ایک دن گلو کے ساتھ‘‘ کا پروگرام کرکے مار دھاڑ اور توڑپھوڑ سے بھرپور گلو کی دن بھر کی سرگرمیاں عوام کو دکھا کر انہیں غرقِ گلو کرسکتا تھا۔ کوئی اور چینل ’’گلو عوامی عدالت میں‘‘ کے عنوان سے پروگرام کرکے اسے اپنی صفائی کا موقع دے سکتا تھا۔ پرویز رشید تھوڑی سی محنت کرتے تو کسی چینل سے ’’گلو آن لائن‘‘ کا پروگرام بھی کرواسکتے تھے۔

یہ تو نیوز چینلز کی بات ہے۔ تفریحی چینلز پر گلوبٹ کے پروگرام مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے لگتے۔ حکومت سے غلطی یہ ہوگئی کہ اس نے عالمِ بوکھلاہٹ میں گلوبٹ جیسے گراں مایہ کردارکو ’’ڈس اوون‘‘ کردیا۔ عمران خان جیسے ذمہ دار سیاست دان کا یہ انکشاف بھی حیران کن ہے کہ حکومت نے پچیس ہزار گلوبٹ بھرتی کر رکھے ہیں۔ گویا کہ حکومت نے گلوبٹ کی کلوننگ کررکھی ہے۔ حکومت نے اگر ’’گلوبٹوں‘‘ کی فوج اپنے خلاف کسی ممکنہ عوامی تحریک کو کچلنے کے لیے تیار کر رکھی ہے تو یہ تجربہ پہلے گلو نے ہی ناکام بنادیا ہے۔ اس قدر پھسپھسا کردار حکومت کے خلاف کسی عوامی طوفان کا رخ موڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ گلوبٹ کا سیاسی پس منظر کچھ نہیں، وہ محض پولیس کے اپنے ذہنِ رسا کی تخلیق اور ضرورت کی پیداوار ہے۔ ایسے کردار پولیس کے شہ بالے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ انہیں عرفِ عام میں کارِ خاص کا بندہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ انگریزی میں پولیس ٹائوٹ کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں۔ جب پولیس کا مشتعل لوگوں سے تصادم ہوتا ہے تو سادہ کپڑوں میں ملبوس گلوبٹ آگے بڑھ کر غل غپاڑہ کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں ڈنڈا بھی ہوتا ہے۔ اشتعال کی وجہ سے پولیس آگے بڑھنے سے کترا رہی ہو تو گلوبٹ جیسے سادہ کپڑوں والے کردار اس مشکل کو آسان بناتے ہیں۔

امید رکھی جانی چاہیے کہ تحقیق کے طالب علم جب ’’گلوبٹ، شخصیت وکردار‘‘ کے موضوع کو اپنی ریسرچ کا محور بنائیں گے تو یہ راز کھل جائے گا کہ آخر سلطان راہی کے سے انداز میں گنڈاسا لہراتا ہوا مچھندر کھڑی اور بے جان وبے زبان گاڑیوں کے شیشے توڑ کر کس مقصد کی تکمیل چاہتا تھا! اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ گلوبٹ کی ضرب کسی انسان پر پڑی ہو یا گلوبٹ نے کسی انسان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی ہو۔ گلوبٹ کی طرف سے اپنے اندر کا سارا غبار اور غصہ کھڑی گاڑیوں پر انڈیلنا اُس کی ماضی کی کسی محرومی کا غماض ہے۔ عین ممکن ہے کہ گلو کسی ایسے گھرانے کا فرد ہو جس نے لوگوں کی گاڑیاں دھو کر وقت گزارا ہو مگر کبھی ایک گاڑی کا بھی مالک نہ بن سکا ہو۔ یہ اور اس طرح کی دیگر محرومیوں نے گلوبٹ کو چار ٹائروں والی اس مخلوق سے متنفر کردیا ہو۔ یہ بھی بعید نہیں کہ کسی اسپیئر پارٹس والے نے گلوبٹ کو کمیشن کا لالچ دے کر گاڑیوں کی توڑپھوڑ پر مامور کیا ہو، تاکہ مرمت کی صورت میں اس کا کاروبار چمک سکے۔

گلوبٹ کی سرگرمیوں کو بلا تحقیق شریف برادران کے کھاتے میں ڈالنا بھی قرین ِانصاف نہیں۔ یہ بات حقیقت سے قریب تر معلوم ہوتی ہے کہ گلوبٹ، مولاجٹ نما کردار سے متاثر اور فنکار طبیعت کا مالک ہے اور اس ڈرامے میں اسے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کے استعمال کا موقع مل گیا۔ مگر ایک ایسے معاشرے میں گلوبٹ کو شرِمجسم بنا کر پیش کرنا ازخود کسی لطیفے سے کم نہیں جہاں قطعی جرم ِبے گناہی میں ایک سو افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا شکار کرنے والا اجمل پہاڑی اور اس طرح کے بے شمار کردار زندہ ہوں اور نفرت کی علامت بھی نہ بن پائے ہوں، اس معاشرے محض چند گاڑیاں توڑنے والے گلوبٹ کو شر وفساد کا پتلا بناکر پیش کرنا اس معاشرے کی اپنی ذہنی کیفیت کے بارے میں کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

  

عارف بہار

Protest Rally in front of Pakistan Embassy in Tokyo Against State Terrorism in Model Town, Lahore

https://www.facebook.com/photo.php?v=903220699694903&saved پاکستان 17 جون ماڈل ٹاؤن لاہور سانحہ کے خلاف پاکستان سفارت خانہ جاپان کے سامنے احتجاج
[1:33:26] ♥ Kan ♥ ®:  https://www.youtube.com/watch?v=T5oBnsUPrk4&feature=youtu.beپاکستان 17 جون ماڈل ٹاؤن لاہور سانحہ کے خلاف پاکستان سفارت خانہ جاپان کے سامنے احتجاج